فَاِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا اَوۡ رُكۡبَانًا ‌‌ ۚ فَاِذَآ اَمِنۡتُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰهَ کَمَا عَلَّمَکُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ- سورۃ 2 – البقرة – آیت 239

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا اَوۡ رُكۡبَانًا ‌‌ ۚ فَاِذَآ اَمِنۡتُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰهَ کَمَا عَلَّمَکُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ

پس اگر تم حالت خوف میں ہو تو پیدل چلتے ہوئے یا سواری پر (نماز پڑھ لو) پھر جب خوف جاتا رہے تو پھر اسی طرح اللہ کا ذکر کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھایا ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس اگر تم حالت خوف میں ہو تو پیدل چلتے ہوئے یا سواری پر (نماز پڑھ لو) پھر جب خوف جاتا رہے تو پھر اسی طرح اللہ کا ذکر کرو (نماز پڑھو) جس طرح اس نے تمہیں سکھایا۔ (البقرہ : ٢٣٩)

چلتی ٹرین اور طیارہ وغیرہ میں نماز پڑھنے کا بیان :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے پانچوں نمازوں کی حفاظت کا اور ان کو خاموشی اور خضوع اور خشوع کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا تھا ‘ اور انسان کو زندگی میں بعض مرتبہ نماز کے اوقات میں خوف اور خطرہ لاحق ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس حالت میں نماز کا حکم اور اس کا طریقہ بیان فرمایا کہ اگر تم کو نماز کے وقت میں خوف اور خطرہ لاحق ہو تو پیدل چلتے ہوئے نماز پڑھو ‘ یا سواری پر سوار ہونے کی حالت میں نماز پڑھو ‘ اس خوف سے مراد عام ہے ‘ خوف ہو یا درندے کا خوف ہو یا سیلاب کا خوف ہو ‘ پس ہر وہ امر جس سے اس کی جان کا خوف ہو اس کی وجہ سے پاپیادہ یا سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ چلتی ٹرین ‘ بحری جہاز یا ہوائی جہاز میں دوران سفر نماز کا وقت آجائے اور پورے وقت میں وہ سواری چلتی رہے اور اس چلتی سواری سے چھلانگ لگاکر اترنے میں جان جانے کا خطرہ ہو تو اس چلتی ہوئی سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے اور اس نماز کا اعادہ نہیں ہے ‘ اس کے مزید دلائل اور فقہاء کی عبارات ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ جلد ثانی میں بیان کیے ہیں۔

حالت خوف میں نماز پڑھنے کے متعلق ائمہ کی آراء :

امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک اس آیت کا تعلق جنگ اور قتال سے بھی ہے یعنی اگر دوران قتال شدید خطرہ اور خوف ہو تو پاپیادہ اور سواری پر بھی نماز پڑھنا جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک جہاد اور قتال میں صلوۃ خوف پڑھی جائے اور اگر جنگ کی شدت کی وجہ سے صلوۃ خوف نہ پڑھی جاسکے تو نماز مؤخر کردی جائے جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ خندق کے دن چار نمازیں مؤخر کردی تھیں اور قتال کے علاوہ اور کسی صورت میں دشمن کا خوف ہو تو پاپیادہ یا سواری پر نماز پڑھ لی جائے۔

ملا احمد جیون حنفی لکھتے ہیں : حالت خوف میں نماز پڑھتے وقت ضرورت کی بناء پر قبلہ سے توجہ ساقط ہوجاتی ہے یعنی اگر تم کو دشمن سے خوف ہو یا درندہ کا خوف ہو یا کسی اور چیز کا خوف ہو تو تم پر قیام فرض نہیں ہے بلکہ تم کو اس کا اختیار ہے کہ تم پیدل چلتے ہوئے نماز پڑھو یا سواری پر نماز پڑھو اور جس طرف سواری کا منہ ہو اسی طرح اشاروں سے نماز پڑھو ‘ اسی طرح ” مدارک “ میں ہے ‘ اور صاحب ” ہدایہ ‘ نے اسی آیت سے استدلال کیا ہے کہ اگر شدید خوف ہو تو الگ الگ سواری پر نماز پڑھیں اور اشارہ سے رکوع اور سجود کریں ‘ خواہ جس طرف منہ ہو بشرطیکہ وہ قبلہ کی طرف منہ پر قادر نہ ہوں اور جس وقت تلواریں ٹکرا رہی ہوں اور تیر چل رہے ہوں اس حال میں ہمارے نزدیک نماز جائز نہیں ہے اور امام شافعی کے نزدیک جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ” رجالا “ کا معنی ہے : اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے نماز پڑھیں ‘ اور امام شافعی کے نزدیک اس کا معنی ہے : چلتی ہوئی نماز پڑھیں ‘ اس لیے قاضی بیضاوی نے کہا ہے کہ اس آیت میں : امام شافعی کی دلیل ہے کہ تلواروں سے لڑائی کی حالت میں نماز جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس حالت میں نماز کو مؤخر کردیں اور بعد میں پڑھیں۔ (التفسیرات الاحمدیہ ص ١٥٨‘ مطبوعہ مطبع مطبع کریمی ‘ بمبئی)

علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں :

امام شافعی نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر لڑائی کی حالت میں سواری ٹھہرانا ممکن نہ ہو تو تلواروں سے لڑتے ہوئے بھی نماز جائز ہے اور ہمارے امام کا یہ مذہب ہے کہ چلنے سے اور لڑنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز میں قنوت کا حکم دیا ہے اور چلنا اور لڑنا قنوت کے منافی ہے اور جب ایسی صورت ہو تو نماز کو مؤخر کر دے اور جب امن اور سکون ہو تو نماز پڑھ لے ‘ اگر تم انصاف سے کام لو تو تمہیں علم ہوگا کہ یہ آیت امام شافعی کے موقف میں بالکل صریح ہے ‘ کیونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ‘ اللہ کے لیے قیام کرو ‘ اور دین آسان ہے اور مشکل نہیں ہے اور مقامات مختلف ہوتے ہیں اور مشکل کی وجہ سے آسان حکم کو نہیں چھوڑا جاتا اور جس کام کو مکمل طور پر حاصل نہیں کیا جاسکتا اس کو مکمل طور پر ترک بھی نہیں کیا جاتا۔ (روح المعانی ج ٢ ص ‘ ١٥٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

حالت خوف میں نماز پڑھنے کے متعلق احادیث :

حافظ جلال الدین سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام طیالسی ‘ امام عبدالرزاق ‘ امام ابن ابی شیبہ ‘ امام احمد ‘ امام نسائی ‘ امام ابویعلی ‘ اور امام بیہقی نے اپنی ” سنن “ میں حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ جنگ خندق کے دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ‘ ہم ظہر ‘ عصر ‘ مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جنگ کی مشغولیت کی وجہ سے نہ پڑھ سکے ‘ حتی کہ ہم لڑائی سے بچا لیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” وکفی اللہ المؤمنین القتال “۔ (الاحزب : ٢٥) (زبردست آندھی بھیج کر) اللہ مسلمانوں کے لیے جنگ سے کافی ہوگیا “ یعنی ان کو لڑنے سے بچا لیا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو (اذان کا) حکم دیا اور ہر نماز کے لیے اقامت کہی ‘ یہ واقعہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے تھا : (آیت) ’ فان خفتم فرجالا اور کبانا “۔ (البقرہ : ٢٣٩) اگر تم حالت خوف میں ہو تو پیادہ اور سواری پر نماز پڑھو “۔

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام مسلم اور امام نسائی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض ایام میں صلوۃ خوف پڑھی ‘ ایک جماعت آپ کے ساتھ تھی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے کھڑی رہی ‘ جو جماعت آپ کے ساتھ تھی آپ نے اس کو ایک رکعت نماز پڑھائی ‘ پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسری جماعت آگئی ‘ آپ نے اس دوسری جماعت کو ایک رکعت نماز پڑھائی ‘ پھر دونوں جماعتوں نے باقی ماندہ ایک ایک رکعت نماز پڑھی ‘ حضرت ابن عمر (رض) نے کہا : اور اس سے زیادہ خوف ہو تو پھر تم کھڑے ہوئے اور سواری پر اشارہ سے نماز پڑھو۔

امام مالک ‘ امام شافعی ‘ امام عبدالرزاق ‘ امام بخاری ‘ امام ابن جریر اور امام بیہقی نے نافع سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) سے جب صلوۃ خوف کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : امام ایک جماعت کو ایک رکعت نماز پڑھائے اور دوسری جماعت انکے اور دشمن کے درمیان کھڑی رہے اور نماز نہ پڑھے ‘ اور جب وہ جماعت ایک رکعت نماز پڑھ لے تو وہ اس دوسری جماعت کی جگہ چلی جائے جس نے نماز نہیں پڑھی تھی ‘ اور یہ لوگ سلام نہ پھیریں ‘ اور جس جماعت نے پہلے نماز نہیں پڑھی تھی وہ امام کے پیچھے آکر کھڑی ہو اور امام اس کو بھی ایک رکعت پڑھائے پھر امام چلا جائے ‘ اس کی دو رکعتیں ہوگئیں اور امام کے چلے جانے کے بعد ہر جماعت اپنی اپنی باقی ماندہ ایک ایک رکعت پڑھے ‘ اور اگر اس سے زیادہ خوف ہو تو اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے نماز پڑھیں یا سواری پر نماز پڑھیں ‘ خواہ منہ قبلہ کی طرف ہو یا غیر قبلہ کی طرف نافع کہتے ہیں کہ مجھے یہی یقین ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح سنا تھا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٦٥٢۔ ٦٥١)

امام بزار ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تلواروں سے لڑائی کی حالت میں نماز ایک رکعت ہے ‘ انسان جس طریقہ سے بھی یہ رکعت پڑھ لے اس کے لیے کافی ہے اور وہ اس کو نہیں دہرائے گا۔

امام ابن ابی حاتم نے (آیت) ” فان خفتم فرجالا اور کبانا “۔ (البقرہ : ٢٣٩) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سوار اپنی سواری پر نماز پڑھے اور پیدل چلنے والا اپنے پیروں پر نماز پڑھے اور جب خوف دور ہوجائے تو سوار اور پیادہ معمول کے مطابق نماز پڑھیں ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں سکھایا ہے۔

امام ابن ابی حاتم اور امام ابن المنذر نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب تلواروں سے جنگ ہو رہی ہو تو اپنے سر کے اشارہ سے نماز پڑھے خواہ اس کا منہ کسی طرف ہو ”’ فرجالا اور رکبانا “ کی ہی تفسیر ہے۔

امام ابن المنذر اور امام ابن جریر نے مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے : چلتے ہوئے اور سواری پر اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے فرمایا کہ جب تم جنگ میں سواریوں پر ہو اور خوف زیادہ ہو تو ہر شخص کسی بھی سمت کھڑا ہو کر یا سواری پر سر کے اشارہ سے یا زبان کے کلام سے جس طرح بھی ممکن ہو نماز پڑھے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٠٩۔ ٣٠٨‘ ملتقطا مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

حالت خوف میں نماز پڑھنے کے متعلق فقہاء شافعیہ کا مذہب :

علامہ ماوردی شافعی لکھتے ہیں :

یعنی اگر تمہیں دشمن کا خوف ہو تو تم اپنے پیروں پر یا اپنی سواریوں پر ٹھہرے ہوئے یا چلتے ہوئے نماز پڑھو خواہ منہ قبلہ کی طرف ہو یا غیر قبلہ کی طرف اشارہ سے بغیر اشارہ کے جس طرح بھی قدرت ہو ‘ اس حالت میں نماز کی مقدار میں اختلاف ہے ‘ جمہور کا قول یہ ہے کہ وہ طریقہ کے مطابق دو رکعت نماز پڑھے گا ‘ اور حسن نے کہا : جب اسے خوف ہو تو ایک رکعت نماز پڑھے ‘ اہل حجاز (شافعیہ) نے کہا : اس پر بعد میں اس نماز کا اعادہ نہیں ہے کیونکہ وہ معذور تھا ‘ اور اہل عراق (احناف) نے کہا : اس پر اعادہ واجب ہے کیونکہ چلنا نماز کے اعمال میں سے نہیں ہے۔

حالت خوف میں نماز پڑھنے کے متعلق فقہاء مالکیہ کا مذہب :

قاضی ابوبکر ابن العربی مالکی لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ہر حالت میں نماز کی حفاظت کا حکم دیا ہے ‘ مرض ہو ‘ سفر ہو ‘ قدرت ہو ‘ عجز ہو ‘ خوف ہو ‘ امن ہو ‘ نماز مکلف سے کسی حال میں ساقط نہیں ہوتی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑے ہو کر نماز پڑھو ‘ اگر اس پر قدرت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھو ‘ اور اگر اس پر بھی قدرت نہ ہو تو لیٹ کر۔ (صحیح بخاری ‘ سنن ابوداؤد ‘ جامع ترمذی ‘ سنن ابن ماجہ ‘ مسند احمد) اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے صلوۃ خوف کے ذکر میں فرمایا : اگر زیادہ خوف ہو تو کھڑے ہوئے اور سواری پر نماز پڑھو ‘ خواہ منہ قبلہ کی طرف ہو یا نہ ہو۔ (سنن کبیری ج ٣ ص ٢٥٦) اس سے مقصود یہ ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو نماز پڑھ لی جائے اور حالت میں بھی نماز ساقط نہیں ہوگی ‘ حتی کہ اگر صرف آنکھ کے اشارہ سے نماز پڑھی جاسکے تو اسی طرح لازم ہے ‘ اسی وجہ سے نماز باقی عبادات سے ممتاز ہے ‘ کیونکہ نماز کے علاوہ باقی عبادات عذر کی وجہ سے ساقط ہوجاتی ہیں ‘ اور اسی سبب سے ہمارے علماء نے کہا ہے کہ تارک نماز کو قتل کردیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ جنگ کرنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) کی حدیث اور یہ آیت ان کے خلاف قوی دلیل ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٣٠٣۔ ٣٠٢ مطبوعہ دارالمرفتہ بیروت ١٤٠٨ ھ)

حالت خوف میں نماز پڑھنے کے متعلق فقہاء حنبلیہ کا مذہب :

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں : یہ آیت سورة نساء کی اس آیت کے بعد نازل ہوئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے صلوۃ الخوف پڑھنے کا طریقہ بیان فرمایا ہے :

(آیت) ” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ فلتقم طآئفۃ منہم معک ولیاخذوا اسلحتھم فاذا سجدوا فلیکونوا من ورآئکم ولتات طآئفۃ اخری لم یصلوا فلیصلوا معک ولیاخذوا حذرھم واسلحتھم “۔ (النساء : ١٠٢)

اور جب آپ ان میں ہوں اور (جنگ کے دوران) انہیں نماز پڑھائیں تو ان میں سے ایک گروہ کو آپ نے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور وہ لوگ اپنے ہتھیار لیے رہیں ‘ پھر جب وہ سجدہ کرلیں تو (اے مسلمانو ! ) وہ تمہارے پیچھے چلے جائیں اور دوسرا وہ گروہ آجائے جس نے نماز نہیں پڑھی ‘ اور انہیں آپ کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے اور وہ بھی اپنی حفاظت کا سامان اور اپنا اسلحہ لیے رہیں۔

اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر تمہیں اس سے زیادہ خوف ہو تو تلواروں سے لڑائی کے درمیان تم کو جس طرح قدرت ہو اس طرح نماز پڑھو ‘ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ خندق کے دن ‘ ظہر ‘ عصر ‘ مغرب اور عشاء کی نمازیں شفق کے غائب ہونے کے بعد پڑھیں یعنی عین حالت جنگ میں یہ نمازیں پڑھیں جیسا کہ اس آیت میں ہے اور ان کو مؤخر کردیا۔ (ترمذی ‘ ابویعلی ‘ بیہقی) تو اس حدیث اور اس آیت میں کیسے موافقت ہوگئی ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ جنگ خندق کا یہ واقعہ اس آیت ” فان خفتم فرجالا اور کبانا “۔ (البقرہ : ٢٣٩) کے نزول سے پہلے کا ہے۔ (سنن نسائی ‘ صحیح ابن حبان) (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ٢٨٥۔ ٢٨٤ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

حالت خوف میں نماز پڑھنے کے متعلق فقہاء احناف کا مذہب :

علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں :

اس آیت میں خوف کی حالت میں پاپیادہ اور سواری پر نماز پڑھنے کا حکم بیان فرمایا ہے ‘ دوران جنگ میں اس طرح نماز پڑھنے کا حکم نہیں ہے (بلکہ دوران جنگ نماز پڑھنے کا وہی طریقہ ہے جو سورة نساء میں ہے) جب کسی شخص کو دشمن گھیر لے اور اس کو سخت خطرہ ہو تو اس کے لیے اس طرح نماز جائز ہے اور جب خوف کی وجہ سے اس لیے سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے اور اس کے لیے رکوع اور سجود کو ترک کرنا جائز کردیا تو اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ قبلہ کی طرف منہ کرے یا نہ کرے ‘ اب اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خوف کی حالت میں بھی نماز کے ترک کرنے اجازت نہیں دی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتال میں مشغول تھے اور قتال میں مشغول ہونا نماز سے مانع ہے ‘ اسی لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے کیونکہ ان کے خلاف جنگ میں مشغول رہنے کی وجہ سے ہم صلوۃ وسطی نہیں پڑھ سکے ‘ اگر یہ کہا جائے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ خندق کے دن ظہر ‘ عصر ‘ مغرب اور عشاء کی نمازوں کو کیوں ترک کردیا تھا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خوف کی حالت میں اس طرح نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ‘ دوران قتال اسی طرح نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا اور جنگ خندق کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتال میں مشغول تھے اور قتال میں مشغول ہونا نماز سے مانع ہے ‘ اسی لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے کیونکہ ان کے خلاف جنگ میں مشغول ہونے کی وجہ سے ہم صلوۃ وسطی نہیں پڑھ سکے۔ اگر یہ کہا جائے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ خندق کے دن نمازیں اس لیے نہیں پڑھی تھیں کہ اس وقت تک صلوۃ خوف پڑھنے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ محمد بن اسحاق اور واقدی کا اس پر اتفاق ہے کہ غزوہ ذات الرقاع ‘ غروہ خندق سے پہلے ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ ذات الرقاع میں صلوۃ خوف پڑھی تھی ‘ اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غزوہ خندق میں نماز نہ پڑھنا قتال کی وجہ سے تھا اور قتال نماز کی صحت سے مانع اور اس کے منافی ہے۔

بعض فقہاء نے اس آیت سے یہ استدلال کیا کہ جو شخص خوف زدہ ہو اس کے لیے چلتے ہوئے بھی نماز پڑھنا جائز ہے ‘ خواہ وہ کسی پر حملہ آور ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اگر تم حالت خوف میں ہو تو پاپیادہ نماز پڑھو یا سواری پر ‘ یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں چلنے کا ذکر نہیں ‘ علاوہ ازیں حملہ آورخوف زدہ نہیں ہوتا کیونکہ اگر وہ حملہ کرنے کی بجائے واپس چلاجائے تو اسے کوئی خوف اور خطرہ نہیں ہوگا ‘ اللہ سبحانہ نے اس طرح نماز پڑھنا خوف زدہ کے لیے مشروع کیا ہے اور یہ اس وقت ہوگا جب اس پر حملہ کیا جائے اس وقت حالت خوف میں اس کیلیے جائز ہے کہ وہ سواری پر نماز پڑھے یا چلتے ہوئے۔

(احکام القرآن ج ١ ص ٤٤٩۔ ٤٤٨‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نماز کا معاملہ کس قدر سنگین ہے ‘ باقی تمام عبادات عذر کی وجہ سے ساقط ہوجاتی ہیں لیکن جب جان کا خوف اور خطرہ ہو نماز اس وقت بھی معاف نہیں ہے اور اس حال میں بھی یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم چلتے ہوئے یا سواری پر جس طرح بھی بن پڑے نماز پڑھو لو۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 239

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.