٨٤ – بَابُ الْحِلَقِ وَالْجُلُوسِ في الْمَسْجِدِ

مسجد میں حلقہ بنانا اور بیٹھنا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر مسجد میں علم کے لیے یا ذکر کے لیے یا قرآن مجید کے درس کے لیے حلقہ بنایا جائے تو یہ جائز ہے۔

٤٧٢ – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْن الْمُفَضَّلِ، عَنْ عُبَيْدِاللهِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَال سَالَ رَجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ مَا تَرَى فِي صَلوةِ اللَّيْلِ؟ قَالَ مَثْنی مثنی فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ صَلَّى وَاحِدَةً، فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا صَلَّى. وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ اجْعَلُوا اخر صَلوتِكُمْ وترًا ۖ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِهِ۔

اطراف الحدیث: ۴۷۳۔990-993 1137 – ۹۹۵-

صحیح مسلم : ۷۴۹ الرقم المسلسل : ۱۷۱۷ سنن ابوداؤد : 1326،  سنن نسائی: 1696، سنن ترمذی : ۴۳۷، سنن ابن ماجه : ۱۳۱۹ شرح السنه : 957- 956 مسند احمد ج ۲ ص ۱۱۹ طبع قدیم، مسند احمد : 6008 – ج 10 ص ۲۰۹ مؤسسة الرسالة بيروت جامع المسانيد لابن الجوزی : 3394 مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ 

ُ امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں بشر ابن المفضل نے حدیث بیان کی از عبیدالله از نافع از حضرت ابن عم رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس وقت آپ منبر پر تھے ( اس نے کہا :) رات کی نماز کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: دو دو رکعت نماز پڑھو پھر جب تم کو صبح ہونے کا خوف ہوتو (آخری دورکعت کے ساتھ ) ایک رکعت ملا لو تو تمام نماز وتر ہوجائے گی اور حضرت ابن عمر یہ کہتے تھے کہ تم اپنی آخری نماز وتر پڑھو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔

اس حدیث سے پانچ رجال ہیں اور ان سب کا تعارف ہوچکا ہے۔

اس حدیث کا عنوان ہے: مسجد میں حلقہ بنانا اور اس حدیث کی اس کے ساتھ اس طرح مناسبت ہے کہ جب آپ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے تو اس وقت صحابہ بیٹھے ہوئے آپ کے ارشادات سن رہے ہوں گے اور یہ ایک قسم کا حلقہ بنانا ہے یا حلقہ کے مشابہ ہے۔

اس اعتراض کا جواب کہ مسجد میں حلقہ بنانے کی ممانعت ہے

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نکل کر آئے تو ہم کو حلقے بناکر بیٹھے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں تم کو گروہوں میں بیٹھے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ ( صحیح مسلم:۴۳۰)

اس کا جواب یہ ہے کہ جب کسی فائدہ اور منفعت کے بغیر حلقہ بنایا جائے تو وہ ممنوع ہے اور جب علم کی بات سننے کے لیے اور تعلیم و تعلم کے لیے یا درس قرآن اور درس حدیث کے لیے حلقہ بنایا جائے تو وہ مستحسن ہے۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب خطیب منبر پر خطبہ دے رہا ہو اور اس سے دورانِ خطبہ دینی سوال کیا جائے تو اس کا جواب دینا جائز ہے۔

رات اور دن کے نوافل کی رکعات میں مذاہب فقہاء

علامہ بدرالدین عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

نوافل کی رکعات میں فقہاء کا اختلاف ہے، امام مالک امام شافعی اور امام احمد نے یہ کہا ہے کہ سنت یہ ہے کہ دن اور رات میں دو دو رکعت نفل پڑھے جائیں اور امام ابو حنیفہ نے یہ کہا ہے کہ افضل یہ ہے کہ رات اور دن میں چار چار رکعات نماز پڑھی جائے اور امام ابو یوسف نے یہ کہا ہے کہ افضل یہ ہے کہ رات میں دو دو رکعت نفل پڑھے جائیں اور دن میں چار چار رکعت نفل پڑھے جائیں امام ابوحنیفہ نے رات کی نماز پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے:

حضرت زرارہ بن اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق سوال کیا گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے، پھر اپنے اہل کی طرف لوٹ آتے پھر چار رکعت نماز پڑھتے پھر اپنے بستر پر چلے جاتے ۔ (سنن ابوداؤد : ۱۳۴۸)

اور دن کی نماز کے متعلق امام ابوحنیفہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے:

معاذہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز کتنی رکعات پڑھتے تھے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا: چار رکعات اور جتنی چاہتے زیادہ کردیتے۔ ( صحیح مسلم :۷۱۹)

امام ابو یعلی نے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ اس میں کلام کے ساتھ فصل نہیں کرتے تھے۔ (مسند ابو یعلی : ۴۳۶۶)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امام ترمذی نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ (سنن ترمذی:437) اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ امام شافعی اور امام احمد کا یہی مسلک ہے۔ (سنن ترمذی ص ۲۰۹ دار المعرفۃ بیرت ۱۴۲۳ھ)

اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں دن کی نماز کا ذکر نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ کا سنن ابوداؤد اور صحیح مسلم سے استدلال ہے اور ان کی احادیث زیادہ قوی ہیں ۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۷۰ – 369 دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ)

رات اور دن کے نوافل میں امت پر آسانی ہے چار چار رکعات کا بھی ثبوت ہے اور دو دورکعات کا بھی

میں کہتا ہوں کہ احادیث میں رات کی نماز چار چار رکعت پڑھنے کا بھی ذکر ہے اور دو دو رکعت پڑھنے کا بھی ذکر ہے دو دورکعت پڑھنے کے متعلق یہ حدیث ہے:

حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا: یارسول

اللہ! رات کی نماز کس طرح ہے؟ آپ نے فرمایا:

دو دو رکعت، پس جب تمہیں صبح کا خوف ہو تو ایک رکعت کے ساتھ (آخری دو رکعت کو ) وتر کرلو ۔ ( صحیح البخاری : ۱۱۳۷ صحیح مسلم : 749، سنن ابوداؤد : ۱۳۲۶، سنن نسائی: 1693، سنن ابن ماجہ : ۱۳۲۰ مسند احمد ج ۲ ص ۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۴۸۴۸ – ج ۸ ص ۴۵۷ مؤسسة الرسالة بیروت)

اور رات کو چار رکعت نماز پڑھنے کے متعلق یہ حدیث ہے:

ابو سلمہ بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا: رمضان ہو یا غیر رمضان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے آپ چار رکعات نماز پڑھتے تم ان کے حسن اور طول کے متعلق نہ پوچھو، پھر چار رکعات نماز پڑھتے، تم ان کے طول اور حسن کے متعلق نہ پوچھو، پھر آپ تین رکعات پڑھتے، حضرت عائشہ نے کہا: میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوجاتے تھے؟ آپ نے فرمایا: اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔

(صحیح البخاری : ۱۱۴۷ صحیح مسلم : ۷۳۸ ، سنن ابوداؤد : ۱۳۴۱ سنن ترمذی: ۴۳۹، سنن نسائی: ۱۶۹۶ مسند احمد ج ۶ ص۳۶)

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے نوافل میں رکعات کی کوئی حتمی اور لازمی قید مقرر نہیں فرمائی بلکہ آپ نے رات کو دورکعت نماز بھی پڑھی ہے اور چار رکعت نماز بھی پڑھی اور سنن اور نوافل کے باب میں امت پر آسانی رکھی ہے، اسی طرح دن کے نوافل میں بھی آپ نے آسانی رکھی ہے۔

دو دورکعت پڑھنے کے متعلق یہ حدیث ہے:

حضرت عمر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رات اور دن کی نماز دو، دو رکعت ہے۔

(سنن ابوداؤد : 1295، سنن ترمذی: ۵۹۷ سنن نسائی: ۱۶۶۵ سنن ابن ماجہ : ۱۳۲۲ مسند احمد ج ۲ ص ۲۶)

حضرت ام حبیبہ رضی الله عنہما زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعات کی

حفاظت کی اور ظہر کے بعد چار رکعات کی حفاظت کی اس کو اللہ تعالیٰ دوزخ پر حرام کردے گا۔ (سنن ابوداؤر :۱۲۶۹ سنن نسائی : ۱۸۱۳)

سہل بن معاذ بن انس الجہنی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کی نماز پڑھنے کے بعد اپنی نماز کی جگہ بیٹھ گیا حتی کہ اس نے چاشت کی دو رکعت نماز پڑھی اور اس دوران اس نے نیکی کے سوا اور کوئی بات نہیں کی تو اللہ اس کے گناہوں کو بخش دے گا خواہ وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہوں ۔ (سنن ابوداؤد : 1287 )

حضرت معاذہ سے چاشت کی چار رکعت نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔ ( صحیح مسلم : 719 )

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات اور دن کے نوافل اور سنن میں امت پر تنگی نہیں کی اور آپ نے ہر طرح نماز پڑھی ہے، چار رکعات بھی اور دورکعات بھی۔ وللہ الحمد

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے تین رکعت وتر کا ثبوت

ان احادیث میں وتر کی نماز کا بھی ذکر آگیا ہے تو ہم اس سلسلہ میں وتر کی نماز کی رکعات کی تحقیق کرنا چاہتے ہیں، ابھی ہم نے ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعات کے بعد تین رکعات وتر کی نماز پڑھی۔

(صحیح البخاری : ۱۱۴۷ صحیح مسلم : ۷۳۸ سنن ابوداؤد : ۱۳۴۱ سفن ترمذی:۴۳۹ سنن نسائی: 1696، مصنف عبد الرزاق: ۴۷۴۳ مسند احمد ج 6 ص ۳۶)

اس کے علاوہ تین رکعات نماز وتر کے متعلق درج ذیل احادیث ہیں:

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعات وتر پڑھا کرتے تھے،  پہلی رکعت میں “سبح اسم ربک الاعلی” پڑھتے تھے دوسری رکعت میں “قل یایھا الکافرون” پڑھتے تھے اور تیسری رکعت میں ” قل هو الله احد ” پڑھتے تھے اور نماز سے فارغ ہو کر تین بار “سبحان الملك القدوس ” پڑھتے تھے۔

(سنن نسائی: ۱۹۹۷ – ۱۶۹۶ – ۱۶۹۵، سنن ابوداؤد : ۱۴۲۳، سنن ابن ماجہ : ۱۱۷۱)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم” سبح اسم ربك الاعلی” اور “قـل يـايـهـا الكفرون” اور “قل هو اللہ احد” کے ساتھ وتر پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ: ۱۱۷۲ سنن نسائی: 1699 – ۱۶۹۸ سنن ترمذی : ۴۶۲ السنن الکبری للنسائی: 1426، مصنف ابن ابي شيبه ج ۲ ص ۲۹۹ – ج 14 ص  263، مسند ابویعلی : 2555، سنن بیہقی ج ۳ ص 38 سنن دارمی: ۱۵۸۹ المعجم الكبير: 12679-12434، صحیح ابن حبان : ۲۴۴۸-۲۴۳۶ مسند احمد ج ا ص ۲۹۹ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۷۲۰ – ج 4 ص ۴۵۲ مؤسسة الرسالة بیروت)

حضرت عبدالرحمان بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں”سبح اسم ربك الأعلى “اور ” قل يايها الكافرون” اور “قل ھو اللہ احد” پڑھا کرتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق : 4709-۴۷۰۸-۴۷۰۷ مسند احمد ج ۳ ص ۴۰۶)

عبدالعزیز بن جریج بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون کون سی سورتیں پڑھتے تھے ؟ حضرت عائشہ نے بتایا: آپ پہلی رکعت میں” سبح اسم ربك الاعلی ” پڑھتے تھے اور دوسری رکعت میں “قل یایھا الکافرون” پڑھتے تھے اور تیسری رکعت میں ” قل ھو اللہ احد” اور معوذتین پڑھتے تھے۔

(سنن ابن ماجہ : ۱۱۷۳ سنن ابوداؤد : ۱۴۲۴ سنن ترمذی: 462،  مصنف عبد الرزاق: ۴۷۱۰)

عامر شعبی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق سوال کیا’ ان دونوں نے کہا: تیرہ رکعت، ان میں سے آٹھ رکعت (تہجد) تھیں اور تین وتر تھے اور دو رکعت فجر کے بعد ۔ (سنن ابن ماجہ : ۱۳۶۱ )

حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے وتر تین رکعت ہیں، جیسے دن کے وتر ہیں مغرب کی نماز۔ (سنن دار قطنی : ۱۶۳۵ – ج ۲ ص 148 دار المعرفۃ بیروت 1422ھ، سنن بیہقی ج ۳ ص 30-31  المعجم الاوسط للطبرانی : 7170 مجمع البحرين للطبرانى: ۱۰۸۹ مجمع الزوائد ج ۲ ص ۲۴۲)

ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اخیر شب میں تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۶۸۴۲)

صحابہ کرام سے تین رکعت وتر کا ثبوت

ابن السباق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دفن کیا، پھر تین رکعت وتر پڑھے۔ (مصنف ابن ابی شیبه : ۶۸۲۱ – ج ۲ ص ۹۰ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۶ھ مصنف عبد الرزاق: 4651)

حمید بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیب: ۶۸۲۳ ‘مصنف عبد الرزاق: ۴۶۷۵)

زازان بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اخیر شب میں تین رکعت وتر بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۶۸۴۳)

ابو غالب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : 6825)

مکحول بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان سلام سے فصل نہیں کرتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبه: 6830)

ثابت بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے تین رکعت وتر پڑھے اور صرف ان کے آخر میں سلام پھیرا۔( مصنف ابن ابی شیبه : 6839 )

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رات کے وتر دن کے وتر مغرب کی نماز کی طرح ہیں ۔ (مصنف عبد الرزاق: ۴۶۴۷)

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور مغرب کی طرح اس کے آخر میں سلام پھیرتےتھے۔ مصنف عبدالرزاق:4671

فقہاء تابعین سے تین رکعت وتر کا ثبوت

حسن بصری نے کہا: مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ وتر تین رکعت ہیں اور ان کی صرف آخری رکعت میں سلام پھیرا جاتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۶۸۳۳)

علقمہ نے کہا: وتر تین رکعت ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : 6829)

سعید بن جبیر تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۶۸۳۴)

مکحول تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور دو رکعت کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۵ ۶۸۳)

زیاد بن مسلم کہتے ہیں: میں نے ابوالعالیہ سے وتر کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: مغرب کی نماز کی طرح وتر پڑھو۔

مصنف ابن ابی شیبہ: 6938

وتر کی نماز کی مغرب کی نماز کے ساتھ مشابہت پر ایک اعتراض کا جواب

ابراہیم التیمی نے کہا: فقہاء وتر کو مغرب کے ساتھ مشابہ کرنے کو مکروہ کہتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : 6831)

اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں تین رکعت میں مشابہت مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جس طرح مغرب سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی اگر اسی طرح وتر سے پہلے بھی کوئی نماز نہ پڑھی جائے تو یہ مکروہ ہے اس کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے:

العلاء بن المسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: دم کٹے تین رکعت وتر نہ پڑھے جائیں اس سے پہلے دو رکعت پڑھو یا چار رکعت پڑھو ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : 6827)

ایک رکعت نماز وتر پڑھنے کی ممانعت

حنابلہ، شوافع اور غیر مقلدین اس طرح تین رکعت وتر پڑھتے ہیں کہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیردیتے ہیں، پھر دم کٹی ایک رکعت نماز پڑھتے ہیں، حالانکہ متعدد احادیث میں یہ وارد ہے کہ تین رکعت نماز وتر میں دو رکعت کے بعد سلام نہ پھیرا جائے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی دو رکعتوں میں سلام نہیں پھیرتے تھے۔ (سنن نسائی: ۱۹۹۴)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ تین رکعت کے درمیان سلام نہیں پھیرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: 6830)

حضرت انس رضی اللہ عنہ صرف تین رکعت کے آخر میں سلام پھیرتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : 6839)

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تین رکعت کے آخر میں سلام پھیرتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۴۶۷۱)

حسن بصری نے کہا : تین رکعت کے آخر میں سلام پھیرنے پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۶۸۳۳)

مکحول تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور دو رکعت کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۶۸۳۵)

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کٹی نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص ایک رکعت نمازپڑھ کر اس سے ( نمازوں کو ) وتر کرے ۔ تمہید ابن البر ج۵ ص ۲۵۷ دارالکتب علمیہ بیروت ۱۴۱۹ھ

قارئین کو وتر کے تمام اہم عنوانات پر محیط اور باحوالہ بحث شاید کسی اور کتاب میں نہیں ملیں گی۔