بسم الله الرحمن الرحيم

ابتدائیہ

يُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ۝ هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْأُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍۙ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ ذٰلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۝

قَالَ اللهُ تَعَالٰى :

إِنَّ اللهَ وَمَلٰئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يٰآَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا. لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ رَبِّيْ وَسَعْدَيْكَ صَلَوَاتُ اللهِ الْبَرِّ الرَّحِيْمِ وَالْمَلٰئِكَةِ الْمُقَرَّبِيْنَ وَالنَّبِيّٖنَ وَ

الصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصَّالِحِيْنَ وَمَا سَبَّحَ لَكَ مِنْ شَيْئٍ يَا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ عَلٰى سَيِّدِنَا وَمَوْلٰنَا وَحَبِيْبِنَا وَشَفِيْعِنَا مُحَمَّدٍ بَحْرِ أَنْوَارِكَ وَمَعْدِنِ أَسْرَارِكَ وَلِسَانِ حُجَّتِكَ وَعَرُوْسِ مَمْلَكَتِكَ وَإِمَامِ حَضْرَتِكَ وَخَاتَمِ أَنْبِيَائِكَ وَعَلٰى آلِهِ الطَّاهِرِيْنَ الْمُطَهَّرِيْنَ

وَأَزْوَاجِهِ الزَّكِيَّاتِ الطَّاهِرَاتِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِيْنَ وَأَصْحَابِهِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِيْنَ وَمَنْ اَحَبَّ وَاتَّبَعَهُ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ صَلٰوةً وَّسَلَامًا وَّتَحِيَّةً تَدُوْمُ بِدَوَامِكَ وَتَبْقٰى بِبَقَاءِكَ تُرْضِيْكَ وَتُرْضِيْهِ وَتَرْضٰى بِهَا عَنَّا يَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِيْنَ ۔

اَمَّا بَعْدُ !

حضرت عیسٰی علٰى نبينا و عليه الصلٰوة والسلام کے رفعِ آسمانی کے بعد پانچ صد اکہتر سال گزر چکے تھے اس قلیل مدت میں آپ پر نازل شدہ کتاب انجیل مقدس کو بنی اسرائیل کے علماءِ سوء نے اپنی تحریفات سے مسخ کرکے رکھ دیا تھا۔ آپ کے امتی بے شمار فرقوں میں بٹ چکے تھے اور ان میں باہمی منافرت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ ہر فرقہ دوسرے فرقہ کو ملحد اور کافر کہتا تھا اور صرف اپنے آپ کو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دینِ حق کا اجارہ دار سمجھتا تھا۔ وحیِ الہی کا نورِ تاباں دھندلا گیا تھا۔ انسان کی فریب خوردہ عقل، اوہام اور خود ساختہ عقائد کی دلدل میں پھنس چکی تھی گنتی کے چند خوش نصیب افراد کے علاوہ آپ کی ساری امت آپ کے بتائے ہوئے راستہ سے بھٹک گئی تھی غضب یہ ہوا کہ انہوں نے اس مسیح کو ابن اللہ (خدا کا بیٹا) کہنا شروع کردیا جس نے اپنی پیدائش کے چند روز بعد اپنے پنگھوڑے میں جھولتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا

اِنِّى عَبْدُ اللهِ ؕ اٰتٰنِيَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِيْ نَبِيًّا ۙ

”یعنی میں خدا نہیں، خدا کا بیٹا نہیں بلکہ میں تو اس کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے منصبِ نبوت پر فائز کیا ہے۔“)مریم: ۳۰(

اپنے اس معجزہ سے انہوں نے اپنی عفت مآب والدہ کی پاکدامنی کی گواہی بھی دے دی اور اس حقیقت کو بھی واشگاف کردیا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور اس کا نبی ہوں لیکن آپ کے ماننے والوں نے آپ کی اس ناقابلِ تردید شہادت کو مسترد کردیا آپ کو عبد اللہ کہنے کے بجائے آپ پر ابن اللہ (اللہ کا بیٹا) کی سنگین اور گستاخانہ تہمت لگا کر توحید کے عقیدہ کی نفی کر دی اس طرح انہوں نے نہ صرف حضرت عیسٰی علیہ السلام کی بعثت کے مقصد کو بلکہ تمام انبیاء کرام کی آمد کے مقصدِ عظیم کو ٹھکراکر رکھ دیا۔

وہ نفوسِ ذکیہ جو محض اپنے خالق و مالک کی وحدانیت کا پرچم لہرانے کے لئے اور چار دانگ عالم میں اس کی توحید کا ڈنکا بجانے کے لئے تشریف لائے تھے جب انہیں کو خدا کی الوہیت میں شریک ٹھہرا لیا گیا تو لوگ توحید کا سبق سیکھتے تو کس سے ، اپنے پروردگار کی وحدانیت کے عقیدہ کا چراغ روشن کرتے تو کیونکر۔ اس دور میں سب سے قریبی وحی کی جب یہ حالت ہو گئی تھی تو وحی کے وہ سرچشمے جن کا تعلق ماضیِ بعید سے تھا اور وہ آسمانی صحیفے جو قدیم زمانہ میں انبیاء کرام پر نازل کئے گئے تھے ان میں شرک و الحاد کی آلائشیں کہاں تک در نہ آئی ہوں گی اور کسی حق کے متلاشی کے لئے کیونکر ممکن رہا ہو گا کہ وہ ان کتبِ آسمانی سے حق کے نور کا اکتساب کرسکے۔

چھٹی صدی عیسوی، ایک ایسا دور تھا جبکہ کائناتِ ارضی کے گوشہ گوشہ میں شرک اور بت پرستی کی بیماری ایک وبا کی صورت اختیار کرچکی تھی اور جب اللہ تعالیٰ کے بندوں کا رشتہ ہی اپنے رب سے ٹوٹ چکا تھا۔ تو ان کی اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی میں جو تباہ کن فسادات رونما ہو چکے ہوں گے ان کا تصور کرکے ہی سعید روحوں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہوگا۔

ساری انسانیت کے ہادی و رہبر، قیامت تک آنے والے تمام عصور و دہور کے نیرِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی تشریف آوری سے پہلے، حضرت آدم کی اولاد جس کو خلافتِ ارضی کی خلعتِ زیبا پہنائی گئی تھی۔

جس کے سر پر اشرف المخلوقات ہونے کا تاج سجایا گیا تھا، جس کے علم کے سمندر کی بیکرانیوں کے سامنے نوری ملائکہ کو اعترافِ عجز کرنا پڑا تھا۔ اور انہیں اس پیکرِ خاکی کے سامنے سجدۂ تعظیم بجالانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس آدم کی اولاد صرف خدا فراموش ہی نہیں بلکہ خدا فراموشی کے باعث خود فراموش بھی بن چکی تھی، انہیں قطعا یاد نہ رہا تھا کہ وہ خلاقِ جہاں کی شانِ تخلیق کا شاہکار ہیں، وہ چشمِ کائنات کی پتلی ہیں، مہر و ماہ، بحر و بر، فضائیں اور خلاہیں ان کے زیرِ نگیں ہیں ہر چیز ان کی خدمت بجالانے کے لئے پیدا کی گئی ہے اور ان کی تخلیق کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کو پہچانیں۔ دل کی گہرائیوں سے اس سے محبت کریں۔ عشق و محبت کے جذبات سے سرشار ہوکر اس کی بارگاہِ عظمت و کمال میں بے خودی سے اپنا سرِ نیاز جھکادیں ان کی زبان ہی نہیں ان کا دل بھی سبحان ربی الاعلىٰ کے روح پرور کلمات سے اپنی بندگی، بےچارگی، بیکسی اور بےبسی کا اظہار کررہا ہو۔ اس کے بجائے انہوں نے ہر چیز کو اپنا خدا۔ اپنا معبود اور اپنا حاجت روا بنا لیا تھا۔ بے جان پتھروں کے سامنے وہ سجدہ ریز تھے، درختوں کے ارد گرد وہ طواف کناں نظر آتے تھے۔ کبھی کسی پہاڑ کی اونچی چوٹی سے مرعوب ہو کر اس کے سامنے بچھے جاتے تھے، کبھی مہرو ماہ کی تابندگیوں کے لئے سراپا عقیدت بن جاتے تھے، کبھی کسی حیوان کے گوبر اور پیشاب میں پاکی کو تلاش کرتے دکھائی دیتے تھے الغرض انہوں نے عزت و کرامت کی اس خلعت کو تار تار کردیا تھا۔ اور اپنی بے نظیر اور بے مثال ظاہری اور باطنی خوبیوں کا جنازہ نکال دیا تھا جو ان کے پیدا کرنے والے نے بڑی فیاضی سے انہیں مرحمت فرمائی تھیں۔ وہ تمام مظاہرِ فطرت سے ڈرتے بھی تھے اور ان کے سامنے جھکتے بھی تھے لیکن اگر کسی ہستی کی طرف سے انہوں نے آنکھیں بند کرلی تھیں اور منہ پھیر لیا تھا تو وہ ان کا کریم اور رحیم پروردگار تھا۔ جس نے ان کو اپنے ان گنت احسانات و کرامات سے نوازا تھا۔

ان حالات کو قرآنِ کریم نے “وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ” کے جامع الفاظ سے بیان فرمایا ہے “یعنی اس بنی مکرم کی آمد سے پہلے وہ سب کھلی گمراہی میں بھٹک رہے تھے۔”

اس سے پیشتر کہ اپنے کریم پروردگار کی توفیق سے اس آفتابِ عالم تاب کی تابانیوں کا ذکر کروں جس نے بلندیوں اور پستیوں کو بقعۂ نور بنا دیا۔ جس کی روشن کرنوں سے زمین کا گوشہ گوشہ جگمگا اٹھا۔ میں مناسب بلکہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اس “ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ” سے بھی اپنے قارئین کو روشناس کراؤں جس میں صرف کوئی فرد، کوئی قبیلہ، یا کوئی قوم نہیں بھٹک رہی تھی بلکہ سارا عالمِ انسانیت اس کی شدید گرفت میں تھا اور کراہ رہا تھا۔ اور انسانی زندگی کا کوئی پہلو بھی ایسا نہیں رہا تھا۔ جسے فساد و عناد کی آندھیوں نے تباہ و برباد نہ کردیا ہو یہ تو میرے لئے ممکن نہیں کہ میں کرۂ زمین کے مختلف براعظموں میں پھیلی ہوئی انسانی آبادیوں کے حالات کا مکمل نقشہ آپ کے سامنے پیش کرسکوں البتہ بتوفیق الٰہی یہ کوشش ضرور کروں گا کہ اس وقت کی متمدن قوموں کے مذہبی، سیاسی، اخلاقی، معاشرتی اور معاشی حالات کی ایک ایک جھلک آپ کو دکھادوں تاکہ آپ عرب کے اس ماہِ چہار دہم کے فیوض و برکات کا صحیح اندازہ لگا سکیں۔ جن سے اس نے اس بدمست، مدہوش اور اپنی خوبیوں اور کمالات سے بے خبر اور بے بصر انسان کو بہرہ ور کیا۔ تبھی آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ انسان کن پستیوں میں گر چکا تھا۔ اور اس عَزِیزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (گراں گزرتا ہے اس پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت ہی خواہش مند ہے تمہاری بھلائی کا مومنوں کے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔” (سورۃ التوبہ ۱۲۸)) کی شان والے نبی نے اس کو کہاں سے اٹھایا اور کن بلندیوں تک پہنچایا۔

دنیا کے نقشہ پر اگر آپ نظر ڈالیں تو آپ کو یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی کہ مکہ کا شہر اس وقت کی معلوم دنیا کے نقشہ پر اس جگہ نظر آئے گا جیسے دل ، انسان کے جسم میں ہوتا ہے۔ تمدن ، حضارت ، ثقافت اور شائستگی کی جو قندیلیں اس وقت ٹمٹما رہی تھیں وہ ان ممالک میں ہی تھیں جو اس مرکز انسانیت کے قرب و جوار میں آباد تھے مشرق میں ایران ہے جس کے طویل و عریض خطہ پر کئی ہزار سال تک مختلف خاندانوں کی شہنشاہیت کا پرچم لہراتا رہا تھا۔ اس سے آگے مشرق کی طرف جائیں تو ہند کا برصغیر ہمیں نظر آتا ہے جہاں حکمت و فلسفہ کی درسگاہیں لوگوں میں علم و شعور کی دولت تقسیم کررہی تھیں پھر اگر ایران و ہند کے شمال کی طرف نگاہ اٹھائیں تو ہمیں چین کا وہ عظیم ملک نظر آتا ہے جس کے رقبہ کی وسعت آبادی کی کثرت ، علوم و فنون اور صنعت و حرفت کی ترقی اس وقت بھی قابل صدرشک تھی۔ اگر ہم جزیرہ عرب کے مغرب کی طرف دیکھیں تو ہمیں بیزنطینی شہنشاہیت کے قیصر اپنی عظمت و برتری کا نقارہ بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کی وسیع و عریض سلطنت صدیوں سے دور دراز ممالک کو بھی اپنی گرفت میں لئے ہوئے تھی جہاں بڑے بڑے علماء و فضلا کی درسگاہیں جو در حقیقت علم و حکمت کی یونیورسٹیاں تھیں اپنی برتری کا سکہ جمائے ہوئے تھیں اور جزیرہ عرب کے جنوب میں افریقہ کا براعظم تھا۔ اس کا بیشتر حصہ اس وقت بھی جہالت ، بربریت اور وحشت کے اتھاہ اندھیروں میں غرق تھا ۔ لیکن اس براعظم کا ایک ملک جسے ”مصر“ کہتے ہیں انسانی تاریخ کے تمام محققین کے نزدیک تہذیب و تمدن کا یہ اولین مرکز تھا چھٹی صدی عیسوی میں اگرچہ اس کی آزادی چھن چکی تھی اور وہ رومی سلطنت کا ایک مفتوحہ صوبہ تھا ۔ لیکن علم و فضل اور فلسفہ و حکمت میں اب بھی وہ کسی کو اپنا ہمسر نہیں سمجھتا تھا۔ اس وقت کی دنیا کے یہ چند ایسے ممالک تھے جن کو متمدن ، مہذب اور علم و دانش کا گہوارہ ہونے کا غرور تھا ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے باتدبیر حکمرانوں اور عالی ہمت اور بلند اقبال سپہ سالاروں کے باعث اپنی فتوحات کا دائرہ اتنا وسیع کرلیا تھا۔ کہ جن کی وسعت کو دیکھ کر آج بھی حیرت ہوتی ہے اس لئے میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ بڑے اختصار و ایجاز کے ساتھ ان ممالک میں انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی ایک ایک جھلک قارئین کو دکھا دوں تاکہ یہ حقیقت آشکارا ہوجائے کہ علم و حکمت کے ان مدعیوں نے انسانیت کو ذلت کے کس گہرے گڑھے میں دھکیل دیا تھا۔ فتوحات کی بے مثال وسعتوں کے باوجود وہاں کے باشندے کس قسم کی محرومیوں اور مایوسیوں میں جکڑے ہوئے اور گہرے ہوئے زندگی بسر کر رہے تھے۔

ان حالات کے بیان کرنے سے میرا مقصد قطعاً یہ نہیں کہ میں کسی کی تضحیک یا تذلیل کرنا چاہتا ہوں فقط اپنے قارئین کو حقیقت حال سے آگاہ کرنا مقصود ہے تاکہ وہ اس سراپا یمن و برکت ہستی کے مقدم رنجہ فرمانے سے انسانیت کے خزاں زدہ اور اجڑے ہوئے گلشن میں جو بہار آئی اس کا کچھ نہ کچھ تو اندازہ کرسکیں۔

غبار راہ طیبہ 

محمد کرم شاہ