٤٤٩ – حَدَّثَنَا حَلادٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْن أَيْمَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ امْرَأَةٌ قَالَتْ يَارَسُولَ اللهِ الَا اَجْعَلْ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ عَلَيْهِ؟ فَإِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا قَالَ إِنْ شِئْتِ. فَعَمِلَتِ الْمِنْبَر۔

اطراف الحدیث: ۲۰۹۵-3584-3585

ُ امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں خلاد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبد الواحد بن ایمن نے حدیث بیان کی از والد خود از حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہ ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے لیے ایسی چیز نہ بنادوں جس پر آپ بیٹھیں؟ کیونکہ میرا لڑکا بڑھئی ہے آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو پس اس عورت نے منبر بنادیا۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

۔(1) خلاد بن یحیی

(۲) عبد الواحد بن ایمن الحبشی المکی القرشی المخزومی

(۳) ان کے والد ایمن، جو حضرت جابر سے روایت کرتے ہیں

(۴) حضرت جابر بن عبد الله رضی الله  عنہ(عمدۃ القاری ج 4 ص۳۱۰)

منبر بنانے کے متعلق دو حدیثوں کے تعارض کا جواب

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے خلاف ہے کیونکہ حضرت سہل کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے خود اس عورت سے فرمایا تھا کہ وہ اپنے بیٹے سے کہے کہ وہ میرے لیے منبر بنادے اور حضرت جابر کی حدیث میں ہے کہ اس عورت نے اپنے بیٹے سے منبر بنوانے کی پیش کش کی تھی، پھر اس نے منبر بنادیا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ پہلے اس عورت نے منبر بنواکر دینے کی پیش کش کی ہو اور آپ کی اس میں رغبت نہ ہو، پھر جب اس لڑکے نے بناکر دینے میں تاخیر کردی اور آپ کو پتا تھا کہ وہ خوشی سے منبر بنا کردے رہی ہے اور آپ چاہتے تھے جلدی بن جائے تو آپ نے اس عورت سے تقاضا کیا ہوا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے عورت کے پاس اس لیے پیغام بھیجا ہو کہ یہ معلوم کریں کہ وہ لڑکا کس قسم کی سیڑھیاں بنارہا ہے اور یہ چاہا کہ وہ سیڑھیاں منبر میں ہونی چاہئیں۔

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کام کے کرنے کا وعدہ کرے اور اس کی مدت معین نہ کرے اس سے اس کام کا تقاضا کرنا چاہیے اور اس کام کو مکمل کرنے کے لیے کہنا چاہیے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۲۵ دار الکتب العلمیہ بیروت (۱۴۲۴ھ )

علامہ بدرالدین عینی متوفی ۸۵۵ ھ اور حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ نے اس شرح کو معمولی تغیر سے نقل کیا ہے۔(عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۱۱ ۳۱۰ دار الکتب العلمیہ، بیروت، فتح الباری ج ۲ ص ۹۷ دار المعرفة بیروت)