٤٨٧ – وَأَنَّ عَبْدَاللَّهِ حَدَّثهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ تَحْتَ سَرْحَةٍ ضَحْمَةٍ دُونَ الرُّوَيْةِ، عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ وَوَجَاهِ الطَّرِيقِ، في مکان بطح سَهْلٍ، حَتَّى يُفْضِيَ مِنْ اكَمَةٍ دُوینَ بَرِيد الرويثةِ بِمِيْلَنِ، وَقَدِ انْكَسَرَ أَعْلَاهَا فَانْثني فِی جوفھا، وَهِيَ قَائِمَةٌ عَلَى سَاقٍ وَفِي سَاقِهَا كُتُب کثرتہ۔

اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ نے ان کو حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بہت گھنے درخت کے قریب اترتے،  جو رویثہ کی بستی کے قریب ہے، راستے کی دائیں جانب اور راستے کے سامنے نرم اور وسیع جگہ میں حتیٰ کہ رویثہ سے دو میل کے قریب جو ٹیلہ ہے اس سے گزر جاتے اس درخت کا اوپری حصہ ٹوٹ گیا ہے اور درمیان سے مڑ گیا ہے وہ ایک جڑ پر کھڑا ہوا ہے اور اس کی جڑ میں بہت سے ٹیلے ہیں ۔

سرحة الرويثة ، وجاہ “اور ” بطح “ کے معانی

اس حدیث میں سرحة “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: بہت بڑا اور بہت گھنا درخت اور اس میں” دون الرويثة “ کا لفظ ہے یعنی ” الرويثة“ کے قریب ” الرويثة ” ایک بستی ہے اس کے اور مدینہ منورہ کے درمیان سترہ فرسخ کی مسافت ہے اور اس میں ” وجاہ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: مقابل اور اس میں بطح “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : وسیع اور کھلا۔