کتاب الصلوۃ باب 65 حدیث نمبر 450
٦٥ – بَابُ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا
جس نے مسجد بنائی
اس باب میں مسجد بنانے کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔
٤٥٠ – حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِم بن عُمَرَ بْن قَتَادَةً حَدَّثهُ إِنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَاللهِ الْخَوْلَانِی انَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُول، عِندَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَني مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ أَكْثَرْتُمْ ، وَإِنى سَمِعْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَني مَسْجِدًا، قَالَ بكير حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ يَبْتَغِي به وجه اللهِ، بَنَى الله له مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ. (صحيح مسلم : 532، الرقم المسلسل : 1169، سنن ترمذی: ٬۳۱۸ سنن ابن ماجہ : ۷۳۶، صحیح ابن خزیمہ: ۱۲۹۱ مصنف ابن ابي شيبه: ج ۱ ص ۳۱۰ مسند احمد ج 1 ص ۶۱ طبع قدیم، مسند احمد ج ا ص 489 مؤسسة الرسالة بیروت، جامع المسانيد لابن الجوزی: ۵۲۷۱ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحیی بن سلیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے ابن وہب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے عمرو نے خبر دی کہ بے شک بکیر نے ان کو حدیث بیان کی کہ بے شک عاصم بن عمر بن قتادہ نے ان کو حدیث بیان کی، انہوں نے عبیداللہ الخولانی سے سنا’ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ جب انہوں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد بنائی اور لوگوں نے ان پر اعتراض کیے تو انہوں نے فرمایا: بے شک تم نے بہت اعتراض کیے ہیں اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے مسجد بنائی۔ بکیر نے کہا کہ میرا گمان ہے کہ انہوں نے فرمایا: اور وہ مسجد بنانے سے اللہ کی رضا طلب کرتا تھا تو اللہ اس کے لیے جنت میں اس کی مثل بنادے گا۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت واضح ہے کیونکہ اس حدیث میں مسجد بنانے کی فضیلت کا ذکر ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(1) یحی بن سلیمان الجعفی
(۲) عبد اللہ بن وہب
(۳) عمرو بن الحارث، ان کا لقب تھا درة الغواص
(۴) بکير بن عبدالله الاثج المدنی یہ بہت پہلے مدینہ سے مصر چلے گئے تھے
(۵) عاصم بن عمر الاوسی الانصاری، یہ ۱۲۰ ھ میں مدینہ میں فوت ہوگئے تھے
(۶) عبید اللہ بن الاسود الخولانی ، یہ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما کے لے پالک تھے
(۷) حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ۔عمدۃ القاری ج ۲ ص 311
مسجد بنانے کی فضیلت
علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
مساجد اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مساجد کی اپنی طرف اضافت کی ہے، قرآن مجید میں ہے:
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الأخر. (التوبہ: ١٨)
اللہ کی مساجد کی صرف وہی تعمیر کرتے ہیں جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ۔
اور درج ذیل آیت میں اللہ تعالیٰ نے مساجد پر گھروں کا اطلاق فرمایا ہے:
فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ.النور: 36
جن گھروں کو بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان میں اس کے نام کے ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔
پس مسجد دنیا میں سب سے افضل گھر ہے اور زمین کا سب سے عمدہ قطعہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسجد بنانے والے کو یہ فضیلت عطا کی ہے کہ وہ اس کے لیے جنت میں محل بنادے گا اور جب تک مسجد میں اللہ کا ذکر کیا جاتا رہے گا اور اس کے لیے نماز پڑھی جاتی رہے گی اس کا اجر اور ثواب مسجد بنانے والے کے لیے اس کی زندگی میں بھی لکھا جاتا رہے گا اور اس کی موت کے بعد بھی لکھا جاتا رہے گا اور مسجد بنانے کا وہ اجر ہے جو اس کے عمل کی جنس سے دیا جاتا رہے گا۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص126، دار الکتب العلمیہ بیروت (۱۳۲۴ھ)
مسجد نبوی کی دوبارہ تعمیر پر لوگوں کے اعتراضات
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:
حضرت محمود بن لبید انصاری بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی بنانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس کو ناپسند کیا، ان کی خواہش تھی کہ مسجد کو اس کی حالت پر رہنے دیا جائے (صحیح مسلم : 533،الرقم المسلسل :۱۱۷۰) یعنی جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مسجد تھی، اس کو اسی حالت میں رہنے دیا جائے، امام بغوی نے شرح السنہ میں کہا ہے : شاید صحابہ نے اس لیے ناپسند کیا تھا کہ حضرت عثمان نقش و نگار والے پتھروں سے مسجد بنارہے تھے، انہوں نے محض مسجد کی توسیع کرنے کو ناپسند نہیں کیا تھا اور حضرت عثمان نے مسجد کی توسیع نقش و نگار والے پتھروں سے کی تھی اور اس کو مزین بھی کیا تھا۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۹۸ دارالمعرفہ، بیروت )
مسجد بنانے کی فضیلت میں دیگر احادیث
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے: جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی خواہ چھوٹی ہو یا بڑی اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں گھر بنادیتا ہے۔( سنن ترمذی: ۳۱۹)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خواہ وہ پرندے کے گڑھے جتنی ہو یا اس سے چھوٹی ہو اللہ تعالٰی اس کے لیے جنت میں گھر بنادیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ: ۷۳۸)
اس اعتراض کا جواب کہ اس حدیث میں مسجد بنانے والے کو جنت میں ایک مثل ملنے کا ذکر ہے، حالانکہ قرآن مجید میں دس مثلوں کا بیان ہے
اس حدیث میں فرمایا کہ اللہ تعالی جنت میں اس کی مثل بنادے گا اس پر یہ اعتراض ہے کہ مثل کے دو استعمال ہیں ایک یہ کہ اس ے مراد مطلقاً مفرد ہوتا ہے، قرآن مجید میں ہے:
فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا . ( مؤمنون: ۴۷)
پس انہوں نے کہا: کیا ہم اپنی مثل دو بشروں پر ایمان لے آئیں۔
اس آیت میں “بشرین” تثنیہ ہے اس کے باوجود اس کی صفت مفرد کے صیغہ کے ساتھ لائی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ میشل کا لفظ صرف مفرد مستعمل ہوتا ہے اور دوسرا استعمال یہ ہے کہ اس کو موصوف کے مطابق لایا جاتا ہے قرآن مجید میں ہے:
أمم أمثالُكُمْ . (الانعام:۳۸)
تمہاری مثل گروہ ہیں ۔
اب اعتراض یہ ہے کہ اس حدیث کی بشارت کا تقاضا یہ ہے کہ مسجد بنانے والے کو جنت میں اس کی ایک مثل گھر دیا جائے
حالانکہ قرآن مجید میں ہے:
مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا . (الانعام: 160)
جو شخص ایک نیکی لائے گا اس کو اس نیکی کی دس مثلیں ملیں گی۔
(1) اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسجد بنانے والے کو اس مسجد کی مثل دس گھر عطا فرمائے گا۔
(۲) به طور عدل اس کو مسجد کی مثل ایک گھر ملے گا اور بہ طور فضل اللہ تعالیٰ اس کی مثل دس گھر عطا فرمائے گا۔
(۳) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس آیت ( الانعام: 160) کے نزول سے پہلے تھا مگر یہ جواب بعید ہے۔
(۴) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایک مثل فرمایا ہے اس سے زیادہ کی نفی نہیں ہوتی۔
(۵) یہ زیادتی کیفیت کے اعتبار سے ہے ،کئی چیزیں عدد میں کم ہوتی ہیں اور کیفیت میں زیادہ ہوتی ہیں مثلا کسی کا ایک گھر دوسروں کے دس گھروں بلکہ سو گھروں سے افضل ہوتا ہے اور یہ فرق دنیا کی تنگی اور جنت کی وسعت کے اعتبار سے ہے کیونکہ صحیح حدیث میں ہے: جنت میں چابک جتنی جگہ بھی دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری:۳۲۵۰) امام احمد نے حضرت واثلہ سے روایت کیا ہے: اللہ اس کے لیے جنت میں اس سے افضل گھر بنا دے گا اور امام طبرانی نے حضرت ابو امامہ سے روایت کیا ہے: اللہ اس کے لیے اس سے زیادہ وسیع گھر بنادے گا اس سے معلوم ہوا کہ مثل ہونے سے من کل الوجوہ مساوات کا قصد نہیں کیا جاتا۔(فتح الباری ج ۲ ص ۹۹ دار المعرفة بیروت 1426ھ)
حافظ عسقلانی کے جوابات پر حافظ عینی کا تبصرہ
تیسرے جواب کے بعید ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا یہ ارشاد الانعام: ۱۶۰ کے نزول سے پہلے تھا یہ تاریخ جاننے پر موقوف ہے اور وہ معلوم نہیں ہے ۔ پانچویں جواب میں کہا ہے کہ یہ مثلیت کیفیت کے اعتبار سے ہے اور قرآن مجید میں جو دس مثلوں کا ذکر ہے وہ کمیت اور مقدار ہے، میں کہتا ہوں کہ جو مثلیت کمیت اور مقدار کے اعتبار سے ہو اس کو مساوات کہتے ہیں جیسے ایک مقدار کا دوسری مقدار کے ساتھ متحد ہونا اور جو مثلیت کیفیت کے اعتبار سے ہو اس کو مشابہت کہتے ہیں۔
اس کے بعد علامہ عینی لکھتے ہیں: مجھے جو جواب انوار الہیہ سے منکشف ہوا ہے وہ یہ ہے کہ مسجد بنانے والے کو ایک گھر کی مثل دینا، یہ اللہ تعالیٰ کا عدل ہے اور اس ایک گھر کے اوپر کیفیت اور کمیت (مقدار) کے اعتبار سے اضافہ فرمانا یہ اللہ تعالی کا فضل ہے۔(عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۱۶ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ)
میں کہتا ہوں کہ اس جواب میں حافظ عینی نے کوئی نئی بات نہیں پیش کی، یہی بات حافظ عسقلانی اپنے دوسرے جواب میں بیان کرچکے ہیں، نئی بات یہ ہے کہ حدیث میں مذکور ہے: مسجد بنانے والے کو جنت میں اس کی مثل ملے گی، اس سے ایک مثل مراد لینا مثل کے پہلے استعمال پر موقوف ہے، جس میں مثل سے مراد مفرد ہوتی ہے جیسے ” أَنؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلَنَا (المؤمنون:47) میں ہے” کیا ہم اپنے جیسے دو بشروں پر ایمان لائیں۔ اور کیا ضروری ہے کہ حدیث میں مثل کا لفظ پہلے استعمال پر ہو، اگر مثل کا لفظ دوسرے استعمال پر ہو جیسے اُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ (الانعام: ۳۸) تمہاری مثل گروہ ہیں، میں ہے تو پھر اس سے متعدد امثال مراد لی جاسکتی ہیں اور پھر یہ حدیث الانعام: ۱۶۰ کے خلاف نہیں ہوگی اور اس سے یہ مراد ہوسکتی ہے کہ مسجد بنانے والے کو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی دس مثلیں عطا فرمائے اور یہی اللہ تعالٰی کے فضل و کرم کے لائق اور اس کی سنت کے مطابق ہے۔ فافهم وتشکر.
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۰۹۱ – ج ۲ ص ۸۸ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔