٥٢٦ – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنْ زُرَيْعٍ عَن سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِي، عَنِ ابْنِ مسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِن امْرَأَةٍ قَبْلَةٌ، فَاتَى النَّبِی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّوَجَل (واقمِ الصَّلوةَ طَرَفَي النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِن الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ (ھور:١١٤) فَقَالَ الرَّجُل يَارَسُولَ اللَّهِ الَى هَذَا؟ قَالَ لِجَمِيع أُمتى كُلِهِم۔طرف الحديث : 4687

صحیح مسلم : 2763،  الرقم المسلسل : ۶۸۲۸ سنن ابن ماجه: 4254 السنن الکبری : 11247، سنن ترمذی : 3114، مصنف عبد الرزاق :۱۳۸۳۰ صحیح ابن خزیمہ: ۱۳۹۸ صحیح ابن حبان : ۱۷۲۹ المعجم الكبير: ۱۰۵۶۰ سنن بیہقی ج ۸ ص 241، اسباب النزول للواحدی ص 269 شرح السنته: 346 مسند احمدج ۱ ص ۸ طبع قدیم مسند احمد : ۳۶۵۳- ج 6 ص ۱۶۵ مؤسسة الرسالة بيروت جامع المسانيد لابن الجوزی : ۴۰۷۵ مكتبة الرشد ریاضی 1426ھ)

ْ امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث بیان کی از سلیمان التیمی از ابی عثمان النهدی از حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ وه بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک عورت کا بوسا لے لیا، پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اس کی خبر دی’ تب الله عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: اور دن کی دونوں طرفوں میں نماز پڑھیے اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی بے شک نیکیاں بُرائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ (ھود : ۱۱۴) اس شخص نے پوچھا: یارسول اللہ ! آیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے ( یا تمام امت کے لیے ہے؟) آپ نے فرمایا: میری تمام امت کے لیے ہے۔

حدیث مذکور کے رجال

(۱) قتیبہ بن سعید

(۲) یزید بن زریع

(۳) سلیمان بن طرخان ابوالمعتمر

(۴) ابوعثمان عبدالرحمان بن مل النهدی، یہ نهد بن زید بن لیث بن اسلم کی طرف نسبت ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسلام لے آئے تھے لیکن آپ سے ملاقات نہیں ہوئی، لیکن انہوں نے آپ کی طرف صدقات روانہ کیے اور تقریباً ۱۳۰ سال زندہ رہے اور ۹۵ھ میں فوت ہوئے، یہ نماز پڑھتے پڑھتے بے ہوش ہوجاتے تھے

(۵) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله  عنہ ۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص ۱۵)

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ حسنات سے مراد پانچ نمازیں ہیں کہ جب کوئی شخص پانچ نمازیں پڑھے گا تو ان سے اس کے گناہ مٹ جائیں گے بہ شرطیکہ وہ کبیرہ گناہوں سے مجتنب رہے۔

حدیث مذکور کی متعدد روایات

اس حدیث میں جس شخص کا واقعہ ہے، اس کا نام ابو الیسر تھا، اس کے متعلق متعد دروایات ہیں:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آکر کہا: میں مدینہ کے آخر میں ایک عورت سے لپٹ گیا، میں نے اس سے خوب بوس و کنار کیا، بس اس میں دخول نہیں کیا، اب میں آپ کے سامنے حاضر ہوں’ آپ جو چاہیں میرے متعلق فیصلہ فرمائیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اللہ تعالیٰ نے تجھے پر پردہ رکھ لیا تھا، کاش! تو بھی اپنا پردہ رکھتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا وہ شخص اٹھ کر جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیج کر اسے بلوایا اور اسی پر یہ آیت تلاوت فرمائی : اور دن کی دونوں طرفوں میں نماز پڑھیے اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں ۔ (ھود: ۱۱۴)

لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا یہ حکم اس کے ساتھ مخصوص ہے؟ آپ نے فرمایا: بلکہ سب کے لیے ہے۔ (صحیح مسلم : ۲۷۶۳ الرقم المسلسل : ۶۸۷۱ سنن ابوداؤد : ۴۴۶۸ سنن ترمذی : ۳۱۱۲ مسند احمد ج اص ۴۴۵)

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر کہا: یارسول اللہ ! میں نے ایسا کام کیا ہے جو مستوجب حد ہے پس آپ مجھ پر حد قائم کیجئے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس نے پھر دوبارہ عرض کیا اور کہا: یارسول اللہ ! میں نے ایسا کام کیا ہے جو مستوجب حد ہے، آپ مجھ پر حد قائم کیجئے آپ خاموش رہے اور نماز کی اقامت کہی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ شخص پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ حضرت ابوامامہ کہتے ہیں کہ میں بھی دیکھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو کیا جواب دیتے ہیں، وہ شخص پھر آپ سے ملا اور کہا : یارسول اللہ ! میں نے ایک ایسا کام کیا ہے جو مستوجب حد ہے’ سو آپ مجھے پر حد قائم کیجئے، حضرت ابوامامہ بیان کرتے ہیں کہ پس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ بتاؤ جب تم اپنے گھر سے نکلے تو کیا تم نے اچھی طرح وضوء کیا تھا اس نے کہا: کیوں نہیں ! یارسول اللہ ! پھر تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھ لی؟ اس نے کہا: جی ہاں ! یارسول اللہ ! پھر اس سے رسول اللہ نے فرمایا: پس بے شک اللہ نے تمہارے گناہ کو معاف فرمادیا۔ (صحیح مسلم : ۲۷۶۵ الرقم المسلسل : ۶۸۷۴ سنن ابوداؤد :۴۳۸۱، السنن الکبری :7315)

اس شخص نے جو کہا تھا: میں نے ایسا کام کیا ہے جو مستوجب حد ہے اس سے مراد حد کا معروف معنی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ہے: بہت بڑا گناہ ۔

هود : ۱۱۴ کی تفسیر

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

سوره هود : ۱۱۴ میں جو فرمایا ہے: دن کی دو طرفوں میں نماز پڑھیئے، اس سے مراد فجر اور عشاء کی نماز ہے مجاہد اور ضحاک نے اسی طرح تفسیر کی ہے اور حسن بصری اور قتادہ نے کہا ہے کہ اس سے مراد فجر اور عصر کی نماز ہے اور” رات کی کئی ساعتوں میں” اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے اور فرمایا: نیکیاں گناہوں کو مٹادیتی ہیں، ان نیکیوں سے مراد پانچ نمازیں ہیں یہ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے اور حسن بصری، قتادہ سعید بن المسیب وغیرھم کا بھی یہی قول ہے۔

یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ آدمی کسی عورت سے صرف بوس و کنار وغیرہ کرے اور اس سے جماع نہ کرے تو یہ ان صغیرہ گناہوں میں سے ہے، جن کو اللہ تعالیٰ کبائر سے اجتناب کرنے کی وجہ سے معاف فرما دیتا ہے اور انسان صغیرہ گناہ کرے اور کبیرہ سے باز رہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے:

الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَنَيْرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا

اللهم إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ. (النجم:۳۲)

جولوگ کبیر و گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں، سوا صغیرہ گناہوں کے (تو) بے شک آپ کا رب بہت وسیع مغفرت والا ہے۔

رہا گناہ کبیرہ کا حکم تو اہل سنت و جماعت کا اس پر اجماع ہے کہ اس میں ضروری ہے کہ وہ نادم ہو اور توبہ کرے اور اس کی ہر ممکن تلافی کرے اور یہ عزم کرے کہ وہ آئندہ اس کا ارتکاب نہیں کرے گا تو پھر پانچ نمازیں اس کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہیں جب کہ وہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں ان کے درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں بہ شرطیکہ وہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔

میں کہتا ہوں کہ حضرت عمران بن حصین کی روایت تو مجھے نہیں ملی، البتہ اس سلسلہ میں دیگر صحابہ سے مروی حسب ذیل احادیث ہیں:

پانچ نمازوں کے پڑھنے سے ان کے درمیان کے گناہوں کی معافی کے متعلق احادیث

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اس طرح پورا وضوء کیا،  جس طرح اللہ عزوجل نے حکم دیا ہے تو فرض نمازیں ان کے درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہوجائیں گی۔(مسند ابوداؤد الطیالسی: ۷۵ مسند عبد بن حمید : ۵۸ صحیح ابن حبان : ۱۰۴۳ صحیح مسلم :231،  شرح السنته : ۱۵۴ مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص 7 ‘مسند البزار: ۴۰۷ مسند احمد ج ا ص 57 طبع قدیم، مسند احمد : 406 – ج ا ص ۴۶۷ مؤسسة الرسالة بیروت )

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ نمازیں ان کے درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں ۔ الحدیث (مجمع الزوائد ج ا ص ۲۹۹)

حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پانچ نمازیں جو حقائق ہیں ان کے درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں جب کہ وہ شخص کبائر سے مجتنب ہو۔ (مسند ابو یعلی : ۵۰۹۰)

حضرت ابو مالک یعنی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نمازیں ان کے درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: نیکیاں گناہوں کو مٹادیتی ہیں ۔ (ھود: ۱۱۴)

العجم الكبير: 3460، حافظ الہیثمی نے کہا: اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاشی ہے،  ابوحاتم نے کہا: اس کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے اور یہ اس کے والد سے روایت ہے اور اس کے باقی راویوں کی توثیق کی گئی ہے مجمع الزوائد: ج اص 299

حضرت ابو امامہ باھلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ فرض نماز اس سے پہلی نماز کے بعد کے گناہوں کا کفارہ ہے اور جمعہ اس سے پہلے جمعہ کے بعد کے گناہوں کا کفارہ ہے اور رمضان کا مہینہ اس سے پہلے رمضان کے مہینہ کے بعد کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج اس سے پہلے حج کے بعد کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ الحدیث المعجم الکبیر : 8016، حافظ الہیثمی نے کہا: اس کی سند میں ایک راوی المفضل بن صدقہ ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔ مجمع الزوائد ج اص ۲۹۹)

مؤخر الذکر دونوں حدیثوں کی سند ضعیف ہے مگر فضائل اعمال میں ضعیف السند احادیث معتبر ہوتی ہیں۔

ھود: ۱۱۴ میں’ الحسنات“ سے پانچ نمازیں مراد لینا راجح ہے

عامہ ابن بطال لکھتے ہیں: مجاہد نے کہا: ھود: ۱۱۴ میں ” الحَسَنتِ ” سے مراد یہ کہنا ہے: ” سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر”۔

امام طبری نے کہا: ان مفسرین کا قول صحیح ہے جنہوں نے کہا کہ” الحسنات “ سے مراد پانچ نمازیں ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث ثابت ہے:

آپ نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال اس دریا کی طرح ہے جس میں کوئی شخص ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے تو اس کے جسم پر کون سا میل باقی رہے گا۔ (مسند احمد ج ۵ ص 437-438 المعجم الاوسط: ۴۹ المعجم الکبیر: ۶۱۵۱)

نمازیں پڑھنے پر عظیم ثواب کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے جب کہ باقی نیک اعمال پر اس قسم کی بشارت نہیں ہے، اس لیے “الحسنات “ سے پانچ نمازوں کو مراد لینا راجح ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۲۱۰-۲۰۹ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1424ھ)

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۸۷۳ – ج ۷ ص ۵۲۴ پر مذکور ہے اس کی شرح میں صرف حد کی توجیہ کی گئی ہے۔