مقدمہ از شارح صحیح مسلم :: تعارف کتب احادیث
sulemansubhani نے Sunday، 13 September 2026 کو شائع کیا.
صحیح بخاری کی احادیث کا بیان
حافظ ابن صلاح لکھتے ہیں:
امام ابوعبدالله محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ھ نے سب سے پہلے احادیث صحیحہ کا مجموعہ تصنیف کیا اور ان کے بعد امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری نیشاپوری متوفی ۲۶۱ھ نے احادیث صحیحہ کا مجموعہ پیش کیا، صحیح بخاری اور صحیح مسلم، کتاب اللہ کے بعد کتابوں میں سب سے زیادہ صحیح ہیں اور ان دونوں میں صحیح بخاری زیادہ صحیح ہے، حافظ نیشاپوری اور بعض مغاربہ (علماء اندلس) نے صحیح مسلم کو صحیح بخاری پر ترجیح دی ہے، اس کا محمل یہ ہے کہ صحیح مسلم میں صرف احادیث صحیحہ ہیں جب کہ صحیح بخاری کے تراجم میں بعض غیر صحیح احادیث بھی موجود ہیں لیکن صحت اور قوت کے لحاظ سے صحیح بخاری کی احادیث صحیح مسلم پر راجح ہیں۔
امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی کتابوں میں تمام احادیث صحیحہ کو منحصر کرنے کا التزام نہیں کیا، امام بخاری نے خود کہا ہے میں نے اپنی کتاب جامع میں صرف احادیث صحیحہ کو درج کیا ہے اور طوالت کی وجہ سے میں نے اکثر احادیث صحیحہ کو ترک کر دیا اور امام مسلم نے کہا ہے کہ میں نے اپنی صحیح میں صرف ان احادیث کو درج کیا ہے جن کی صحت پر اجماع ہے۔
حافظ ابوعبداللہ ابن الاخرم نے کہا کہ امام بخاری اور امام مسلم سے جو احادیث رہ گئی ہیں ان کی تعداد بہت کم ہے، لیکن یہ قول صحیح نہیں، یہ متروکہ احادیث کم نہیں ہیں کیونکہ امام حاکم ابو عبداللہ نیشاپوری کی مستدرک علی الصحیحین بہت بڑی کتاب ہے (یہ جہازی سائز کی چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے) اور اس میں ان احادیث صحیحہ کی بہت بڑی تعداد ہے، جو امام بخاری اور امام مسلم کی شرطوں کے موافق ہونے کے باوجود ان کی کتابوں میں نہیں ہے، اور خود امام بخاری نے کہا ہے کہ مجھے ایک لاکھ احادیث صحیحہ اور دو لاکھ احادیث غیر صحیحہ حفظ ہیں، جب کہ ان کی کتاب صحیح بخاری میں درج کل احادیث صحیحہ کی تعداد سات ہزار دو سو پچھتر ہے اور ان میں سے احادیث مکررہ کو حذف کرنے کے بعد کل احادیث کی تعداد چار ہزار ہے۔ ہاں اگر آثار صحابہ اور تابعین کو بھی شمار کیا جائے تو یہ تعداد اس سے زیادہ ہے اور محدثین کی اصطلاح میں جو حدیث واحد دو سندوں سے روایت کی گئی ہو اس کو بھی دو حدیثیں قرار دیا جاتا ہے،( حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس طرح کل احادیث کی تعداد نو ہزار بیاسی بتائی ہے اور حذف مکررات کے بعد کل احادیث مرفوعہ کی تعداد دو ہزار چھ سو بتیس بتائی ہے۔( حافظ ابو عمرو عثمان بن ابراہیم شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ علوم الحدیث ص 17-13 ملخصاً مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۶ھ)
صحیح مسلم کی احادیث اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں تقابل کا بیان
علامہ سخاوی لکھتے ہیں:
بعض اہل مغرب نے صحیح مسلم کو صحیح بخاری پر ترجیح دی ہے، حافظ ابو علی حسین بن علی نیشاپوری نے کہا ہے کہ آسمان کے نیچے امام مسلم کی کتاب سے زیادہ کوئی کتاب صحیح نہیں ہے، علامہ نووی نے کہا ہے کہ امام بخاری کی کتاب کے فوائد زیادہ ہیں اور اس کے معارف دقیق ہیں، جن راویوں سے روایت کرنے میں امام بخاری منفرد ہیں ان کی تعداد چار سو پینتیس ہے اور ان میں سے جن کو ضعیف کہا گیا ہے ان کی تعداد اسی (۸۰) ہے اور جن سے روایت کرنے میں امام مسلم منفرد ہیں ان کی تعداد چھ سو بیس (۶۲۰) ہے ، ان میں سے ایک سو ساٹھ راویوں کو ضعیف کہا گیا ہے، نیز جن راویوں کو ضعیف کہا گیا ہے امام بخاری نے ان سے بہت کم روایت کی ہے اس کے برعکس امام مسلم نے ان سے زیادہ روایت کی ہے ، اور جہاں تک اتصال کا تعلق ہے تو امام مسلم کے نزدیک اتصال کا معیار یہ ہے کہ راوی اور مروی عنہ کا زمانہ ایک ہو اور امام بخاری کے نزدیک یہ کافی نہیں بلکہ یہ ضروری ہے کہ ان کی ملاقات بھی ہوئی ہو، خواہ ایک مرتبہ۔ امام مسلم کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ حدیث کے تمام طرق اور ان کی اسانید کو ایک جگہ جمع کر دیتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ دونوں کتابیں اصح کتب الحدیث ہیں اس کے باوجود یہ تمام احادیث صحیحہ کو محیط نہیں ہیں بلکہ ان کی اپنی شرائط کے مطابق جو حدیثیں ہیں وہ بھی ان میں تمام درج نہیں ہیں ۔ (علامہ ابو عبداللہ محمد بن عبد الرحمٰن سخاوی متوفی ۹۰۲ھ ، فتح المغیث بشرح الفیۃ الحدیث ج ۱ ص ۳۳- ۲۹ ملخصا الطبعہ الثالثہ ۱۴۱۲ھ مطبوعۃ دار الامام الطبری )
حافظ زین الدین عراقی لکھتے ہیں :
علامہ نووی نے کہا ہے کہ حذف مکررات کے بعد صحیح مسلم کی کل احادیث کی تعداد چار ہزار ہے اور ابو الفضل احمد نے بیان کیا ہے کہ بشمول مکررات صحیح مسلم کی کل احادیث کی تعداد بارہ ہزار ہے ۔ (حافظ زین الدین عبد الرحیم بن حسین عراقی متوفی ۸۰۶ھ التقیید والایضاح ص ۴۷ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ)
صحیحین کے علاوہ باقی کتب حدیث کی احادیث صحیحہ کا بیان
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : صحیحین کی تخریج میں بہ کثرت کتابیں ہیں، جن میں جید اسانید کے ساتھ احادیث کا اضافہ کیا گیا ہے مثلاً صحیح ابو عوانہ، صحیح ابوبکر اسماعیلی اور برقانی اور ابونعیم اصبہانی کی اور دوسری کتابیں ہیں جن میں صحت کا التزام کیا گیا ہے مثلاً صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، اسی طرح مسند احمد میں بہ کثرت ایسی احادیث ہیں جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے ہم پلہ ہیں اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نہیں ہیں اور نہ ہی ابو داؤد ، نسائی اور ابن ماجہ میں ہیں۔ اسی طرح طبرانی کی معجم کبیر، معجم اوسط اور معجم صغیر میں اور مسند ابو یعلیٰ اور مسند بزار میں اور دیگر مسانید، معاجم، فوائد اور اجزاء میں بہ کثرت ایسی حدیثیں ہیں جن کے رجال کی تحقیق کے بعد ان پر صحت کا حکم لگایا جاسکتا ہے ، خواہ اس سے پہلے کسی حافظ نے ان کی صحت کی تصریح نہ کی ہو، جیسا کہ علامہ نووی کی تحقیق ہے اور حافظ ابن الصلاح کا اس میں اختلاف ہے (اس بحث کا ذکر ان شاء اللہ آگے آئے گا) (حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر المعروف بابن کثیر متوفی ۷۷۴ھ ، اختصار علوم الحديث ص ۲۳- ۲۱ ، مطبوعہ دار التراث القاہرہ ، ۱۳۹۹ھ)
حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ دیگر ائمہ حدیث کی مصنفات میں بھی احادیث صحیحہ ہیں۔ مثلاً ابو داؤد سجستانی ، امام ابو عیسیٰ ترمذی ، امام ابو عبدالرحمٰن نسائی ، امام ابوبکر بن خزیمہ ، امام ابو الحسن دارقطنی وغیرہہم ، اور کسی حدیث کی صحت کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ امام ابو داؤد ، امام ترمذی ، امام نسائی یا دوسرے کسی امام کی ایسی کتاب میں موجود ہو جس میں صحیح اور غیر صحیح ہر قسم کی حدیثیں درج ہوں ، ہاں حدیث کے صحیح ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ حدیث ایسی کتاب میں موجود ہو جس میں حدیث کو درج کرنے کے لیے صحت کی شرط لگائی گئی ہے جیسے صحیح ابن خزیمہ اور جن کتابوں میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی تخریج کی گئی ہے، جیسے ابوعوانہ اسفرائنی، ابوبکر اسماعیلی اور ابوبکر برقانی کی کتابیں اور جیسے ابو عبداللہ حمیدی کی کتاب الجمع بین الصحیحین ہے۔( حافظ ابو عمرو عثمان بن ابراہیم شہرزوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ، علوم الحدیث ص ۱۱۷، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ، ۱۳۸۲ھ)
جامع ترمذی کی احادیث کی فنی حیثیت کا بیان
حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:
امام ابو عیسیٰ ترمذی کی کتاب حدیثِ حسن کی معرفت میں اصل ہے انھوں نے اپنی جامع میں حدیثِ حسن کا بہ کثرت ذکر کیا ہے۔(حافظ ابو عمرو عثمان بن ابراہیم شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ، علوم الحدیث ص 32، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ، ۱۳۸۶ھ)
امام حاکم ابو عبداللہ اور خطیب بغدادی امام ترمذی کی کتاب کو بھی الجامع الصحيح کہتے ہیں اور یہ ان کا تسامح ہے کیونکہ جامع ترمذی میں بہ کثرت احادیثِ منکرہ ہیں۔ (حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر المعروف بابن کثیر متوفی ۷۷۴ھ، اختصار علوم الحدیث ص ۲۵، مطبوعہ دار التراث القاہرہ ، ۱۳۹۹ھ)
حافظ زین الدین عراقی لکھتے ہیں:
علامہ ابو طاہر سلفی اور ان جیسے دوسرے علماء نے کتبِ سنن پر صحاح کا اطلاق کیا ہے، یہ ان کا تسامح ہے مثلاً ابو طاہر سلفی نے کہا کتبِ خمسہ کی صحت پر علماءِ مشرق و مغرب کا اتفاق ہے اور امام ابو عبداللہ حاکم نے کتاب ترمذی پر “جامع صحیح” کا اطلاق کیا ہے، اسی طرح خطیب نے ترمذی اور نسائی پر صحیح کا اطلاق کیا۔
امام ترمذی حدیثِ واحد کو حسن صحیح کہہ دیتے ہیں حالانکہ حسن، صحیح سے کم درجہ کی ہوتی ہے۔ حافظ ابن الصلاح نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ حسن لغوی معنی میں ہے اور صحیح اصطلاحی معنی میں ہے، ابن دقیق العید نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ پھر موضوع کو بھی حسن کہنا چاہئے کیونکہ اس کے الفاظ حسن ہوتے ہیں، حافظ ابن الصلاح نے دوسرا جواب یہ دیا کہ اس حدیث کی دو سندیں ہیں ایک کے اعتبار سے وہ حسن ہے اور دوسری کے اعتبار سے وہ صحیح ہے، ابن دقیق العید نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جس حدیث کی دو سندیں ہوں ان میں تو یہ جواب چل سکتا ہے لیکن امام ترمذی نے اس حدیث کو بھی حسن صحیح کہا ہے جو صرف ایک سند سے مروی ہو، چنانچہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے “جب نصف شعبان باقی رہ جائے تو روزے نہ رکھو” امام ترمذی اس کے متعلق کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ہم اس کو صرف اسی سند سے پہچانتے ہیں، ان دونوں جوابوں کو رد کرنے کے بعد ابن دقیق العید نے یہ جواب دیا ہے کہ حسن کا اصطلاحی معنی یہ ہے کہ وہ حدیث صحیح سے قاصر ہو۔ اور جب وہ کسی حدیث کو صرف حسن کہتے ہیں تو اس سے بھی اصطلاحی معنی مراد ہوتا ہے اور جب وہ حسن صحیح کہتے ہیں تو ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ حدیث حسن سے ترقی کرکے صحیح ہو گئی ہے اس لیے وہ حدیث راوی کی صفاتِ عالیہ یعنی حفظ اور اتقان کے اعتبار سے صحیح ہے اور صفاتِ دنیہ یعنی صدق کے اعتبار سے حسن ہے، اور اس اعتبار سے ہر صحیح حدیث حسن ہے اور متقدمین نے بھی احادیثِ صحیحہ کو حسن کہا ہے اور ابن الموافق نے کہا ہے کہ ہر وہ حدیث جو امام ترمذی کے نزدیک صحیح ہے وہ حسن بھی ہے اور ہر وہ حدیث جو ان کے نزدیک حسن ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ (حافظ زین الدین عبد الرحیم بن حسین عراقی متوفی ۸۰۶ھ، التبصرۃ والتذکرۃ شرح الفيۃ ج ۱ ص ۱۱۰-۱۰۴، ملخصاً مطبوعہ دار الباز للنشر والتوزیع مکہ المکرمہ )
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
امام ترمذی سے پہلے ائمہ حدیث کے نزدیک حدیث کی صرف دو قسمیں معروف تھیں، صحیح اور ضعیف، اور ضعیف ان کے نزدیک وہ تھی جو صحیح کے درجہ سے کم ہو، پھر اگر ضعیف کا راوی متہم بالکذب یا کثیر الغلط ہو تو وہ ان کے نزدیک متروک ہوتی تھی اور اگر اس کا راوی متہم بالکذب نہ ہو تو وہ ان کے نزدیک حسن ہوتی تھی اور امام احمد نے جو یہ کہا ہے کہ حدیث ضعیف پر عمل کرنا قیاس سے اولیٰ ہے اس سے ان کی یہی مراد ہے۔
امام ترمذی کے نزدیک مستور کی حدیث بھی حسن ہے (جس راوی سے ایک سے زیادہ لوگوں نے روایت کی ہو اور اس کی توثیق نہ کی ہو وہ مستور ہے)، اور جو راوی حافظہ کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہو اور جو حدیث میں غلطی اور خطاء کرنے کی وجہ سے ضعیف ہو اور اختلاط کے بعد مختلط کی حدیث، اور عنعنہ کرنے والا مدلس اور جس کی سند میں انقطاع خفیف ہو، ان تمام راویوں کی حدیثیں امام ترمذی کے نزدیک حسن ہیں، بشرطیکہ (۱) ان میں کوئی راوی متہم بالکذب نہ ہو (۲) اس حدیث کا اسناد شاذ نہ ہو (۳) وہ حدیث بمثلہ یا بنحوہ کسی اور سند سے یا کئی اور اسانید سے بھی مروی ہو۔ اور یہ تمام حدیثیں ایک مرتبہ کی نہیں ہیں بلکہ بعض، بعض سے قوی ہوتی ہیں، امام ترمذی نے اتصال سند کو اصل اور معیار نہیں قرار دیا اس وجہ سے وہ بہت سی احادیث منقطعہ کو بھی حدیث حسن کہتے ہیں۔ (حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ النکت علی کتاب ابن الصلاح ج ۱ ص ۳۸۸۔ ۳۸۵ مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی مدینہ منورہ ۱۴۰۴ھ)
علامہ سخاوی لکھتے ہیں:
حافظ ابو طاہر سلفی نے جو یہ کہا ہے کہ مشرق اور مغرب کے علماء کا کتب خمسہ کی احادیث کی صحت پر اتفاق ہے اس کی توجیہ میں ابن سید الناس نے یہ لکھا ہے کہ اس سے مراد بقیہ تین کتابوں (ابو داؤد، ترمذی اور نسائی) کی وہ احادیث ہیں جن کے متعلق ان کے مصنفین نے ضعف کی تصریح نہیں کی اور ان پر سکوت کیا ایسی تمام احادیث صحیح ہیں، لیکن مطلقاً یہ قول درست نہیں ہے کیونکہ ان کتابوں میں ایسی احادیث بھی ہیں جن پر امام ترمذی اور امام ابو داؤد نے کلام نہیں کیا اور نہ کسی اور نے کلام کیا ہے اس کے باوجود وہ احادیث ضعیف ہیں۔ البتہ علامہ نووی کی توجیہ مستحسن ہے انہوں نے کہا ہے کہ بقیہ تین کتابوں کی اکثر احادیث لائقِ استدلال ہیں اور یہ توجیہ بھی ہوسکتی ہے کہ صحیح اور حسن کی بنسبت ان کتابوں میں ضعیف احادیث چونکہ بہت کم ہیں اس لیے حافظ سلفی نے ان کا اعتبار نہیں کیا۔
حافظ ابو اسماعیل ہروی یہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک امام ترمذی کی کتاب امام بخاری اور امام مسلم کی کتابوں سے زیادہ نفع رساں ہے، کیونکہ ان کی کتابوں سے متبحر عالم کے سوا اور کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور جامع ترمذی سے ہر شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ (علامہ ابو عبد اللہ محمد بن عبد الرحمٰن سخاوی متوفی ۹۰۲ھ فتح المغیث بشرح الفیة الحدیث ج ۱ ص ۱۰۴۔ ۱۰۰ ملخصاً مطبوعہ دارالامام الطبری الطبعة الثالثہ ۱۴۱۲ھ)
جامع ترمذی کی کل احادیث مقصودہ کی تعداد ۱۳۸۵ ہے اور توابع اور شواہد کو ملا کر یہ تعداد ۳۹۵۶ ہے۔
سنن ابو داؤد کی فنی حیثیت کا بیان:
حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:
امام ابو داؤد سجستانی کی سنن بھی حسن کے قبیل سے ہے، ہم نے امام ابو داؤد سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا ہے میں نے اس کتاب میں صحیح اس کے مشابہ اور اس کے مقارِب احادیث کو جمع کیا ہے۔ اور ان سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ ہر باب میں اس باب کی صحیح ترین حدیث کو ذکر کریں گے، اور امام ابو داؤد نے کہا میری کتاب کی جس حدیث میں شدید ضعف ہو میں اس کو بیان کر دیتا ہوں اور جس حدیث کے متعلق میں کچھ ذکر نہ کروں وہ استدلال کی صلاحیت رکھتی ہے اور بعض حدیثیں بعض سے زیادہ صحیح ہیں۔
(حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:) میں کہتا ہوں ہم نے یہ دیکھا کہ جس حدیث پر امام ابو داؤد نے سکوت کیا اور وہ حدیث بخاری اور مسلم میں نہیں ہے اور نہ کسی ماہر نقاد نے اس کی صحت کی تصریح کی ہے تو ہم نے اس حدیث کی یہ تعریف کی ہے کہ وہ امام ابو داؤد کے نزدیک حسن ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ حدیث کسی اور امام کے نزدیک حسن نہیں ہوتی، اور نہ وہ ہماری بیان کردہ حسن کی تعریف کے مطابق ہوتی ہے (زیر تحریر مقدمہ میں حسن لذاتہ کی تعریف ص ۱۰ پر ملاحظہ فرمائیں ــ سعیدی غفر لہ) حافظ ابو عبد اللہ بن مندہ نے محمد بن سعد باوردی سے روایت کیا ہے کہ امام ابو عبدالرحمان نسائی کا مذہب یہ تھا کہ ہر وہ راوی جس کے ترک پر اجماع نہ ہو وہ اس کی حدیث روایت کرلیتے ہیں، اور امام ابن مندہ نے کہا اسی طرح امام ابو داؤد سجستانی کو جب کسی باب میں ضعیف راوی کے سوا اور کسی کی حدیث نہ ملے تو وہ سند ضعیف سے حدیث روایت کر لیتے ہیں کیونکہ امام ابو داؤد کے نزدیک حدیث ضعیف بھی لوگوں کی رائے سے قوی ہے۔ (حافظ ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن شہرزوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ علوم الحدیث ص ۳۳-۳۴ مطبوعہ مکتبہ الاسلامیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۶ھ)
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
میں کہتا ہوں کہ امام ابو داؤد سے یہ روایت ہے کہ جس حدیث پر انھوں نے سکوت کیا وہ حسن ہے۔ (حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر المعروف ابن کثیر متوفی ۷۷۴ھ اختصار علوم الحدیث ص ۳۴ مطبوعہ دار التراث القاہرہ ، ۱۳۹۹ھ)
حافظ زین الدین عراقی لکھتے ہیں:
امام ابو عبداللہ محمد بن عمر نے حافظ ابن الصلاح پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جس حدیث کے متعلق امام ابوداؤد نے صحت کی تصریح کی ہے نہ ضعف کی اس کو امام ابوداؤد کے نزدیک مطلقا حسن قرار دینا صحیح نہیں ہے، کیونکہ امام ابوداؤد نے اس حدیث کے متعلق یہ کہا ہے کہ وہ احتجاج اور استدلال کی صلاحیت رکھتی ہے اور لائق استدلال حدیث صحیح بھی ہو سکتی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اگر امام ابوداؤد صحیح اور ضعیف کے درمیان حسن کے مرتبہ کے قائل تھے تو احتیاط اس میں ہے کہ اس کو حسن قرار دیا جائے اور اگر وہ متقدمین کی طرح حدیث کی صرف دو قسمیں صحیح اور ضعیف قرار دیتے تھے تو پھر بھی اس کو صحیح کہنے کی بجائے لائق استدلال کہنے میں احتیاط ہے۔
حافظ ابو الفتح یعمری نے یہ اعتراض کیا ہے کہ امام ابوداؤد نے حسن کی تعریف بالکل نہیں کی، بلکہ ان کا قول امام مسلم کے قول کی طرح ہے، امام ابوداؤد نے یہ کہا کہ انھوں نے احادیث صحیحہ اور ان کے مشابہ اور مقارب دونوں کا ذکر کیا ہے اور امام مسلم نے کہا ہے کہ احادیث صحیحہ صرف وہی نہیں ہیں جو مالک، شعبہ اور سفیان کے پاس ہیں( یہ طبقہ اولیٰ کے راوی ہیں یعنی کامل الضبط والاتقان اور کثیر الملازمۃ مع الشیخ) اس لیے ان سے کم درجہ کے لوگوں کی حدیث کی بھی ضرورت ہے، مثلاً لیث بن ابی سلیم، عطاء بن السائب اور یزید بن ابی زیاد( یہ طبقہ ثانیہ کے راوی ہیں یعنی ناقص الضبط والاتقان اور کثیر الملازمۃ مع الشيخ) کیونکہ یہ بھی عادل اور صادق ہیں اگرچہ حفظ اور اتقان میں ان کا درجہ کم ہے اور ان دونوں کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں ہے، البتہ امام مسلم نے صحیح کی شرط لگائی ہے اس لیے وہ طبقہ ثالثہ کی حدیثوں سے انتخاب کرتے ہیں اور امام ابو داؤد نے صحیح کی شرط نہیں لگائی اس لیے جس راوی میں شدید ضعف ہو وہ اس کی روایت بھی لے لیتے ہیں اور اس کے ضعف کا بیان کر دیتے ہیں، اور امام ابو داؤد نے جو کہا ہے کہ بعض حدیثیں بعض سے زیادہ صحیح ہیں اس کا تقاضا یہ ہے کہ انھوں نے احادیث صحیحہ روایت کی ہیں، اگرچہ وہ صحت میں مختلف درجات کی ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ امام مسلم اور امام ابوداؤد میں فرق یہ ہے کہ امام مسلم نے حدیث صحیح کی شرط لگائی ہے بلکہ اس صحیح کی جس کی صحت پر محدثین کا اجماع ہو اس لیے امام مسلم کی حدیث کو حسن نہیں کہا جاسکتا کیونکہ حسن وہ ہوتی ہے جو صحیح سے کم درجہ کی ہو۔ اور امام ابوداؤد نے یہ کہا ہے کہ جس حدیث سے میں نے سکوت کیا ہے وہ صالح احتجاج (لائق استدلال) ہے اور صالح صحیح بھی ہوسکتی ہے اور حسن بھی۔ (حافظ زین الدین عبدالرحیم بن حسین عراقی متوفی ۸۰۶ھ، التقید والایضاح ص ۵۴۔۵۳، مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۹ھ)
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
امام ابو داؤد نے یہ کہا ہے کہ “جس حدیث میں شدید ضعف ہو، اس کا میں بیان کردیتا ہوں” اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جس میں ضعف غیر شدید ہو اس کو وہ بیان نہیں کرتے، اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ جن احادیث پر امام ابو داؤد نے سکوت کیا ہے وہ تمام کی تمام حدیثیں اصطلاحاً حسن نہیں ہیں بلکہ ان کی کئی اقسام ہیں: (۱) وہ بخاری اور مسلم کی حدیثیں ہیں یا صحت کی شرط پر ہیں، (۲) وہ حسن لذاتہ ہیں، (۳) اگر ان احادیث کی دیگر اسانید سے تقویت ہوجائے تو وہ حسن لغیرہ سے ہیں، موخرالمذکور دو قسمیں ان کی کتاب میں بہ کثرت ہیں، (۴) وہ حدیثیں ضعیف ہیں لیکن وہ ایسے راویوں کی حدیثیں ہیں جن کے ترک پر اجماع نہیں ہے اور یہ تمام اقسام احتجاج اور استدلال کی صلاحیت رکھتی ہیں جیسا کہ حافظ ابن مندہ نے امام ابوداؤد سے نقل کیا ہے کہ امام ابو داؤد حدیث ضعیف کو اس وقت روایت کرتے ہیں جب اس باب میں اس کے سوا اور کوئی روایت نہ ہو کیونکہ ان کے نزدیک حدیث ضعیف لوگوں (مجتہدین) کی رائے سے زیادہ قوی ہے، حافظ ابن عبدالبر نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، النکت علی کتاب ابن الصلاح ج ۱ ص ۴۳۶۔۴۳۵، مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی مدینہ منورہ ۱۴۰۴ھ)
نیز حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
امام ابوداؤد ضعفاء کی ایک جماعت سے استدلال کرتے ہیں اور ان پر سکوت کرتے ہیں مثلاً ابن لہیعہ، صالح مولی التوأمۃ، عبداللہ بن محمد بن عقیل، موسیٰ بن دردان، سلمہ بن الفضل، ودلھم بن صلاح وغیرہہم، اس لیے جن احادیث پر امام ابوداؤد نے سکوت کیا ہے ان میں امام ابوداؤد کی تقلید کرکے ان سے استدلال نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اس حدیث کا کوئی متابع ہے جس سے اس کی تقویت ہوجائے یا وہ حدیث غریب ہے اور اس میں توقف کیا جائے، خصوصاً اس وقت جب اس حدیث میں کسی زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت کی گئی ہو کیونکہ اس صورت میں وہ از قبیل منکر ہوجائے گی کیونکہ امام ابوداؤد نے ان سے بھی زیادہ ضعیف راویوں سے حدیث روایت کی ہے، مثلاً حارث بن وجیہ، صدقہ دقیقی، عثمان بن واقد عمری، محمد بن عبدالرحمٰن بیلمانی، ابو جناب کلبی، سلیمان بن ارقم، اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ اور ان کی مثل متروک راوی ہیں۔
اسی طرح جن پر امام ابو داؤد نے سکوت کیا ہے ان میں اسانید منقطعہ ہیں اور مدلسین کی عنعنہ کے ساتھ روایات ہیں اور بہت سے راویوں کے نام مبہم ہیں۔ اس لیے ایسی احادیث کو اس وجہ سے حسن قرار دینا کہ ان پر امام ابوداؤد نے سکوت کیا ہے صحیح نہیں ہے، کیونکہ امام ابوداؤد کبھی اس وجہ سے سکوت کرتے ہیں کہ وہ پہلے کسی باب میں اس راوی پر کلام کر چکے ہوتے ہیں، اور کبھی وہ اس کے ضعف کا ذکر کرنا بھول جاتے ہیں اور کبھی اس وجہ سے کہ اس راوی کا ضعف بہت شدید اور واضح ہوتا ہے اور اس کی روایت کو ترک کرنے پر ائمہ کا اتفاق ہوتا ہے جیسے ابو الحویرث، یحییٰ بن العلاء وغیرہما، اور کبھی سکوت کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سنن ابوداؤد کے علاوہ کسی اور کتاب میں امام ابوداؤد اس راوی کا ضعف بیان کرچکے ہوتے ہیں، جیسے محمد بن ثابت العبدی، سنن ابوداؤد میں انھوں نے اس پر سکوت کیا ہے اور کتاب التفرد میں امام احمد سے نقل کیا ہے یہ منکر الحدیث ہے، اس لیے صحیح یہ ہے کہ امام ابوداؤد کے فقط سکوت پر اعتماد نہ کیا جائے کیونکہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ امام ابوداؤد احادیثِ ضعیفہ سے بھی استدلال کرتے ہیں اور ان کو رائے پر مقدم رکھتے ہیں، علامہ نووی نے کہا ہے “سنن ابوداؤد میں ایسی احادیث ہیں جن کا ضعف ظاہر ہے اور اس کو امام ابوداؤد نے بیان نہیں کیا حالانکہ ان کا ضعف متفق علیہ ہے، اور تحقیق یہ ہے کہ جن احادیث کا ضعف امام ابوداؤد نے بیان نہیں کیا اور کسی معتمد نے اس کا صحیح یا حسن ہونا بیان نہیں کیا تو وہ حسن ہے اور اگر کسی معتمد نے اس کے ضعف کی تصریح کی ہے یا کسی عالم نے دیکھا کہ اس کی سند میں کوئی ضعف کا مقتضی ہے اور اس کی تلافی کرنے والا کوئی نہیں ہے تو اس حدیث پر ضعف کا حکم لگایا جائے گا اور امام ابوداؤد کے سکوت کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔” علامہ نووی نے یہ جو کچھ لکھا ہے تحقیق یہی ہے ہرچند کہ شرح المہذب میں انھوں نے مجرد امام ابوداؤد کے سکوت سے بھی کسی حدیث کے حسن ہونے پر استدلال کیا ہے لیکن اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، النکت علی کتاب ابن الصلاح، ج ۱ ص ۴۴۵ – ۴۳۸، ملخصاً مطبوعہ دار احیاء التراث الاسلامی مدینہ منورہ )
علامہ سخاوی لکھتے ہیں:
علامہ خطابی نے کہا ہے کہ علم دین میں سنن ابوداؤد کی مثل کوئی کتاب تصنیف نہیں کی گئی اس میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے زیادہ اور احسن فقہی احکام ہیں۔ (علامہ ابو عبداللہ محمد بن عبدالرحمٰن سخاوی متوفی ۹۰۲ھ، فتح المغیث بشرح الفیۃ الحدیث ج ۱ ص ۱۰۱ مطبوعہ دارالامام الطبری الطبعة الثانية ۱۴۱۲ھ)
سنن ابو داؤد کی کل احادیث کی تعداد بشمول مراسیل ۴۸۰۰ ہے اور مراسیل کی تعداد ۶۰۰ ہے۔
سنن نسائی کی فنی حیثیت کا بیان
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
حافظ ابو علی بن السکن اور خطیب بغدادی نے یہ کہا ہے کہ امام نسائی کی کتاب السنن صحیح ہے اور اس پر اعتراض ہے، امام نسائی نے رجال کے لیے جو شرائط عائد کی ہیں وہ امام مسلم کی شرائط سے زیادہ سخت ہیں، لیکن سنن نسائی میں مجہول اور مجروح راوی ہیں اور اس میں احادیث ضعیفہ، منکرہ اور معللہ ہیں۔ (حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر المعروف بابن کثیر متوفی ۷۷۴ھ، اختصار علوم الحدیث ص ۲۵، مطبوعہ دار التراث القاهره، ۱۳۹۹ھ)
غالباً حافظ ابن کثیر کی اس جگہ سنن سے مراد سنن کبریٰ للنسائی ہے نہ کہ سنن مجتبیٰ اور ہمارے ہاں عام متداول کتاب سنن مجتبیٰ ہے جو سنن نسائی کے نام سے مشہور ہے۔
حافظ ابن الصلاح نے بھی لکھا ہے کہ خطیب نے سنن نسائی پر صحیح کا اطلاق کیا ہے۔ (حافظ ابو عمرعثمان بن عبد الرحمن شہرزوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ، علوم الحدیث ص ۳۶، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۶ھ)
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
میں کہتا ہوں کہ ابو علی نیشاپوری، ابو احمد بن عدی، ابو الحسن دارقطنی، ابن مندہ، عبدالغنی بن سعید اور ابو یعلی خلیلی وغیرہ نے بھی سنن نسائی پر صحیح کا اطلاق کیا ہے، اور حاکم نیشاپوری نے نسائی، ابو داؤد اور ترمذی تینوں پر صحیح کا اطلاق کیا ہے۔
ابو عبداللہ ابن مندہ نے کہا ہے جن ائمہ نے حدیث صحیح کو روایت کیا ہے وہ چار ہیں: بخاری، مسلم، ابوداؤد، اور نسائی، ابو علی ابن السکن نے بھی اسی کی طرف اشارہ کیا ہے اور حافظ ابن الصلاح نے جو باوردی سے نقل کیا ہے کہ امام نسائی ان سے روایت کرتے ہیں جن کے ترک پر اجماع نہ ہو، اس سے ان کی مراد خاص اجماع ہے۔
بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ رجال کے متعلق امام نسائی کا مذہب بہت وسیع ہے، لیکن فی الواقع اس طرح نہیں ہے، کیونکہ کتنے راوی ایسے ہیں جن سے امام ابوداؤد اور امام ترمذی روایت کرتے ہیں اور امام نسائی ان سے اجتناب کرتے ہیں بلکہ امام نسائی صحیحین کے بھی متعدد رجال سے اجتناب کرتے ہیں، ابو الفضل ابن طاہر کہتے ہیں میں نے سعد بن علی زنجانی سے ایک شخص کے متعلق سوال کیا انہوں نے کہا وہ ثقہ ہے میں نے کہا، امام نسائی ان سے استدلال نہیں کرتے انہوں نے کہا اے بیٹے رجال میں امام نسائی کی شرط امام بخاری اور امام مسلم کی شرط سے زیادہ سخت ہے۔
حافظ ابوبکر برقانی نے اپنے ایک رسالہ میں ان راویوں کے نام لکھے ہیں جن سے امام بخاری اور امام مسلم نے احادیث روایت کی ہیں اور امام نسائی نے ان پر تنقید کی ہے، احمد بن محبوب رملی نے بیان کیا ہے کہ میں نے امام نسائی سے سنا ہے کہ جب میں نے سنن کو جمع کرنے کا ارادہ کیا تو جن شیوخ کے متعلق میرے دل میں تردد تھا ان کے بارے میں میں نے استخارہ کیا اور استخارے کے بعد میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں ان کو ترک کر دوں۔
محمد بن معاویہ احمر نے بیان کیا کہ امام نسائی کی کتاب السنن مکمل صحیح ہے، اور اس کی بعض احادیث معلول ہیں، مگر انہوں نے اس کی علت بیان نہیں کی، اور انہوں نے اس کا انتخاب کرکے جس مجموعہ کا نام مجتبیٰ رکھا ہے اس کی کل احادیث صحیح ہیں۔
(امام نسائی کی کتاب السنن، اب سنن کبریٰ کے نام سے چھ جلدوں میں چھپ گئی ہے، دارالکتب العلمیہ بیروت نے اس کو مخطوطہ سے منتقل کرکے طبع کیا ہے۔ اس کی پہلی اشاعت ۱۴۱۱ھ میں ہوئی اور الحمد للہ یہ کتاب ہمارے پاس موجود ہے۔ — سعیدی غفرلہ)
علامہ ابن رشد نے کہا کہ امام نسائی کی کتاب سنن میں تصنیف کے لحاظ سے زیادہ بدیع اور زیادہ حسن ہے اور ان کی کتاب امام بخاری اور امام مسلم کی کتابوں سے زیادہ جامع ہے اور اس میں بیانِ علل کا اضافہ ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بعد جس کتاب میں ضعیف اور مجروح راوی سب سے کم ہیں وہ امام نسائی کی کتاب ہے اور امام ابوداؤد اور امام ترمذی کی کتابیں اس کے قریب ہیں ۔( حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ النکت علی کتاب ابن الصلاح ج ۱ ص ۴۸۴ – ۴۸۱ مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی ۱۴۰۴ھ۔)
سنن نسائی کی کل احادیث کی تعداد ۵۷۶۱ ہے۔
سنن ابن ماجہ کی فنی حیثیت کا بیان
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
سنن ابن ماجہ صحت اور ثقاہت کے اعتبار سے کتب خمسہ کے برعکس ہے، جو رجال کذب، سرقہ احادیث اور تفرد سے متہم ہیں جیسے حبیب بن ابی حبیب کاتب مالک، علاء بن زید، داؤد بن محبر، عبدالوہاب بن ضحاک، اسماعیل بن زیاد سکونی اور عبدالسلام بن ابی الجنوب وغیرہم، امام ابن ماجہ ان سے احادیث روایت کرنے میں متفرد ہیں، ابن طاہر نے یہ حکایت کی ہے کہ امام ابوزرعہ نے سنن ابن ماجہ کو دیکھا اور یہ کہا اس میں تیس حدیثیں بھی ضعیف نہیں ہیں، یہ حکایت صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کی سند منقطع ہے، اور اگر یہ حکایت صحیح ہو تو اس کا محمل یہ ہے کہ جو غایت درجہ کی احادیث ساقطہ ہیں وہ تیس سے کم ہیں، یا انھوں نے پوری سنن ماجہ کا مطالعہ نہیں کیا بلکہ اس کے ایک حصہ کا مطالعہ کرکے یہ تبصرہ کیا ہے۔
امام ابو زرعہ نے سنن ابن ماجہ کی بکثرت احادیث پر باطلہ یا ساقطہ یا منکرہ کا حکم لگایا ہے، اس کا ذکر ابن ابی حاتم کی کتاب العلل میں ہے، اور حافظ صلاح الدین علائی یہ کہتے تھے کہ ان پانچ کتابوں کے بعد چھٹی کتاب سنن ابن ماجہ کی بجائے سنن دارمی کو ہونا چاہیے، کیونکہ اس میں ضعیف رجال کم ہیں اور احادیث منکرہ اور شاذہ نادر ہیں اور ہر چند کہ اس میں احادیث مرسلہ اور موقوفہ بھی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ابن ماجہ کی کتاب سے بہتر ہے۔
میں کہتا ہوں کہ بعض اہل علم مثلاً رزین قسطی اور مجد ابن الاثیر نے چھٹی کتاب موطا امام مالک ہی کو قرار دیا ہے جیسا کہ جامع الاصول میں ہے۔ ابن عساکر نے بیان کیا ہے کہ جس شخص نے سب سے پہلے سنن ابن ماجہ کو کتب اصول میں شامل کیا وہ ابو الفضل ابن طاہر صاحب شروط الائمۃ الستۃ متوفی ۵۰۷ھ ہیں، پھر حافظ عبدالغنی صاحب الکمال فی اسماء الرجال نے اس پر عمل کیا۔ ابن طاہر اور ان کے متبعین نے موطا امام مالک کی بجائے، سنن ابن ماجہ کو کتب الاصول میں اس لیے شامل کیا کہ موطا امام مالک میں ایسی احادیث مرفوعہ بہت کم ہیں جو کتب خمسہ میں زائد ہوں، اس کے برعکس سنن ابن ماجہ میں موطا کی بنسبت کئی گناہ زیادہ احادیث مرفوعہ ہیں جو کتب خمسہ پر زائد ہیں تو انھوں نے احادیث مرفوعہ کی کثرت کے حصول کے لیے سنن ابن ماجہ کو کتب اصول میں شامل کیا۔
ان ابحاث سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جن حضرات نے ان کتابوں کی اسانید حذف کرکے احکام سے متعلق احادیث جمع کی ہیں ان کا طریقہ ضعیف ہے مثلاً ابو البرکات عبدالسلام ابن تیمیہ حنبلی متوفی ۶۵۲ھ، ان کی کتاب ہے المنتقی من احادیث الاحکام (نیل الاوطار کا متن) یہ لوگ ان کتابوں سے حدیث کی صحت یا ضعف بیان کیے بغیر احادیث کو نقل کرتے ہیں اور ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ مثلاً ایک حدیث کو امام ترمذی روایت کرتے ہیں اور اس حدیث کی علت بھی بیان کرتے ہیں اور یہ لوگ اس علت سے اعراض کرکے صرف اس حدیث کو نقل کرکے لکھ دیتے ہیں، اس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے، چنانچہ حافظ عبدالحق متوفی ۵۸۱ھ نے ایک کتاب لکھی الاحکام الکبریٰ اس میں ایسا ہی کیا اور ابو محسن ابن القطان متوفی ۶۲۸ھ نے تتبع کرکے ان احادیث کی علل بیان کیں اور اس کتاب کا نام رکھا “بیان الوهم والایهام الذی وقع على الاحکام الکبریٰ”۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ ، النکت علی کتاب ابن الصلاح ج ۱ ص ۴۸۵-۴۸۸ مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی مدینہ منورہ ، ۱۴۰۴ھ )
علامہ سخاوی نے بھی سنن ابن ماجہ کے متعلق بعینہ یہی تبصرہ کیا ہے۔ (علامہ ابو عبداللہ محمد بن عبدالرحمٰن سخاوی متوفی ۹۰۲ھ ، فتح المغیث بشرح الفیۃ الحدیث ج ۱ ص ۱۰۲ ، مطبوعہ دارالامام الطبری ، ۱۴۱۲ھ)
سنن ابن ماجہ کی کل احادیث کی تعداد چار ہزار (۴۰۰۰) ہے۔
مؤطا امام مالک کی فنی حیثیت کا بیان
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ “میرے علم میں امام مالک کی کتاب سے زیادہ صحیح اور کوئی کتاب نہیں ہے، امام شافعی نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب صحیح بخاری اور صحیح مسلم منصۂ شہود پر نہیں آئی تھیں، اس وقت کتب سنن بکثرت تصنیف کی جا چکی تھیں، مثلاً “کتاب ابن جریج”، “کتاب ابن اسحاق”، “کتاب ابی قرۃ موسیٰ بن طارق زبیدی”، اور “مصنف عبدالرزاق بن ہمام” وغیرہ۔
امام مالک کی کتاب مؤطا کا حجم ان سب سے زیادہ تھا اور اس میں ان سب سے زیادہ احادیث تھیں (بظاہر یہ صحیح نہیں ہے، سیدی غفرلہ)۔
خلیفہ منصور نے امام مالک سے یہ کہا کہ “وہ تمام لوگوں کو اس کتاب پر مجتمع کریں” تو امام مالک نے اس سے انکار کیا، اس سے ان کے علم کی وسعت اور ان کے انصاف کا کمال ظاہر ہوتا ہے، اور کہا “لوگ جمع ہوئے اور ان چیزوں پر مطلع ہوئے جن پر ہم مطلع نہیں ہیں۔”
علماء نے مؤطا پر کتابیں لکھیں اور تعلیقات تصنیف کیں، ان میں سب سے عمدہ کتاب حافظ ابن عبدالبر مالکی قرطبی کی تصنیف “تمہید” اور “استذکار” ہے، مؤطا میں احادیث متصلہ صحیحہ بھی ہیں اور مرسلہ منقطعہ بھی ہیں اور ایسی بلاغات بھی ہیں جن کا مسند ہونا بہت نادر ہے۔ (حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر المعروف بابن کثیر متوفی ۷۷۴ھ، اختصار علوم الحدیث ص ۲۴-۲۵ ، مطبوعہ دارالتراث القاہرہ ، ۱۳۹۹ھ)
مؤطا امام مالک کی کل احادیث کی تعداد ۱۷۲۰ ہے۔
کتب خمسہ کے ساتھ غیر الحاقی کتب احادیث کا بیان
حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:
جو کتب حدیث استدلال میں کتب خمسہ (صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداؤد، سنن نسائی اور جامع ترمذی) کے قائم مقام ہیں، مثلاً “مسند ابوداؤد طیالسی”، “مسند عبیداللہ بن موسی”، “مسند احمد بن حنبل”، “مسند اسحاق بن راہویہ”، “مسند عبد بن حمید”، “مسند دارمی”، “مسند ابو یعلیٰ موصلی”، “مسند الحسن بن سفیان” و “مسند البزار” اور ان کی امثال، ان کی عادت یہ ہے کہ وہ ہر صحابی کی مسند میں اس کی حدیث کو روایت کرتے ہیں اور یہ متعین نہیں کرتے کہ آیا یہ حدیث لائق استدلال ہے یا نہیں، اس وجہ سے ان کا مرتبہ متاخر ہے، اگرچہ ان کے مؤلفین کا مرتبہ کتب خمسہ کے مؤلفین سے بہت بڑا ہے۔ (حافظ ابو عمرو عثمان بن عبدالرحمٰن شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ ، علوم الحدیث ص ۳۴-۳۵ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ، ۱۳۸۶ھ)
سنن دارمی کی فنی حیثیت کا بیان
حافظ زین الدین عراقی لکھتے ہیں:
حافظ ابن الصلاح کا دارمی کی کتاب کو مسند کہنا ان کا وہم ہے، یہ کتاب مسند نہیں ہے جس میں صحابی کی مرویات کو الگ الگ روایت کیا جاتا ہے بلکہ یہ کتاب فقہی ابواب پر مرتب کی گئی ہے اور یہ اصطلاح محدثین میں سنن ہے، لیکن اس کتاب کا نام مسند دارمی مشہور ہو گیا، جیسے امام بخاری کی کتاب کا نام المسند الجامع الصحيح مشہور ہوگیا اگرچہ وہ بھی ابواب پر مرتب ہے، کیونکہ امام بخاری کی احادیث مسند ہیں (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ان کی سند متصل ہے) اس کے برعکس مسند دارمی میں بکثرت احادیث مرسلہ، منقطعہ، معضلہ اور مقطوعہ ہیں۔ (حافظ زین الدین عبد الرحیم بن حسین عراقی متوفی ۸۰۶ھ ، التقیید والایضاح ص ۵۶ ، مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۹ھ)
مسند احمد کی فنی حیثیت کا بیان
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
حافظ ابو موسیٰ محمد بن ابی بکر مدینی نے کہا ہے کہ مسند امام احمد صحیح ہے، یہ ضعیف قول ہے، کیونکہ اس میں احادیث ضعیفہ ہیں، بلکہ احادیث موضوعہ بھی ہیں جیسے مرو اور عسقلان کی فضیلت میں احادیث ہیں اور حمص کے نزدیک برص احمر کی فضیلت میں حدیث ہے اور ان کے علاوہ بھی موضوع احادیث ہیں جیسا کہ حفاظ میں ایک جماعت نے اس کی تصریح کی ہے مسانید میں سے اور کوئی مسند اس کے پائے کی نہیں ہے اس کے باوجود امام احمد سے بکثرت احادیث رہ گئی ہیں، بلکہ اس میں تقریباً ان دو سو صحابہ کی روایات نہیں ہیں جن کی روایات صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہیں ۔( حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر المعروف بابن کثیر متوفی ۷۷۴ھ ، اختصار علوم الحدیث ص ۲۶ – ۲۵ ، مطبوعہ دار التراث القاہرہ ۱۳۹۹ھ )
حافظ زین الدین عراقی لکھتے ہیں:
حافظ ابن الصلاح نے مسند احمد کا شمار صحیح میں کیا ہے، اور حافظ مدینی نے کہا : امام احمد کی یہ شرط تھی کہ وہ اپنی مسند میں صرف حدیث صحیح کو درج کریں گے، اس کا جواب یہ ہے کہ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ امام احمد نے اپنی کتاب میں صحت کی شرط رکھی تھی، حافظ مدینی سے کسی حدیث کے متعلق سوال کیا گیا انھوں نے کہا دیکھو یہ مسند احمد میں ہے یا نہیں، اگر مسند احمد میں ہے تو یہ حجت ہے ورنہ نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسند احمد کی تمام احادیث حجت ہیں، اور مسند احمد کے سوا کوئی حدیث حجت نہیں ہے کیونکہ کتنی احادیث صحیحہ کتب صحیحہ میں ہیں اور وہ مسند احمد میں نہیں ہیں۔
مسند احمد میں حدیث ضعیف کا وجود محقق ہے بلکہ اس میں احادیث موضوعہ بھی ہیں میں نے ان کو ایک رسالہ میں جمع کیا ہے، امام احمد نے خود بعض احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے ان میں سے ایک یہ حدیث ہے : حضرت عائشہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف کو جنت میں سرین کے بل گھسٹتے ہوئے دیکھا، اور اس میں عمارہ بن زاذان کی سند ہے جس کی حدیث کے متعلق امام احمد نے کہا یہ کذب منکر ہے اور کہا عمارہ احادیث مناکیر کی روایت کرتا ہے اور ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں درج کیا اور ابن الجوزی نے حضرت عمر کی اس حدیث کو بھی موضوعات میں درج کیا ہے “اس امت میں ولید نام کا ایک شخص ہوگا”، اور حضرت انس کی اس حدیث کو “جو شخص اسلام میں چالیس سال کی زندگی گزارتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے کئی قسم کی بلاؤں، جنون، جذام اور برص کو دور کردیتا ہے” اور حضرت انس کی اس حدیث کو “عسقلان احد العروسین ہے اس میں سے قیامت کے دن ستر ہزار کو بیعت کیا جائے گا جن پر کوئی حساب نہیں ہوگا” یہ تمام موضوع احادیث مسند احمد میں ہیں، اور اس میں احادیث منکرہ بھی ہیں مثلاً حضرت بریدہ کی یہ حدیث : تم خراسان کی جماعت میں رہو پھر مرو کے شہرجاؤ کیونکہ اس کو ذوالقرنین نے بنایا ہے اور عبداللہ بن احمد نے مسند میں زیادات کی ہیں ان میں ضعیف اور موضوع احادیث ہیں اور موضوع حدیث یہ ہے: حضرت سعد بن مالک اور حضرت ابن عمر سے روایت ہے حضرت علی کے دروازے کے محاسب دروازے بند کر دو، ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں درج کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو رافضیوں نے وضع کیا ہے۔ (حافظ زین الدین عبدالرحیم بن حسین عراقی متوفی ۸۰۶ھ، التقیید والایضاح ص ۵۸-۵۶، مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ، ۱۳۸۹ھ)
علامہ سخاوی لکھتے ہیں:
مسند احمد تمام مسانید میں سیاق و سباق کے لحاظ سے تمام مسانید میں اکبر اور احسن ہے اس مجموعہ کو انھوں نے ساڑھے سات لاکھ احادیث میں سے منتخب کیا ہے اور امام احمد سے منقول ہے کہ جس حدیث میں مسلمانوں کا اختلاف ہو اس کو مسند احمد میں تلاش کرو اگر اس میں مل جائے تو فبہا ورنہ وہ حجت نہیں ہے، اور بعض نے مبالغہ کر کے اس کو صحیح قرار دیا۔ اور تحقیق یہ ہے کہ اس میں بہ کثرت احادیث ضعیفہ ہیں، اور بعض کا ضعف بعض سے زیادہ شدید ہے، حتیٰ کہ ابن جوزی نے اس کی بہت سی احادیث کا موضوعات میں شمار کیا ہے لیکن حافظ عراقی نے بعض احادیث کو موضوع قرار دینے میں ابن جوزی سے اختلاف کیا ہے اور ابن جوزی کا رد کیا ہے، اور حق یہ ہے کہ جن کتابوں میں صحت کا التزام نہیں کیا گیا ان میں مسند احمد سب سے عمدہ کتاب ہے۔ (علامہ ابو عبداللہ محمد بن عبدالرحمن سخاوی متوفی ۹۰۲ھ، فتح المغیث بشرح الفیۃ الحدیث ج۱ ص ۱۰۵، ۱۰۴، مطبوعہ دارالامام الطبری، ۱۴۱۲ھ)
علامہ احمد محمد شاکر لکھتے ہیں:
حافظ ابن حجر عسقلانی نے ایک رسالہ لکھا ہے “القول المسدد فی الذب عن مسند الامام احمد” اس میں ان لوگوں کا رد کیا ہے جنھوں نے کہا ہے کہ مسند احمد میں موضوعات ہیں، اور شیخ ابن تیمیہ نے التوسل والوسیلہ میں لکھا ہے: اگر موضوع سے یہ مراد ہے جس کی سند میں کذاب ہوں تو مسند احمد میں ایسا کوئی راوی نہیں ہے، اور اگر اس سے مراد ایسی حدیث ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں ہے خواہ وہ راوی کی غلطی کی وجہ سے ہو یا اس کے حافظہ کی خرابی کی وجہ سے تو مسند اور سنن میں ایسی بہ کثرت حدیثیں ہیں۔
حافظ عراقی نے کہا ہے کہ اس میں تقریباً دو سو صحابہ کی روایات نہیں ہیں جو صحیحین میں ہیں، یہ انتہائی غلو ہے، بلکہ بہت کم صحیحین کی حدیثیں اس میں شامل ہونے سے رہ گئیں اور جو کسی معین صحابی کی حدیث اس میں رہ گئی ہے تو اس کی ہم معنی حدیث کسی اور صحابی کی روایت سے اس میں مذکور ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ مسند میں تمام سنت کو جمع کر لیا گیا ہے تو یہ صحت سے بعید نہیں ہے، امام احمد نے اپنے بیٹے عبداللہ بن احمد (جو مسند کے راوی ہیں) سے کہا: اس مسند کو حفظ کر لو، کیونکہ عنقریب یہ لوگوں کی پیشوا ہوگی، اور انھوں نے کہا اس کتاب میں میں نے ساڑھے سات لاکھ احادیث سے انتخاب کرکے حدیثیں جمع کی ہیں، سو جب مسلمانوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کے متعلق اختلاف ہو تو اس کو مسند میں تلاش کرو اگر وہ حدیث اس کتاب میں مل گئی تو فبہا ورنہ وہ حدیث حجت نہیں ہے؛ حافظ ذہبی نے کہا اکثر اور غالب حدیثوں میں ایسا ہی ہے ورنہ صحیحین، سنن اور اجزاء میں ایسی قوی احادیث ہیں جو مسند میں نہیں ہیں۔ (علامہ احمد محمد شاکر، الباعث الحثیث ص ۲۲، مطبوعہ دار التراث القاہرہ، ۱۳۹۹ھ)
نیز علامہ احمد محمد شاکر لکھتے ہیں:
۱۳۱۳ھ مسند احمد مصر میں چھ ضخیم جلدوں میں شائع ہوئی، پھر مطبعہ علمیہ سے شائع ہوئی جس میں ہر حدیث کی تخریج کی گئی اور اس کی صحت اور ضعف کا بیان کیا گیا، اس تحقیق کے ساتھ ابھی تک نو جلدوں میں مسند احمد شائع ہوچکی ہے جو چھ جلدوں والی مسند کی ایک جلد اور دوسری کا ایک ثالث ہے اور یہ ان شاء اللہ تیس جلدوں میں مکمل ہوگی، ان نو جلدوں میں کل ۶۵۱۱ حدیثیں ہیں جن میں سے ۵۷۳۳ صحیح حدیثیں ہیں اور ۷۷۴ ضعیف حدیثیں ہیں اس طرح مسند احمد میں ضعیف احادیث کی تعداد بارہ فی صد سے بھی کم ہے اور یہ حافظ ابن کثیر کے اس قول پر شاہدِ عادل ہے کہ: مسند احمد میں سند اور متن کے لحاظ سے بہ کثرت ایسی حدیثیں ہیں جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے ہم پلہ ہیں بلکہ اس میں ایسی احادیث بھی ہیں جو صحاح ستہ میں نہیں ہیں (اختصار علوم الحدیث ص ۲۲) اور بے شک حافظ ابن کثیر دوسرے لوگوں کی بہ نسبت مسند احمد کے بہت زیادہ عالم تھے۔ (علامہ احمد محمد شاکر، الباعث الحثیث ص ۲۲، مطبوعہ دار التراث القاہرہ، ۱۳۹۹ھ)
مسندِ بزار کی فنی حیثیت کا بیان
حافظ زین الدین عراقی لکھتے ہیں:
مسندِ بزار میں احادیثِ صحیحہ اور ضعیفہ کا مجملاً ذکر ہے، البتہ کہیں کہیں مصنف نے تفصیل کی ہے، اور جو راوی کسی حدیث میں متفرد ہو اس کا ذکر کرتے ہیں اور اگر اس کا کوئی متابع ہو تو اس کو بھی بیان کردیتے ہیں۔ اور مسندِ دارمی میں بہ کثرت ضعیف اور مرسل روایات ہیں۔ (حافظ زین الدین عبد الرحیم بن حسین عراقی متوفی ۸۰۶ھ، التقیید والایضاح ص ۵۸، مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ، ۱۲۸۹ھ)
مستدرک للحاکم کی فنی حیثیت کا بیان
حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:
جو حدیثیں، امام بخاری اور امام مسلم سے رہ گئی ہیں ان پر استدراک (اضافہ) کرنے کے لیے امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری متوفی ۴۰۵ھ نے مستدرک لکھی جو چار کبیر اور ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے، امام حاکم نے امام بخاری اور امام مسلم کے راویوں سے حدیثیں روایت کیں یا ان دونوں کی یا ان میں سے کسی ایک کی شرط پر حدیثیں روایت کیں، اور جو حدیثیں ان کے اجتہاد کے مطابق صحیح تھیں خواہ وہ ان میں سے کسی ایک کی شرط کے مطابق نہ ہوں، حدیث کو صحیح قرار دینے میں وہ وسیع المشرب تھے اور صحت کا فیصلہ کرنے میں متساہل تھے، اس لیے اولی یہی ہے کہ ہم متوسط قول اختیار کریں اور وہ یہ ہے کہ جس حدیث کو امام حاکم صحیح کہیں اور کسی اور امام نے اس حدیث کو صحیح نہ کہا ہو تو اگر وہ صحیح نہیں ہے تو (کم از کم ) حسن ہے اس سے استدلال کیا جائے گا اور اس پر عمل کیا جائے گا بشرطیکہ اس میں کوئی علت نہ ہو جو اس کے ضعف کا موجب ہو۔ (حافظ ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمان شہر زوری المعروف بابن صلاح متوفی ۶۴۳ھ علوم الحدیث ص ۱۸، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۶ھ)
حافظ زین الدین عراقی لکھتے ہیں:
قاضی القضاۃ بدر الدین بن جماعہ نے اس سے اختلاف کیا ہے کہ جب حاکم کسی حدیث کی تصحیح میں متفرد ہو تو اس کو حسن قرار دیا جائے گا وہ کہتے ہیں بلکہ تحقیق کی جائے گی اور اس حدیث کا صحیح حکم معلوم کیا جائے گا آیا وہ صحیح ہے، حسن ہے یا ضعیف ہے اور اس کے مطابق اس پر حکم لگایا جائے گا۔ (حافظ زین الدین عبد الرحیم بن حسین عراقی متوفی ۸۰۶ھ، التقیید والایضاح ص ۳۰، مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ / ۱۳۸۹ھ)
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :
مستدرک میں امام حاکم کی اضافہ کی ہوئی احادیث کی حسب ذیل تین قسمیں ہیں :
۱۔ جس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اس کو انہوں نے صحیحین یا ان میں سے کسی ایک کے راویوں سے صورتِ اجتماع پر روایت کیا ہے جس سے امام بخاری اور مسلم دونوں یا کسی ایک نے استدلال کیا ہو اور وہ علل سے محفوظ ہے۔ اس قسم کی حدیث مستدرک میں بہت نادر ہے ۔
۲۔ جس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اس کی اسناد سے امام بخاری اور امام مسلم نے بطور استدلال حدیث روایت نہیں کی بلکہ شواہد، متابعات، تعلیق وغیرہ میں اس سند کا ذکر کیا ہو، اس قسم کی احادیث، حدیثِ صحیح کے درجہ سے کم ہیں، بلکہ ان میں شاذ اور ضعیف بھی ہیں لیکن ایسی احادیث کی اکثریت حسن سے کم نہیں ہے اور ہر چند کہ امام حاکم متقدمین کی اتباع میں صحیح اور حسن میں فرق نہیں کرتے بلکہ امام ابن خزیمہ اور امام ابن حبان اپنے اپنے مشائخ کی اتباع میں ان کو احادیثِ صحیحہ قرار دیتے ہیں لیکن یہ چیز ان کے اس دعویٰ کے خلاف ہے کہ مستدرک میں شیخین یا ان میں سے کسی ایک کی شرط پر احادیث ہیں۔
۳۔ جس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اس کی اسناد سے امام بخاری اور امام مسلم نے بطور استدلال حدیث روایت کی ہو نہ بطور متابعات، اس قسم کی احادیث مستدرک میں بہ کثرت ہیں، امام حاکم ایسے بہت لوگوں سے حدیث روایت کرتے ہیں جو صحیحین میں نہیں ہیں لیکن وہ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ یہ ان میں سے کسی ایک کی شرط پر ہیں، اور بعض اوقات وہم کے سبب سے ایسا دعویٰ کرتے ہیں، اور اس قسم میں مشکل سے کوئی ایسی حدیث ہوگی جو حدیثِ صحیح کے درجہ کو پہنچے، شیخین کی شرط پر ہونا تو بہت دور کی بات ہے۔
ہمارے بیان کردہ معیار کے اعتبار سے مستدرک میں جو احادیث شیخین یا ان میں سے کسی ایک شرط پر ہیں ان کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم ہے ۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ النکت علی کتاب ابن الصلاح ج ۱ ص ۳۱۹۔۳۱۴ مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی مدینہ منورہ ۱۴۰۴ھ )
علامہ سیوطی لکھتے ہیں:
امام حاکم تصحیح حدیث میں متساہل ہیں، علامہ نووی نے شرح المہذب میں لکھا ہے کہ حفاظ کا اس پر اتفاق ہے کہ حاکم کے شاگرد بیہقی ان سے زیادہ تحقیق کرتے ہیں، حافظ ذہبی نے مستدرک کا خلاصہ کیا ہے اور مستدرک کی بہ کثرت احادیث کو ضعیف اور منکر قرار دیا ہے اور ایک رسالہ میں مستدرک کی تقریباً ایک سو موضوع احادیث جمع کی ہیں ۔
ابو سعید مالینی نے کہا میں نے مستدرک کا اول سے آخر تک مطالعہ کیا اس میں ایک حدیث بھی صحیحین کی شرط پر نہیں ہے، حافظ ذہبی نے کہا یہ انتہائی غلو ہے، ورنہ اس میں شیخین کی شرط پر یا ان میں سے کسی ایک کی شرط پر بکثرت احادیث ہیں اور شاید اس کا مجموعہ نصف کتاب کے برابر ہو اور چوتھائی مستدرک میں دیگر صحیح السند احادیث ہیں اور ان میں سے بعض میں ضعف یا علت ہے اور باقی چوتھائی میں ضعیف اور منکر روایات ہیں اور بعض موضوعات بھی ہیں ۔
شیخ الاسلام (حافظ ابن حجر عسقلانی) نے کہا کہ امام حاکم کے تساہل کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کتاب کا مسودہ تیار کیا اور اس پر نظر ثانی کرنے سے پہلے ان کو موت نے آ لیا، (الی قولہ) علامہ نووی نے کہا ہے مستدرک کی جس حدیث کو متقدمین نے صحیح قرار دیا ہو نہ ضعیف، اگر اس میں ضعف کی کوئی وجہ نہ ہو تو ہم اس کو حسن قرار دیں گے۔ ( علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ ھ تدریب الرادی ج۱ ص 106-107 مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ )
علامہ سخاوی لکھتے ہیں:
امام حاکم متساہل ہیں اور انہوں نے ضعیف احادیث تو الگ رہیں کئی موضوع احادیث کو بھی صحیح قرار دیا ہے اس کی وجہ یا تو تعصب ہے کیونکہ ان پر تشیع کی تہمت تھی، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی عمر کے آخر میں مستدرک کو تصنیف کیا، اس وقت ان کے حافظہ میں تغیر ہوچکا تھا اور ان پر غفلت طاری تھی ان کو اس پر نظر ثانی کرنے کا موقع نہ مل سکا، (حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ بعض راویوں کا حاکم نے کتاب الضعفاء میں ذکر کیا ہے اور ان سے روایت کرنے کو منع کیا ہے، پھر خود ان کی روایات کو مستدرک میں صحیح لکھا ہے، ان راویوں میں سے ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے. (لسان المیزان ج ۵ ص ۲۲۳) اس کی دلیل یہ ہے کہ مستدرک کے پہلے پانچویں حصہ میں باقی کتاب کی بنسبت تساہل بہت کم ہے . ۲ء
شرح صحیح مسلم جلد ثالث کے ضمیمہ اور جلد سادس میں ہم نے امام حاکم کے تساہل کے متعلق بہ کثرت علماء کی آراء ذکر کی ہیں .
مشہور کتب حدیث کے تعارف کے بعد ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ حدیث صحیح اور صحاحِ ستہ کے راویوں کی شرائط بیان کر دی جائیں .