۵۵۰ – حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي، فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، وَبَعْضُ الْعَوَالِي مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَمْيَالٍ أَوْ نَحْوِهِ.

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت عصر کی نماز پڑھتے تھے جب سورج بلند اور چمکتا ہوا ہوتا تھا، پس جانے والا عوالی کی طرف جاتا، پھر ان کے پاس جاتا اور سورج بلند ہوتا تھا اور بعض عوالی مدینہ سے چار میل یا اس جتنے فاصلہ پر تھیں۔

اس حدیث کی شرح صحیح البخاری: 548 میں گزر چکی ہے۔

عوالی کا معنی

“العوالی” “عالیہ” کی جمع ہے، نجد کی سمت پر مدینہ کے گرد بستیوں کو اعوالی کہتے ہیں اور جو بستیاں تہامہ کی سمت ہوں ان کو “سافلہ” کہتے ہیں۔