کتاب الصلوۃ باب 87 حدیث نمبر 477
۸۷ – بَابُ الصَّلوةِ فِي مَسْجِدِ السُّوقِ
بازار کی مسجد میں نماز پڑھنا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ بازار کی مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
علامہ کرمانی علامہ ابن بطال اور علامہ ابن حجر کی شروح پر علامہ عینی کے اعتراضات اور مصنف کے جوابات
علامہ محمد بن یوسف کرمانی متوفی ۷۸۶ ھ اس عنوان کی شرح میں لکھتے ہیں:
اس عنوان میں مسجد سے مراد مجازا وہ جگہ ہے جہاں نماز پڑھی جائے، خصوصیت کے ساتھ مسجد کی عمارت مراد نہیں ہے۔( شرح الکرمانی ج 4 ص ۱۴۰ دار احیاء التراث العربي بيروت ۱۴۰۱ھ )
علامہ عینی ان کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں: انہوں نے بغیر ضرورت کے امام بخاری کے عنوان میں مسجد کو مجاز پر محمول کیا ہے اور اس سے نماز پڑھنے کی جگہ مراد لی ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۷۷)
میں کہتا ہوں کہ علامہ کرمانی نے یہ اس لیے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص بازار میں دکان میں نماز پڑھے تو یہ عنوان اس کو بھی شامل ہوجائے لہذا مجاز کا ارادہ بلا ضرورت نہیں ہے۔
علامہ ابن بطال متوفی ۴۴۹ ھے اس عنوان کی شرح میں لکھتے ہیں:
اسواق ( بازاروں ) سے مراد نماز پڑھنے کی جگہیں ہیں ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا کہ زمین کا سب سے بدترین ٹکڑا کون سا ہے؟ تو آپ کو حضرت جبریل علیہ السلام نے آکر خبر دی کہ زمین کا سب سے بدترین ٹکڑا بازار ہیں اور سب سے بہترین ٹکڑا مساجد ہیں، اس حدیث کو امام آجری نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے، امام بخاری کو خوف ہوا کہ جو شخص اس حدیث کو پڑھے گا اس کو یہ وہم ہوگا کہ جب بازار زمین کا بدترین ٹکڑا ہیں تو وہاں نماز پڑھنا جائز نہیں ہوگا، اس لیے انہوں نے حضرت ابوہریرہ کی یہ حدیث روایت کی کہ جس نے بازار میں تنہا نماز پڑھی تو اس کو نماز کے پچیس درجوں میں سے ایک درجہ ملے گا، جیسے کوئی شخص اپنے گھر میں اکیلے نماز پڑھے تو امام بخاری نے یہ استدلال کیا کہ جب بازار میں تنہا نماز پڑھنا جائز ہے تو اولیٰ یہ ہے کہ بازار میں مسجد بنالی جائے تاکہ بازار میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا ثواب مل جائے، جس طرح عذر کی حالت میں گھروں میں مسجد بنائی جاتی ہے تاکہ گھروں میں بھی جماعت سے نماز پڑھنے کی فضیلت حاصل ہوجائے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص 161 دارالکتب العلمیة بیروت 1424ھ )
علامہ بدرالدین عینی نے اس شرح پر یہ اعتراض کیا ہے کہ علامہ ابن بطال کو یہ کہاں سے پتا چلا کہ امام بخاری کو یہ خوف ہوا کہ جو شخص اس حدیث کو پڑھے گا کہ زمین کا بدترین ٹکڑا بازار ہیں تو وہ بازار میں نماز نہیں پڑھے گا۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۷۷)
میں کہتا ہوں کہ علامہ عینی کا یہ اعتراض بالکل بے جان ہے، اس قسم کی عبارت محاورۃ لکھی جاتی ہے، اس عبارت سے علامہ ابن بطال کی مراد تھی کہ اس حدیث کی بناء پر یہ وہم ہوسکتا تھا کہ جب زمین کا بدترین ٹکڑا بازار ہے تو پھر بازار میں نماز نہیں پڑھنی چاہیئے اس وہم کے ازالہ کے لیے امام بخاری نے یہ عنوان قائم کیا کہ بازار میں نماز جائز ہے اور جواز پر اس باب کی حدیث سے استدلال کیا۔
حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ اس عنوان کی شرح میں لکھتے ہیں:
اس عنوان سے امام بخاری نے یہ اشارہ کیا ہے کہ جس حدیث میں مذکور ہے کہ زمین کا بدترین ٹکڑا بازار ہیں اور زمین کا بہترین ٹکڑا مساجد ہیں، جیسا کہ اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے، اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے اور اگر بالفرض اس کی سند صحیح ہو تو یہ بازار میں مسجد بنانے سے مانع نہیں ہے، کیونکہ اب جس زمین کے ٹکڑے میں مسجد ہوگی وہ زمین کا بہترین ٹکڑا ہوگا۔(فتح الباری ج ۲ ص ۱۱۵ دار المعرفته بیروت 1426ھ )
علامہ عینی نے اس شرح پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ شرح سب سے بعید ہے، اس قائل کو کہاں سے پتا چلا کہ امام بخاری نے اس عنوان سے اس طرح اشارہ کیا ہے جس کا اس نے ذکر کیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۷۷)
میں کہتا ہوں کہ اشارہ کا منشاء یہ ہے کہ امام بخاری نے امام بزار کی اس حدیث کو کہ زمین کا بدترین ٹکڑا بازار ہیں، اصالتہ روایت کیا نہ تعلیقاً روایت کیا، بلکہ اس کے برخلاف اس حدیث کو روایت کیا کہ بازار میں نماز پڑھنے سے پچپس درجہ اجر ملتا ہے۔ اس سے
معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک امام ہزار کی یہ روایت صحیح نہیں ہے اور اگر بالفرض یہ روایت صحیح ہو تو جب بازار میں مسجد بن جائے گی تو وہ زمین کا بدترین ٹکڑا نہیں رہے گی، بلکہ وہ زمین کا بہترین ٹکڑا ہوجائے گی، علاوہ ازیں علامہ ابن حجر نے یہ کہا ہے کہ اس عنوان سے اس طرف اشارہ ہے، یہ تو نہیں کہا: یہ عنوان اس باب میں عبارة النص ہے، لہذا اس شرح پر علامہ عینی کا اعتراض بالکل بے معنی اور مہمل ہے۔
دوسرے شارحین کی شرح پر تنقید کرنے کے بعد علامہ عینی خود امام بخاری کے عنوان کی شرح لکھتے ہیں :
جب امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی اس حدیث کو روایت کرنے کا ارادہ کیا، جس میں یہ اشارہ ہے کہ نمازی کی نماز یا تو اس مسجد میں ہوگی جو نماز کے لیے بنائی گئی یا اس کے اپنے گھر میں ہوگی یا بازار میں ہوگی تو انہوں نے اس حدیث کا یہ عنوان لکھا: بازار کی مسجد میں نماز پڑھنے کا جواز اور ان تین جگہوں میں سے بازار کی مسجد کا خصوصیت سے اس لیے ذکر کیا کہ بازار ایسی جگہ ہے جہاں شور وشغب زیادہ ہوتا ہے اور لوگ خرید وفروخت میں مشغول ہوتے ہیں اور اس میں سچی، جھوٹی قسمیں بہت کھائی جاتی ہیں تو یہاں یہ وہم ہوسکتا تھا کہ بازار میں نماز نہیں ہوگی، اس لیے امام بخاری نے خصوصیت کے ساتھ عنوان میں بازار کی مسجد کا ذکر کیا۔(عمدۃ القاری ج 4 ص 377، دارالكتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ )
چاروں شرحوں کے درمیان مصنف کا محاکمہ
میں کہتا ہوں کہ علامہ عینی نے امام بخاری کے عنوان کی بہت عمدہ اور جامع شرح کی ہے، لیکن ان کی شرح بھی علامہ عسقلانی کی شرح کا عکس ہے، علامہ عسقلانی نے یہ کہا تھا: چونکہ بعض احادیث میں یہ مذکور ہے: اللہ تعالیٰ کے نزدیک زمین کا بدترین ٹکڑا بازار ہیں (اس معنی کی حدیث صحیح مسلم : ۲۸۸ میں بھی ہے) اس لیے کسی شخص کو یہ وہم ہوسکتا تھا کہ شاید بازار میں نماز نہیں ہوگی، لہذا امام بخاری نے عنوان میں لکھا: بازار کی مسجد میں نماز پڑھنا، یعنی اس کا جواز حافظ ابن حجر نے اس وہم کا منشاء ایک حدیث کو بنایا اور حافظ عینی نے اس وہم کا منشاء اپنے اجتہاد سے بازار کے شور و شغب وغیرہ کو بنایا نیز علامہ عینی کی شرح علامہ کرمانی سے بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے انہوں نے کہا تھا کہ مساجد سے مراد نماز کی جگہیں ہیں تاکہ یہ عنوان گھر اور دکان میں پڑھی ہوئی نمازوں کو بھی شامل ہوجائے اور علامہ عینی نے بھی لکھا ہے کہ اس باب کی حدیث مسجد، گھر اور دکان میں پڑھی ہوئی نمازوں کو شامل ہے فرق یہ ہے کہ علامہ کرمانی نے حدیث کے عموم کی وجہ سے عنوان کو عام کردیا اور یہ کہا کہ عنوان میں جو مساجد کا ذکر ہے اس سے مراد عموم ہے یعنی نماز کی جگہیں تاکہ امام بخاری کا عنوان حدیث کے مطابق ہوجائے اور اس اعتبار سے علامہ کرمانی کی شرح بہت اچھی ہے اور علامہ عینی کی شرح بھی بہت خوب ہے انہوں نے عنوان میں بازار کی مسجد کے خصوصی ذکر کی توجیہ کی ہے۔ ” وللناس فيما يعشقون مذاهب” لوگوں کی پسند اور رجحان مختلف ہیں ” وَلِكُلّ وَجهَة (البقرہ: 148) بر کسی کی خاص جہت ہے۔
كُل حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (الروم :۳۲)
ہر گروہ اس چیز سے خوش ہونے والا ہے جو اس کے پاس ہے۔
وصلى إِبْنُ عَوْنٍ فِي مَسْجِدٍ فِي دَارٍ يُغْلَق عَلَيْهِمُ الْبَابُ۔
اور ابن عون نے گھر کی مسجد میں نماز پڑھی، جس کا دروازہ لوگوں پر بند کیا ہوا تھا۔
امام بخاری کے عنوان میں بازار کی مسجد کا ذکر ہے اور اس اثر میں گر کی مسجد کا ذکر ہے لہذا یہ اثر امام بخاری کے عنوان کے مطابق نہیں ہے، علامہ کرمانی اس اثر کو ذکر کرنے کی وجہ لکھتے ہیں:
اس اثر کو ذکر کرنے سے شاید امام بخاری کی غرض فقہاء احناف پر رد کرنا ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ گھر میں ایسی مسجد کا بنانا ممنوع ہے جس کا دروازہ لوگوں سے محجوب ہو، یعنی بند کیا ہوا ہو۔ (شرح الکرمانی ج 4 ص ۱۳۹ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۰۱ھ )
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ فقہاء احناف کی طرف سے جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
میں کہتا ہوں کہ (علامہ) کرمانی نے فقہاء احناف پر افتراء کیا ہے کیونکہ فقہاء احناف نے اس طرح نہیں کہا بلکہ اس سلسلہ میں مذہب یہ ہے کہ جس شخص نے اپنے گھر میں مسجد بنائی اور اس کا دروازہ الگ کردیا تو یہ جائز ہے اور وہ مسجد ہوجائے گی اور جب اس نے دروازہ بند کردیا اور اس میں نماز پڑھی تو یہ بھی کراہت کے ساتھ جائز ہے، اسی طرح باقی مساجد کا بھی حکم ہے۔(عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۷۸-۳۷۷ دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ )
حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی علامہ کرمانی پر رد کیا ہے اور لکھا ہے کہ فقہاء احناف نے اس صورت میں نماز کو مکروہ لکھا ہے حرام نہیں لکھا اور اس اثر کی عنوان کے ساتھ یہ مناسبت بیان کی ہے کہ امام بخاری کا ارادہ یہ ہے کہ بازار کے اندر جو مسجد بنائی گئی ہو اس میں نماز پڑھنی جائز ہے کیونکہ ابن عون نے گھر کے اندر بنائی ہوئی مسجد میں نماز پڑھی، جس کا دروازہ لوگوں پر بند تھا۔(فتح الباری ج ۲ ص ۱۱۵ دار المعرفة بیروت 1426ھ )
میں کہتا ہوں : یہ بہت بعید مناسبت ہے، مگر علامہ کرمانی کی بیان کردہ مناسبت سے بہتر ہے۔
٤٧٧ – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَن النبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلوةُ الْجَمِيعِ تزِيد عَلَى صَلوتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلوتِهِ فِى سُوقِه،ِ خَمْسًا وَعِشْرِيْنَ دَرَجَةً، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَا فَاحْسَنَ وَاتَى الْمَسْجِدَ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلوةَ، لَمْ يَخطُ خُطوة إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، وَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يُصَلَّى كَانَ في صلوةٍ مَا كَانَتْ تَحْبِسُهُ، وَتُصَلَّى يَعْنِي عَلَيْه الْمَلَائِكَةُ، مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي يُصَلِّى فِيهِ اللَّهُم اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يُحْدِثُ فِيهِ۔ جامع المسانيد لابن الجوزی: ۴۹۷۰ مكتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی از الاعش از ابی صالح از حضرت ابو ہریره رضی اللہ عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: جماعت کے ساتھ نماز، کسی شخص کی اپنے گھر میں نماز اور اس کی بازار میں نماز پر پچیس درجہ زیادہ ہوتی ہے پس جب تم میں سے کوئی شخص عمدہ طریقہ سے وضوء کرے اور مسجد میں آئے اور اس کا صرف نماز پڑھنے کا ارادہ ہو تو اس کے ہر قدم پر اللہ تعالٰی اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کے ایک گناہ کو مٹادیتا ہے حتی کہ وہ مسجد میں داخل ہوجائے اور جب وہ مسجد میں داخل ہو تو جب تک وہ نماز کی وجہ سے مسجد میں ٹھہرا رہتا ہے، اس کا نماز میں ہی شمار ہوتا ہے اور فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اے اللہ ! اس کی مغفرت فرما اے اللہ ! اس پر رحم فرما، جب تک وہ وضوء نہ توڑے۔
جب تک وہ نماز کے انتظار میں مسجد میں رہے، فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اس کی شرح صحیح البخاری: ۱۷۶ میں گزر چکی ہے باقی اہم امور کی شرح حسب ذیل ہے:
باب کے ساتھ اس حدیث کی مناسبت اس جملہ میں ہے: اور اس کی بازار میں نماز پر پچیس درجہ زیادہ ہوتی ہے۔
اس حدیث میں اچھی طرح وضوء کرنے کا ذکر ہے اس سے مراد ہے: ہر عضو کو تین تین بار دھوئے اور وضوء کی تمام سنتوں اور وضوء کے تمام مستحبات پر عمل کرے اور جو کام وضوء میں مکروہ ہیں ان سے اجتناب کرے۔
اور اس حدیث میں ہے: وہ کسی کو ایذاء نہ دے یعنی اپنے قول اور فعل سے کسی کو ایذاء نہ دے۔
جماعت سے نماز پڑھنے پر پچپس درجہ فضیلت اور ستائیس درجہ فضیلت کی احادیث میں تطبیق کی توجیہات
اس حدیث میں ذکر ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے پچیس درجہ زائد اجر ہوتا ہے جب کہ ایک اور حدیث میں ہے کہ ستائیس درجہ زائد اجر ہوتا ہے۔ وہ حدیث یہ ہے:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کے ساتھ نماز، تنہا نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے۔ ( صحیح البخاری: 645، صحیح مسلم :650، الرقم المسلسل : ۲۴۹۰ ، سنن نسائی: ۸۳۷)
ان حدیثوں میں حسب ذیل وجوہ سے تطبیق دی گئی ہے:
(1) پہلے اللہ تعالیٰ نے چھپیں درجہ فضیلت کی خبر دی، پھر بعد میں ستائیس درجہ فضیلت کی خبر دی کیونکہ ناقص مقدم ہوتا ہے اور زائد مؤخر ہوتا ہے۔
(۲) مسجد کے بغیر جماعت کے ساتھ نماز میں پچیسں درجہ فضیلت ہے اور مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھنے میں ستائیس درجہ فضیلت ہے۔
(۳) جس حدیث میں پچیس درجہ فضیلت بیان کی گئی ہے، اس میں ہر قدم پر نیکی عطا فرمانے اور گناہ مٹانے کا بھی ذکر ہے جب کہ وہ حدیث جس میں ستائیں درجہ فضیلت مذکور ہے، اس میں ہر قدم پر نیکی عطا فرمانے اور گناہ مٹانے کا ذکر نہیں ہے۔ یوں ایک اضافی فضیلت کے ذریعہ پچیس کو ستائیس کے برابر کیا گیا ہے۔
(۴) ثواب کے درجات کا یہ اختلاف نمازیوں کے مختلف احوال کے اعتبار سے ہے، جو شخص نماز کو کامل طریقہ سے اس کے تمام آداب کے ساتھ پڑھتا ہے اس کو ستائیس درجہ ثواب ملتا ہے اور جو ان آداب کی رعایت نہیں کرتا، اس کو پچیس درجہ ثواب ملتا ہے۔
(۵) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ درجات کا یہ اختلاف نمازی کے خضوع اور خشوع کی کمی اور بیشی کے اعتبار سے ہو۔
(6) عصر اور فجر کی نمازوں میں چونکہ دن اور رات کے فرشتے مجتمع ہوتے ہیں، اس لیے ہوسکتا ہے ان میں ستائیس درجہ ثواب ہو اور باقی نمازوں میں چھپیس درجہ ثواب ہو۔
(۷) ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان دونوں حدیثوں میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ قلیل کثیر کے منافی نہیں ہے۔
(۸) علامہ فضل اللہ بن سعید الحسن التوریثی متوفی ۶۶۱ ھ لکھتے ہیں :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے پچیس درجات کی خبر دی، پھر ستائیس درجات کی خبر دی، حقیقت میں اس کی وجہ علوم نبوت کی طرف راجع ہے، ہماری عقلیں اس کے ادراک سے قاصر ہیں۔ بہ طور احتمال یہ کہا جاسکتا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے فوائد مثلاً نمازیوں کا جمع ہونا اور ان کا صفیں بنانا، اقتداء کے فوائد اور شعائر اسلام کا اظہار، یہ تمام چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کی گئیں اور ان کی وجہ سے پہلے آپ کو پچیس درجہ جماعت کی فضیلت پر مطلع فرمایا اور پھر ستائیس درجہ فضیلت پر مطلع فرمایا لیکن اس کے حقیقی سبب کا اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ہی کو علم ہے۔(کتاب المسير في شرح مصابیح السنته ج ا ص ۲۸۵ مکتبه نزار مصطفی، مکه مکرمه ۱۴۲۲ھ )
(۹) علامہ محمد بن یوسف کرمانی متوفی ۷۸۶ ھ پچیس درجہ فضیلت کی توجیہ میں لکھتے ہیں:
اس قسم کی چیزوں کے اسرار کا تو شارع علیہ السلام ہی کو علم ہے، لیکن بہ طور احتمال یہ کہا جاسکتا ہے کہ دن اور رات کی فرض نمازوں کی تعداد پانچ ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا اجر بڑھایا اور پانچ کو پانچ میں ضرب دی تو پچیس کا عدد حاصل ہوگیا، لہذا ہر نماز کا اجر پچیس گنا کردیا، پھر اگر یہ کہا جائے کہ ستائیس درجہ فضیلت کی کیا وجہ ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ دن اور رات کی فرض نمازوں کی رکعات کی تعداد سترہ ہے اور دن اور رات کی سنن مؤکدہ کی تعداد دس ہے تو ستائیس کا عدد حاصل ہوگیا تو اس طرح جماعت کے ساتھ نماز کا اجر ستائیس گنا کردیا۔ (شرح الکرمانی ج 4 ص ۱۳۹ دار احیاء التراث العربی بیروت 1401ھ ) علامہ بدرالدین عینی نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ دن اور رات کی سنن مؤکدہ کی تعداد دس نہیں بارہ ہے اس طرح انتیس کا عدد حاصل ہوگا، پھر علامہ عینی لکھتے ہیں:
(۱۰) مجھے اس مقام پر انوار الہیہ ،اسرار برانیہ اور عنایات محمدیہ سے جو وجہ منکشف ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ہر نیکی کا دس گنا اجر ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کو دگنا کردیا اور چونکہ انسان پانچ وقت نماز پڑھتا ہے تو ان میں میں پانچ اور ملائے تو پچیس کا عدد حاصل ہوگیا، لہذا جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کا اجر پچیس گنا کردیا گیا اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ عدد میں اکائی ہے، دہائی ہے، سینکڑہ ہے، ہزار ہے اور لاکھ ہے اور ان میں متوسط سینکڑہ ہے اور اس کا چوتھائی پچیس ہے اور چوتھائی کل کے حکم میں ہوتا ہے لہذا متوسط پچپس کا عدد ہوگیا اور اس لیے جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کا اجر پچیس گنا کردیا گیا۔
ستائیس درجہ کی وجہ بیان کرتے ہوئے علامہ عینی لکھتے ہیں کہ سابقہ تقریر کے لحاظ سے بہ طور فضل نمازوں کا اجر میں درجہ ہے اور ہفتہ کے دن سات ہیں لہذا جب میں کے ساتھ سات ملائے تو ستائیس کا عدد حاصل ہوگیا اور یوں جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کا اجر ستائیس درجہ زیادہ ہوگیا۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص 381، دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ )
میں کہتا ہوں کہ یہ سب تک بندیاں ہیں اور ان کے انکشاف کی انوار الہیہ، اسرار ربانیہ اور عنایات محمدیہ کی طرف نسبت کرنا مناسب نہیں ہے۔ اصل بات وہی ہے جو علامہ تورپشتی نے کہی ہے کہ اس کا حقیقی علم علوم نبوت ہی کی طرف راجع ہے۔