٦٣ – بَابُ التَّعَاوُنِ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ

مسجد کی تعمیر میں تعاون

اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ مسجد کی تعمیر میں تعاون کرنا باعث اجر و ثواب ہے اور جو شخص جتنا زیادہ تعاون کرے گا اتنازیادہ اجر و ثواب کا مستحق ہوگا۔

وَقَوْلِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِؕ-اُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ۚۖ-وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ(17) اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓىٕكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ( التوبہ: 18)

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: مشرکین کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کی مساجد تعمیر کریں جب کہ وہ خود اپنے خلاف کفر کی گواہی دینے والے ہوں ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں 0 اللہ کی مساجد صرف وہی لوگ تعمیر کرسکتے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے اور انہوں نے نماز قائم کی اور زکوۃ ادا کی اور اللہ کے سوا وہ کسی سے نہیں ڈرے اور عنقریب یہی لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے ( التوبہ : ۱۸ – ۱۷)

كَذَا فِي رِوَايَةِ الْأَكْثَرِينَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي ذَرٍ( مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِؕ-اُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ۚۖ-وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ(17) اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓىٕكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ( التوبہ: 18) وَلَمْ يَقَعُ فِي رِوَايَتِه لْفَظٌ وَقَوْلِ اللَّهِ عَزَّوَجَلّ۔

اسی طرح اکثرین کی روایت میں ہے اور ابوذر کی روایت میں ہے: مشرکین کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کی مساجد کی تعمیر کریں اس حال میں کہ وہ خود اپنے خلاف کفر کی گواہی دینے والے ہوں، ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں0 اللہ کی مساجد صرف وہی لوگ تعمیر کرسکتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے ہوں اور انہوں نے نماز قائم کی اور زکوة ادا کی اور اللہ کے سوا وہ کسی سے نہیں ڈرے اور عنقریب یہی لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے (التوبہ : ۱۸ – ۱۷ ) اور ایک روایت میں اللہ عزوجل کے قول کا لفظ نہیں ہے۔”

صحیح البخاری کے اکثر نسخوں میں یہ پوری دو آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔

اس آیت میں مساجد سے مراد جنس مساجد ہے یعنی مشرکین کے لیے کسی بھی مسجد کی تعمیر کرنا جائز نہیں ہے اور جب وہ کوئی مسجد بھی تعمیر نہیں کر سکتے تو مسجد حرام کو بہ طریق اولی تعمیر نہیں کرسکتے نیز مسجد کی تعمیر میں تعاون کرنا باعث اجر و ثواب ہے اور مشرکین کا کوئی عمل باعث اجر و ثواب نہیں ہے اس وجہ سے ان کے لیے مساجد کی تعمیر کرنا بالکل جائز نہیں ہے۔

٤٤٧ – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْن مُخْتَارٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ الْحَدَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَابْنِهِ عَلِي انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيد فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ، فَانْطَلَقْنَا، فَإِذَا هُوَ فِى حَائِط يُصْلِحُهُ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَاحْتَبى ثُمَّ انْشَا يُحَدِّثنا، حَتَّى أَتَى ذِكْرُ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ كُنَّا نَحْمِلُ لَبنَةٌ لَبِنَةٌ، وَعَمَّارٌ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فَرَاهُ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَفَضَ التُّرَابَ عَنْهُ، وَقَالَ وَيْحَ عَمَّار تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ، وَيَدْعُونَه إِلَى النَّارِ. قَالَ يَقُولُ عَمَّارٌ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَن۔ طرف الحديث : 2812

صحیح مسلم : ۲۹۱۵، مسند ابوداؤد الطیالسی: ۶۰۳ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ۲ ص 549-٬548 السنن الكبرى للنسائی: 8548، مسند احمد ج ۳ ص ۵ طبع قدیم، مسند احمد : 11011 – ج 17 ص 54 مؤسسة الرسالة بیروت

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبدالعزیز بن مختار نے حدیث بیان کی نہوں نے کہا: ہمیں خالد الحذاء نے حدیث بیان کی از عکرمہ، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اور اپنے بیٹے علی سے کہا: تم دونوں حضرت ابوسعید کے پاس جاؤ اور ان سے حدیث کا سماع کرو پس ہم دونوں گئے اس وقت حضرت ابوسعید اپنے باغ کی اصلاح کر رہے تھے، انہوں نے اپنی چادر لے کر اوڑھ لی پھر ہمیں حدیث سنانے لگے حتی کہ مسجد کی تعمیر کا ذکر آیا توُ انہوں نے کہا : ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھاکر لا رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں دیکھ لیا، آپ نے ان سے مٹی جھاڑی اور فرمایا: عمار پر افسوس ہے! اس کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی یہ ان کو جنت کی طرف بلائے گا اور وہ اس کو دوزخ کی طرف بلائیں گے۔ حضرت ابوسعید نے کہا : حضرت عمار کہتے تھے: میں فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس میں یہ ذکر ہے کہ صحابہ کرام مسجد کی تعمیر میں تعاون کے لیے اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) مسدد بن مسرهد

(۲) عبد العزیز بن مختار ابو اسحاق الدباغ البصرى الانصاری

(۳) خالد بن مہران الحذاء

(۴) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام عکرمہ

(۵) علی بن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب القرشی الہاشمی ابو الحسن، ان کو ابو محمد بھی کہا جاتا ہے جس رات حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اسی رات ان کی ولادت ہوئی اس لیے حضرت علی کے نام پر ان کا نام علی رکھا گیا اور ان کی کنیت پر ان کی کنیت ابوالحسن رکھی گئی یہ عبادت زہد، علم، عمل اور فقہ میں بہت فائق تھے اور بہت حسین وجمیل تھے ہر روز ایک ہزار رکعت نماز پڑھتے تھے یہ السفاح اور المنصور دونوں خلیفوں کے دادا تھے ان کے پاس پانچ سو زیتون کے درخت تھے اور یہ ہر درخت کے پاس دو رکعت نماز پڑھتے تھے ۱۲۰ ھ میں ان کی وفات ہوئی، اس وقت ان کی عمر ۷۰ سال سے زیادہ تھی (۶) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ۔ (عمدۃ القارج4 ۳ ص ۳۰۶)

حضرت عمار کے جن قاتلین کا حدیث میں ذکر ہے وہ خوارج تھے اور اس حدیث کے دیگر مسائل اور فوائد

اس حدیث میں مذکور ہے : عمار پر افسوس ہے اس کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی یہ ان کو جنت کی طرف بلائے گا اور وہ اس کو دوزخ کی طرف بلائیں گے۔

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

المہلب نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اس چیز کا بیان ہے، جس کا حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے قصہ میں اختلاف ہے اور یہ جو ارشاد ہے: یہ ان کو جنت کی طرف بلائے گا اور وہ اس کو دوزخ کی طرف بلائیں گئے یہ ان خوارج کے متعلق ہے جن کی طرف حضرت عمار کو بھیجا گیا تھا تاکہ وہ ان کو مسلمانوں کی جماعت کی طرف آنے کی دعوت دیں اور صحابہ میں سے کسی ایک کو بھی اس ارشاد کا مصداق بنانا صحیح نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں میں سے کسی کے لیے یہ جائز نہیں، وہ صحابہ کرام کے متعلق سب سے عمدہ تاویل کے علاوہ کچھ اور کہے، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں، جن کی اللہ تعالیٰ نے تعریف اور تحسین فرمائی اور ان کی فضیلت کی شہادت دی ہے سو فرمایا:

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ. (آل عمران : ١١٠)

تم سب سے بہترین امت ہو جس کو لوگوں کے لیے ظاہر کیا گیا ہے۔

مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت کے اولین مصداق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں، اور یہ صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ حضرت عمار کو خوارج کی طرف بھیجا گیا تھا، وہ ان کو مسلمانوں کی جماعت کی طرف بلا رہے تھے، جس جماعت کی عصمت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت دی ہے اور فرمایا ہے: میری امت گم راہی پر جمع نہیں ہوگی۔

اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مذکور سے حضرت عمار نے یہ سمجھا تھا کہ یہی (خوارج) دین میں وہ فتنہ ہیں، جس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنی چاہیے اور اس فتنہ سے انہوں نے اس لیے پناہ طلب کی کہ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس فتنہ میں اس کو اجر ملے گا یا اس سے مواخذہ ہوگا، ما سوا غلبہ ظن کے۔

اس حدیث میں مذکور ہے کہ عکرمہ نے کہا: حضرت ابوسعید نے اپنی چادر لی اور اوڑھ کر بیٹھ گئے اور ہمیں حدیث سنانی شروع کردی اس میں یہ دلیل ہے کہ محدث کو حدیث بیان کرنے کے لیے اہتمام سے بیٹھنا چاہیے۔

نیز اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹے علی کو اور اپنے شاگرد عکرمہ کو حضرت ابوسعید خدری کے پاس حدیث کے سماع کے لیے بھیجا، اس میں یہ دلیل ہے کہ ایک عالم کو اپنے بیٹے اور اپنے شاگرد کو دوسرے عالم کے پاس استفادہ کے لیے بھیجنا چاہیے کیونکہ کوئی شخص پورے علم کا احاطہ نہیں کرسکتا۔

اس حدیث میں ذکر ہے کہ حضرت عمار دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے، اس میں یہ دلیل ہے کہ انسان کو نیکی کے کام میں زیادہ مشقت اٹھانی چاہیے تاکہ زیادہ اجر ملے اسی وجہ سے ان کو یہ کرامت اور فضیلت حاصل ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مٹی جھاڑی اور ان کی اس فضیلت کا ذکر فرمایا جو ان کو بعد میں حاصل ہوگی۔

نیز اس حدیث میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ حضرت عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا اور ایسا ہی ہوا اس میں آپ کی نبوت کی علامت ہے اور علم غیب کا ثبوت ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۳۵- ۱۲۴ دار الکتب العلمیة بیروت 1424ھ)

اس اعتراض کا جواب کہ حضرت عمار کو حضرت معاویہ کے لشکر نے قتل کیا تھا تو پھر وہ دوزخ کی طرف بلانے والے قرار پائے

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں شہید ہوئے اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور جن لوگوں نے ان کو قتل کیا وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور حضرت معاویہ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت تھی؟ علامہ ابن بطال نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ حضرت عمار کو خوارج نے شہید کیا تھا اور وہی اس حدیث کا صحیح مصداق ہیں کہ حضرت عمار ان کو جنت کی طرف بلا رہے تھے اور وہ ان کو دوزخ کی طرف بلا رہے تھے اور صحابہ کرام کے متعلق صرف وہی تاویل کرنی چاہیے جو سب سے عمدہ ہو، علامہ ابن بطال نے اس جواب میں المہلب کی اتباع کی ہے اور ایک جماعت نے ان کی اتباع کی ہے۔

علامہ عینی فرماتے ہیں: لیکن یہ جواب صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس پر اتفاق ہے کہ حضرت عمار کی شہادت کے بعد خوارج نے حضرت علی کے خلاف خروج کیا تھا اور اس کی ابتداء اس وقت ہوئی تھی جب حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان حکم بنایا گیا تھا اور حکم بنانے کا واقعہ صفین میں قتال کے بعد ہوا تھا اور قطعی طور پر حضرت عمار کو اس سے پہلے شہید کردیا گیا تھا۔

بعض علماء نے اس حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ جو لوگ حضرت عمار کو دوزخ کی دعوت دے رہے تھے، وہ کفار قریش تھے اور یہ جواب بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ ابن السکن اور کریمہ وغیرہما کی روایت میں زیادہ وضاحت ہے کہ جو لوگ حضرت عمار کو دوزخ کی دعوت دے رہے تھے، وہ حضرت عمار کے قاتلین تھے اور وہ اہل شام تھے، الحمیدی نے کہا ہے کہ شاید یہ اضافہ امام بخاری کے سامنے نہیں آیا یا یہ اضافہ ان کے سامنے آیا تھا لیکن انہوں نے اس کو عمدا حذف کردیا اور اس کو اپنی صحیح میں ذکر نہیں کیا ۔ اسماعیلی اور برقانی نے اس اضافہ کے ساتھ اس حدیث کی روایت کی ہے۔

اس اعتراض کا صحیح جواب یہ ہے کہ دونوں طرف کے صحابہ مجتہدین تھے اور وہ اپنے گمان میں دوسرے فریق کو جنت کی طرف بلارہے تھے، اگرچہ واقع میں اس کے خلاف تھا اور جو اپنے گمان کی اتباع کر رہا ہو اس پر کوئی ملامت نہیں ہوتی، اگر تم یہ کہو کہ جب مجتہد صحیح نتیجہ پر پہنچے تو اس کو دو اجر ملتے ہیں اور جب وہ خطا کرے تو اس کو ایک اجر ملتا ہے تو یہاں معاملہ کیسے ہوگا؟ میں کہتا ہوں کہ یہ جواب

امتناعی ہے اور صحابہ کے حق میں اس کے خلاف کوئی بات کہنا مناسب نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی ہے اور ان کی فضیلت کی شہادت دی اور فرمایا ہے : تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہے ( آل عمران: ۱۱۰ ) اور مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت کے مصداق سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں۔

اس تقریر کے بعد علامہ عینی نے اس حدیث کے وہی فوائد ذرا تفصیل سے بیان کیے ہیں، جن کو پہلے علامہ ابن بطال بیان کرچکے ہیں ۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۰۸ دار الكتب العلمیة بیروت 1421ھ )

علامہ ابن بطال اور المبلب کے جواب پر حافظ ابن حجر عسقلانی کا تبصرہ

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:

علامہ ابن بطال کا جواب اس لیے بھی صحیح نہیں ہے کہ جن لوگوں کی طرف حضرت علی نے حضرت عمار کو بھیجا تھا وہ اہل کوفہ تھے، وہ واقعہ جمل سے پہلے حضرت عائشہ اور ان کے حامیوں کے خلاف لوگوں کو تیار کررہے تھے اور ان میں بھی صحابہ کی جماعت تھی، جیسے حضرت معاویہ کے ساتھ صحابہ تھے بلکہ ان سے افضل تھے، لہذا جس اعتراض سے بچنے کی المہلب نے کوشش کی تھی، وہ پھر ان پر لوٹ آیا۔ اس کے علاوہ خرابی یہ ہے کہ ان صحابہ کرام پر خوارج کا اطلاق لازم آئے گا۔

المہلب پر ایک اور اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے اس ناقص روایت کی شرح کی ہے، کیونکہ مکمل روایت میں یہ ضمیر حضرت عمار کے قاتلین کی طرف راجع ہے یعنی حضرت عمار اپنے قاتلین کو جنت کی طرف بلا رہے تھے اور وہ ان کو دوزخ کی طرف بلا رہے تھے اور حضرت عمار کے قاتلین اہل شام تھے الحمیدی نے کہا ہے کہ امام بخاری نے اس اضافہ کو عمدا حذف کردیا۔

علامہ عسقلانی فرماتے ہیں: امام بخاری نے اس اضافہ کو ایک نکتہ خفیہ کی بناء پر حذف کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ حضرت ابو سعید خدری نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اس اضافہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا اس سے معلوم ہوا کہ یہ اضافہ اس روایت میں مدرجہ ہے اور جو روایت اس اضافہ کے ساتھ بیان کی گئی ہے وہ امام بخاری کی شرط کے مطابق نہیں ہے لہذا امام بخاری نے اس حدیث کے اتنے حصہ پر اقتصار کیا ہے جتنا حصہ حضرت ابو سعید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ (فتح الباری ج ۲ ص 97-96 ملخصا (دار المعرفة بیروت 1426ھ )

حضرت عمار کے قاتلین پر باغی اور دوزخ کی طرف بلانے والے کے اطلاق پر مصنف کی توجیہ

اس حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس میں مذکور ہے: عمار پر افسوس ہے! اس کو باغی جماعت قتل کرے گی وہ ان کو جنت کی طرف بلائے گا اور وہ اس کو دوزخ کی طرف بلائیں گے اور حضرت عمار کو حضرت معاویہ کے گروہ نے قتل کیا تھا اور ان پر اس حدیث میں باغی اور دوزخ کی طرف بلانے والا فرمایا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ان پر باغی اور دوزخ کی طرف بلانے والے کا اطلاق بہ اعتبار ظاہر ہے حقیقت کے اعتبار سے نہیں ہے کیونکہ حقیقت میں ان کے گمان کے اعتبار سے ان کا اقدام برحق تھا، وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے طالب تھے حالانکہ واقع میں ان کا یہ اجتہاد مبنی برخطا تھا کیونکہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کر رہے تھے اور وہ امیر برحق اور خلیفہ مسلمین تھے اور امیر برحق کے ساتھ جنگ کرنا بغاوت ہے اور دوزخ میں دخول کا سبب ہے اس لیے ظاہر کے اعتبار سے وہ باغی تھے اور دوزخ کی طرف بلانے والے، لیکن حقیقت میں باغی نہیں تھے کیونکہ ان کا یہ اقدام اپنے اجتہاد کی وجہ سے تھا۔

اس حدیث کی نظیر قرآن مجید کی یہ آیت ہے:

وَعَضَى أَدَهُ رَبَّهُ فَغوَى ( : ۱۳۱)

اور آدم نے اپنے رب کی معصیت کی، پس وہ بے راہ بے  راہ  ہوئے۔

اس آیت میں شجر ممنوعہ سے کھانے پر حضرت آدم علیہ السلام پر معصیت اور غوایت کا اطلاق بہ اعتبار  ظاہر ہے حقیقت میں وہ نبی معصوم ہیں اور ان کا شجر ممنوعہ سے کھانا معصیت نہ تھا، ان کے اجتہاد سے تھا، انہوں نے یہ سمجھا کہ اللہ تعالی نے تنزیہا منع فرمایا ہے اور وہ یہ بھول گئے کہ اللہ تعالی نے تحریماً منع فرمایا ہے اور معصیت تب ہوتی، جب وہ قصداً ممنوع کام کا ارتکاب کرتے اور انہوں نے بھولے سے یہ کام کیا تھا اللہ تعالی نے فرمایا:

فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْلَهُ عَزْما 0 (طہ : ١١٥)

پس آدم بھول گئے اور ہم نے (ان کی معصیت کا ) کوئی عزم نہ پایا۔

لہذا قرآن مجید میں حضرت آدم کے فعل پر معصیت کا اطلاق ظاہر اور صورت کے اعتبار سے ہے اور حقیقت کے اعتبار سے وہ معصیت نہیں ہے۔ اسی طرح اس حدیث میں حضرت معاویہ کے گروہ پر باغی ہونے اور دوزخ کی طرف بلانے والے ہونے کا اطلاق ظاہر اور صورت کے اعتبار سے ہے، حقیقت کے اعتبار سے نہیں ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ حضرت علی نے حضرت معاویہ اور ان کے لشکر کے متعلق بہت دعائیں کی ہیں اور ان کی فضیلت میں بہت احادیث وارد ہیں:

حضرت علی کے حضرت معاویہ کے متعلق دعائیہ کلمات اور اس سلسلے میں دیگر احادیث

حارث بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صفین سے واپس آئے تو آپ نے ایسی باتیں فرمائیں جو اس سے پہلے نہیں فرماتے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے لوگو! حضرت معاویہ کی امارت کو ناپسند مت کرو، اللہ کی قسم ! اگر تم نے ان کو گم کردیا تو تمہارے کندھوں سے تمہارے سر حنظل کے پھل کی طرح گرنے لگیں گے۔مصنف ابن ابی شیبه : ۳۷۸۴۳ کنز العمال: ۳۱۷۰۴ تاریخ دمشق ج ۶۲ ص 106- 105)

عبداللہ بن عروہ نے کہا: مجھے اس شخص نے خبر دی جو جنگ صفین میں حاضر تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی رات باہر نکلے، آپ نے اہل شام کی طرف دیکھ کر یہ دعا کی: اے اللہ ! میری مغفرت فرما اور ان کی مغفرت فرما، پھر حضرت عمار لائے گئے تو آپ نے ان کے لیے بھی یہی دعا کی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۳۷۸۵۴)

یزید بن اصم بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ صفین کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ہمارے مقتول اور ان کے مقتول جنت میں ہیں اور یہ معاملہ میرے اور معاویہ کی طرف سونپ دیا جائے گا۔مصنف ابن ابی شیبه: ۳۷۸۶۹ کنز العمال:31700،  تاریخ دمشق الکبیر ج ۶۲ ص ۹۷ بیروت)

نعیم بن ابی ہند اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، میں صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو نماز کا وقت آگیا تو ہم نے بھی اذان دی اور اہل شام نے بھی اذان دی، ہم نے بھی اقامت کہی اور انہوں نے بھی اقامت کہی، پھر ہم نے نماز پڑھی اور انہوں نے بھی نماز پڑھی، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مڑکر دیکھا تو ہمارے درمیان بھی مقتولین تھے اور ان کے درمیان بھی مقتولین تھے۔ جب حضرت علی نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے ان سے پوچھا: آپ ہمارے مقتولین اور ان کے مقتولین کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو ہم میں سے اور ان میں سے اللہ کی رضا اور آخرت کے لیے لڑتا ہوا قتل کیا گیا وہ جنت میں ہے۔ سنن سعید بن منصور : ۲۹۶۸ – ج ۲ ص ۳۴۵ ۳۴۴ دار الكتب العلمیة بیروت، کنز العمال :۳۱۷۰۷)

حافظ ابو القاسم علی بن الحسن ابن عساکر متوفی ۵۷۱ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ اور حضرت اسماء، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ہاتھ بلند کرکے دعا کر رہے تھے : اے اللہ ! معاویہ کے بدن کو دوزخ کی آگ پر حرام کردے، اے اللہ! دوزخ کی آگ کو معاویہ پر حرام کردے۔ ( تاریخ دمشق الکبیر: ۳۴۸۴- ج ۶۲ ص ۶۶ – ۶۵ دار احیاء التراث العربی بیروت 1421ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی تمہارے سامنے اہل جنت سے ایک شخص آئے گا، پھر حضرت معاویہ آئے۔ ( تاریخ دمشق : ۱۳۴۹۹ – ج ۶۲ ص ۷۰)

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: حضرت معاویہ رضی الله عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور برادر نسبتی ہیں اور وحی کے کاتب اور اس پر امین ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : میرے لیے میرے اصحاب اور میرے سسرال والوں کو چھوڑدو (ان کو بُرا نہ کہو) پس جس نے ان کو بُرا کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی۔ ( تاریخ دمشق الکبیر: ۱۳۵۳۷- ج 62 ص 143)

حضرت رویم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا: یارسول اللہ مجھ سے کشتی لڑیئے، حضرت معاویہ نے کھڑے ہوکر کہا: میں تم سے کشتی لڑوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاویہ ہرگز کبھی مغلوب نہیں ہوگا، پھر حضرت معاویہ نے اس اعرابی کو پچھاڑ دیا، جنگ صفین کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر مجھ سے اس حدیث کا پہلے ذکر کیا جاتا تو میں معاویہ سے جنگ نہ کرتا۔ ( تاریخ دمشق : ۱۳۴۶۵ – ج ۶۲ ص ۶۱ )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں حضرت معاویہ کے لیے جو دعا فرمائی، اُسی کا اثر تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اسداللہ الغالب ہونے کے باوجود حضرت معاویہ کو مغلوب نہ کرسکے۔

حضرت علی کے قصاص عثمان نہ لینے کی وجوہ

حضرت معاویہ کا حضرت علی سے یہ مطالبہ تھا کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لیں اور حضرت علی اخیر وقت تک قاتلین عثمان سے قصاص نہیں لے سکے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قصاص اس وقت واجب ہوتا ہے جب اس کا شرعی ثبوت ہو اور شرعی ثبوت یہ ہے کہ کوئی شخص حضرت عثمان کے قتل کا اعتراف کرتا یا اس پر دو گواہ قائم ہوتے کہ فلاں شخص نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے، لیکن حضرت علی کی شہادت تک یہ ثبوت مہیا نہیں ہوسکا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کیسے قصاص لیتے؟ اول تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل مجہول اور نامعلوم تھے، ثانیا: حضرت علی فرماتے تھے: مجھے سانس تو لینے دو، فتنے ختم ہوجائیں اور امن و امان قائم ہوجائے پھر میں تفتیش اور تحقیق کروں کہ قاتل فی الواقع کون ہے، کیونکہ اندھا قصاص تو نہیں لیا جاسکتا اور فی الفور قصاص لینا واجب نہیں ہے اور قصاص لینے میں تاخیر جائز ہے، لیکن ان پر پے در پے ایسی جنگیں مسلط کردی گئیں کہ ان کو امن اور سکون کے ساتھ تفتیش اور تحقیق کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔

حضرت معاویہ کے باغی نہ ہونے پر مزید دلائل

اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک حضرت معاویہ کی جماعت صراحتہ باغی ہوتی تو وہ ان سے جنگ موقوف نہ کرتے اور کبھی تحکیم کو قبول نہ کرتے۔

حافظ اسماعیل بن عمرو بن کثیر دمشقی متوفی ۷۷۴ ھ روایت کرتے ہیں:

سفیان بن اللیل بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کوفہ سے مدینہ آئے تو میں نے ان سے کہا: اے مؤمنین کو ذلیل کرنے والے! حضرت حسن نے فرمایا: اس طرح مت کہو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: دن اور رات کا سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا حتی کہ معاویہ رضی اللہ عنہ حکمران بن جائیں گے پس میں نے جان لیا کہ اللہ کا حکم نافذ ہونے والا ہے پس میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ میرے اور ان کے درمیان مسلمانوں کا خون بہایا جائے۔( تاریخ دمشق الکبیر : ۱۳۵۰۲ – ج ۶۲ ص 71، البدایہ والنہایہ ج ۵ ص ۶۳۴ کنز العمال: ۳۱۷۰۸)

حارث اعور بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صفین سے لوٹ کر فرمایا: اے لوگو! معاویہ کی حکومت کو ناپسند نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے ان کو گم کردیا تو تم دیکھو گے کہ تمہارے سر تمہارے کندھوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے جس طرح حنظل کے پھل درخت سے گرتے ہیں۔ (کنز العمال: ۳۱۷۱۲ البدایہ والنہایہ ج ۵ ص ۶۳۴ دار الفکر بیروت 1418ھ )

حافظ ابن کثیر، امام بیہقی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

صفوان بن عمرو نے بیان کیا ہے کہ اہل شام کا لشکر ساٹھ ہزار تھا، ان میں سے بیس ہزار قتل کیے گئے اور اہل عراق کا لشکر ایک لاکھ بیس ہزار تھا، ان میں سے چالیس ہزار شہید کیے گئے اور امام بیہقی نے اس واقعہ کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی اس حدیث پر منطبق حضرت ابوہریره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دو عظیم جماعتیں باہم عظیم جنگ نہیں کریں گی، حالانکہ ان دونوں جماعتوں کا دین واحد ہوگا۔ الحدیث ( صحیح البخاری:7121، صحیح مسلم: ۱۵۷)

امام بیہقی نے کہا ہے کہ وہ جماعتیں اسلام کا دعوی کریں گی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی جنگ صفین پر منطبق ہوتی ہے۔ (دلائل النبوۃ ج 6 ص ۴۱۹ – ۴۱۸ البدایہ والنہایہ ج ۵ ص ۳۷۶-۳۷۷)

نیز حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:

امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو گروہ ہوں گے، ایک گروہ ان دونوں سے خارج ہوجائے گا (یعنی خوارج ) اور دونوں گروہوں میں سے جو گروہ حق کے زیادہ قریب ہوگا وہ ان خوارج کو قتل کرے گا۔ (مسند احمد ج ۳ ص ۷۹ سنن سعید بن منصور : ۲۹۷۲)

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے،  کیونکہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے اسی طرح واقع ہوا اور اس حدیث میں آپ نے اہل شام اور اہل عراق کے دونوں گروہوں کے اوپر اسلام کا حکم لگایا ہے۔ اس طرح نہیں جس طرح رافضی فرقہ کا زعم باطل ہے اور وہ اہل شام کو کافر قرار دیتے ہیں اور اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب حق کے زیادہ قریب تھے اور یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور حضرت معاویہ مجتہد تھے اور ان کو اجتہاد میں خطا لاحق ہوئی اور ان کو بھی ان شاء اللہ اجر ملے گا اور حضرت علی امام برحق ہیں اور ان کو دو اجر ملیں گے جیسا کہ حدیث میں ہے:

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم اجتہاد کرے اور اس کی رائے درست ہو تو اس کو دو اجر ملتے ہیں اور جب اس کے اجتہاد میں خطاء ہو تو اس کو ایک اجر ملتا ہے۔(صحیح البخاری:۷۳۵۲ صحیح مسلم : ۱۷۱۶ سنن ابوداؤد : ۳۵۷۴ سنن ابن ماجہ : 2314، البدایہ والنباید ج ۵ ص 382-381 دار الفکر بیروت (1418ھ)

یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۷۱۹۴ – ج ۷ ص 778-779 پر مذکور ہے، اس کی شرح کا عنوان ہے: حضرت عمار بن یاسر کی شہادت اس کی بہت مختصر شرح ہے چند سطروں میں۔