٤ – بَاب الصَّلَوةُ كَفَّارَةٌ

نماز کفارہ ہے

کفارہ اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی گناہ کو مٹادے اور چونکہ نماز پڑھنے سے صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں، اس لیے کہا جاتا ہے: نماز گناہوں کا کفارہ ہے۔

٥٢٥ – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ قَال كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ أَيُّكُم يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِی الفتنة؟ قُلْتُ أَنَا، كَمَا قَالَهُ، إِنَّكَ عَلَيْهِ، أَوْ عَلَيْهَا لَجَرىءٌ، قُلْتُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِه وَجَارِهِ، تُكَفِّرُهَا الصَّلَوةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالأمْر وَالنَّهُی ، قَالَ لَيْسَ هَذَا أَرِيدُ وَلَكِنِ الْفِتْنَةُ الَّتِي تموُجُ کما یموج الْبَحْرُ، قَالَ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَاس ياأَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغلَقًا قَال ايكسرُ امْ يُفْتَحُ؟ قَالَ يُكْسَرُ، قَالَ إِذًا لَا يُعْلَقُ ابدا، قُلْنَا اكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ قَالَ نَعَمْ، كَمَا أَنَّ دُون الْغدِ اللَّيْلَة،َ إِنى حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ لَيْس ِبالْاَغَالِيط فَهِبْنَا أَنْ تَسْأَلَ حُذَيْفَةً، فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ الْبَابُ عُمَرُ۔

اطراف الحدیث : ۱۴۳۵_۱۸۹۵-3586–7092

صحیح مسلم : 144 الرقم المسلسل : 362، سنن ترمذی: ۲۲۶۵، سنن ابن ماجه: 3955، مسند ابوداود الطیالسی : 408، مسند الحمیدی: 447 مصنف ابن ابي شيبه ج 15 ص ۱۵ مسند البزار: ۲۸۷۴ السنن الكبرى:327، المعجم اوسط : ۴۸۳۲ دلائل النبوتہ للبیہقی ج 6 ص 386،  مصنف عبد الرزاق: ۲۰۷۵۲ مسند احمد ج ۵ ص 401-404 طبع قدیم، مسند احمد 23412، مؤسسة الرسالة بیروت جامع المسانید لابن جوزی 1436، مکتبہ الرشد،  ریاض 1426ھ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیثَ بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی از الاعمش،انہوں نے کہا: مجھے شقیق نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا’ انہوں نے کہا: ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے پوچھا: تم میں سے کسی شخص کو فتنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہے؟ میں نے کہا: مجھے اسی طرح یاد ہے جس طرح آپ نے فرمایا تھا (انہوں نے کہا) : تم اس کی ہمت رکھنے والے ہو میں نے کہا: آدمی کی بیوی، اس کے مال اس کی اولاد اور اس کے پڑوسی میں جو فتنہ ہوتا ہے نماز روزہ صدقہ نیکی کا حکم دینے اور بُرائی سے منع کرنے سے اس کا کفارہ ہوجاتا ہے حضرت عمر نے کہا: میری یہ مراد نہیں ہے لیکن میری مراد اس فتنہ سے ہے جس کی موجیں سمندر کی موجوں کی طرح ہوں گی میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کو اس فتنہ سے کوئی خطرہ نہیں ہے آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان ایک مقفل دروازہ ہے حضرت عمر نے پوچھا: آیا اس دروازہ کو کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا؟ حضرت حذیفہ نے کہا: توڑا جائے گا حضرت عمر نے کہا: پھر وہ دروازہ کبھی بند نہیں کیا جائے گا’ ہم نے پوچھا: کیا حضرت عمر اس دروازہ کو جانتے تھے ؟ حضرت حذیفہ نے کہا: ہاں! جیسے وہ جانتے تھے کہ کل (کے دن) سے پہلے رات ہے، میں نے ان کو ایسی حدیث بیان کی ہے جو بجھارت نہیں ہے، پھر ہم خود حضرت حذیفہ سے پوچھنے سے ڈرے، ہم نے مسروق سے کہا تو انہوں نے پوچھا پس حضرت حذیفہ نے بتایا : دروازہ حضرت عمر تھے۔

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: نماز پڑھنے سے آدمی کے اہل وغیرہ کے فتنہ کا کفارہ ہو جاتا ہے۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں، ان سب کا پہلے تعارف ہو چکا ہے۔

 

فتنہ کے معانی اور بیوی، مال اور اولاد کے فتنہ کا بیان

اس حدیث میں فتنہ ” کا لفظ ہے فتنہ کا معنی ہے: گناہ اور گمراہی اور فتنہ ” کا معنی ہے: کسی شخص کو اس کے نیک طریقہ سے ہٹادینا۔ قرآن مجید میں ہے:

وَإِن كَادُوا لِيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ.بنی اسرائیل: 73

اور جو وحی ہم نے آپ کی طرف کی ہے، یہ لوگ آپ کو ( اس کے بیان کرنے سے ) ہٹادینا چاہتے ہیں۔

اور فتنہ “ کا معنی ہے: کفر اور شرک قرآن مجید میں ہے:

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ (البقره: ١٩٣)

اور ان سے قتال کرتے رہو حتی کہ کفر اور شرک نہ رہے۔

لوگوں کے درمیان جو لڑائی اور جھگڑا ہوتا ہے اس کو بھی فتنہ کہا جاتا ہے نیکی سے بدی کی طرف منتقل ہونے کو بھی فتنہ کہا جاتا ہے عورتوں سے بدکاری کو بھی فتنہ کہتے ہیں، برائی اور بھلائی، خوش حالی اور تنگ دستی کے امتحان کو بھی فتنہ کہتے ہیں، قرآن مجید میں ہے:

ونبلُوكُمْ بِالشَّرِ وَالْخَيْرِ فِتْنَةٌ (الانبياء:۳۵)

اور ہم تم کو مصیبت اور راحت کے امتحان میں مبتلا کرتے ہیں۔

انسان کا اس کی بیوی میں فتنہ یہ ہے کہ بیوی کی فرمائش پوری کرنے کے لیے وہ ایسی بات کہے یا ایسا کام کرے جو جائز نہ ہوا اور انسان کا اس کے مال میں فتنہ یہ ہے کہ مال کے حصول میں جائز اور ناجائز کا فرق نہ کرے یا مال کو خرچ کرنے میں جائز اور ناجائز کا فرق نہ کرے اور انسان کا اس کی اولاد میں فتنہ یہ ہے کہ وہ اولاد کی فرط محبت میں نیک کاموں سے رک جائے یا بُرے کاموں کا ارتکاب کرے یا ان کو نیک کام کرنے کا حکم نہ دے اور ان کو بُرے کاموں سے نہ روکے اور انسان کا اس کے پڑوسی میں فتنہ یہ ہے کہ وہ غربت اور افلاس میں پڑوسی کی مدد نہ کرے، وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرے، وہ مرجائیں تو ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو اپنی خوش حالی کی وجہ سے ان کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور اگر وہ خوش حال ہوں تو ان سے حسد کرے۔ جو شخص بیوی، مال، اولاد اور پڑوسی کے ساتھ ایسے کام کرے، اگر وہ گناہ کبیرہ کی حد سے کم ہوں تو نماز اور روزہ وغیرہ سے ان کا کفارہ ہوجاتا ہے۔

نیک کاموں سے وہ گناہ معاف ہوتے ہیں جو کبیرہ سے کم ہوں اور کبیرہ گناہوں کی معانی کے لیے۔۔۔ توبہ کرنا ضروری ہے

إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ. (هود: ۱۱۴).

بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔

اور اگر وہ کام ایسے ہوں جو حرام کی حد تک پہنچ جائیں تو پھر ان کی معافی کے لیے توبہ کرنا ضروری ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ نیک کاموں کے کرنے سے گناہ کبیرہ کا بھی کفارہ ہوجاتا ہے، یہ صحیح نہیں ہے،  ورنہ قرآن مجید میں توبہ کرنے کا حکم کیوں دیا جاتا ؟ قرآن مجید میں ہے:

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَصُوحًا .

اے ایمان والو! اللہ کی طرف توبہ کر و خالص توبہ ۔(التحریم: ۸)

حدیث میں ہے:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ،  ان کے درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں، جب کہ انسان کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کرے۔(صحیح مسلم : ۲۳۳ سنن ترمذی : 214، مسند احمد ج ۲ ص ۴۸۴)

حضرت عمر کی ذات فتنوں کے سیلاب کے سامنے بہ منزلہ بند تھی اس بند کے ٹوٹنے کے بعد جو فتنوں کا سیلاب آیا وہ آج تک جاری ہے

دروازہ کھلنے سے مراد حضرت عمر کی طبعی موت ہے اور دروازہ توڑنے سے مراد حضرت عمر کی شہادت ہے فتنوں کے موج در موج سمندر کی موجوں کی طرح آنے سے مراد یہ ہے کہ مسلمان باہم قتل اور خون ریزی کریں اور لوگوں کی جان مال اور عزت اور آبرو محفوظ نہ رہے۔ اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ ایسے فتنوں کا سدباب حضرت عمر سے تھا اور وہ ان فتنوں کے لیے دروازہ تھے اور جب حضرت عمر کو شہید کردیا گیا تو ان فتنوں کو در آنے کا راستہ مل گیا ان فتنوں کے سیلاب کے آگے حضرت عمر بہ منزلہ بند تھے اور جب یہ بند ٹوٹ گیا تو باہم قتل اور خون ریزی کا سیلاب آگیا، پھر خوارج کا فتنہ نمودار ہوا اور پہلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا پھر پیہم مختلف گم راہیوں کے فتنے نمودار ہوتے رہے اور اس کے نتیجہ میں مسلمان ایک دوسرے کو قتل کرتے رہے اور آج تک کررہے ہیں ہمارے دور کا بڑا فتنہ لسانی تعصب کا فتنہ ہے اس فتنہ کے نتیجہ میں پاکستان دوٹکڑے ہوا اور بنگالی پاکستان ہے الگ ہوگئے اور انہوں نے بنگلہ دیش بنالیا اور اب چاروں صوبے زبان کے اختلاف کی وجہ سے آپس میں قتل، خون ریزی اور لوٹ مار کررہے ہیں اور ملک کی وحدت کو تباہ کررہے ہیں اور باقی ماندہ ملک کو بھی توڑنا چاہتے ہیں۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۷۷ – ج ۱ ص ۶۱۲ پر مذکور ہے، اس کی شرح کے عنوان ہیں: عبادات کے کفارہ ہونے کا بیان، حضرت حذیفہ کی حدیث کے بجھارت ( پہیلی) نہ ہونے کا بیان۔