دیگر صحابہ کرام کے حدیثی مجموعے

دیگر صحابہ کرام کے حدیثی مجموعے

اسی طرح حضور کے خادم خاص حضرت ابورافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایتیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ذریعہ جمع ہوچکی تھیں۔( الطبقات الکبری لابن سعد ۲/۱۲۳)

حضرت سمرہ بن جندب کی روایتیں بھی انکی زندگی میں جمع ہوئیں اوریہ مجموعہ انکے خاندان میں ایک عرصہ تک محفوظ رہا ، انکے پوتے حبیب نے اسے دیکھ کر روایتیں کیں ۔(تہذیب التہذیب ۴/۱۹۸)

حضرت سعد بن عبادہ انصاری فن کتابت میں مہارت کی بنیاد پر مردکامل سمجھے جاتے تھے ،آپ نے بھی ایک صحیفہ احادیث مرتب کیا تھا ، آپکے صاحبزادے نے ان احادیث کو روایت کیا ۔(الجامع للترمذی، باب الیمین مع الشاہد، ۱/۱۶۰)

حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس بھی ایک مجموعہ تھا ،ایک مرتبہ آپ نے اپنے کاتب وراد ثقفی سے حضرت امیر معاویہ کو ایک حدیث لکھواکر بھیجی تھی۔( الجامع للبخاری، باب العساکر بعد الصلوۃ، ۱/۱۱۷)

حضرت براء بن عازب جلیل القدر صحابی ہیں ، انکی روایتیں انکی حیات ہی میں تحریری شکل میں مرتب ہوگئی تھیں ،انکے شاگردوں کے شوق کتابت کا یہ عالم تھا کہ کاغذ موجود نہ ہوتا تو ہتھیلیوں پر لکھ لیتے تھے۔(السنن للدارمی، ۶۶)

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ایک خاص صحابی ہیں ،انہوں نے بھی حدیثیں کتابی شکل میں جمع کی تھیں ،سالم ابو النضر کا بیان ہے کہ میں نے آپکی تحریر کردہ ایک حدیث پڑھی ہے۔( الجامع للبخاری، باب الصبر عند القتال، ۱/۳۹۷)

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کتابت حدیث سے اتنی دلچسپی تھی کہ اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کو نصیحت کرتے تھے کہ علم حاصل کرو ،کیونکہ آج تم قوم میں چھوٹے ہو لیکن کل بڑے ہوگے توقوم کو تمہاری ضرورت ہوگی ،جویاد نہ کرسکے تو اسے چاہیئے کہ وہ لکھ لیا کرے۔( جامع بیان العلم، ۴۰)

حضرت امیر معاویہ ،حضرت ثوبان اور حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مرویات انکے شاگرد خالد بن معدان کے ذریعہ تحریری شکل میں مدون ہوئیں ،انہوں نے ستر صحابہ کرام سے ملاقات کی تھی ،تحریر وتدوین کی جانب خاص توجہ کے باعث انکے پاس ایک باقاعدہ کتاب مرتب ہوگئی تھی۔( تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۲/۱۱۹)

جن صحابہ کرام کی تحریری کوششوں کا ذکر ہم نے کیا ان میں بالخصوص وہ حضرات بھی ہیں جنکو مکثرین صحابہ میں شمارکیاجاتاہے یعنی جن سے ایک ہزارسے زائد احادیث روایت کی گئی

ہیں ۔ انکی تفصیل یوں بیان کی جاتی ہے ۔

۱۔ حضرت ابو ہریرہ ۵۳۷۴

۲۔ حضرت عبداللہ بن عمر ۲۶۳۰

۳۔ حضرت انس بن مالک ۲۲۸۶

۴۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ۲۲۱۰

۵۔ حضرت عبداللہ بن عباس ۱۶۶۰

۶۔ حضرت جابر بن عبداللہ ۱۵۴۰

۷۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۱۱۷۰

انکے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تعداد حدیث کے بارے میں آپ خود حضرت ابو ہریرہ کا فرمان پڑھ چکے کہ مجھ سے زیادہ احادیث حضرت ابن عمرو کی ہیں ۔اس طرح ان حضرات کی مرویات کی تعداد تیئیس ہزار سے زیادہ ہوگی ۔ اور بعض محدثین نے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھی مکثرین میں شمار کیا ہے تو کم از کم دوہزار کے مزید اضافہ سے یہ تعداد پچیس ہزار سے بھی زائد ہوجائیگی ۔اور باقی صحابہ کرام کی روایات علیحدہ رہیں ۔

ناظرین اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عہد صحابہ میں تدوین حدیث کس منزل میں تھی ۔لہذا منکرین کا یہ کہنا کہ احادیث دوسوسال کے بعد ہی صحیفہ قرطاس پر ثبت ہوئیں ،اس سے پہلے فقط حافظوں پرموقوف تھیں یہ حقیقت سے کتنی بعید بات ہے ۔

وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 86

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞

ترجمہ:

اور جب تم کو کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ کے ساتھ سلام کرو یا اسی لفظ کو لوٹا دو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب تم کو کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ کے ساتھ سلام کرو یا اسی لفظ کو لوٹا دو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ (النساء : ٨٦) 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا تھا اور جہاد کے احکام میں سے یہ بھی ہے کہ جب فریق مخالف صلح کرنے پر تیار ہو تو تم بھی اس سے صلح کرلو ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وان جنحوا للسلم فاجنح لھا “۔ (الانفال : ٦١) 

ترجمہ : اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوں۔ 

اسی طرح جب کوئی شخص سلام کرے تو اس کے سلام کا عمدہ طریقہ سے جواب دینا چاہیے ورنہ کم از کم اسی لفظ سے سلام کا جواب دیا جائے۔ مثلا السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہے اور اسلام علیکم ورحمۃ اللہ کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔

اسلام میں سلام کے مقرر کردہ طریقہ کی افضلیت : 

عیسائیوں کے سلام کا طریقہ ہے منہ پر ہاتھ رکھا جائے (آج کل پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہیں) یہودی ہاتھ سے اشارہ کرتے ہیں ‘ مجوسی جھک کر تعظیم کرتے ہیں عرب کہتے ہیں حیاک اللہ (اللہ تمہیں زندہ رکھے) اور مسلمانوں کا سلام یہ ہے کہ کہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام طریقوں سے افضل ہے کیونکہ سلام کرنے والا مخاطب کو یہ دعا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آفتوں ‘ بلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ رکھے ‘ نیز جب کوئی شخص کسی کو سلام کرتے ہے تو وہ اس کو ضرر اور خوف سے مامون اور محفوظ رہنے کی بشارت دیتا ہے ‘ مکمل سلام یہ ہے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ‘ اور تشہد میں بھی اتنا ہی سلام ہے ‘ جب کوئی شخص فقط السلام علیکم کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہنا چاہیے اور اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے ‘ اور بعض روایات میں ومغفرتہ کا اضافہ بھی ہے۔ (سنن ابوداؤد : ٥١٩٦) سلام کی ابتداء کرنے والا پہلے لفظ السلام کہتا ہے اور جواب دینے والا وعلیکم السلام کہہ کر بعد میں لفظ السلام کہتا ہے ‘ اس میں نکتہ یہ ہے کہ سلام اللہ کا نام ہے اور مجلس کی ابتداء بھی اللہ کے نام سے ہو اور انتہاء بھی اللہ کے نام پر ہو ‘ اور ابتداء بھی سلامتی کی دعا سے ہو اور انتہاء بھی سلامتی کی دعا پر ہو۔ 

مصافحہ اور معانقہ کی فضیلت اور اجر وثواب کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اسلام کا کون سا وصف سب سے بہتر ہے آپ نے فرمایا : تم کھانا کھلاؤ اور ہر (مسلمان) کو سلام کرو خواہ تم اس کو پہچانتے ہو یا نہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٤) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک تم ایمان نہیں لاؤ گے جنت میں داخل نہیں ہو گے ‘ اور جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے تمہارا ایمان (کامل) نہیں ہوگا ‘ کیا میں تم کو ایسی چیزنہ بتاؤں جس کے کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرو ؟ ایک دوسرے کو بکثرت سلام کیا کرو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٥٤‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٣‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ٢٠٠٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٨٧٤٥ )

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٤‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٩١١) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے اگر ہم کسی درخت کی وجہ سے جدا ہو کر پھر مل جاتے تو ایک دوسرے کو سلام کرتے۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٧٩٨٣) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمران بن الحصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : السلام علیکم آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دس (نیکیاں) ‘ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ آپ نے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا پھر آپ نے فرمایا (تیس) نیکیاں ‘ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ‘ امام بیہقی نے بھی اس کو حسن کہا ہے ‘ امام ابوداؤد نے سہل سے مرفوعا روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے : پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ، آپ نے فرمایا چالیس (نیکیاں) (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٨‘ کتاب الآداب للبیہقی ‘ رقم الحدیث : ٢٨٠‘ الادب المفرد “ رقم الحدیث : ٩٨٦‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣٩) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بھی دو مسلمان ملاقات کے بعد مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے الگ ہونے سے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢١٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٣٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٣‘ کشف الاستار “ رقم الحدیث : ٢٠٠٤) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب جب ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے آتے تو معانقہ کرتے۔ حافظ منذری نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (الترغیب والترہیب ج ٣ ص ٤٢٣‘ المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٩٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حماد بن زید نے ابن المبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ 

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تشہد کی تعلیم دی درآں حالیکہ میری دونوں ہتھیلیاں آپ کی دونوں ہتھیلیوں میں تھیں (صحیح البخاری کتاب الاستیذان ‘ باب ٢٨‘ الاخذ بالیدین ‘ رقم الحدیث : ٦٢٦٥) 

حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے ‘ اگر دونوں کے درمیان کوئی درخت یا دیوار یا پتھر حائل ہوجائے اور پھر ملاقات ہو تو دوبارہ سلام کرے (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٠) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو شخص سلام کرنے میں ابتداء کرے وہ تکبر سے بری ہوجاتا ہے۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٨٧٨٦) 

کن لوگوں کو سلام کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سوار ‘ پیدل کو سلام کرے اور پیدل بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٣٣٢‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٠‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٥١٩٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٧٢١٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٩٩٥‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٩٤٤٥) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا آپ کا بچوں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان کو سلام کیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٢٦٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٧٢٠٥‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٠‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٥٩‘ حلیۃ الاولیاء : ج ٦ ص ٢٩١) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھوٹا بڑے کو سلام کرے ‘ اور گزرنے والا بیٹھے ہوئے پر اور قلیل ‘ کثیر پر (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٢٣١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧١٣‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٨) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

اسماء بنت یزید (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہم عورتوں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ہم کو سلام کیا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٤‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠١‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٥٧‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٦) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے میرے بیٹے جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو سلام کرو اس سے تم پر برکت ہوگی اور تمہارے گھر والوں پر برکت ہوگی۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٧٠٧) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کلام سے پہلے سلام کرو ‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث منکر ہے (سنن ترمذی : ٢٧٩٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم کو اہل کتاب سلام کریں تو تم کہو وعلیکم (صحیح مسلم : ٢١٦٣‘ سنن ابوداؤد ‘ ٥٢٠٧) 

جن مواقع پر سلام نہیں کرنا چاہیے : 

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

(١) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے یہودی کو سلام کی ابتداء نہ کرو ‘ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے اس کو خط میں بھی سلام نہ کہو ‘ امام ابویوسف نے کہا نہ ان کو سلام کرو نہ ان سے مصافحہ کرو ‘ اور جب تم ان پر داخل ہو تو کہو ” السلام علی من اتبع الھدی “ اور بعض علماء نے کہا ہے کہ ضرورت کے وقت ان کو ابتداء سلام کرنا جائز ہے (مثلاکسی کا افسر کافر یابدمذہب ہو تو اس کو اس کے دائیں بائیں فرشتوں کی نیت کرکے سلام کرے) اور جب وہ سلام کریں تو وعلیک کہنا چاہیے حسن نے کہا ہے کہ کافر کو وعلیکم السلام کہنا تو جائز ہے لیکن وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ مغفرت کی دعا ہے اور کافر کے لیے مغفرت کی دعا جائز نہیں ‘ شعبی نے ایک نصرانی کے جواب میں کہا وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ ‘ ان پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا کیا یہ اللہ کی رحمت میں جی نہیں رہا ! 

(٢) جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو تو حاضرین کو سلام نہ کرے کیونکہ لوگ امام کا خطبہ سننے میں مشغول ہیں۔ 

(٣) اگر حمام میں لوگ برہنہ نہا رہے ہوں تو ان کو سلام نہ کرے اور اگر ازار باندھ کر نہا رہے ہوں تو ان کو سلام کرسکتا ہے۔ 

(٤) جو شخص قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہو ‘ روایت حدیث کر رہا ہو ‘ یا مذاکرہ علم میں مشغول ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٥) جو شخص اذان اور اقامت میں مشغول ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٦) امام ابو یوسف نے کہا جو شخص چوسر یا شطرنج کھیل رہا ہو یا کبوتر اڑا رہا ہو ‘ یا کسی معصیت میں مبتلا ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٧) جو شخص قضاء حاجت میں مشغول ہوا اس کو سلام نہ کرے۔ 

(٨) جو شخص گھر میں داخل ہو تو اپنی بیوی کو سلام کرے اگر اس ساتھ کوئی اجنبی عورت ہو تو اس کو سلام نہ کرے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٨٠)

سلام کرنا سنت ہے اور اس کا جواب دینا واجب ہے ‘ اگر جماعت مسلمین کو سلام کیا تو ہر ایک پر جواب دینا فرض کفایہ ہے لیکن جب کسی ایک نے جواب دے دیا تو باقیوں سے جواب دینے کا فرض ساقط ہوجائے گا ‘ فساق اور فجار کو پہلے سلام نہیں کرنا چاہیے اگر کوئی اجنبی عورت کسی مرد کو سلام کرے تو اگر بوڑھی ہو تو اس کا جواب دینا چاہیے اور اگر جوان ہو تو اس کے سلام کا جواب نہ دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 86

حضرت عبداللہ بن مسعود کی مرویات

حضرت عبداللہ بن مسعود کی مرویات

آپکی عظمت شان اس سے ظاہروباہر ہے کہ آپ کو بارگاہ رسالت میں خاص قرب حاصل تھا ،صاحب النعل والوسادۃ آپ کا لقب مشہور تھا کہ آپ کو سفر وحضر میں حضور کی کفش برداری کا اعزاز خاص طور پر نصیب ہوا۔

آپکی روایتیں آپکے مشہو رشاگرد حضرت علقمہ کے ذریعہ محفوظ ہوئیں اور ان سب کولکھا گیا ، بعض لوگوں نے یہ طریقہ بھی اپنایا کہ آپ سے حدیثیں سنکرجاتے اورگھر جاکر وہ احادیث قلمبند کرلیتے تھے ۔وجہ اسکی یہ تھی کہ آپ ابتدائً کتابت کے مخالف تھے ۔(السنن للدارمی، ۶۷ ٭ جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۴۰)

🌴🌹 عادتیں 3 اور اجر عظیم🌹🌴

🌴🌹 عادتیں 3 اور اجر عظیم🌹🌴

حضرت سیدنا عبدالله بن مسعود رضي الله عنه کا قول ہے :

رسول الله صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے فرمایا

*🌷أَلَا أُخْبِرُكم بمَن يَحْرُمُ على النَّارِ، وبمَن تَحْرُمُ عليه النَّارُ؟ على كلِّ قريبٍ هيِّنٍ سهْلٍ🌷*

📗 ترمذی اورأحمد

فقیر خالد محمود عرض کرتا ہے کہ حدیث پاک کے ابتدائیہ پر قربان ۔

اللہ تبارک و تعالی کے رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت و شفقت کا انتہائی انداز اختیار فرمایا ۔

کیا میں تمہیں بتاءوں نہیں

اس قدر نرم ، دھیما ، پیار بھرا لہجہ اختیار فرما کر بات کرے محبوب رب العالمین تو پھر صد ہزار حیف ہے اس پر جو ان پر عمل نہ کرے ، ان کو اپنے کردار کا حصہ نہ بنائے ۔ پھر خصوصا جب کہ نہ زیادہ مشکل ہوں اور نہ ان پر خرچ آئے ۔

ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی آئے چوکھا۔

اس قدر اظہار شفقت سے متوجہ کر کے فرمایا

جو جہنم کی آگ پر حرام کر دیا گیا ہے اور جس پر جہنم کی آگ حرام کر دی گئی ۔

فقیر خالد محمود آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہے کہ فرمایا

حرام کر دیا گیا ہے، حرام کر دی گئی ہے، یہ نہیں فرمایا کہ ہو جائے گی بلکہ پختہ اور ٹھوس انداز میں فرمایا کہ حرام ہو چکا ہے ۔ پھر اس بات کو صرف ایک ہی بار نہیں فرمایا بلکہ جملہ بدل کر دو بار فرمایا ۔ ان کو جہنم پر اور جہنم کو ان پر قطعا حرام ہو جانا بتایا

تو بات یہ بنی کہ جہنم میں جانا تو دور کی بات ہے ، جہنم کے قریب تک کا بھی کوئی امکان نہیں ۔

*کن پر :

*على كُلِّ قَريبٍ*،

دوستو !

اللہ تبارک و تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بشارت کو کتنا عام فرما دیا ۔

كُلِّ _ یعنی ہر کوئی ، امیر غریب چھوٹا بڑا شاہ گدا کالا گورا کوئی بھی ہو

ہو بس !

(1) *قَريبٍ* : لوگوں کے قریب، ان سے دور نہ بھاگنے والا ۔ لوگ اس کے ساتھ آسانی سے مل سکیں ۔

یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اعزہ و احباب و اقارب اس سے بے شک دور ہوتے رہیں ۔ یہ قریب رہتا ہے ۔

(2) *هَيِّنٍ*، سكون و وَقار اور نرمی کے ساتھ لوگوں کے ساتھ برتاؤ رکھنے والا ۔

(3) *سَهْلٍ*: معاملات اور اخلاق میں سہولت والا ، لوگوں میں آسانیاں بانٹنے والا ۔

🌻 فقیر خالد محمود اس معاشرے کا کمزور ترین فرد ہے اور بخوبی آگاہ کہ یہ تینوں عادات اپنانا اتنا آسان نہیں خصوصا اس عہد عجیب و پرآشوب میں

لیکن آپ کو یقین دلاتا ہے کہ ناممکن بھی نہیں ۔ مرد تو ہوتا ہی وہی ہے جو مشکلات سے کھیلے ۔

بدی را بدی سھل باشد جزا

اگر مردی احسن إلى من أساء.

حضرت شیخ سعدی عليه الرحمة کا شعر جو اپنے والد مرحوم و مغفور سے بچپنے میں بھی اکثر سنا ۔

مفتی خالد محمود

درس 030: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 030: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَالْمُعْتَبَرُ فِي إقَامَةِ هَذِهِ السُّنَّةِ عِنْدَنَا هُوَ الْإِنْقَاءُ دُونَ الْعَدَدِ، فَإِنْ حَصَلَ بِحَجَرٍ وَاحِدٍ كَفَاهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْصُلْ بِالثَّلَاثِ زَادَ عَلَيْهِ

اور ہم احناف کے نزدیک اس سنت پر عمل کرنے کے لئے صفائی کا اعتبار کیا جائے گا نہ کہ ڈھیلوں کی تعداد کا۔۔ تو اگر ایک ہی ڈھیلے سے صفائی ہوگئی تو کافی ہے اور اگر تین ڈھیلوں سے بھی صفائی نہ ہوسکے تو زیادہ ڈھیلے لینا ہوں گے۔

وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ الْعَدَدُ مَعَ الْإِنْقَاءِ شَرْطٌ، حَتَّى لَوْ حَصَلَ الْإِنْقَاءُ بِمَا دُونِ الثَّلَاثِ كَمَّلَ الثَّلَاثَ، وَلَوْ تَرَكَ لَمْ يُجْزِهِ.

اور امام شافعی کے نزدیک صفائی تو شرط ہے مگر اس کے ساتھ ڈھیلوں کی تعداد بھی شرط ہے، لہذا اگر تین سے کم ڈھیلوں میں صفائی ہوگئی پھر بھی تین کا عدد پورا کرنا ضروری ہوگا، اگر عدد پورا نہ کیا تو استنجاء کی سنت پوری نہیں ہوگی۔

وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ بِمَا رَوَيْنَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «مَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ» أَمْرٌ بِالْإِيتَارِ، وَمُطْلَقُ الْأَمْرِ لِلْوُجُوبِ.

امام شافعی کی دلیل وہ روایت ہے جو ہم (درس نمبر 26 میں) بیان کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: جو ڈھیلے سے استنجاء کرے اسے چاہئے کہ وہ طاق عدد (Odd Number) میں استعمال کرے۔ اس حدیث میں طاق عدد استعمال کرنے کا حکم ہے، اور مطلق (یعنی بغیر کسی کنڈیشن کے) حکم واجب کو ثابت کرتا ہے۔

(وَلَنَا) مَا رَوَيْنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَحْجَارَ الِاسْتِنْجَاءِ فَأَتَاهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَرَمَى الرَّوْثَةَ، وَلَمْ يَسْأَلْهُ حَجَرًا ثَالِثًا،وَلَوْ كَانَ الْعَدَدُ فِيهِ شَرْطًا لَسَأَلَهُ إذْ لَا يُظَنُّ بِهِ تَرْكُ الْوَاجِبِ

اور ہماری دلیل عبد اللہ بن مسعود کی وہ حدیث ہے جسے ہم (درس نمبر 28 میں) بیان کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عبد اللہ بن مسعود سے استنجاء کے ڈھیلے طلب فرمائے تو آپ دو ڈھیلے اور ایک لید کا ٹکڑا لے آئے، تو حضور ﷺ نے لید کا ٹکڑا پھینک دیا اور تیسرا پتھر طلب نہیں فرمایا۔

اگر استنجاء میں تعداد کا لحاظ رکھنا شرط ہوتا تو حضور ﷺ ان سے تیسرا ڈھیلا ضرور طلب فرماتے، اور حضور ﷺ سے یہ گمان نہیں کیا جاسکتا ہے کہ آپ واجب کو ترک کریں۔

وَلِأَنَّ الْغَرَضَ مِنْهُ هُوَ التَّطْهِيرُ وَقَدْ حَصَلَ بِالْوَاحِدِ، وَلَا يَجُوزُ تَنْجِيسُ الطَّاهِرِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةِ.

نیز ڈھیلے کے استعمال کا اصل مقصد طہارت حاصل کرنا ہے اور جب مقصد ایک ہی ڈھیلے سے حاصل ہوجائے تو بلاضرورت پاک شے کو ناپاک کرنا جائز نہیں ہے۔

(وَأَمَّا) الْحَدِيثُ فَحُجَّةٌ عَلَيْهِ

اور امام شافعی کی پیش کردہ حدیث انہیں کے خلاف حجت ہے۔

لِأَنَّ أَقَلَّ الْإِيتَارِ مَرَّةً وَاحِدَةً، عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِيتَارِ لَيْسَ لِعَيْنِهِ بَلْ لِحُصُولِ الطَّهَارَةِ فَإِذَا حَصَلَتْ بِمَا دُونَ الثَّلَاثِ فَقَدْ حَصَلَ الْمَقْصُودُ فَيَنْتَهِي حُكْمُ الْأَمْرِوَكَذَا اسْتَنْجَى بِحَجَرٍ وَاحِدٍ لَهُ ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ؛ لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فِي تَحْصِيلِ مَعْنَى الطَّهَارَةِ.

اسلئے کہ طاق عدد کم سے کم ایک ہوتا ہے اور حدیث میں طاق عدد کا حکم طہارت حاصل کرنے کے لئے ہے نہ کہ طاق کی گنتی پوری کرنے کے لئے، لہذا اگر تین سے کم میں بھی طہارت حاصل ہوگئی تو مقصود حاصل ہوگیا اور حضور ﷺ کے حکم کی تعمیل بھی ہوگئی۔

اسی طرح اگرکسی نے ایک ایسے ڈھیلے سے استنجاء کیا جس کے تین کنارے (Three Sides) تھےتو طہارت حاصل ہوجائے گی، اس لئے کہ وہ ایک ڈھیلا تین ڈھیلوں کے برابر شمار ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

استنجاء کے لئے کن چیزوں کا استعمال جائز ہے کن کا استعمال منع ہے، اس پر بحث ہوچکی۔

اب علامہ کاسانی ایک نئی بحث کا آغاز کررہے ہیں اور اسکی وجہ امام شافعی کا اختلاف ہے۔

*استنجاء میں کتنے ڈھیلے استعمال کرنے چاہئے۔۔؟؟*

ہم احناف کے نزدیک ڈھیلوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں ہے، بلکہ جتنے ڈھیلوں سے پاکیزگی حاصل ہوجائے اتنے ڈھیلے استعمال کرنا سنت ہے، ہاں اگر ایک یا دو ڈھیلوں سے پاکیزگی حاصل ہوجائے تو تین کا عدد پورا کرنا مستحب ہے، اسی طرح چار سے حاصل ہوجائے تو پانچ کا عدد پورا کرنا مستحب ہے۔۔ وجہ یہ ہے کہ احادیث میں جہاں طاق عدد کا ذکر آیا ہے وہی تین کا عدد بھی مذکور ہے ۔ لہذا کم از کم تین کا عدد پورا کرنا بہرحال مستحب ہے۔

طہارت کے مسائل میں عدد کے حوالے سے ہم احناف کا موقف یہ ہے *نجاست کو زائل کرنا* ضروری ہے *عدد کا لحاظ* ضروری نہیں ہے، ہاں اگر ایک یا دو بار میں نجاست زائل ہوجائے اور احادیث میں کسی عدد کا ذکر ملتا ہو تو اس عدد کو پورا کرلیناحسبِ دلیل سنت یا مستحب ہوتا ہے۔

علامہ کاسانی نے امام شافعی کی جو دلیل ذکر کی ہے دراصل امام شافعی کا استدلال صرف لفظ *وتر* سے نہیں ہے بلکہ ان کے دلائل میں وہ احادیث بھی شامل ہیں جس میں *ثلاثة احجار* یعنی تین پتھروں کے استعمال کا ذکر ہے۔ ابوداؤد، نسائی اور بیہقی وغیرہم کتبِ حدیث میں وہ روایات موجود ہیں۔

ہوسکتا ہے کسی کے ذہن میں یہ اشکال آئے کہ علامہ کاسانی نے لکھا ہے کہ جب ایک ڈھیلے سے طہارت ہوگئی تو مقصد حاصل ہوگیا۔۔۔ پھر دو ٹھیلے لینا *تنجیس الطاہر* کے اصول کے مخالف ہے یعنی پاک چیز کو ناپاک کرنا ناجائز ہے تو دو ڈھیلے لینا بھی ناجائز ہے۔

علامہ کاسانی نے عبارت میں *بلاضرورت* کی قید لگاکر اس اشکال کو دور کردیا ہے، یعنی ضرورت ہو تو ایک ڈھیلے سے طہارت ہوجانے کے باوجود دو ڈھیلے لینا جائز ہے۔۔۔ اور حدیث کے ظاہر پر عمل کرنا بلاشبہ ضرورت میں شامل ہے، لہذا تین کا عدد پورا کرنا مستحب ہے ناجائز نہیں ہے۔

علامہ کاسانی نے ایک پتھر کو تین طرف سے استعمال کرنے کی جو مثال پیش کی ہے وہ امام شافعی کےموقف کو کمزور ثابت کرنے کی بہت اچھی دلیل ہے، کیونکہ امام شافعی ایک طرف تو تین ڈھیلے استعمال کرنے کو ضروری قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ ایک پتھر کو تین طرف سے استعمال کرلیا جائے تو تین کا عدد پورا ہوجائے گا۔

*ثلاثة أحجار* یعنی تین پتھر کے فرمان پر عمل کرنا ہے تو پتھر کا تعداد میں تین ہونا ضروری ہے، لہذا امام شافعی کا تین اطراف (Sides) کے مسئلہ کو جائز قرار دینا ان کے موقف کو کمزور ثابت کرتا ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

درس 028: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 028: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَأَمَّا) بَيَانُ مَا يُسْتَنْجَى بِهِ فَالسُّنَّةُ هُوَ الِاسْتِنْجَاءُ بِالْأَشْيَاءِ الطَّاهِرَةِ مِنْ الْأَحْجَارِ وَالْأَمْدَارِ، وَالتُّرَابِ، وَالْخِرَقِ الْبَوَالِي.

ان چیزوں کا بیان جن کے ساتھ استنجاء کیا جاسکتا ہے: سنت یہ ہے کہ پاک چیزوں سے استنجاء کیا جائے یعنی پتھروں سے، ڈھیلوں سے، مٹی سے اور بوسیدہ کپڑوں کے ٹکڑوں سے۔

وَيُكْرَهُ بِالرَّوْثِ، وَغَيْرِهِ مِنْ الْأَنْجَاسِ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ عَنْ أَحْجَارِ الِاسْتِنْجَاءِ أَتَاهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَرَمَى بِالرَّوْثَةِ، وَعَلَّلَ بِكَوْنِهَا نَجَسًا، فَقَالَ: إنَّهَا رِجْسٌ أَوْ رِكْسٌ، أَيْ: نَجَسٌ.

اور لید وغیرہ ناپاک چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے، اسلئے کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے استنجاء کے لئے پتھر طلب فرمائے تو عبد اللہ بن مسعود دو پتھر اور ایک لید کا ٹکڑا لے آئے، توحضور ﷺ نے دو پتھروں کو لے لیا اور لید کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور وجہ اسکا ناپاک ہونا بتایا۔ ارشاد فرمایا: یہ *رجس* ہے، راوی کہتے ہیں یا شاید *رکس* فرمایا، یعنی گندگی ہے۔

وَيُكْرَهُ بِالْعَظْمِ لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الِاسْتِنْجَاءِ بِالرَّوْثِ، وَالرِّمَّةِ وَقَالَ: مَنْ اسْتَنْجَى بِرَوْثٍ، أَوْ رِمَّةٍ فَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ.

ہڈی سے استنجاء بھی مکروہ ہے اسلئے کہ نبی رحمت ﷺ نے لید اور پرانی ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے، ارشاد فرمایا: جس نے لید یا پرانی ہڈی سے استنجاء کیا تو وہ محمد ﷺ پر نازل شدہ شریعت سے بیزار ہے۔

وَرُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لَا تَسْتَنْجُوا بِالْعَظْمِ وَلَا بِالرَّوْثِ فَإِنَّ الْعَظْمَ زَادُ إخْوَانِكُمْ الْجِنِّ وَالرَّوْثُ عَلَفُ دَوَابِّهِمْ

اسی طرح نبی کریم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ہڈی اور لید سے استنجاء نہ کرو اسلئے ہڈی تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہے اور لید ان کے جانوروں کا چارہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*کن چیزوں سے استنجاء کیا جائے*

علامہ کاسانی نے یہاں سے ان چیزوں کابیان شروع کیا جن سے استنجاء کیا جاسکتا ہے اور جن سے استنجاء نہیں کیا جاسکتا۔

آگے جاکر خود اسکی وجہ بیان فرمائیں گے، ہم یہاں وہ اصولی بحث ذکر کر دیتے ہیں جو اس کونسیپٹ کو کلئیر کردے گی کہ کن چیزوں سے استنجاء ہوسکتا ہے اور کن سے نہیں۔۔۔

پچھلے درس سے معلوم ہوا کہ پتھر کو پانی کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے اور جس طرح پانی *مزیلِ نجاست* یعنی نجاست کو زائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی طرح پتھر بھی *مزیلِ نجاست* ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ پانی سے نجاست کو *دھویا* جاتا ہے جبکہ پتھر سے نجاست کو *پونچھا* جاتا ہے۔

لہذا۔۔۔۔

*ہر وہ چیز جس سے نجاست کو پونچھا جاسکتا ہو، اس سے استنجاء ہوجائے گا۔۔ چاہے اس کا استعمال جائز ہو یا ناجائز*

*استنجاء میں کن چیزوں کا استعمال جائز نہیں ہے۔۔!!*

1- جن سے احادیث میں ممانعت آگئی۔۔۔ جیسے ہڈی اور لید

2- ناپاک چیزوں سے۔۔۔جیسے لید کیونکہ ناپاک ہے مگر سوکھی ہوئی ہو تو استنجاء ہوجائے گا مگر گناہگار ہوگا

3- جو قیمت رکھتی ہوں۔۔۔جیسے نیا کپڑا، موزے، کھانے پینے کی اشیاء کیونکہ ان کے استعمال سے مال کا ضائع کرنا لازم آتا ہے

4- جو قابلِ تعظیم ہوں۔۔۔ جیسے کاغذ اسلئے کہ وہ علم سیکھنے سکھانے کا آلہ ہے، اسی سبب سے آبِ زم زم سے استنجاء ناجائز و گناہ ہے

5- دوسرے کی ملکیت ہو۔۔۔جیسے وقف کی دیوار سے

ان سب چیزوں میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ۔۔۔

*جن چیزوں سے استنجاء کی ممانعت ہے ۔۔ اسکی وجہ کوئی خارجی چیز ہے*

مثلا کہیں تعظیم کی خلاف ورزی ہے، کہیں مال کا ضائع کرنا ہے ، کہیں ناپاک شے کا استعمال کرنا ہے وغیرہ وغیرہ

اور جہاں ممانعت کی کوئی وجہ نہ پائی جائے اس سے استنجاء جائز ہے جیسے ڈھیلے، مٹی، پرانا بوسیدہ کپڑا۔

استنجاء کے بعد ٹوائلٹ پیپر /ٹیشو پیپر کا استعمال درست ہے یا نہیں۔۔!

اس میں بعض علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ یہ کاغذ ہی ہے اور کاغذ علم سیکھنے کا آلہ ہے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے، اسی کو بنیاد بناکر کھانے کے بعد ٹیشو پیپر کے استعمال سے بھی ممانعت فرماتے ہیں۔

لیکن ہماری ذکر کردہ بحث سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ٹوائلٹ پیپر کی ہیئت(صورت) اس کاغذ کی نہیں جس کی بنیاد پر اس کا استعمال ممنوع بتایا گیا ہے نہ ہی عُرفا یہ تعظیم کے خلاف سمجھی جاتی ہے لہذا درست موقف یہی ہے کہ اس کا استعمال جائز ہے۔

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاوی میں رد المحتار کے حوالے سے جو عبارت نقل کی ہے وہ ابھی اسی موقف کی تائید کرتی ہے۔عبارت کا ترجمہ یہ ہے:

"اور جب اس کی علّت یہ ہوکہ وہ آلہ کتابت ہے تو اس کانتیجہ یہ ہوا کہ اگر کاغذ تحریر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور نجاست کو زائل کرنے والا ہو اور قیمتی بھی نہ ہو تو اسکے استعمال میں کوئی کراہت نہیں جیسا کہ اس سے پہلے ہم نے پُرانے کپڑے کے ٹکڑوں (الْخِرَقِ الْبَوَالِي، جس کا ذکر پہلی عبارت میں ہے۔ عارفین) سے استنجاء کا جواز بیان کیا ہے۔”

ہاں باقاعدہ کاپی، رجسٹر کے صفحات یا اخبار وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے کیونکہ بالیقین یہ تعظیم کے خلاف ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

درس 027: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 027: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

إلَّا أَنَّهُ إذَا تَرَكَ الِاسْتِنْجَاءَ أَصْلًا، وَصَلَّى يُكْرَهُ؛ لِأَنَّ قَلِيلَ النَّجَاسَةِ جُعِلَ عَفْوًا فِي حَقِّ جَوَازِ الصَّلَاةِ دُونَ الْكَرَاهَة وَإِذَا اسْتَنْجَى زَالَتْ الْكَرَاهَةُ

ہاں اگر کوئی شخص استنجاء بالکل نہ کرے اور یونہی نماز پڑھے تو مکروہ ہوگی۔ اسلئے کہ تھوڑی نجاست نماز جائز ہونے کے معاملے میں معاف رکھی گئی ہے نہ کہ بلا کراہت جائز ہونے کے معاملے میں اور اگر استنجاء کرلیا تو کراہت زائل ہوجائے گی۔

لِأَنَّ الِاسْتِنْجَاءَ بِالْأَحْجَارِ أُقِيمَ مَقَامَ الْغَسْلِ بِالْمَاءِ شَرْعًا لِلضَّرُورَةِ إذْ الْإِنْسَانُ قَدْ لَا يَجِدُ سُتْرَةً، أَوْ مَكَانًا خَالِيًا لِلْغَسْلِ، وَكَشْفُ الْعَوْرَةِ حَرَامٌ فَأُقِيمَ الِاسْتِنْجَاءُ مَقَامَ الْغَسْلِ فَتَزُولُ بِهِ الْكَرَاهَةُ كَمَا تَزُولُ بِالْغَسْلِ

اسلئے کہ ڈھیلوں سے استنجاء شرعی طور پر پانی سے دھونے کے قائم مقام ہے ضرورت کی وجہ سے، اسلئے کہ انسان کو کبھی چھپنے کے لئے آڑ یا خالی جگہ نہیں مل پاتی جہاں وہ پانی سے استنجاء کی جگہ دھو سکے، اور شرمگاہ کو ظاہر کرنا حرام ہے لہذا ڈھیلوں سے استنجاء کو پانی سے دھونے کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔۔۔ تو جس طرح پانی سے دھونے سے کراہت دور ہوجاتی ہے اسی طرح ڈھیلوں سے استنجاء کرنے سے بھی کراہت دور ہوجائے گی۔

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَنْجِي بِالْأَحْجَارِ، وَلَا يُظَنُّ بِهِ أَدَاءُ الصَّلَاةِ مَعَ الْكَرَاهَة

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ڈھیلوں سے استنجاء فرمایا کرتے تھے۔۔ اور حضور ﷺ سے یہ گمان نہیں کیا جاسکتا ہے کہ آپ کراہت کے ساتھ نماز ادا فرماتے ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

علامہ کاسانی نے اس سے پہلے حدیث شریف سے استدلال کیا کہ استنجاء فرض نہیں ہے اور ہم دیگر دلائل سے وضاحت کرچکے ہیں کہ استنجاء سنتِ موکدہ ہے۔ اور یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ اگر سنت ادا نہ ہوئی تو نماز جائز ہوجاتی ہے اگرچہ اس میں کراہت موجود ہو۔

اب علامہ کاسانی استنجاء کے مشروع ہونے کی توجیہ بیان کررہے ہیں کہ دراصل استنجاء کو پانی کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔

ہم سابقہ دروس میں پڑھ چکے ہیں کہ طہارت، نجاست سے پاکی حاصل کرنے کو کہتے ہیں اورجس شے کے ذریعے طہارت حاصل کی جائے اس کا خود پاک ہونا اور پاک کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ہونا ضروری ہے، اسکے لئے *پانی* سب سے موزوں چیز ہے۔

*ڈھیلے دراصل پانی کے قائم مقام ہیں*

علامہ کاسانی فرمارہے ہیں کہ ڈھیلوں سے استنجاء کو جائز رکھا گیا ہے اسلئے کہ وہ پانی کے قائم مقام ہے اور بعض اوقات پانی میسر نہیں ہوتا اور انسان کو حاجت پیش آجاتی ہے تو ضرورتا اس کو جائز قرار دیا گیاہے۔ چونکہ پانی اصل ہےاسلئےڈھیلوں کے مقابلے اس سے استنجاء افضل ہے۔ اور حضور سیدِ عالم ﷺ سے ڈھیلے اور پانی دونوں کے ساتھ استنجاء ثابت ہے۔

(علامہ کاسانی نے پانی سے استنجاء کو الگ سے شمار کیا ہےاور ہاتھوں کو گٹے تک دھونے کے بعد اسکا ذکر کیا ہے مگر ہم وہ بحث اسی استنجاء کے ساتھ ہی ذکر کردیں گے تاکہ تسلسل نہ ٹوٹے)

ڈھیلا سے استنجاء *نجاست پونچھنے کا عمل* ہے لہذا اگر ڈھیلے کے قائم مقام کوئی ایسی چیز مل جائے جو ڈھیلے کی طرح *مزیلِ نجاست* یعنی نجاست کو زائل کرنے والی ہو تو اس سے بھی استنجاء ہوجائے گا، یہ الگ بات ہے کہ اس سے استنجاء جائز قرار دیا گیا ہو یا نہیں۔ اسکی تفصیل آتی ہے۔

علامہ کاسانی نے ایک روایت نقل فرمائی اور کہا کہ اگر ڈھیلے سے استنجاء کرنے سےکراہت باقی رہتی تو حضور سید عالم ﷺ کبھی اس پر کفایت کرکے نماز ادا نہ فرماتے۔ کیونکہ حضور ﷺ نماز میں مکمل طہارت کا اہتمام فرمانے والے تھے اور آپ سے بڑھ کر کوئی بھی نماز کے احکامات کی رعایت فرمانے والا نہیں ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*