۲۴ – بَابُ النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ لمَنْ غُلِبَ

جس پر نیند کا غلبہ ہو اس کے لیے عشاء سے پہلے سونے کا جواز

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جس پر نیند کا غلبہ ہو اس کے لیے عشاء سے پہلے سونے کا کیا حکم ہے۔

۵۶۹ – حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُوبكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ صَالِح بن کیسانٌ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ الصَّلَاةَ، نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ فَقَالَ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرُكُمْ. قَالَ وَلَا تصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِالْمَدِينَةِ، وَكَانُوا يُصَلُّونَ الْعِشَاءَ فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ.

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ایوب بن سلیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابوبکر نے حدیث بیان کی از سلیمان، انہوں نے کہا کہ صالح بن کیسان نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی از عروہ از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا انہوں نے بیان کیا کہ (ایک رات) رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں تاخیر کر دی حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے کہا: نماز (کے لیے تشریف لائیے) عورتیں اور بچے سوگئے، پھر آپ باہر نکلے اور فرمایا: تمہارے سوا تمام روئے زمین پر اس نماز کا کوئی انتظار نہیں کر رہا تھا اور ان دنوں مدینہ کے سوا اور کہیں نماز نہیں پڑھی جاتی تھی اور وہ شفق ( کی سفیدی) غائب ہونے کے بعد تہائی رات کے اول حصہ تک نماز کو مؤخر کرتے تھے۔

اس حدیث کی شرح صحیح البخاری: ۵۶۶ میں گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: عشاء کی نماز کی فضیلت۔