٤٨٤ – حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَس بنْ عِيَاضٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعِ أَن عبدَاللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ يَنْزِلُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ حِيْنَ يَعْتَمِرُ، وَفِي حَجَّتِه حِيْنَ حَجَّ تَحْتَ سَمُرَةٍ فِي مَوْضِعِ الْمَسْجِدالَّذِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَكَانَ إِذَا رَجَعَ مِنْ غَزْو،ِ كَان فِي تِلْكَ الطَّرِيقِ، أَوْ فِي حَج اَوْ عُمْرَةٍ، هَبَطَ مِنْ بَطْنِ وَادٍ فَإِذَا ظَهَرَ مِنْ بَطْنٍ وَادٍ انَاخَ بِالْبَطْحَاء التی عَلَى شَفِيرِ الْوَادِي الشَّرْقِيَّةِ ، فَعَرَّسَ ثُمَّ حَتَّى يُصْبِحَ، لَيْسَ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِحِجَارَةٍ ، وَلا عَلَى الْأَكْمَةِ الَّتِي عَلَيْهَا الْمَسْجِدُ، كَانَ ثَمَّ خَلِيج يُصَلَّى عَبْدُاللَّهِ عِندَهُ فِي بَطْنِهِ كُتُبُ، كَانَ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَّ يُصَلِّلَّى، فَدَعَا السَّيْل فِيهِ بِالْبَطْحَاءِ، حَتَّى دَفَنَ ذَلِكَ الْمَكَانَ الَّذِي كَان عَبْدُاللهِ يُصلّى فيه۔ الاطراف الحدیث: ۱۵۳۲- ۱۵۳۳ 1799۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابراہیم بن المنذر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں انس بن عیاض نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے حدیث بیان کی از نافع که حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ کرتے تھے اور جب آپ نے حج کیا تو آپ ذوالحلیفہ میں بول کے درخت کے نیچے اترتے تھے اس مسجد کی جگہ میں جو ذوالحلیفہ میں ہے اور جب آپ کسی غزوہ سے لوٹتے اور راستہ میں ذوالحلیفہ سے ہو کر گزرتے یا حج یا عمرہ سے واپسی ہورہی ہوتی تو وادی عقیق کے نشیبی علاقے میں اترتے پھر جب وادی کے نشیب سے اوپر آتے تو وادی کے بالائی کنارے بطحاء کے اس مشرقی حصہ پر اونٹنی بٹھاتے، جہاں کنکریوں اور ریت کا کشادہ نالہ ہے یہاں آپ رات کے آخری حصہ سے صبح تک آرام فرماتے تھے اس وقت آپ اس مسجد کے قریب نہیں ہوتے تھے جو پتھروں کی ہے اور آپ اس ٹیلے پر بھی نہیں ہوتے تھے جس پر مسجد بنی ہوئی ہے وہاں ایک گہرا نالہ تھا، حضرت عبداللہ وہیں نماز پڑھتے تھے اس کے نشیب میں ریت کے کافی ٹیلے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھتے تھے، کنکریوں اور ریت کے کشادہ نالہ کی طرف، سیلاب نے اس جگہ کے آثار و نشانات کو مٹادیا جہاں حضرت عبد اللہ بن عمر نماز پڑھا کرتے تھے۔

ذو الحلیفه سمرة بطحاء شفیر اکمه خلیج “ اور ”کثب “ کے معانی

حدیث مذکور میں ذو الحلیفہ” کا لفظ ہے یہ اہل مدینہ کا میقات ہے یہ مدینہ سے چار میل کے فاصلہ پر ہے اور مکہ سے ۱۹۸ میل کے فاصلہ پر ہے اور اس میں سمرۃ ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: بول کا درخت اس درخت میں کانٹے ہوتے ہیں، اور اس میں بطحاء ” کا لفظ ہے جس زمین پر ریت اور بجری پھیلی ہوئی ہو اس کو بطحاء کہتے ہیں اور اس میں شفیر ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: کنارہ اور اس میں اکمہ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: ٹیلہ اور اس میں خلیج “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: کھاڑی سمندر کا پانی کسی نالہ میں جمع ہوجائے تو اس کو خلیج ” کہتے ہیں ۔ کثب ، كثيبة‘ کی جمع ہے اس کا معنی ہے: ریت کا ٹیلہ۔