کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 21 رکوع 16 سورہ السجدۃ آیت نمبر 23 تا 30
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآىٕهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ(۲۳)
اور بےشک ہم نے موسیٰ کو کتاب (ف۴۲) عطا فرمائی تو تم اس کے ملنے میں شک نہ کرو (ف۴۳) اور ہم نے اُسے (ف۴۴) بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا
(ف42)
یعنی توریت ۔
(ف43)
یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کو کتاب کے ملنے میں یا یہ معنٰی ہیں کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے ملنے اور ان سے ملاقات ہونے میں شک نہ کرو چنانچہ شبِ معراج حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضرت موسٰی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی جیسا کہ احادیث میں وارد ہے ۔
(ف44)
یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کو یا توریت کو ۔
وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ-وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ(۲۴)
اور ہم نے اُن میں سے (ف۴۵) کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے (ف۴۶) جب کہ اُنہوں نے صبر کیا (ف۴۷) اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے
(ف45)
یعنی بنی اسرائیل میں سے ۔
(ف46)
لوگوں کو خدا کی طاعت اور اس کی فرمانبرداری اور اللہ تعالٰی کے دین اور اس کی شریعت کا اِتّباع ، توریت کے احکام کی تعمیل اور یہ امامِ انبیاءِ بنی اسرائیل تھے یا انبیاء کے متّبِعین ۔
(ف47)
اپنے دین پر اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں پر ۔
فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ صبر کا ثمرہ امامت اور پیشوائی ہے ۔
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ(۲۵)
بےشک تمہارا رب ان میں فیصلہ کردے گا (ف۴۸)قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے تھے (ف۴۹)
(ف48)
یعنی انبیاء میں اور ان کی اُمّتوں میں یا مومنین و مشرکین میں ۔
(ف49)
امورِ دین میں سے اور حق و باطل والوں کو جُدا جُدا ممتاز کر دے گا ۔
اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍؕ-اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ (۲۶)
اور کیا اُنہیں (ف۵۰) اس پر ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے اُن سے پہلے کتنی سنگتیں (ف۵۱) ہلاک کردیں کہ آج یہ اُن کے گھروں میں چل پھر رہے ہیں (ف۵۲) بےشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں تو کیا سنتے نہیں (ف۵۳)
(ف50)
یعنی اہلِ مکّہ کو ۔
(ف51)
کتنی اُمّتیں مثلِ عاد و ثمود و قومِ لوط کے ۔
(ف52)
یعنی اہلِ مکّہ جب بسلسلۂ تجارت شام کے سفر کرتے ہیں تو ان لوگوں کے منازل و بلاد میں گزرتے ہیں اور ان کی ہلاکت کے آثار دیکھتے ہیں ۔
(ف53)
جو عبرت حاصل کریں اور پندپذیر ہوں ۔
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِ جُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْؕ-اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ (۲۷)
اور کیا نہیں دیکھتے کہ ہم پانی بھیجتے ہیں خشک زمین کی طرف (ف۵۴) پھر اُس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ اس میں سے اُن کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں (ف۵۵) تو کیا انہیں سوجھتانہیں (ف۵۶)
(ف54)
جس میں سبزہ کا نام و نشان نہیں ۔
(ف55)
چوپائے بھوسہ اور وہ خود غلّہ ۔
(ف56)
کہ وہ یہ دیکھ کر اللہ تعالٰی کے کمالِ قدرت پر استدلال کریں اور سمجھیں کہ جو قادرِ برحق خشک زمین سے کھیتی نکالنے پر قادر ہے مُردوں کا زندہ کرنا اس کی قدرت سے کیا بعید ۔
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۸)
اور کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو (ف۵۷)
(ف57)
مسلمان کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالٰی ہمارے اور مشرکین کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور فرمانبردار اور نافرمان کو ان کے حسبِ عمل جزا دے گا ، اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہم پر رحمت و کرم کرے گا اور کُفّار و مشرکین کو عذاب میں مبتلا کرے گا ، اس پر کافِر بطورِ تمسخُر و اِستِہزاء کہتے تھے کہ یہ فیصلہ کب ہو گا ، اس کا وقت کب آئے گا ۔ اللہ تعالٰی اپنے حبیب سے ارشاد فرماتا ہے ۔
قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ(۲۹)
تم فرماؤ فیصلہ کے دن (ف۵۸) کافروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ انہیں مہلت ملے (ف۵۹)
(ف58)
جب عذابِ الٰہی نازل ہو گا ۔
(ف59)
توبہ و معذرت کی فیصلہ کے دن سے یا روزِ قیامت مراد ہے یا روزِ فتحِ مکّہ یاروزِ بدر برتقدیرِ اوّل اگر روزِ قیامت مراد ہو تو ایمان کا نافع نہ ہونا ظاہر ہے کیونکہ ایمان وہی مقبول ہے جو دنیا میں ہو اور دنیا سے نکلنے کے بعد نہ ایمان مقبول ہو گا نہ ایمان لانے کے لئے دنیا میں واپس آنا میسّر آئے گا اور اگر فیصلہ کے دن سے روزِ بدریا روزِ فتحِ مکّہ مراد ہو تو معنٰی یہ ہیں کہ جبکہ عذاب آ جائے اور وہ لوگ قتل ہونے لگیں تو حالتِ قتل میں ان کا ایمان لانا قبول نہ کیا جائے گا اور نہ عذاب مؤخّر کر کے انہیں مہلت دی جائے چنانچہ جب مکّہ مکرّمہ فتح ہوا تو قوم بنی کنانہ بھاگی حضرت خالد بن ولید نے جب انہیں گھیرا اور انہوں نے دیکھا کہ اب قتل سر پر آ گیا کوئی امید جاں بَری کی نہیں تو انہوں نے اسلام کا اظہار کیا ، حضرت خالد نے قبول نہ فرمایا اور انہیں قتل کر دیا ۔ (جمل وغیرہ)
فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠(۳۰)
تو اُن سے منہ پھیرلو اور انتظار کرو (ف۶۰) بےشک انہیں بھی انتظار کرنا ہے (ف۶۱)
(ف60)
ان پر عذاب نازل ہونے کا ۔
(ف61)
بخاری و مسلم شریف کی حدیث شریف میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم روزِ جمعہ نمازِ فجر میں یہ سورت یعنی سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر پڑھتے تھے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ جب تک حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ سورت اور سورۂ ” تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ” پڑھ نہ لیتے خواب نہ فرماتے ۔ حضرت ابنِ مسعودرضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ سورۂ سجدہ عذابِ قبر سے محفوظ رکھتی ہے ۔ (خازن و مدارک)