کتاب الصلوۃ باب 86 حدیث نمبر 476
٨٦ – بَابُ الْمَسْجِدِ يَكُونُ فِي الطَّرِيقِ مِنْ غَيْرِ ضَرَرِ بِالنَّاسِ
لوگوں کے ضرر کے بغیر راستے میں مسجد کا ہونا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ راستہ میں مسجد بنانا جائز ہے، بہ شرطیکہ اس سے لوگوں کو حرج نہ ہو مسجد بنانے کی کئی اقسام ہیں، ایک قسم بالاتفاق جائز ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ملکیت میں مسجد بنائے، دوسری قسم بالاتفاق ناجائز ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کی ملکیت میں مسجد بنائے اس میں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہیں جاتا بلکہ دوسرے کی جگہ میں تصرف کرنے کی وجہ سے انسان عذاب کا مستحق ہوتا ہے، شہروں میں عموما لوگ سرکاری زمین پر حکومت یا اس کے مجاز نمائندہ کی اجازت کے بغیر مسجد بنالیتے ہیں یہ بجائے ثواب کے الٹا گناہ ہے اور تیسری قسم راستہ میں مسجد بنانا ہے یہ اس وقت جائز ہے جب اس سے کسی کو حرج نہ ہو بعض فقہاء نے اس کو بھی ناجائز ہے کہا ہے امام بخاری نے اس عنوان سے ان کا رد کرنے کا قصد کیا ہے۔
وبِهِ قَالَ الْحَسَنُ وَأَيُّوبُ وَمَالِكُ.
اور حسن بصری ایوب اور مالک کا یہی قول ہے۔
ایوب سے مراد ایوب سختیانی ہیں اور مالک سے امام مالک بن انس مراد ہیں، ہر چند کہ جمہور فقہاء کا بھی یہی مسلک ہے لیکن چونکہ ان تین فقہاء نے اس کے جواز کی تصریح کی ہے، اس لیے امام بخاری نے خصوصیت کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے۔
٤٧٦ – حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ابن الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ اَبَوَى إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، وَلَم یمر عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةٌ، ثُمَّ بَدَا لابی بَكْرٍ فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ، فَكَانَ يُصَلَّى فِيْهِ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَيَقِفٌ عَلَيْهِ نِسَاء الْمُشْرِكِين وَابْنَاؤُهُمْ يَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَنظُرُونَ إِلَيْهِ، وَكَانَ ابُوبَكْرِ رَجُلًا بَكَاءُ لَا يَمْلِكُ عَيْنَيْهِ إِذَا قَرَاَ الْقُرْآنَ، فَافْزَع ذَلِكَ أَشْرَافَ قُرَيْشٍ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ۔
اطراف الحدیث: ۲۲۹۷-3905-4093-5807-6079-
مصنف عبدالرزاق: 9743، صحیح ابن حبان : ۶۲۷۷ دلائل النبوة لابی نعیم : ۲۳۰ شرح السنتہ : 3763 صحیح ابن خزیمہ: ۲۶۵ المستدرک ج ۳ ص ۴ – 3 سنن بیہقی ج 9 ص ۹ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ۲ ص 475-471 مسند احمد ج 6 ص ۱۹۸ طبع قدیم، مسند احمد : ۴۵۶۲۶- ج 42 ص۴۱۹ موسته الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحیی بن بکیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از عقیل از ابن شہاب، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن الزبیر نے خبر دی که حضرت عائشہ رضي الله عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتی ہیں: میں نے اسی وقت ہوش سنبھالا تھا، جب میرے والدین دین کے احکام پر عمل کرتے تھے اور ہر روز دن کی دونوں طرفوں میں صبح اور شام ہمارے پاس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تھے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خیال آیا کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنالیں، پھر وہ اس مسجد میں نماز پڑھتے تھے اور ( بلند آواز سے) قرآن مجید پڑھتے تھے مشرکین کے بیٹے اور ان کی عورتیں سب اس کو سنتے اور اس پر تعجب کرتے اور حضرت ابوبکر کی طرف دیکھتے اور حضرت ابوبکر پرسوز اور دل گداز طبیعت کے مالک تھے جب وہ قرآن پڑھتے تو ان کی آنکھیں بے قابو ہوجاتیں اور وہ آنسو بہاتے، قریش کے سردار اس منظر سے بہت گھبرا گئے۔
بغیر ضرر کے راستہ میں مسجد بنانے کی دلیل
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:
ابن شعبان نے کتاب الزاھی میں لکھا ہے کہ ان مساجد میں نماز پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے جو راستوں میں رہائش کی جگہوں میں اور کشتی کے لنگر انداز ہونے کی جگہوں پر بنائی گئی ہوں کیونکہ وہ ناحق جگہوں پر بنائی گئی ہیں اور جس شخص نے اس مسجد میں اس تاویل سے نماز پڑھی کہ وہ راستہ میں نماز پڑھ رہا ہے اور جس طرح راستہ پر اوروں کا حق ہے اس کا بھی حق ہے تو اس کی نماز ہوجائے گی اور اگر مسجد کسی وسیع جگہ پر ہو اور امام کا یہ ارادہ ہو کہ اس جگہ کو اور وسیع کرے جس سے چلنے والوں کو ضرور نہ ہو تو امام مالک کے نزدیک اس کو منع نہیں کیا جائے گا اور ربیعہ نے راستہ میں مسجد بنانے سے منع کیا ہے اور میرے نزدیک یہ قول زیادہ صحیح ہے اور میں نے ربیعہ کے قول کو اس لیے اختیار کیا ہے کہ راستہ میں حیض اور نفاس والی عورتیں بھی چلتی ہیں اور نابالغ اور ذمی بھی چلتے ہیں اگر وہاں مسجد بنادی جائے تو ان کو ضرر ہوگا۔
امام مالک کے قول کی وجہ یہ ہے کہ مسجد میں اضافہ کرنا امام کا حق ہے اور امام مالک نے راستہ میں مسجد بنانے کو جائز کہا ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر میں مسجد بنائی تھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گھروں کے صحن میں اگرچہ کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا اور راستہ پر چلنے والے گھروں کے منافع کے مستحق نہیں ہوتے، لیکن مسجد مسلمانوں کی جماعت کا حصہ زمین ہے اور کسی کے لیے اس کو ملکیت بنانا جائز نہیں ہے لہذا مسجد راستہ کے حکم میں ہے بلکہ اس میں راستہ سے زیادہ نفع ہے کیونکہ اس میں نماز پڑھی جاتی ہے جو اسلام کے اعظم امور سے ہے اور اس کے قائم کرنے میں احتیاط برتنا راستہ میں بچوں، حائض عورتوں اور ذمیوں کی رعایت کرنے سے زیادہ افضل ہے امام بخاری نے اس حدیث کے عنوان میں امام مالک کے قول کی طرف میلان کیا ہے۔
اس حدیث سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وہ فضیلت ظاہر ہوتی ہے جس میں ان کا کوئی شریک نہیں ہے کیونکہ انہوں نے کتاب اللہ کی تبلیغ اور اس کے اظہار کے مقابلہ میں اپنی جان کی پرواہ نہیں کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہی اس مرتبہ پر ہیں ۔
( شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۵۹ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1424ھ)
علامہ بدرالدین عینی متوفی ۸۵۵ھ اور علامہ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ نے علامہ ابن بطال کی شرح کا خلاصہ لکھ دیا ہے
علامہ کرمانی متوفی ۷۸۶ ھ نے بھی ان ہی کا خلاصہ لکھا ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص 377، فتح الباری ج 2 ص ۱۱۴ شرح الکرمانی ج 4 ص ۱۳۸)