٩٥ – بَابُ الصَّلوةِ إِلَى الْأَسْطُوَانَةِ

ستون کی طرف نماز پڑھنا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ستون کی طرف نماز پڑھنا مستحب ہے۔

وَقَالَ عُمَرُ الْمُصَلُونَ أَحَقُّ بِالسَّوَارِي مِنَ الْمُتَحَدِّثِينَ إِلَيْهَا۔

اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ستونوں کی طرف باتیں کرنے والوں کی بہ نسبت نماز پڑھنے والے زیادہ مستحق ہیں۔

اس تعلیق کی اصل حسب ذیل حدیث ہے:

ادریس الصنعانی ایک شخص سے روایت کرتے ہیں، جس کو ہمدان کہا جاتا تھا وہ اہل یمن کی ڈاک حضرت عمر  رضی اللہ عنہ تک پہنچاتا تھا وہ بیان کرتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ستونوں کی طرف باتیں کرنے والوں کی بہ نسبت نماز پڑھنے والے زیادہ مستحق ہیں۔(مصنف ابن ابی شیبہ: 7511، دار الکتب العلمیہ بیروت 1416ھ)

نمازیوں کے زیادہ مستحق ہونے کی وجہ یہ ہے کہ باتیں کرنے والے ستونوں کی طرف ٹیک لگانے کے محتاج ہوتے ہیں اور نماز پڑھنے والے ستون کو سترہ بنانے کے محتاج ہوتے ہیں، سو دونوں ستونوں کی طرف احتیاج میں مشترک ہیں لیکن نمازی چونکہ عبادت کرنے والے ہیں اس لیے وہ ستونوں کے زیادہ مستحق ہیں۔

وَرَاى عُمَرُ رَجُلًا يُصَلِّي بَيْنَ أَسْطُوَانَتَيْنِ،فَادْنَاهُ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقَالَ صَلَّ إِلَيْهَا

اور حضرت عمر نے ایک شخص کو دیکھا’ وہ دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے اس کو ایک ستون کی طرف قریب کرکے کہا: اس کی طرف نماز پڑھو۔

اس تعلیق کی اصل اس حدیث میں ہے:

معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے مجھے دیکھا، میں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھ رہا تھا تو انہوں نے میری پیٹھ کو پکڑ کر مجھے سترہ کے قریب کر دیا اور فرمایا: اس کی طرف نماز پڑھو۔( مصنف ابن ابی شیبه : ۷۵۰۱ – ج ۲ ص ۱۴۸ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1416ھ )

٥٠٣ – حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدبْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ كُنتُ اتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکوَع فَيُصَلَّى عِندَ الْأَسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَف فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ اَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلوةَ عِنْدَ هَذِه الْأَسْطُوَانَةِ؟ قَال فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلوةَ عِنْدَهَا۔صحیح مسلم : ۵۰۹ الرقم السلسل : ۱۱۱۵ سنن ابن ماجہ : 1430،  جامع المسانید لابن الجوزی : ۲۲۵۵ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں المکی بن ابراہیم نے حدیث بیان کی،  انہوں نے کہا: ہمیں یزید بن ابی عبید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ المصحف کے پاس ایک ستون کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے پس میں نے کہا: اے ابومسلم ! میں دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کو تلاش کرکے اس کے پاس نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قصد کرکے اس ستون کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

یہ حدیث ثلاثی ہے اس میں امام بخاری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف تین راوی ہیں اور ان کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔

المصحف کے ستون کا معنی

اس حدیث میں المصحف ” کا ذکر ہے علامہ عینی لکھتے ہیں کہ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ رسول الله، صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں مصحف کی ایک خاص جگہ تھی، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے اس جگہ وہ مصحف رکھا ہوا تھا صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ صندوق کے پیچھے نماز پڑھتے تھے گویا کہ : مصحف ( قرآن مجید ) اس صندوق میں رکھا جاتا تھا اور جس ستون کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے وہ اسطوانة المهاجرين ” کے نام سے مشہور تھا۔ آپ اس ستون کے پاس کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے اور اس ستون کو پہلو میں نہیں رکھتے تھے، تاکہ صفوں میں خلل نہ ہو ۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۴۱۵)

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۰۳۸ – ج ۷ ص ۱۳۲۰ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی.