۲۲ – بَابُ الصَّلوةِ عَلَى الْفِرَاشِ

بستر پر نماز پڑھنا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ بستر پر نماز پڑھنا جائز ہے اور دونوں بابوں میں مناسبت یہ ہے کہ چٹائی پر نماز پڑھی جائے یا بستر پر دونوں زمین سے منفصل ہیں۔ امام بخاری لکھتے ہیں:

وَصَلَى آنَّسٌ عَلَى فِرَاشِهِ.

اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے بستر پر نماز پڑھی۔

اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:

حمید بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنے بستر پر نماز پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبه: ۲۸۱۰ – ج ۱ ص ۲۴۴)

وَقَالَ أَنَسٌ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، فَيَسْجُدُ أَحَدُنَا عَلَى ثَوْبِهِ.۔۔

 اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے ایک شخص اپنے کپڑے پر سجدہ کرتا تھا۔

اس تعلیق کی اصل صحیح البخاری: ۳۸۵ میں عنقریب آرہی ہے۔

اس اثر کی مناسبت باب کے عنوان سے اس طرح ہے کہ کپڑے پر سجدہ اس وقت ہوگا جب وہ بچھایا ہوا ہو اور بستر بھی بچھایا ہوا ہوتا ہے۔

۳۸۲ – حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ  أبي النَّضْرِ ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِاللهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنتُ أنَامُ بَيْنَ يَدَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلايَ فِي قِبْلَتِهِ ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَى، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا،قَالَتْ وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحٌ.

اطراف الحدیث: ۳۸۳- ۳۸۴ – ۵۰۸-۵۱۱-۵۱۲-۵۱۳-514،515،519،997، 1209، 6276۔

صحیح مسلم:512،  الرقم المسلسل : ۱۱۲۵ سنن ابوداؤد : ۷۱۳ سنن نسائی:۱۶۶ سنن ابن ماجه: 956، مسند الحمیدی : ۱۷۱ صحیح ابن خزیمه : ۸۲۲ صحیح ابن حبان: ۲۳۴۳، مسند احمد ج ۶ ص ۲۴ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۴۱۶۹ – ج 40 ص۱۹۹ مؤسسة الرسالة بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے حدیث بیان کی از ابی النضر جو عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، از ابی سلمہ بین عبدالرحمان از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی تھی اور میرے دونوں پیر آپ کے قبلہ کی جانب ہوتے تھے سو جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے ہاتھ سے اشارہ کرتے تو میں اپنے پیر کھینچ لیتی، پھر جب آپ کھڑے ہوتے تو میں اپنے پیروں کو پھر پھیلا لیتی اور گھروں میں ہوتے تومیں اپنے پیروں پھیلالیت اور گھروں میں ان دنوں چراغ نہیں ہوتے تھے۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں، ان سب کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مناسبت اس جملہ میں ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی تھی کیونکہ عموماً سونا بستر پر ہوتا تھا اور عنوان میں بستر کا ذکر ہے تاہم اس حدیث میں یہ ثبوت نہیں ہے کہ آپ نے حضرت عائشہ کے بستر پر نماز پڑھی تھی۔

عورت، کتے اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزرنے سے نماز کے ٹوٹ جانے کی حدیث کی تحقیق

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث میں مذکور ہے: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی تھی، اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ مرد کا اپنی بیوی کے سامنے کھڑے ہوکر نماز پڑھنا جائز ہے اور عورت کے سامنے ہونے سے مرد کی نماز نہیں ٹوٹتی ، بعض فقہاء نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دیگر کے لیے اس کو مکروہ کہا ہے کیونکہ وہ اس کی طرف دیکھے گا اور دل اس میں مشغول رہے گا اور اس میں فتنہ کا خوف ہے، اور رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ ان تمام چیزوں سے منزہ ہیں، علاوہ ازیں یہ رات کا وقت تھا اور گھر میں چراغ نہیں تھا۔

جو شخص عورت کے سامنے نماز پڑھے اس کی نماز باطل نہیں ہوتی اور نہ اس کی جس کے سامنے سے عورت گزرے یہ متقدمین اور متاخرین جمہور فقہاء کا موقف ہے، امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی ان میں شامل ہیں اور یہ معلوم ہے کہ عورت کا نمازی کے سامنے لیٹے ہوئے ہونا اس کے سامنے گزرنے سے زیادہ شدید ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت، گدھے اور کتے کے سامنے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ (مسند احمد ج ۲ ص ۲۹۹ طبع قدیم، مسند احمد : ۷۹۸۳ – ج ۱۳ ص 36، سنن ابن ماجه: ۹۵ المعجم الکبیر (3161)

امام احمد نے کہا ہےکہ سیاہ کتا نماز توڑ دیتاہے اور میرے دل میں گدھے اور کتے کے متعلق بھی کچھ ہے اور جس حدیث میں ہے کہ ان کے گزرنے سے نماز منقطع ہوجاتی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے گزرنے سے نماز ناقص ہو جاتی ہے کیونکہ دل ان چیزوں کے ساتھ مشغول ہوجاتا ہے اور اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کے گزرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے، کیونکہ عورت کو دیکھنے سے

وسوسے آتے ہیں اور گدھا مکروہ آواز نکالتا ہے اور کتا فتنہ میں ڈالتا ہے اور مضطرب کرتا ہے اور چونکہ یہ چیزیں نماز منقطع کرنے کا سبب بنتی ہیں اس لیے ان پر نماز قطع کرنے کا اطلاق کر دیا گیا۔

اس حدیث کا دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث مذکور ذیل حدیث سے منسوخ ہے:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کوکوئی چیز نہیں توڑتی ( اور نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو) تم اپنی پوری طاقت سے دفع کرو، وہ شیطان ہے۔ (سنن ابوداؤد :۷۱۹)

اور شارع علیہ السلام کے اور قبلہ کے درمیان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں،  نیز حدیث میں ہے کہ گدھی نمازیوں کے آگے چر رہی تھی اور اس پر کسی نے انکار نہیں کیا۔ (صحیح البخاری : 493،  صحیح مسلم : 504،  سنن ابوداؤد: ۷۱۵ سنن ترمذی: ۳۳۷ سنن نسائی : ۷۵۱ سنن ابن ماجہ: ۷۵۳)

حضرت ابن عباس اور عطاء نے یہ کہا ہے کہ جو عورت نماز منقطع کرتی ہے اس سے مراد حائض عورت ہے۔ ( صحیح ابن خزیمہ: ۸۳۲ صحیح ابن حبان : ۴۱۲) علامہ عینی فرماتے ہیں کہ بعض روایات میں یہ تصریح ہے کہ شعبہ نے کہا: میرا گمان ہے کہ جس حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ آپ کے سامنے لیٹی ہوئی تھیں، حضرت عائشہ نے فرمایا: میں اس وقت حائض تھی، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ بعض احادیث میں ہے کہ کتنا، خنزیز، یہودی اور نصرانی نماز کو منقطع کردیتا ہے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲۳۵۳۔ ۲۳۵۲) اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۷۰ – 169 مفصلا ومخرجا دار الكتب العلمیة بیروت 1421ھ )

سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کے جواز کی تحقیق

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص سویا ہوا ہو، اس کے سامنے کھڑے ہوکر نماز پڑھنا جائز ہے اور بعض علماء نے اس کو مکروہ کہا ہے اور ان کا استدلال حسب ذیل حدیث سے ہے:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سویا ہوا ہو یا باتیں کررہا ہو، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔

(سنن ابوداؤد: ۶۹۴ ‘سنن ابن ماجه: 959)

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث محمد بن کعب سے مروی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔

باب مذکور کی حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز میں عمل قلیل کرنا جائز ہے۔

عورت کے جسم کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس پر فقہاء احناف کا استدلال اور اس پر حافظ ابن حجر کا رد کرنا

اس حدیث میں مذکور ہے کہ جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے ہاتھ سے اشارہ کرتے۔

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ عورت کے جسم کو چھونے سے وضوء ٹوٹتا ہے نہ نماز ٹوٹتی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ حضرت عائشہ کے پیروں کو لگایا تھا، لیکن یہ استدلال اس لیے مردود ہے کہ ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ کے پیروں پر کپڑا ہو یا یہ آپ کی خصوصیت ہو، سو یہ ثابت نہ ہوا کہ عورت کے جسم کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۵۵ دار المعرفۃ بیروت 1426ھ )

علامہ عینی کا حافظ ابن حجر کے جواب کو رد کرنا

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ اس جواب کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ اصل یہ ہے کہ پیر کے اوپر عرفا کوئی کپڑا نہیں ہوتا نہ ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور یہ بہت بعید ہے کہ آپ نے ان کے کپڑے کے اوپر سے ان کو ہاتھ لگاکر اشارہ کیا تھا، جیسا کہ امام شافعی کا قول ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۵۱)

حافظ ابن حجر نے دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ ہوسکتا ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہو، یہ جواب اس لیے صحیح نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر مقام تشریع میں تھے یہ آپ کی خصوصیت کا مقام نہیں تھا،  کیونکہ یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام اقوال اور افعال کو معصوم رکھا ہے اور بغیر دلیل کے خصوصیت کا دعوی باطل ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آپ ہمارے لیے کسی حدیث میں یہ دلیل قائم کرتے کہ آپ کے حق میں عورت کے جسم کو چھونا وضوء ٹوٹنے کا سبب نہیں ہے، جیسا کہ آپ نے نیند کے متعلق فرمادیا، کہ میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل جاگتا رہتا ہے اور نیند سے آپ کا وضو نہیں ٹوٹتا اور اس کا انکار کرنا عناد اور مکابرہ ہے۔

(عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۷۰ دار الكتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

یہ حدیث شرح صحیح مسلم: ۱۰۴۷- ج ا ص ۱۳۲۳ پر مذکور ہے اس کی شرح میں ص ۱۳۳۰ پر صراط مستقیم (مصنفہ: شیخ اسماعیل دہلوی) کی ایک توہین آمیز عبارت پر بحث کی گئی ہے۔