قوت اور ضعف کے اعتبار سے حدیث کی تقسیم

خبر الآحاد یعنی مشہور، عزیز اور غریب کی قوت اور ضعف کے اعتبار سے دو قسمیں ہیں:

(۱)۔ مقبول: یہ وہ قسم ہے جس میں خبر کا صدق راجح ہوتا ہے اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے استدلال کرنا جائز ہے، اور اس کے مقتضیٰ پر عمل کرنا واجب ہے۔

(۲)۔ مردود: یہ وہ قسم ہے جن میں خبر کا صدق راجح نہیں ہوتا، اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے اور نہ اس کے مقتضیٰ پر عمل کرنا واجب ہے۔ مقبول اور مردود میں سے ہر ایک کی متعدد اقسام ہیں جن کا ذکر اب آ رہا ہے۔

 حدیث مقبول کا بیان

حدیث مقبول کی حسبِ ذیل اقسام ہیں:

(۱) صحیح لذاتہ (۲) صحیح لغیرہ (۳) حسن لذاتہ (۴) حسن لغیرہ۔

 حدیثِ صحیح کی تعریف

لغت میں صحیح تندرست یعنی بیمار کی ضد کو کہتے ہیں اور اس کا اصطلاحی معنی حسبِ ذیل ہے۔ 

علامہ نووی نے حدیثِ صحیح لذاتہ کی یہ تعریف کی ہے:-

هو ما اتصل سنده بالعدول الضابطين من غير شذوذ ولا علة -(علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ، تقریب النواوی مع التدریب ج ۱ ص 63 مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، 1392ھ)

جس حدیث کی سند متصل ہو اور اس کے راوی عادل اور تام الضبط ہوں وہ حدیث غیر شاذ اور غیر معلل ہو۔

صحیح حدیث کی تعریف میں مندرجہ ذیل امور کا اعتبار ہے :

اتصالِ سند:-

 اس کا معنی یہ ہے کہ سندِ حدیث کے ہر راوی نے اس حدیث کو اپنے شیخ سے بلا واسطہ حاصل کیا ہو اور ابتداء سے انتہاء تک درمیان میں کوئی راوی چھوٹا ہوا نہ ہو۔

عدالتِ روات:-

یعنی سندِ حدیث کا ہر راوی مسلم، بالغ، عاقل، صادق، صالح، غیر مبتدع اور غیر فاسق ہو۔

ضبطِ روات:-

یعنی سندِ حدیث کے ہر راوی کو کامل ضبطِ صدر یا کامل ضبطِ کتاب حاصل ہو، جس وقت وہ حدیث کو سنے یا حدیث کو بیان کرے تو اس میں تساہل اور غفلت نہ کرے۔

عدمِ شذوذ:-

یعنی اس کی روایت شاذ نہ ہو، اور شذوذ یہ ہے کہ ثقہ راوی اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت کرے، مثلاً ثقہ کی حدیث میں اوثق کی حدیث سے کوئی لفظ زیادہ ہو تو اس زیادی کو شاذ کہیں گے اور اس کی روایت بھی شاذ کہلائے گی۔

عدمِ علت:-

 یعنی اس حدیث میں علتِ خفیہ قادحہ نہ ہو، مثلاً ثور بن یزید کے تمام شاگردوں نے کاتبِ مغیرہ بن شعبہ سے اس حدیث کو مرسلاً بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں کے اوپر اور نیچے دونوں حصوں پر مسح کیا اور ولید بن مسلم نے اس کو ثور بن یزید سے متصلاً بیان کیا۔ (جامع ترمذی ص ۴۰) اس لیے یہ حدیث دراصل مرسل ہے متصل نہیں ہے لیکن اس غلطی کو وہی شخص پکڑسکتا ہے جس کو ثور بن یزید سے اس حدیث کے روایت کرنے والے تمام راویوں کی روایت پر اطلاع ہو، اس لیے اس کو علتِ خفیہ کہتے ہیں۔

حدیثِ صحیح کے مراتب

حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:

(۱) جس حدیث پر صحیح بخاری و صحیح مسلم متفق ہوں (یہ اعلیٰ درجہ کی صحیح حدیث ہے)

(۲)۔ جس کو صرف امام بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہو، اور اس سے تعلیقات خارج ہیں کیونکہ ان کا امام بخاری ذکر کرتے ہیں سند کے ساتھ روایت نہیں کرتے۔

(۳)۔ جس حدیث کو صرف امام مسلم نے روایت کیا ہو۔

(۴)۔ جو حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر ہو لیکن انہوں نے اس کو روایت نہ کیا ہو۔

(۵)۔ جو حدیث صرف امام بخاری کی شرط پر ہو اور انہوں نے اس کا اخراج نہ کیا ہو۔

(۶)۔ جو حدیث صرف امام مسلم کی شرط پر ہو اور انہوں نے اس کا اخراج نہ کیا ہو۔

(۷)۔ جو حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر ترجیح نہ ہو لیکن دوسرے ائمہ حدیث مثلاً امام ابن حبان اور امام ابن خزیمہ کے نزدیک صحیح ہو۔ (حافظ ابو عمرو عثمان بن عبدالرحمان شہر زوری المعروف با بن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ علوم الحدیث ص ۲۴-۲۳ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۶ھ)

حدیثِ صحیح لغیرہ کی تعریف

اگر حدیثِ صحیح لذاتہ کی صفات میں سے ضبطِ روایت میں کچھ کمی ہو لیکن اس کمی کی تلافی متعدد اسانید سے ہو جائے تو پھر اس کو صحیح لغیرہ کہتے ہیں۔

اس کی مثال یہ ہے: امام ترمذی روایت کرتے ہیں:

عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابی ہریرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لولا ان اشق على امتى لا امرتهم بالسواك عند كل صلوة – (امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ۲۷۹ھ، جامع ترمذی ص ۳۰ – ۲۹ ، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)

محمد بن عمرو از ابی سلمہ از ابی ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے نزدیک امت پر یہ دشوار نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز( کے وضو )کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔

حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں :

جب حدیث کا راوی اہل حفظ اور اتقان کے درجہ سے متاخر ہو لیکن وہ صدق اور ستر (عدالت) میں مشہور ہو اور اس کے باوجود اس کی حدیث متعدد اسانید سے مروی ہو تو اس کو دو وجہوں سے تقویت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ حسن کے درجہ سے ترقی کرکے صحیح کے ساتھ لاحق ہوجاتی ہے ، اس کی مثال یہ ہے کہ محمد بن عمرو نے ابی سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے نزدیک امت پر یہ دشوار نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا، اس کی سند میں محمد بن عمرو بن علقمہ صدق اور عفت میں تو مشہور ہے لیکن پر اہل ضبط و اتقان میں سے نہیں ہے حتی کہ بعض نے اس کو اس کے بد حافظگی کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے اور بعض ائمہ نے اس کے صدق اور اس کی جلالت کی وجہ سے اس کی توثیق کی ہے ، پس اس وجہ سے اس کی حدیث حسن ہے اور جب اس کے ساتھ یہ درجہ بھی لاحق ہوگیا کہ یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے تو اس کے بدحافظہ ہونے کی وجہ سے ہم کو اس حدیث کی صحت پر جو خدشہ تھا وہ زائل ہوگیا اور اس نقصان کی تلافی ہوگئی اور یہ سند صحیح ہوگئی اور صحیح کے ساتھ لاحق ہوگئی ۔ (حافظ ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن المعروف بابن الصلاح شہر زوری متوفی ۶۴۳ھ علوم الحدیث ص ۳۲، ۳۱، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ،۱۳۸۲ھ)

اس حدیث کی دوسری سندوں کے متعلق امام ترمذی لکھتے ہیں :

یہ حدیث از محمد بن اسحاق از محمد بن ابراہیم از ابی سلمہ از محمد بن خالد از نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی روایت کی گئی ہے اور ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ اور حضرت محمد بن خالد دونوں سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور میرے نزدیک یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں کیونکہ یہ دونوں حدیثیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد اسانید کے ساتھ روایت کی گئی ہیں ، البتہ امام بخاری نے از ابی سلمہ از محمد بن خالد کی روایت کو زیادہ صحیح قرار دے کر اپنی صحیح میں درج کیا ہے۔ (امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ۲۷۹ھ، جامع ترمذی ص ۳۰، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)

امام بخاری نے از محمد بن عمرو از ابی سلمہ از ابو ہریرہ کی روایت کو اپنی صحیح میں اس لیے درج نہیں کیا کہ محمد بن عمرو کامل الضبط والا تقان نہیں ہے اور وہ کامل الضبط و الاتقان کی روایت کو درج کرتے ہیں ۔ (مترجم عنقریب ان شاء اللہ ائمہ صحاح ستہ کی شرائط کو دوبارہ تفصیل سے بیان کریں گے ۔)

حدیث صحیح کی دونوں قسموں سے استدلال کرنا جائز ہے۔

حدیث حسن لذاتہ کی تعریف

 حسن کا لغوی معنی ہے جمال ، اور اس کی اصطلاحی تعریف میں متعدد اقوال ہیں:

حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:

الحديث الذي لا يخلو رجال إسناده من مستور لم تتحقق أهليته غير أنه ليس مغفلا كثير الخطأ فيما يرويه ولا منہم بالكذب في الحديث أي لم يظهر منه تعمد الكذب في الحديث ولا سبب آخر مفسق ويكون متن الحديث مع ذلك قد عرف بأن روى مثله أو نحوه من وجه آخر أو أكثر حتى اعتضد بمتابعة من تابع راويه على مثله اوبمالہ من شاهد وهو ورود حديث آخر بنحوه فيخرج بذلك عن أن يكون شاذاً ومنكراً – (حافظ ابو عمرو عثمان بن عبدالرحمان شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ، علوم الحدیث ص ۵۶۵، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۶ھ)

جس حدیث کی سند میں راوی مستور ہوں، ان کی اہلیت متحقق نہ ہو، البتہ وہ اپنی روایت میں مغفل اور کثیر الخطاء نہ ہو، یعنی حدیث میں اس کا عمداً جھوٹ بولنا ظاہر نہ ہو، اور نہ کسی وجہ اس میں فسق ہو، اس کے باوجود اس حدیث کا متن معروف ہو، بایں طور کہ وہ حدیث انہی الفاظ کے ساتھ یا اس کے ہم معنی دوسرے الفاظ کے ساتھ کسی اور سند یا اسانید کے ساتھ بھی مروی ہو، حتی کہ اس حدیث کی اس کے متابع یا اس کے شاہد کے ساتھ اس کی تقویت ہو، حتی کہ وہ حدیث شاذ یا منکر ہونے سے خارج ہوجائے۔

امام ترمذی لکھتے ہیں:

كل حديث يروى لا يكون في إسناده من يتهم بالكذب ولا يكون الحديث شاذاً ويروى من غير وجه ونحوه ذاکہ فهو عندنا حديث حسن – (امام ابو عیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ۲۷۹ھ، جامع ترمذی ص ۵۶۵، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)

ہر وہ حدیث جس کی سند میں ایسا راوی نہ ہو جو متہم بالکذب ہو اور نہ وہ حدیث شاذ ہو، اور وہ حدیث متعدد اسانید سے مروی ہو تو وہ حدیث ہمارے نزدیک حسن ہے۔

علامہ نووی لکھتے ہیں:

الحسن: قال الخطابي هو ما عرف مخرجه واشتهر رجاله – (علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ، تقریب النووی مع التدريب ج ۱ ص ۱۵۳، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)

علامہ خطابی نے کہا ہے کہ حدیث حسن وہ ہے جس کا مخرج معروف ہو اور جس کی سند مشہور ہو۔

علامہ سیوطی لکھتے ہیں:

وقال الطيبي لو قيل الحسن مسند عن قريب درجة الثقة، ومرسل ثقة، وروي كلاهما من غير وجه وسلم من شذوذ وعلة لكان اجمع الحدود – (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۱۵۹، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)

علامہ طیبی نے کہا کہ جس راوی کا درجہ ثقہ کے قریب ہو اس کی متصل حدیث ہو، یا ثقہ راوی کی مرسل حدیث ہو، اور یہ دونوں متعدد اسانید سے مروی ہوں اور غیر شاذ اور غیر معلل ہوں تو یہ حدیث حسن ہے۔ اور یہ جامع اور مضبوط تعریف ہے۔

وقال شيخنا الإمام تقي الدين الشمني الحسن خبر متصل قل ضبط راویہ العدل وارتفع عن حال من يعد تفردہ منکرا و ليس بشاذ ولا معلل۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۱۶۰ – ۱۵۹ ، مطبوعہ مکتبہ مدنیہ منورہ ، ۱۳۹۲ھ)

ہمارے شیخ امام تقی الدین شمنی نے کہا ہے کہ حسن وہ حدیث متصل ہے جس کے عادل راوی کا ضبط کم ہو، اور وہ منکر الحدیث ہونے سے بری ہو اور اس کی حدیث شاذ اور معلل نہ ہو۔

قال البلقينى الحسن لما توسط بين الصحيح والضعيف ۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۱۶۰ ، مطبوعہ مکتبہ مدنیہ منورہ ، ۱۳۹۲ھ)

بلقینی نے کہا حسن وہ حدیث ہے جو صحیح اور ضعیف کے درمیان متوسط ہو۔

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

فإن خف الضبط والماد مع بقية الشروط المتقدمة في حد الصحيح فهو الحسن لذاته لا لشيء خارج ۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ ، شرح نخبۃ الفکر ص ۳۳ ، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)

اگر حدیث صحیح کی تمام شرائط پائی جائیں صرف راوی کے ضبط میں کمی ہو تو وہ حدیث حسن لذاتہ ہے کیونکہ اس کا حسن کسی خارجی امر یعنی متعدد طرق روایت کی وجہ سے نہیں ہے۔

 حدیث حسن لغیرہ کی تعریف

حدیث حسن لغیرہ دراصل حدیث ضعیف ہے جب وہ حدیث متعدد سندوں سے مروی ہو۔

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

وهو الذي يكون حسنه بسبب الاعتضاد نحو حديث المستور إذا تعددت طرقه ۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ ، شرح نخبۃ الفکر ص ۳۴ ، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)

حدیث حسن لغیرہ وہ حدیث ہے جس کا حسن تقویت کی وجہ سے ہو مثلاً مستور الحال کی حدیث جب اس کی متعدد اسانید ہوں۔

اس کی مثال یہ ہے: امام ترمذی روایت کرتے ہیں:

عن عاصم بن عبد الله قال سمعت عبد الله بن عامر بن ربيعة عن أبيه أن امرأة من بني فزارة تزوجت على نعلين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أراضيت من نفسك و مالك بنعلين قالت نعم قال فأجازه وفي الباب عن عمر وأبي هريرة وسهل بن سعد وأبي سعيد وأنس وعائشة وجابر وأبي حدرد الأسلمي حديث عامر بن ربیعۃ حدیث حسن صحیح۔ (امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ۲۷۹ھ، جامع ترمذی ص ۱۷۹، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی  )

عاصم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے سنا وہ اپنے والد عامر بن ربیعہ سے روایت کرتے ہیں کہ بنو فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتوں کے عوض نکاح کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے پوچھا کیا تم اپنے نفس اور مال کے بدلے میں دو جوتوں کے معاوضہ پر راضی ہو؟ اس نے کہا ہاں! تو آپ نے اس نکاح کی اجازت دے دی۔ اس باب میں حضرت عمر، حضرت ابو ہریرہ، حضرت سہل بن سعد حضرت ابو سعید، حضرت انس، حضرت عائشہ، حضرت جابر اور حضرت ابو حدرد اسلمی سے بھی حدیث مروی ہے۔ اور عامر بن ربیعہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔

یہ حدیث چونکہ متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے اس لیے حسن لغیرہ ہے۔

امام ترمذی جب کسی حدیث کو حسن صحیح کہتے ہیں تو اس کی متعدد توجیحات ہیں۔

(۱) یہ حدیث حسن لذاتہ اور صحیح لغیرہ ہے۔ 

(۲) یہ حدیث بعض سندوں کے اعتبار سے حسن اور بعض سندوں کے اعتبار سے صحیح ہے۔ 

(۳) مصنف کو اس کے صحیح یا حسن ہونے میں تردد ہے۔ 

اس کی مزید توجیحات ہم نے تذکرۃ المحدثین میں بیان کی ہیں، اس مقدمہ میں جامع ترمذی کی فنی حیثیت میں ان کا ذکر کیا ہے۔

علامہ نووی لکھتے ہیں: 

حدیث حسن بجانب استدلال میں بمنزلہ صحیح ہے، اگرچہ یہ قوت میں اس سے کم ہے، اسی وجہ سے ایک جماعت نے اس کو صحیح کی قسم میں درج کیا ہے، اور جب محدثین یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن الاسناد ہے یا صحیح الاسناد ہے تو ان کا یہ قول اس قول سے کم مرتبہ کا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے یا حسن ہے، کیونکہ کبھی سند صحیح یا حسن ہوتی ہے اور متن اس طرح نہیں ہوتا کیونکہ اس میں کوئی شذوذ یا علت ہوتی ہے، اور جب کوئی مستند حافظ اس پر اقتصار کرے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ متن کی تصحیح یا تحسین کر رہا ہے۔ اور امام ترمذی جو یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے تو اس کا مطلب ہے اس کی دو سندیں ہیں ایک کا تقاضا صحت ہے اور دوسری کا حسن۔ (علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ تقریب النواوی مع التدریب ج ۱ ص ۱۶۱-۱۶۰، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ  )

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: 

جب امام ترمذی یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اس وقت یہ اشکال ہوتا ہے کہ حدیث حسن وہ ہوتی ہے جو کئی سندوں سے مروی ہو اور غریب کی صرف ایک سند ہوتی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ امام ترمذی کے نزدیک حدیث حسن کئی سندوں سے مروی ہوتی ہے اور جمہور کے نزدیک یہ شرط نہیں ہے اور جب امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے تو یہاں ان کا حسن کہنا جمہور کی اصطلاح پر ہے۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبة الفکر ص ۳۷-۳۶، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی )

خلاصہ یہ ہے کہ اگر حدیث صحیح کی صفات میں سے صرف راوی کے ضبط میں کمی ہو اور اس کمی کی تلافی تعدد طرق روایت سے ہوجائے تو وہ حدیث صحیح لغیرہ ہے اور اگر تعدد طرق روایت سے اس کمی کی تلافی نہ ہو تو وہ حدیث حسن لذاتہ ہے اور اگر راوی میں ضبط کے علاوہ عدالت میں بھی کمی ہو اور اس کی تلافی تعدد اسانید سے ہو جائے تو یہ حدیث حسن لغیرہ ہے اور اگر یہ کمی تعدد اسانید سے دور نہ ہو تو پھر یہ حدیث ضعیف ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی کے کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حدیث حسن لذاتہ میں تعدد طرق روایت کی قید نہیں ہے

لیکن حافظ ابن الصلاح اور امام ترمذی وغیرہ سے جو حدیث حسن کی تعریف منقول ہے اس میں یہ قید ہے ۔

ملا علی قاری شرح نخبۃ الفکر کی شرح میں لکھتے ہیں:

فكل عن الحسن لا لذاته والصحيح لا لذاته انما يحصل بكثرة الطرق الا ان الراوى الصحيح ظاهر العدالة وراوى الحسن مستور العدالة۔ (ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ھ شرح شرح نخبۃ الفکر ص ۷۱، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ، ۱۳۹۷ھ)

حدیث حسن لغیرہ اور حدیث صحیح لغیرہ دونوں کا تحقق کثرتِ طرق اور اسانید سے ہوتا ہے، مگر صحیح لغیرہ کے راوی کی عدالت ظاہر ہوتی ہے اور حدیث حسن لغیرہ کی عدالت مستور ہوتی ہے ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث حسن لذاتہ کی عدالت ظاہر ہوتی ہے اس کے صرف ضبط میں کمی ہوتی ہے اور تعدد طرق سے اس کی تلافی نہیں ہوتی، حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب میں اسی کی تصریح کی ہے، اور حدیث حسن لغیرہ میں ضبط میں کمی اور عدالت مستور ہوتی ہے اور اس کی تلافی تعدد طرق سے ہو جاتی ہے ۔

حدیث مردود کا بیان

حدیث مردود وہ حدیث ہے جس میں خبر کا صدق راجح نہ ہو، اور اس کی وجہ خبرِ مقبول کی ایک یا ایک سے زائد شرائط کا فقدان ہے ۔ علماء اصولِ حدیث نے خبرِ مردود کی چالیس سے زیادہ اقسام بیان کی ہیں اور ان میں سے اکثر کا مستقل نام رکھا ہے، اور بعض اقسام کا کوئی مستقل نام نہیں ہے ان کو وہ صرف ایک عام نام “ضعیف” کے ساتھ موسوم کرتے ہیں ۔

حدیث کے مردود ہونے کے اسباب تو بہت ہیں لیکن عام سبب دو ہیں (۱) سند سے کسی راوی کا سقوط ۔ (ب) راوی میں طعن ، اور ان دو سببوں کے تحت متعدد اقسام ہیں، ہم ان شاء اللہ عنقریب ان پر تفصیل سے بحث کریں۔

اور سب سے پہلے ہم حدیثِ ضعیف سے ابتداء کرتے ہیں، فنقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق ۔