١٠٤ – بَابُ التَّطَوُّعِ خَلْفَ الْمَرْأَةِ

عورت کے پیچھے نفل پڑھنا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ عورت کے پیچھے نفل پڑھنا جائز ہے۔

٥١٣ – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مالِكُ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِاللهِ، عن سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زوج النبي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنتُ اَنَامُ بَيْنَ يَدَی رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِه فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي، فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا  قَالَتْ والبيوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحٌ۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ابی النضر جو عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں از ابی سلمہ بن عبدالرحمن از حضرت عائشه رضي الله عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی تھی اور میری دونوں ٹانگیں آپ کے قبلہ میں ہوتی تھیں، آپ جب سجدہ کرتے تو مجھے چھوتے تو میں اپنی دونوں ٹانگیں سمیٹ لیتی اور جب آپ کھڑے ہوتے تو میں پھر اپنی ٹانگیں پھیلا لیتی اور ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔

اس حدیث کی شرح صحیح البخاری: ۳۸۲ میں گزرچکی ہے۔

اس باب کے عنوان میں نفل پڑھنے کا ذکر ہے اور اس حدیث میں نفل پڑھنے کی صراحت نہیں ہے، لیکن اس حدیث میں گھر میں نماز پڑھنے کا ذکر ہے اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ فرائض مسجد میں پڑھتے تھے اور نوافل گھر میں پڑھتے تھے۔