۱۰۸ – بَابٌ هَلْ يَغْمز الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ عِنْدَ السُّجُودِ لِكَيْ يَسْجُدَ؟

کیا کوئی شخص سجدہ کے وقت اپنی بیوی کو ہاتھ لگا کر اشارہ کرے تاکہ وہ سجدہ کرلے؟

اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص نماز میں اپنی بیوی کو ہاتھ لگالے تو اس سے اس کا وضو ٹوٹتا ہے نہ اس کی نماز ٹوٹتی ہے اس کے برخلاف امام شافعی کے نزدیک عورت کو چھونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔

٥١٩ – حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللهِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلَتُمُونَا بِالْكَلْب وَالْحِمَارِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ يُصَلَّى، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَة فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلَى، فَقَبَضْتُهُمَا۔

مسند الامام الطحاوی: 9335 مكتبة الحرمین الدی (1426ھ)

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عمرو بن علی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں القاسم ے حدیث بیان کی از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا انہوں نے فرمایا: کتنی بُری بات ہے کہ تم نے ہمیں کتے اور گدھے کے برابر کر دیا ہے اور تحقیق یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوئی تھی، پس جب آپ سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو میرے پیروں کو ہاتھ لگاکر اشارہ کرتے پس میں اپنے پیر سکیٹر لیتی۔

اس حدیث کی مفصل شرح صحیح البخاری: 508 اور ۳۸۲ میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔