کتاب الصلوۃ باب 85 حدیث نمبر 475
٨٥ – بَابُ الْإِسْتِلْقَاءِ فِي الْمَسْجِدِ، وَمَدَ الرجل
مسجد میں لیٹنا اور ٹانگ پھیلانا
اس عنوان میں “استلقاء ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: چت لیٹنا’ اس عنوان سے امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ مسجد میں چت لیٹنا جائز ہے۔
٤٧٥ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ،عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادٍ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّه رَأَى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًّا فِی الْمَسْجِدِ، وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأخرى، وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ كَانَ عمر و َعُثْمَانُ يَفْعَلَان ذَلِكَ۔
اطراف الحدیث : 5969 – ۶۲۸۷ | (صحیح مسلم : 2100 الرقم المسلسل :5402 سنن ابوداؤد: 4866 سنن ترمذی: ۲۷۶۵ سنن نسائی : ۷۲۱ ‘مسند الحمیدی: 414 سنن دارمی: 2659، صحیح ابن حبان : ۵۵۵۲ شرح السنة : ۴۸۶ مسند احمد ج 4 ص ۳۸ طبع قدیم، مسند احمد: 16430 – ج ۲۶ ص 359 مؤسسة الرسالة بيروت
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی از امام مالک از ابن شہاب از عباد بن تمیم از عم خود، وه بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ کے اوپر رکھی ہوئی تھی، از ابن شہاب از سعید بن المسیب’ انہوں نے کہا کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما اس طرح کرتے تھے۔
اس حدیث کے تمام رجال کا تعارف ہوچکا ہے۔
اس حدیث کی عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں چت لیٹے ہوئے تھے اور آپ نے اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی۔
اس اعتراض کا جواب کہ بعض احادیث میں چت لیٹنے اور ٹانگ پر ٹانگ رکھنے کی ممانعت ہے
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا کہ کوئی شخص ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھے اور وہ شخص اپنی پشت پر (چت) لیٹا ہوا ہو۔( صحیح مسلم : ۲۰۹۹ سنن ابوداؤد : ۴۸۶۵ سنن ترمذی : ۲۷۶۶ سنن نسائی: ۵۳۵۷ تاریخ بغداد ج ۲ ص ۳۹۱)
علامہ ابوسلیمان احمد بن محمد خطابی شافعی متوفی ۲۸۸ ھ لکھتے ہیں :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح لیٹنے سے اس لیے منع فرمایا کہ جب انسان نے شلوار نہ پہنی ہو اور صرف تہبند باندھ کر لیٹا ہوا ہو تو اس کی شرم گاہ ظاہر ہونے کا خدشہ ہے اور اس زمانہ میں زیادہ تر لوگ تہبند باندھتے تھے اور وہ بھی پورے نہیں ہوتے تھے اور جب تہبند چھوٹا ہو اور کوئی شخص چت لیٹ کر اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ لے تو وہ اپنی ران کے کھل جانے سے محفوظ نہیں رہے گا اور ران بھی شرم گاہ ہے اور جب تہبند پورا ہو اور تہبند باندھنے والا تہبند کے کھلنے سے بچتا ہو تو پھر مسجد میں چپت لیٹ کر ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (معالم السفن مع مختصر المنذری ج ۷ ص ۲۰۸ ۲۰۷ دار المعرفة بیروت)
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے جو چت لیٹنے کی ممانعت منقول ہے وہ منسوخ ہے، کیونکہ امام بخاری نے باب مذکور کی حدیث کے بعد یہ بھی روایت کیا ہے کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما مسجد میں چت لیٹتے تھے، اگر اس طرح لیٹنا ممنوع ہوتا تو حضرت عمر اور حضرت عثمان اس طرح نہ لیٹتے اور یہ متصور نہیں ہے کہ ان سے اس کی ممانعت مخفی تھی۔( شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۵۸ ۱۵۷ دار الكتب العلمیة بیروت (1424ھ)
حافظ ابن حجر نے علامہ ابن بطال پر یہ اعتراض کیا ہے کہ محض احتمال سے حضرت جابر کی حدیث کو منسوخ قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۱۱۳ دار المعرفة بیروت 1426ھ )
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی 855 ھ حافظ ابن حجر کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
علامہ ابن بطال نے یہ نہیں کہا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے منسوخ ہونے کا احتمال ہے، بلکہ انہوں نے پورے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی چت لیٹنے سے ممانعت کی حدیث منسوخ ہے اور اس پر یہ دلیل قائم کی ہے کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما اس طرح لیٹتے تھے اور ان سے اس ممانعت کا مخفی ہونا متصور نہیں ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی ضرورت کی بناء پر بیان جواز کے لیے چت لیٹے ہوں یا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زیادہ صحابہ نہ ہوں، کیونکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ ہوتے تھے تو آپ مسجد میں وقار کے ساتھ چار زانو بیٹھتے تھے اور تواضع کے ساتھ بیٹھتے تھے، دوزانو بیٹھتے تھے یا اکڑوں بیٹھتے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں ٹیک لگاکر بیٹھنا اور لیٹنا جائز ہے البتہ مسجد میں منہ کے بل اوندھا لیٹنا جائز نہیں ہے۔(عمدۃ القاری ج 4 ص 374، دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)
اوندھے منہ لیٹ کر سونے کی ممانعت اور لیٹنے اور سونے کی چار اقسام
میں کہتا ہوں کہ اوندھے منہ لیٹنے کی ممانعت کے متعلق یہ حدیث ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا وہ اپنے پیٹ کے بل ( اوندھا) لیٹا ہوا تھا آپ نے فرمایا: یہ لیٹنے کا ایسا طریقہ ہے جس کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ (سنن ترمذی: 2768 مسند احمد ج ۲ ص ۲۸۷)
یعیش بن طلحہ بن قیس الغفاری بیان کرتے ہیں کہ میرے والد رضی اللہ عنہ اصحاب الصفہ میں سے تھے (وہ بیان کرتے ہیں کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ساتھ عائشہ کے گھر چلو، چنانچہ ہم گئے، آپ نے فرمایا: اے عائشہ! ہم کو کچھ کھلاؤ وہ حثیثہ ( گندم کے موٹے آٹے میں گوشت یا کھجور میں ڈال کر بنایا ہوا طعام) لے کر آئیں، وہ پرندے کی خوراک کے برابر تھا، ہم نے اس کو کھالیا ، پھر آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! ہمیں کچھ پلاؤ وہ العس (بہت بڑا پیالہ جس میں چار کلو سماسکے ) میں دودھ لے کر آئیں، سو ہم نے اس کو پی لیا، پھر فرمایا: اے عائشہ ! ہمیں پلاؤ تو وہ چھوٹا پیالہ لائیں، پس ہم نے اس کو پی لیا، پھر فرمایا: اگر تم لوگ چاہو تو سوجاؤ اور اگر تم چاہو تو مسجد میں چلے جاؤ تو جس وقت میں سحر کے وقت مسجد میں منہ کے بل ( اوندھا) لیٹا ہوا تھا، میں نے دیکھا: ایک شخص مجھے اپنے پیر سے ہلا رہا ہے میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے آپ نے فرمایا : اس طرح لیٹنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔( سنن ابوداود:۵۰۴۰ سنن ابن ماجه: 3723، صحیح ابن حبان :٬۵۰۵۰ مسند احمد ج ۳ ص ۴۲۹)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصہ میں لیٹتے تو دائیں کروٹ پر لیٹتے اور جب صبح سے تھوڑی دیر پہلے لیٹتے تو اپنی دونوں کلائیوں کو کھڑا کرکے اپنے سر کو اپنی ہتھیلیوں پر رکھ لیتے۔( صحیح مسلم : ۱۳۱۳ الرقم المسلسل : 683 شرح السنه : ۳۳۵۹ مسند احمد ج ۵ ص ۳۰۹)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی متوفی ۱۰۵۲ھ مؤخر الذکر حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جب رات کے آخری حصہ میں آپ لیٹتے تو دائیں کروٹ پر لیٹتے اور جب صبح کا وقت قریب ہوتا تو دونوں کلائیوں کو نصب کرکے ہتھیلیوں پر سر رکھ لیتے اور سوجاتے اور یہ اس لیے کرتے تھے تاکہ گہری اور میٹھی نیند نہ آئے اور نماز فجر فوت نہ ہوجائے اور پہلی صورت میں جب آپ دائیں کروٹ پر سوتے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ پھر بائیں جانب دل معلق رہتا تھا اور قرار اور سکون کم ہوتا تھا اور گہری نیند نہیں آتی تھی۔
اگر بائیں کروٹ پر لیٹا جائے تو دل اپنی جگہ پر سکون رہتا ہے اور گہری نیند آتی ہے اور اطباء چونکہ جسم کو آرام پہنچانا چاہتے ہیں اس لیے وہ کہتے ہیں بائیں کروٹ پر سونا چاہیے تاکہ کھانا اچھی طرح ہضم ہو جائے اور ظاہر کی حرارت باطن میں پہنچ جائے جو کھانے کے ہضم ہونے کی موجب ہے۔ (اشعۃ اللمعاج 4 ص 36 مکتبہ رشیدیه کوئٹہ )
نیز محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں:
سونے کی چار قسمیں ہیں: (۱) چت لیٹ کر سونا، یہ غور و فکر کرنے والوں کا طریقہ ہے جو آسمان اور اجرام فلکیہ کو دیکھ کر ان میں غور و فکر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت پر استدلال کرتے ہیں(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام سے بھی چت لیٹنا ثابت ہے جیسا کہ اس باب کی حدیث : ۴۷۵ میں مذکور ہے۔ سعیدی غفرلہ ) (۲) دائیں کروٹ پر سونا، یہ عبادت گزاروں کے سونے کا طریقہ ہے کیونکہ اس صورت میں گہری نیند نہیں آتی اور انسان عبادت کے لیے اپنے وقت پر بیدار ہوجاتا ہے (۳) بائیں کروٹ پر سونا یہ اطباء کا طریقہ ہے کیونکہ اس صورت میں کھانا جلد ہضم ہوتا ہے اور جسم کو راحت اور آرام ملتا ہے (۴) منہ کے بل اوندھے لیٹ کر سونا یہ غافل لوگوں کے سونے کا طریقہ ہے کیونکہ انسان کے بدن کا سب سے عزت والا حصہ سینہ ہے وہ خاک ذلت پر ہوتا ہے یا نیچے ہوتا ہے اور یہ وہ طریقہ ہے جس کو اللہ تعالٰی ناپسند فرماتا ہے۔ (اشعتہ اللمعات ج 4 ص 37 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )
ان حدیثوں کی شرح میں حضرت محدث دہلوی منفرد ہیں، میں نے ان حدیثوں کی شرح کے لیے عمدۃ القاری، فتح الباری لابن رجب، افتح الباری لابن حجر، شرح نووی ،معالم السنن، عارضتہ الاحوذی’ تحفۃ الاحوذی اور مرقاۃ المفاتیح کو دیکھا کسی نے بھی دائیں کروٹ پر سونے اور جب فجر قریب ہو تو کلائیوں کو نصب کرکے ہتھیلیوں پر سر رکھنے کی توجیہ نہیں بیان کی’ نہ سونے کی مذکور الصدر اقسام بیان کیں یہ صرف حضرت محدث دہلوی کا تفرد ہے، اللہ تعالیٰ ان کی قبر پر نور اور رحمتیں نچھاور فرمائے اور ان کے فیوضات سے ہمیں بھی حظ وافر عطا فرمائے۔ (آمین)
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۳۹۰ – ج 6 ص 408 پر مذکور ہے وہاں کسی عنوان کے تحت شرح نہیں ہے صرف فائدہ بیان کیا گیا ہے۔