بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡحَـىُّ الۡقَيُّوۡمُۚ  لَا تَاۡخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوۡمٌ‌ؕ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يَشۡفَعُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِهٖ‌ؕ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ‌ۚ وَلَا يُحِيۡطُوۡنَ بِشَىۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ‌‌ۚ وَلَا يَـــُٔوۡدُهٗ حِفۡظُهُمَا ‌ۚ وَ هُوَ الۡعَلِىُّ الۡعَظِيۡمُ

اللہ اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں وہ زندہ (جاوید) ہے اور دوسروں کو قائم کرنے والا ہے ‘ اس کو آونگھ آتی ہے اور نہ نیند ‘ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے (سب) اسی کی ملکیت ہے ‘ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کی بارگاہ میں شفاعت کرے ‘ وہ جانتا ہے جو ان (لوگوں) کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے ‘ اور اس کے علم میں سے وہ (لوگ) کسی چیز کو حاصل نہیں کرسکتے مگر جتنا وہ چاہے ‘ اس کی کرسی (حکومت) آسمانوں اور زمینوں کی محیط ہے ‘ اور ان کی حفاظت اس کو تھکاتی نہیں ہے اور وہی بہت بلند بڑی عظمت والا ہے

قرآن مجید کا اسلوب یہ ہے کہ توحید ‘ رسالت اور آخرت سے متعلق عقائد اور مختلف احکام شرعیہ کو بار بار ایک دوسرے کے بعد دہراتا رہتا ہے ‘ مسلسل عقائد کا ذکر جاری رہتا ہے نہ متواتر احکام کا ‘ تاکہ قاری کا ذہن اکتاہٹ کا شکار نہ ہو ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ عقائد کے مضمون کے بعد احکام کا مضمون شروع کردیتا ہے اور عقائد میں بھی توحید ‘ رسالت اور آخرت کے مضمون کا تنوع ہے اور اسی طرح احکام کا مضمون شروع کردیتا ہے اور عقائد میں بھی توحید ‘ رسالت اور آخرت کے مضمون کا تنوع ہے اور اسی طرح احکام میں بھی مختلف انواع کے حکم کا ایک دوسرے کے بعد ذکر فرماتا ہے تاکہ قاری یکسانیت کا شکار نہ ہو اور ہر بار اس کو غور وفکر کی نئی رہیں ملیں۔ اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ نجات کا مدار انسان کے اعمال صالحہ پر ہے اور قیامت کے دن اس کا مال ‘ اس کی دوستی اور کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی اور یہ فرمایا تھا کہ تمام رسل (علیہم السلام) کے مراتب اور درجات اگرچہ متفاوت اور مختلف ہیں لیکن تمام رسولوں کی دعوت اور ان کا پیغام واحد ہے اور ان کا دین واحد ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کو واحد مانو اور صرف اسی کی عبادت کرو

اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی جامع آیت ‘ آیت الکرسی ہے ‘ ہم پہلے آیت الکرسی کے مفردات کے معانی بیان کریں گے اور پھر اس کے فضائل کے متعلق احادیث کا ذکر کریں گے۔

آیت الکرسی کے مفردات جملوں کی تشریح :

اللہ : یہ اللہ تعالیٰ کا اسم ذاتی ہے۔ اس کا معنی ہے : وہ ذات جو واجب الوجود (قدیم بالذات) ہو تمام صفات کمالیہ کی جامع ہو اور تمام نقائص سے بری ہو اور عبادت کی مستحق ہے۔

 الحی : جو ہمیشہ سے از خود زندہ ہو ‘ اپنی حیات میں کسی کا محتاج نہ ہو ‘ اور ہمیشہ زندہ رہے ‘ اور کبھی اس پر موت نہ آئے۔

القیوم : جو از خود قائم ہو ‘ دوسروں کا قائم کرنے والا ہو ‘ جو تمام کائنات کو قائم رکھے ہوئے ہے اور ان کے نظام کی تدبیر فرماتا ہے۔ (آیت) ومن ایتہ ان تقوم السمآء والارض بامرہ “۔ (الروم : ٢٥) اور اللہ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں “۔

اونگھ اور نیند سے بری : تھکاوٹ اور سستی سے غفلت کی جو کیفیت طاری ہوتی ہے وہ اونگھ ہے اور یہ نیند کا مقدمہ ہے اور نیند کا معنی ہے : دماغ کے اعصاب کا ڈھیلا پڑجانا جس کے بعد علم اور ادراک معطل ہوجاتا ہے اور حواس کا شعور اور ادراک بھی موقوف ہوجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں یہ معنی محال ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے غفلت محال ہے ‘ اور اس عظیم کائنات کا موجد اور اس کے نظام کو جاری رکھنے والا ہے اور ہر آن اور ہر لمحہ اس کائنات میں تبدیلی اور تغیر واقع ہو رہا ہے اور اس کے علم اور اس کی توجہ سے ہو رہا ہے ‘ وہ ہر وقت ہر چیز کے ہرحال کا عالم ہے ‘ بیخبر اور سونے والا نہیں ہے۔

آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز اس کی ملکیت ہے : تمام آسمانوں اور زمینوں کی مخلوق ‘ سب اس کے بندے اور اس کی ملکیت ہیں ‘ ہر چیز اس کی قدرت اور اس کی مشیت کے تابع ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا “۔۔ (مریم : ٩٣)

ترجمہ : آسمانوں اور زمینوں میں ہر ایک رحمان کے حضور عبد بن کر حاضر ہوگا۔

اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور شفاعت نہیں ہوگی : اللہ تعالیٰ کی عظمت ‘ جلالت اور اس کی کبریائی کا یہ تقاضا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے حضور شفاعت نہیں کرسکے گا ‘ حشر کے دن تمام انبیاء ‘ رسل ‘ اولیاء ‘ علماء اور شہداء اللہ تعالیٰ کے جلال سے سہمے ہوئے ہوں گے اس دن ہمارے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوں گے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد ! اپنا سر اٹھائیے ‘ آپ کہیے آپ کی بات سنی جائے گی ‘ آپ شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول ہوگی ‘ پھر اللہ تعالیٰ ایک حد مقرر فرمائے گا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حد کی مطابق شفاعت فرمائیں گے ‘ یہ حدیث تفصیل کے ساتھ باحوالہ (آیت) ” ورفع بعضھم درجت “ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے اور لوگوں کو اتنا ہی علم ہے جتنا اس نے دیا : اللہ تعالیٰ کا علم تمام کائنات کے ماضی ‘ حال اور مستقبل کو محیط ہے ‘ وہ دنیا اور آخرت کے تمام امور کو تفصیلا جانتا ہے ‘ اس کو ایک ذرہ کا علم بھی غیر متناہی وجوہ سے ہوتا ہے ‘ مثلا ایک ذرہ کو کتنے انسانوں ‘ کتنے جانورروں ‘ کتنے جنات اور کتنے فرشتوں نے دیکھا ‘ اس ایک ذرہ کی دیگر ذرات کے ساتھ کتنی نسبتیں ہیں ‘ اس پر کتنے ہوا کے جھونکے اور کتنے بارش کے قطرے گزرے ‘ اس میں کتنے فائدے ‘ کتنے نقصانات ‘ کتنی حکمتیں ہیں ‘ اس ذرہ کی کتنی عمر ہے ‘ وہ کہاں کہاں رہا اور ایسی بیشمار وجوہ ہیں ‘ تمام کائنات کا علم تو الگ رہا ایک ذرہ کے متعلق اللہ کا علم کتنا وسیع ہے انسان کی عقل اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی ‘ مخلوق کو اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا وہ عطا فرماتا ہے۔

اس کی کرسی تمام آسمانوں اور زمینوں کو محیط ہے : کرسی کی کئی تفسیریں کی گئی ہیں ‘ کرسی سے مراد علم ہے ‘ اسی وجہ سے علماء کو بھی کر اسی کہتے ہیں ‘ یا اس لیے کہ انسان کرسی پر ٹیک لگاتا ہے اور اعتماد کرتا ہے اور علماء کا اعتماد بھی علم پر ہوتا ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ کرسی سے مراد عظمت ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ کرسی سے مراد ملک اور حکومت ہے۔ امام مقدسی نے حضرت عمر (رض) سے روایت کیا کہ اللہ کی کرسی تمام آسمانوں اور زمینوں کو محیط ہے اور وہ اس طرح چرچراتی ہے جیسے نیا پالان سواروں کے بوجھ سے چرچراتا ہے۔ (الاحادیث المختارہ ج ١ ص ٢٢٨‘ مطبوعہ مکتبۃ النھضۃ الحدیثہ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٠ ھ)

کرسی کے متعلق حافظ سیوطی نے بہت احادیث ذکر ہیں ‘ ہم ان میں سے چند احادیث ذکر کر رہے ہیں :

امام ابن المنذر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اگر سات آسمانوں اور سات زمینوں کو بچھا دیا جائے تب بھی وہ کرسی کے مقابلہ میں اس طرح ہیں جیسے ایک انگشتری کسی وسیع میدان میں پڑی ہو۔

امام ابن جریر ‘ امام ابن مردویہ اور امام بیہقی نے حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کرسی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! سات آسمان اور سات زمینیں کرسی کے مقابلے میں اس طرح ہیں جیسے کسی جنگل میں انگوٹھی کا چھلہ پڑا ہو ‘ اور عرش کی فضیلت کرسی پر اس طرح ہے جیسے جنگل کی فضیلت اس انگوٹھی کے چھلے پر ہے۔

امام ابوالشیخ نے ابو مالک سے روایت کیا ہے کہ کرسی عرش کے نیچے ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ٢ ص ‘ ٣١٣۔ ٣١٢ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں :

کرسی کا معنی ہے : جس پر کوئی شخص بیٹھے اور بیٹھنے کے بعد اس میں جگہ نہ بچے اور یہاں یہ کلام بہ طور تمثیل ہے ‘ ورنہ کوئی کرسی ہے نہ کوئی بیٹھنے والا ‘ اکثر متاخرین نے یہی کہا ہے تاکہ اللہ کے لیے جسم ہونا لازم نہ آئے ‘ اور احادیث میں بھی استعارہ ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے اور حق وہی ہے جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور تو ہم جسمیت کا کوئی اعتبار نہیں ہے رونہ اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات کا انکار لازم لازم آئے گا اور متقدمین نے یہ کہا کہ یہ متشابہات میں سے ہے اور حقیقت میں اس سے کیا مراد ہے اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ (روح المعانی ج ٣ ص ١٠‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

آسمانوں اور زمینوں کی حفاظت اللہ کو نہیں تھکاتی :

آسمانوں اور زمینوں کی حفاظت اللہ پر بھاری اور دشوار نہیں ہے بلکہ اللہ کے نزدیک بہت سہل اور آسان ہے ‘ وہ ہر چیز کو قائم رکھنے والا اور ہر چیز کا محافظ اور نگہبان ہے ‘ وہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے ‘ اس کا ارادہ اٹل ہے اور جس کا وہ ارادہ کرلے اس کو ضرور کر گزرتا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے اور ہر شے سے بلند اور برتر ہے۔ اور وہی سب سے عظیم ہے ‘ کبریائی اور بڑائی اسی کو زیبا ہے۔

آیت الکرسی کے فضائل :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام احمد ‘ امام مسلم ‘ امام ابوداؤد اور امام حاکم ‘ حضرت ابی بن کعب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے (امتحانا) سوال کیا کہ کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے ؟ انہوں نے کہا : آیۃ الکرسی ! آپ نے فرمایا : اے ابوالمنذر ! تم کو یہ علم مبارک ہو۔

امام بخاری نے اپنی ” تاریخ “ میں ‘ امام طبرانی اور امام ابو نعیم نے مستند راویوں سے روایت کیا ہے : حضرت ابن الاسقع بکری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم سے ایک شخص نے پوچھا کہ قرآن مجید کی کوئی سی آیت سب سے عظیم ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (آیت) ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ (البقرہ : ٢٥٥) اور پوری آیت پڑھی۔

امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس سخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی کو پڑھا ‘ اللہ تعالیٰ اس کو دوسری نماز تک اپنی حفاظت میں رکھتا ہے اور آیت الکرسی کی حفاظت صرف نبی ‘ صدیق یاشہید ہی کرتا ہے۔

امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ہر نماز کے بعد آیت الکرسی کو پڑھے اس کو جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا اور کوئی چیز مانع نہیں ہوگی اور وہ مرتے ہی جنت میں داخل ہوجائے گا۔ (امام نسائی از حضرت ابوامامہ ‘ سنن کبری ج ٦ ص ٣٠‘ عمل الیوم واللیلۃ ص ٤٩‘ امام طبرانی از حضرت ابوامام ‘ المجم الکبر ج ٨ ص ١١٤‘ مسند السامیین ج ٢ ص ٩‘ کتاب الدعاء ص ٢١٤‘ امام ابن السنی ‘ عمل الیوم واللیلۃ ص ٤٣‘ حافظ الہیثمی ‘ مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٠٢)

امام بخاری ‘ امام نسائی ‘ اور امام ابو نعیم نے ” دلائل “ میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے زکوۃ کی حفاظت پر مامور کیا ‘ ایک شخص آیا اور مٹھی بھر طعام لے جانے لگا ‘ میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا : میں تجھے ضرور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے جاؤں گا ‘ اس نے کہا : مجھے چھوڑ دو ‘ میں محتاج اور عیال دار ہوں اور مجھے بڑی سخت ضرورت تھی ‘ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ (رض) گزشتہ رات کے تمہارے قیدی کا کیا ہوا ؟ میں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس نے اپنی سخت حاجت بیان کی ‘ مجھے اس پر ترس آیا اور میں نے اس کو چھوڑ دیا ‘ آپ نے فرمایا : وہ جھوٹا ہے اور وہ پھر آئے گا ‘ مجھے یقین ہوگیا کہ وہ پھر آئے گا تو میں اس کی گھات لگا کر بیٹھا ‘ وہ آیا اور مٹھی بھر طعام لے جانے لگا ‘ میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا : میں تجھے ضرور رسول اللہ کے پاس لے جاؤں گا ‘ اس نے کہا : مجھے چھوڑ دو ‘ میں ضرورت مند اور عیال دار ہوں ‘ میں دوبارہ نہیں آؤں گا ‘ مجھے اس پر ترس آیا اور میں نے اس کو چھوڑ دیا ‘ صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گزشتہ رات کے تمہارے قیدی کا کیا ہوا ‘ ؟ میں نے کہا : یارسول اللہ ! اس نے اپنی اور اپنے عیال کی سخت مجبوری بیان کی ‘ مجھے ترس آیا اور میں نے اس کو چھوڑ دیا آپ نے فرمایا : وہ جھوٹا ہے اور پھر آئے گا۔ میں تیسری رات پھر اس کی گھات میں بیٹھا ‘ وہ آیا اور پھر مٹھی بھر کے طعام لے جانے لگا ‘ میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا : آج آخری بار ہے ‘ میں تجھ کو ضرور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے جاؤں گا ‘ تو یہ کہتا ہے کہ میں نہیں آؤں گا اور پھر آجاتا ہے ‘ اس نے کہا : مجھے چھوڑدو میں تم کو چند ایسے کلمات بتاتا ہوں جن سے تم کو نفع ہوگا ‘ میں نے پوچھا : وہ کون سے کلمات ہیں ؟ اس نے کہا : جب تم بستر پر جاؤ تو آیۃ الکرسی پڑھنا تو صبح تک اللہ تمہاری حفاظت کرے گا اور تمہارے پاس صبح تک شیطان نہیں آئے گا ‘ صبح کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہے تو وہ جھوٹا لیکن یہ بات اس نے سچ کہی ہے۔

امام ابن الضریس نے حضرت قتادہ سے روایت کیا ہے کہ جو شخص بستر پر لیٹ کر آیۃ الکرسی پڑھتا ہے صبح تک دو فرشتے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٣٢٧۔ ٣٢٢“ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

کرسی پر بیٹھنے کی تحقیق :

آیۃ الکرسی کی اس بحث میں ہم کرسی پر بیٹھنے کا شرعی حکم بیان کرنا چاہتے ہیں کیونکہ بعض علماء نے اس مسئلہ میں تشدد کیا ہے اور کرسی پر بیٹھنے کو ناجائز اور مکروہ تحریمی لکھا ہے اور بعض علماء نے کرسی پر بیٹھنے کو بدعت کہا ہے۔

علامہ ابوطالب مکی لکھتے ہیں :

پہلے صوفیاء کے بیٹھنے کا طریقہ یہ تھا کہ وہ مجتمع ہو کر گھٹنوں کو کھڑا کرلیتے تھے ‘ بعض اپنے قدموں پر بیٹھتے اور اپنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لیتے ‘ خصوصا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے زمانہ سے علماء دین کا یہی طریقہ تھا۔ حسن بصری کے زمانہ سے لے کر ابوالقاسم جنید تک صوفیاء کا یہی طریقہ تھا ‘ اس وقت تک کرسیاں نہیں ہوتی تھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی یہی مروی ہے کہ آپ اکڑوں بیٹھے تھے اور گھٹنوں کے گرد کلائیوں سے حلقہ بنا لیتے اور ایک روایت میں ہے کہ قدموں پر بیٹھتے تھے اور کلائیاں گھٹنوں پر رکھ لیتے تھے۔ صوفیاء میں سے جو شخص سب سے پہلے کرسی پر بیٹھا وہ مصر کے یحییٰ بن معاذ (رح) تھے اور بغداد میں ان کی موافقت ابو حمزہ نے کی اور مشائخ نے ان کی مذمت کی۔ کرسی پر بیٹھنا ان عارفین کی سیرت سے نہیں ہے جو علم معرفت میں کلام کرتے ہیں چار زانو (آلتی پالتی مار کر بیٹھنا) نحویوں ‘ لغویوں ‘ دنیا دار علماء اور مفتیوں کا طریقہ ہے اور یہ متکبرین کی وضع ہے اور تواضع کا طریقہ سمٹ کر یا جڑ کر بیٹھنا ہے۔ (قوت القلوب ج ١ ص ١٦٦‘ مطبوعہ مطبعہ میمنہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

علامہ ابوطالب مکی کی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ کرسی پر بیٹھنا اور چار زانو بیٹھنا جنید بغدادی کے بعد صوفیاء میں شروع ہوا عہد صحابہ سے لے کر جنید تک یہ طریقہ نہیں تھا ‘ سو یہ بدعت اور سنت کے خلاف ہے اور متکبرین کے بیٹھنے کا طریقہ ہے۔

علامہ ابوطالب مکی کی رائے صحیح نہیں ہے بلکہ کتاب وسنت کے خلاف ہے ‘ کرسی پر بیٹھنا انبیاء (علیہم السلام) ‘ فرشتوں اور صحابہ کا طریقہ ہے اور چار زانوں بیٹھنا بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے ‘ پہلے ہم کرسی پر بیٹھنے کے متعلق بحث کریں گے اس کے بعد چار زانو بیٹھنے پر گفتگو کریں گے۔

کرسی کا لغوی معنی :

علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں :

کرسی لغت میں اس چیز کو کہتے جس پر ٹیک لگا کر بیٹھا جاتا ہے ‘ ثعلب نے کہا : کرسی وہ ہے جو عرب کے نزدیک بادشاہوں کی کرسی کی حیثیت سے معروف ہے (ٹیک لگانے کی قید سے کرسی تخت سے ممتاز ہوگئی) (لسان العرب ج ٦ ص ١٩٤ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ‘ قم ‘ ایران ١٤٠٥ ھ)

علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں :

زمخشری نے کہا ہے کہ کرسی وہ ہے جس پر بیٹھنے کے بعد مقعد سے زائد جگہ نہ بچے (یہ تخت اور کرسی میں فرق ہے ‘ تخت پر بیٹھنے کے بعد جگہ باقی رہتی ہے اور کرسی میں نہیں رہتی) ۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص ‘ ٦٦‘ ج ٩ ص ٢٣٧‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

قرآن مجید ‘ احادیث اور آثار سے کرسی پر بیٹھنے اور چار زانو بیٹھنے کا جواز :

قرآن مجید سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کرسی پر بیٹھتے تھے :

(آیت) ” ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسدا “۔ (ص : ٣٤)

ترجمہ : اور بیشک ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا۔

رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرائیل کو ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس وقت میں جارہا تھا تو میں نے آسمان سے ایک آواز سنی ‘ میں نے نظر اوپر اٹھائی تو دیکھا کہ جو فرشتہ میں نے حرا میں دیکھا تھا وہ زمین و آسمان کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی کرسی پر بیٹھے ہیں ‘ امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو رفاعہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا ‘ اس وقت آپ خطبہ دے رہے تھے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ایک مسافر آیا ہے وہ دین کے متعلق سوال کر رہا ہے وہ نہیں جانتا کہ اس کا دین کیا ہے ؟ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ چھوڑ کر میری طرف متوجہ ہوگئے حتی کہ میرے پاس آئے ‘ ایک کرسی لائی گئی ‘ آپ اس پر بیٹھ گئے ‘ میرا گمان ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے دیئے ہوئے علم سے مجھے دین کی تعلیم دی پھر آکر اپنا خطبہ مکمل کیا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٢٨٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ نووی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرسی پر اس لیے بیٹھے تھے کہ سب لوگ آپ کا کلام سنیں اور آپ کی زیارت کریں۔ ١ (علامہ یحٰٰی بن شرف نووی متوفی ٦٧٦ ھ ‘ (شرح مسلم ج ١ ص ‘ ٢٨٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ ٢ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٥ ص، ٨٠ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں بھی کرسی تھی ‘ امام احمد روایت کرتے ہیں :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گزشہ رات میں نے گھر میں آہٹ سنی تو باہر جبرائیل (علیہ السلام) تھے ‘ میں نے کہا : آپ گھر کے اندر کیوں نہیں آتے ؟ کہا : گھر میں کتا ہے ‘ میں نے گھر جا کر دیکھا تو کرسی کے نیچے حسن کے کتے کا بچہ تھا۔ (مسند احمد ج ١ ص ١٠٧‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

حضرت عمر (رض) بھی کرسی پر بیٹھے تھے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ میں شیبہ کے ساتھ کعبہ میں کرسی پر بیٹھا اور کہا : اس بیٹھنے کی جگہ پر حضرت عمر (رض) بھی بیٹھے تھے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢١٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ) چ

اور متعدد احادیث میں ہے کہ حضرت علی (رض) بھی کرسی پر بیٹھے تھے امام نسائی روایت کرتے ہیں :

عبد خیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے لیے کرسی لائی گئی اور وہ اس پر بیٹھے۔ (سنن نسائی ج ١ ص ٢٧ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام نسائی نے اس حدیث کو دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ اور امام احمد نے بھی اس کو دوسندوں سے روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ١٣٩۔ ١٢٢‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

امام احمد نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک غزوہ میں بھیجے ہوئے بارہ صحابہ (رض) کے متعلق فرمایا : وہ شہید ہوگئے ‘ ان کے چہرے جنت میں چودھویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے تھے ان کے لیے سونے کی کرسیاں لائی گئیں۔ (مسند احمد ج ٣ ص ‘ ١٣٥ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

کرسی پر بیٹھنے کے جواز کو بیان کرنے کے بعد اب ہم چار زانو (آلتی پالتی مار کر) بیٹھنے کا جواز بیان کررہے ہیں۔

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز پڑھنے کے بعد اچھی طرح سورج نکلنے تک چار زانوبیٹھے رہتے تھے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٣١٠ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 255