٤٩٠ – وَانْ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَنْزِلُ فِى الْمَسِيلِ الَّذِی فِي أَدْنَى مَرِ الظَّهْرَانِ قِبَلَ الْمَدِينَةِ، حِيْنَ يَهْبِطُ مِنَ الصَّفْرَاوَاتِ يَنْزِلُ فِي بَطْنِ ذلِكَ الْمَسِيلِ عن يَسَارِ الطَّرِيق،ِ وَأَنْتَ ذَاهِبٌ إِلَى مَكَةَ لَيْسَ بَيْنَ مَنْزِل رسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ إِلا رمية بحجر۔

ِّ اور نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد للہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نالہ میں اترتے تھے جو مدینہ منورہ کی جانب سے مرالظہران کے قریب ہے، جب تم صفراوات سے نیچے اترو تو راستہ کی بائیں جانب اس نالہ کے نشیب میں اترو گے اور تم مکہ مکرمہ کی طرف جارہے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اترنے کی جگہ اور راستہ کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہے جتنے فاصلہ تک پتھر پھینکنے کے بعد جاتا ہے۔( جامع المسانيد لابن الجوزي: 3529،  مكتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ )

مر الظهران‘اور صفراوات “ کا معنی

اس حدیث میں مر الظهران ” کا لفظ ہے یہ ایک وادی ہے اس کے اور بیت اللہ کے درمیان سولہ میل کا فاصلہ ہے اور اس میں صفراوات “ کا لفظ ہے اس سے مراد وہ وادیاں ، اور پہاڑ ہیں، جو مر الظهران‘ کے بعد ہیں۔