نحمده ونصلي ونسلم على رسوله الكريم

ابوابُ سُتْرَةِ الْمُصَلّى

نمازی کے سترہ کے ابواب

 

۹۰ – بَابٌ سُتْرَةِ الْإِمَامِ سُتْرَةٌ مَنْ خَلْفَهُ

امام کا سترہ اس کے پیچھے والوں کا سترہ ہے

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب امام نماز پڑھا رہا ہو اور اس کے سامنے دیوار یا ایسی کوئی اور چیز نہ ہو تو اس امام کا سترہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے نمازیوں کا بھی سترہ ہے۔

اس باب کی ابواب سابقہ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ یہ باب ابواب سابقہ اور اس کے بعد کے پندرہ ابواب سب کا تعلق احکام مسجد سے ہے۔

٤٩٣ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِاللهِ بنِ عبدِالله ابنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ انَّهُ قَالَ اقْبَلْت رَاكِبًا عَلَى حِمَارِ آتَانِ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزت الْإِحْتِلَامَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يُصَلَّى بِالنَّاسِ بِمِنّى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَمَرَرْتُ بَین يدَى بَعْضِ الصَّفِ ، فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الآتانَ تَرْتَع وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِ فَلَمْ يُنْكِرُ ذَلِكَ عَلَى أَحَدٌ۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ابن شہاب از عبیدالله بن عبدالله بن عتبہ از حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما انہوں نے بیان کیا کہ میں ایک گدھے بلکہ گدھی پر سوار ہوکر آیا اور اس وقت میں بالغ ہونے کے قریب تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، سامنے دیوار نہیں تھی، پس میں صف کے بعض حصے سے آگے گزرا پھر میں اترا اور گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور میں صف میں داخل ہوگیا اور مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔

اس حدیث کی مفصل شرح صحیح البخاری: ۷۶ میں گزر چکی ہے وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: کم عمر لڑکے کا سماع حدیث کب صحیح ہوتا ہے اور اس حدیث کا عنوان ہے: امام کا سترہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کا بھی سترہ ہے۔