کتاب مواقیت الصلوۃ باب 1 حدیث نمبر 521
نحمده ونصلي ونسلم على رسوله الكريم
۹ – كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلوة
نماز کے اوقات کا بیان
امام بخاری نے کتاب الطهارة‘ کے بعد کتاب الصلوۃ” کو شروع کیا اور کتاب الصلوۃ کے بعد ابواب قبلہ ابواب المساجد اور نمازی کے سترہ کے ابواب سے فارغ ہونے کے بعد کتاب مواقيت الصلوۃ کو شروع کیا۔
مواقيت ، میقات ” کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے: وقت کی مقدار، جس جگہ سے حج کے لیے احرام باندھا جاتا ہے اس کو بھی میقات کہتے ہیں ۔
1 – بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلوةِ وَفَضْلِهَا
نماز کے اوقات اور ان کی فضیلت
وَقَوْلِهِ إِنَّ الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِين۔كِتَابًا مَّوْقُوتًا) (النساء: ١٠٣) مُوَقَتًا، وَقَتَهُ عَلَيْهِم۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: بے شک مؤمنین پر نماز مقررہ وقات میں فرض کی گئی ہے۔ (النساء: ۱۰۳) موقت “ کا معنی ہے: ان پر وقت مقرر میں فرض کی گئی ہے۔
٥٢١ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ قَرَات عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِيز اخَرَ الصَّلوةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بن الزبير فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلوةَ يَوْما، وَهُوَ بِالْعِرَاقِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودِ الْأَنْصَارِی فَقَالَ مَا هَذَا يَامُغِيرَةُ، أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أنَّ جبریل عَلَيْهِ السَّلَامُ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ بِهَذَا اُمِرْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ لعُرْوَةَ اعْلَمُ مَا تُحَدِتْ، أَوْ أَنَّ جِبْرِيلَ هُوَ اقَام لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقتَ الصَّلوةِ ؟ قَالَ عُرْوَةٌ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُود يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ [ اطراف الحديث : 7321 – 4007]
ُ امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبد للہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے امام مالک پر قراءت کی از ابن شہاب کہ ایک دن عمر بن عبد العزیز نے نماز کو مؤخر کردیا پھر ان کے پاس عروہ بن الزبیر آئے اور ان کو یہ خبر دی کہ حضرت المغیرہ بن شعبہ نے ایک دن نماز کو مؤخر کردیا اور وہ اس وقت عراق میں تھے پھر ان کے پاس حضرت ابو مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: اے مغیرہ ! یہ کیا وقت ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت جبریل نازل ہوئے، پھر انہوں نے نماز پڑھی، پس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی، پس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی، پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر َ آپ نے فرمایا: مجھے اس چیز کا حکم دیا گیا ہے پھر عمر بن عبد العزیز نے عروہ سے کہا: سمجھو ! تم کیا حدیث بیان کررہے ہو، کیا حضرت جبریل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کا وقت مقرر کیا تھا؟ عروہ نے کہا: اسی طرح بشیر بن ابی مسعود اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے۔
صحیح مسلم : ۶۰۸ سنن ابوداؤد : 394، سنن نسائی: 4939، سنن ابن ماجه: ۶۶۸ مسند احمد ج 4 ص ۱۲۱ مسند احمد ج ۲۸ ص ۳۱۷ جامع المسانید لابن الجوزی: ۵۴۳۹ مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ
حدیث مذکور کے رجال
(۱) عبد الله بن مسلمہ القعنی
(۲) امام مالک بن انس
(۳) محمد بن مسلم بن شہاب الزہری
(۴) عمر بن عبدالعزیز بن مروان امیر المؤمنین، ان کو بھی خلفاء راشدین میں شمار کیا جاتا ہے
(۵) عروہ بن الزبیر بن العوام
(۶) حضرت المغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ یہ صحابی ہیں
(۷) حضرت ابو مسعود الانصاری ،ان کا نام عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ الخزرجی الانصاری ہے رضی اللہ عنہ
(۸) ان کے بیٹے بشیر بن ابو مسعود یہ جلیل القدر تابعی ہیں۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص ۵)
عمر بن عبد العزیز نے جو نماز میں تاخیر کی تھی یہ ان کا معمول نہیں تھا اور مؤخر ہونے والی نماز کی تعیین
اس حدیث میں ہے کہ حضرت المغیرہ بن شعبہ نے ایک دن نماز کو مؤخر کردیا اور امام بخاری کی دوسری روایت میں ہے: ایک دن حضرت المغیرہ نے عصر کی نماز کو مؤخر کردیا۔ (صحیح البخاری : 4007)
عمر بن عبدالعزیز نے اس طرح نماز کو مؤخر نہیں کیا تھا، جس طرح بنوامیہ کے امراء نماز کو مؤخر کرتے تھے’ کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ولید نماز کو مؤخر کرکے پڑھاتا تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس پر انکار کرتے تھے عطاء نے کہا: ایک دفعہ ولید نے جمعہ میں اتنی تاخیر کردی حتی کہ شام ہوگئی اسی طرح حجاج بھی کیا کرتا تھا۔ عمر بن عبد العزیز نے جو نماز کو مؤخر کیا تھا تو مستحب وقت سے مؤخر کیا تھا نہ کہ اس کے اصل وقت سے مؤخر کیا تھا اور ان کی جلالت کی وجہ سے ان کے متعلق یہ اعتقاد نہیں کیا جائے گا اور عروہ نے ان پر اس لیے انکار کیا تھا کہ انہوں نے عصر کی فضیلت والے وقت کو ترک کر دیا تھا جس میں حضرت جبریل علیہ السلام نے نماز پڑھائی تھی، علامہ ابن عبد البر نے کہا ہے کہ انہوں نے اس نماز کو اس کے مستحب وقت سے مؤخر کردیا تھا، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ انہوں نے عصر کو اتنا مؤخر کردیا تھا، حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔
حضرت جبریل کا پانچ نمازوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امامت کرانا
نیز اس حدیث میں ہے: حضرت جبریل نازل ہوئے، پھر انہوں نے نماز پڑھی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔
اس جملہ کا معنی یہ ہے کہ حضرت جبریل نے نماز پڑھائی، پھر اس کے فورا بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اقتداء میں نماز پڑھی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شب معراج جو پانچ نمازیں فرض ہوئی تھیں، حضرت جبریل ان پانچ نمازوں کی کیفیت کے بیان کے لیے نماز پڑھارہے تھے۔
پھر آپ نے فرمایا: مجھے اس چیز کا حکم دیا گیا ہے یعنی ان اوقات میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
پھر عمر بن عبد العزیز نے کہا: سمجھو تم کیا حدیث بیان کررہے ہو۔
بہ ظاہر اس کا معنی یہ ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کو یہ معلوم نہیں تھا کہ حضرت جبریل نے ان نمازوں میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو امامت کرائی تھی، ہوسکتا ہے ان تک یہ حدیث پہنچی نہ ہو یا وہ بھول گئے ہوں۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص 5-7 ملخصا دارالکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقتدی ہونا آپ کے افضل ہونے کے منافی نہیں
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام امام تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی تھے اور امام مقتدی سے افضل ہوتا ہے اس سے لازم آئے گا کہ حضرت جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہوں، حالانکہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم افضل الخلق ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ محض امام ہونے سے افضل ہونا لازم نہیں آتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ حضرت ابوبکر کی اقتداء میں نماز پڑھی اور ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی اقتداء میں نماز پڑھی، اسی طرح بعض مرتبہ استاذ اپنے شاگرد کی اقتداء میں نماز پڑھتا ہے اور والد اپنے بیٹے کی اقتداء میں نماز پڑھتا ہے جب کہ افضل استاذ اور والد ہی ہوتا ہے اس لیے افضل تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اگرچہ امام اس وقت حضرت جبریل تھے نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے بھی اقتداء میں نماز پڑھی ہے کہ جس طرح آپ کی زندگی میں امامت کا نمونہ ہے اسی طرح آپ کی زندگی میں اقتداء کا بھی نمونہ ہے، آپ کی امت میں کم لوگ امام ہوتے ہیں اور آپ کی امت کی اکثریت مقتدی ہوتی ہے اگر آپ کسی کی اقتداء میں نماز نہ پڑھتے تو آپ کی امت کی اکثریت آپ کی سنت کی اتباع سے محروم ہوجاتی۔