مقدمہ از شارح جامع ترمذی : مُسنِد، محدث اور حافظ کی تعریفات
sulemansubhani نے Friday، 18 September 2026 کو شائع کیا.
مُسنِد، محدث اور حافظ کی تعریفات:
مُسنِد:
ان تینوں میں سے ادنی درجہ مُسنِد کا ہے اور مسند اس شخص کو کہتے ہیں کو اپنے سند کے ساتھ حدیث پاک روایت کرے خواہ اس کے پاس اس کا علم ہو یا نہ ہو ، محدث کا درجہ اس سے بلند ہے۔ ( تدريب الراوى، الفائدة الثانيه فى حد الحافظ والمحدث والمسند، ج1،ص،29 مطبوعه دارطیبه)
محدث:
شیخ فتح الدین ابن سید الناس نے کہا کہ ہمارے زمانے میں محدث وہ ہے جو حدیث میں روایۃً درایۃً مشغول رہے اور اپنے زمانے میں کثیر ڕواۃ اور مرویات پر مطلع ہو۔ ( تدريب الراوى، الفائدة الثانيه فى حد الحافظ والمحدث والمسند،ج1،ص83,73،مطبوعه دارطیبه)
امام زرکشی نے کہا کہ فقہاء کے نزدیک محدث وہ ہے جو متنِ حدیث کو یاد کرے اور رجالِ حدیث کی عدالت و جرح کا اسے علم ہو۔ ( تدريب الراوى، الفائدة الثانيه فى حد الحافظ والمحدث والمسند،ج1،ص،31مطبوعه دارطیبه)
حافظ:
امام حاکم نے مدخل میں لکھا کہ ایک حافظ پانچ لاکھ احادیث یاد کرتا ہے۔ ( المدخل الى كتاب الاكليل،ذكر معرفة انواع الصحيح،ج1،ص، 35 دارالدعوة ، اسكندريه )
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی مسند میں ساڑھے سات لاکھ احادیث میں سے احادیث کا انتخاب کیا ہے، ابو زرعہ رازی کہتے ہیں کہ امام احمد کو دس لاکھ احادیث یاد تھیں، امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے دس لاکھ احادیث لکھی ہیں، امام بخاری فرماتے ہیں کہ مجھے ایک لاکھ صحیح احادیث اور دو لاکھ غیر صحیح احادیث یاد ہیں، امام مسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنی صحیح کو تین لاکھ احادیث مسموعہ میں سے انتخاب کرکے تصنیف کیا ہے، امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ میں نے پانچ لاکھ احادیث لکھی ہیں اور ان میں سے چناؤ کر کے اپنی کتاب السنن (سنن ابی داؤد) لکھی ہے، حافظ ابو زرعہ رازی کو سات لاکھ احادیث یاد تھیں (ابو زرعہ رازی کے بارے میں قول مدخل للحاکم کے حوالے سے لکھا ہے اور وہاں چھ لاکھ احادیث ہیں)۔ (تدريب الراوی، الفائدة الثانيه في حد الحافظ والمحدث والمسند،ج1، ص40تا42 مطبوعه دارطیبه)
کبھی اسلاف محدث اور حافظ کو مترادف استعمال کرتے ہیں۔ ( تدريب الراوی،الفائدة الثانيه في حد الحافظ والمحدث والمسند،ج1، ص34مطبوعه دارطیبه)