بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِىَ يَوۡمٌ لَّا بَيۡعٌ فِيۡهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ‌ ؕ وَالۡكٰفِرُوۡنَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ

اے ایمان والو ! ان چیزوں میں سے خرچ کرو جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی نہ (کافروں کی) کسی سے دوستی ہوگی اور نہ (کفار کے لیے) شفاعت ہوگی ‘ اور کفار ہی ظالم ہیں “

بقیہ پچھلی آیت کی تفسیر

علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں ‘

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بکثرت عبادت کا جو حال مشہور تھا اس کا لحاظ رکھتے ہوئے اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقام کی بلندی پر جو دلالت ہے اس کو الفاظ بیان کرنے سے قاصر ہیں اور حدیث صحیح میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نفلی روزے رکھے اور نفلی نمازیں پڑھیں حتی کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے اور سالخوردہ مشک کی طرح آپ کا جسم لاغر ہوگیا ‘ آپ سے کہا گیا کہ آپ عبادت میں اس قدر مشقت کیوں کرتے ہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذنب (یعنی بہ ظاہر خلاف اولی کاموں) کی مغفرت کردی ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ (روح المعانی ج ٢٦ ص ‘ ٩١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

بعض علماء نے اس آیت کی توجیہ میں یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور آپ کی امت کے گناہ معاف کردیئے یعنی مغفرت کا تعلق آپ کے ساتھ نہیں ہے ‘ حضرت آدم اور آپ کی امت کے ساتھ ہے۔ ملاعلی قاری اس سے اختلاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اس شخص کا قول بہت بعید ہے جس نے یہ کہا کہ آپ کے اگلے ذنب ہیں اور آپ کے پچھلے ذنب سے مراد امت کے ذنب ہیں ‘ اور ظاہر یہ ہے کہ اس سے آپ کے وہ افعال مراد ہیں جن کو آپ نے سہوا ترک کردیا یا جن میں آپ نے انسیان سے تاخیر کردی اور خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے فضل کوئی بھی مستغنی نہیں ہے ‘ اسی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنے عمل کے سبب سے نجات نہیں پائے گا ‘ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بھی نہیں ؟ فرمایا : میں بھی نہیں ‘ ماسوا اس کے کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لیے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عدل کرے تو تام اولین اور آخرین کو عذاب دے گا اور یہ اس کا ظلم نہیں ہے ‘ ہم اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں اور اس کے عدل سے اس اس کی پناہ میں آتے ہیں۔ (جمع الوسائل ج ٢ ص ٨١‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

باعث تخلیق کائنات ہونے کی وجہ سے آپ کا افضل الرسل ہونا۔

امام طبرانی روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب حضرت آدم (علیہ السلام) سے اجتہادی خطا ہوگئی تو انہوں نے سر اٹھا کر عرش کی طرف دیکھا اور دعا کی : میں محمد کے حق میں سوال کرتا ہوں تو میری مغفرت فرما ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ محمد کون ہیں ؟ حضرت آدم نے کہا : جب تو نے مجھے پیدا کیا تھا تو میں نے عرش کی طرف سراٹھا کر دیکھا تھا ‘ وہاں یہ لکھا ہوا تھا : ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ سو میں نے انکی طرف وحی کی کہ اے آدم ! وہ آپ کی اولاد سے آخر النبیین ہیں اور ان کی امت آپ کی اولاد میں سے آخری امت ہے ‘ اور اے آدم ! اگر و نہ ہوتے تو میں آپ کو پیدا نہ کرتا۔ (معجم صغیر ج ٢ ص ٨٣‘ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ ‘ مدینہ منورہ ‘ ١٣٨٨ ھ)

حافظ الہیثمی نے اس حدیث کو ” معجم صغیر “ اور ” معجم اوسط “ کے حوالے سے بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کی سند میں ایسے روای ہیں جن کو میں نہیں پہچانتا۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٥٣‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام ابن جوزی نے بھی اس حدیث کو حضرت عمربن الخطاب سے روایت کیا ہے۔ (الوفاء ج ١ ص ٢٣‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ ‘ فیصل آباد)

امام بیہقی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے ‘ اس میں یہ الفاظ ہیں :

اللہ عزوجل نے فرمایا : اے آدم ! تم نے محمد کو کیسے پہنچانا ‘ حالانکہ ابھی میں نے ان کو پیدا نہیں کیا ؟ حضرت آدم نے کہا : اے میرے رب ! اس لیے کہ جب تو نے مجھے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور مجھ میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی تو میں نے عرش کے پایوں پر لکھا ہوا دیکھا ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ تو میں نے جان لیا کہ جس نام کو تو نے اپنے نام کے ساتھ ملا کر لکھا وہ تجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہوگا ‘ اللہ عزوجل نے فرمایا : اے آدم ! آپ نے سچ کہا : بیشک وہ مجھے اپنی تمام مخلوق میں بہت زیادہ محبوب ہیں اور جب آپ نے ان کے وسیلہ سے سوال کیا ہے تو میں نے آپ کو بخش دیا اور اگر محمد نہ ہوتے تو میں آپ کو پیدا نہ کرتا۔ اس حدیث کی سند میں عبدالرحمن بن زید ایک ضعیف راوی ہیں۔ (دلائل النبوۃ ج ٥ ص ٤٨٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

امام حاکم نے بھی اس کو روایت کیا ہے اور اس میں بھی یہ الفاظ ہیں : اگر محمد نہ ہوتے تو میں آپ کو پیدا نہ کرتا ‘ اور امام حاکم نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص ٦١٥‘ مطبوعہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ)

قائد المرسلین ہونے اور بعض دیگر فضائل کی وجہ سے آپ کا افضل الرسل ہونا :

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت واثلہ بن اسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کنانہ کو فضیلت دی اور کنانہ سے قریش کو فضیلت دی۔ ١ (امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ ‘ صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٢٤٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث کو امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔ ٢ (امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ ‘ جامع ترمذی ص ٥١٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

نیز امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول ! قریش اپنی مجلسوں میں اپنے حسب ونسب کا ذکر کرتے ہیں اور آپ کی مثال وہ اس طرح دیتے ہیں جیسے کسی زمین میں کھجور کا درخت ہو ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے ان کے بہترین فریقین میں رکھا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا ‘ پھر سب سے افضل گھر میں رکھا پس گھرانے اور شخصیت کے اعتبار سے میں سب سے افضل ہوں (جامع ترمذی ص ‘ ٥١٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قبروں سے اٹھنے والوں میں ‘ میں سب سے پہلا ہوں ‘ جب لوگوں کے وفد آئیں گے تو میں خطبہ دوں گا ‘ اور جب لوگ مایوس ہوجائیں گے تو میں بشارت دوں گا ‘ اور دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا ‘ اولاد آدم میں اپنے رب کے نزدیک میں سب سے مکرم ہوں اور مجھے فخر نہیں ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥١٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب زمین شق ہوگی تو سب سے پہلے میں اٹھوں گا ‘ مجھے جنت کے حلوں میں سے حلہ پہنایا جائے گا ‘ پھر میں عرش کی دائیں طرف کھڑا ہوں گا اور میرے سوا مخلوق میں سے کوئی شخص اس مقام پر کھڑا نہیں ہوگا۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥١٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن میں نبیوں کا امام اور خطیب ہوں گا ‘ اور میں ہی ان کی شفاعت کرنے والا ہوں گا ‘ اس پر فخر نہیں ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥٢٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن اولاد آدم کا میں سردار ہوں گا ‘ اور اس پر فخر نہیں اور میرے ہی ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اور اس پر فخر نہیں اور آدم اور ان کے علاوہ جتنے نبی ہیں سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور جب زمین شق ہوگی تو سب سے پہلے میں اٹھوں گا اور اس پر فخر نہیں۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥٢٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حافظ ابن عساکر روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں قائد المرسلین ہوں اور فخر نہیں ہے اور میں خاتم النبیین ہوں اور فخر نہیں ہے اور میں پہلا شفاعت کرنے والا اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوں جس کی شفاعت قبول ہوگی اور اس پر فخر نہیں ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٢ ص ١٠٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا ‘ آپ کے لیے نبوت کب واجب ہوئی ؟ فرمایا : جب آدم کو پیدا کرکے ان میں روح پھونکی جارہی تھی۔ ١ (حافظ القاسم علی بن الحسن ابن العساکر متوفی ٥٧١ ھ ‘ اس حدیث کو امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥١٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

خالق اور خلق کے محبوب ہونے کی وجہ سے آپ کا افضل الرسل ہونا :

قل ان کان ابآؤکم وابنآؤ کم واخوانکم وازواجکم وعشیرتکم واموال اقترفتموھا وتجارۃ تخشون کسادھا ومسکن ترضونھا احب الیکم من اللہ ورسولہ و جہاد فی سبیلہ فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرہ واللہ لا یھدی القوم الفسقین “۔۔ (التوبہ : ٢٤)

ترجمہ : آپ فرمائیے کہ تمہارے باپ دادا ‘ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کے گھاٹے کا تمہیں خوف ہے اور تمہارے پسندیدہ مکان اگر تم کو اللہ اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہوں تو پھر انتظار کرو حتی کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم لے آئے اور اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

ماں باپ اور بھائی بہنوں سے طبعی محبت ہوتی ہے ‘ بیوی سے شہوانی محبت ہوتی ہے اور مال و دولت ‘ تجارت اور مکانوں سے عقلی محبت ہوتی ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا ہے کہ محبت کی جو قسم بھی ہو اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت سے مغلوب کردو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت کو ہر محبت پر غالب کردو۔

صحابہ کرام (رض) و رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو محبت تھی اور اپنی جان سے ‘ ماں باپ اور اولاد سے ‘ بیویوں سے اور مال و دولت سے اور ہر چیز سے زیادہ تھی ‘ جنگ بدر میں حضرت ابوبکر اپنے بیٹے کے خلاف صف آرا تھے ‘ جنگ احد میں حضرت ابوعبیدہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا ‘ حضرت مصعب بن عمیر نے جنگ احد میں اپنے بھائی کو قتل کردیا ‘ جنگ بدر میں حضرت عمر (رض) نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کردیا اور حضرت علی (رض) نے اپنے کئی رشتہ داروں کو قتل کردیا۔ (نسیم الریاض ج ٣ ص ٣٦٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

قاضی عیاض لکھتے ہیں : ابن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ جنگ احد میں ایک عورت کا باپ ‘ بھائی اور شوہر قتل کردیا گیا ‘ اس نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا حال ہے ؟ صحابہ نے کہا : الحمد للہ ! وہ تمہاری تمنا کے مطابق خیریت سے ہیں ‘ اس نے کہا : مجھے دکھاؤ حتی کہ میں آپ کو دیکھ لوں ‘ جب اس نے آپ کو دیکھا تو کہا : آپ (کی خیریت) کے بعد ہر مصیبت آسان ہے۔ (شفاء ج ٢ ص ١٨‘ مطبوعہ عبدالتواب اکیڈمی ‘ ملتان)

نیز قاضی عیاض لکھتے ہیں کہ کفار مکہ حضرت زید بن دثنہ کو قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے جانے لگے۔ اس وقت ان سے ابوسفیان بن حرب نے کہا : اے زید ! میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں یہ بتاؤ کہ کیا تم کو یہ پسند ہے کہ اس وقت تمہاری جگہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوتے اور تمہارے بدلے ہم ان کی گردن اتار دیتے ؟ حضرت زید نے کہا : خدا کی قسم ! مجھے تو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ میں اپنے گھر میں آرام سے ہوں اور کے کانٹا چبھ جائے ‘ ابوسفیان نے کہا : میں نے اصحاب محمد کی طرح کسی شخص کو کسی سے محبت کرتے نہیں دیکھا۔ (شفاء ج ٢ ص ١٩‘ مطبوعہ عبدالتواب اکیڈمی ‘ ملتان)

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

حضرت حنظلہ بن ابی عامر اور حضرت عبداللہ بن عبدللہ بن ابی ابن سلول نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے مشرک اور منافق باپ کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت نہ دی ‘ حضرت حنظلہ بن ابی عامر جنگ احد میں شہید ہوگئے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ فرشتے ان کو غسل دے رہے ہیں، جاؤ ان کی بیوی سے جا کر پوچھو ‘ بیوی نے کہا : جس وقت انہوں نے جہاد کی آواز سنی تو یہ غسل کیے بغیر حالت جنابت میں جہاد کے لیے نکل گئے تھے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی لیے فرشتے ان کو غسل دے رہے تھے۔ (اصابہ ج ١ ص ٣٦١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

یہ اپنی جان ‘ اپنے ماں باپ ‘ اولاد اور رشتہ داروں کی طبعی محبت سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرنے کی مثالیں ہیں ‘ اور حنظلہ بن ابی عامر کے واقعہ میں شہوانی محبت سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کی دلیل ہے اور جن صحابہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاطر مکہ میں اپنے مال و دولت ‘ مکانات اور تجارت کو چھوڑ کر مدینہ ہجرت کی اس میں ان کی عقلی محبت سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرنے کا بیان ہے ‘ ثابت ہوا کہ صحابہ کرام کے نزدک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت ہر محبت پر غالب تھی ‘ صرف انسان ہی نہیں ‘ شجر وحجر اور حیوان بھی آپ سے محبت کرتے تھے ‘ آپ نے فرمایا : احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے کھجور کا تنا آپ کے فراق میں چیخیں مار کر روتا تھا ‘ اور جب آپ قربانی کرتے تو ہر اونٹنی آگے بڑھ بڑھ کر آپ کی چھری کے قریب ہوتی تھی، (صحیح بخاری وسنن ابوداؤد)

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ بیٹھے ہوئے آپ کا انتظار کر رہے تھے آپ (حجرے سے) نکل کر ان کے قریب ہو کر ان کی باتیں سننے لگے ‘ ان میں سے بعض نے تعجب سے کہا : اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے ایک خلیل بنانے لگا تو حضرت ابراہیم کو خلیل بنایا۔ دوسرے نے کہا : اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلام ہونے کا شرف بخشا ایک اور نے کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں ‘ دوسرے نے کہا : اور حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ نے صفی بنایا ‘ آپ نے ان کے پاس آکر ان کو سلام کیا اور فرمایا : میں نے تمہارا کلام اور اس پر تعجب سنا کہ ابراہیم اللہ کے خلیل ہیں ‘ اور ایسے ہی ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے کلیم ہیں ‘ وہ ایسے ہی ہیں اور عیسیٰ اللہ کا کلمہم اور اس کی روح ہیں ‘ وہ ایسے ہی ہیں اور آدم کو اللہ نے صفی بنایا اور وہ ایسے ہی ہیں ‘ سنو ! میں اللہ محبوب ہوں اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں ہے ‘ میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے ‘ میں قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی اور اس پر فخر نہیں ‘ میں سب سے پہلے جنت کی کھٹکھٹاؤں گا ‘ پھر اللہ میرے خاطر جنت کو کھولے گا اور اس میں مجھ کو داخل کرے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اور اس پر فخر نہیں اور میں اولین اور آخرین میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور اس پر فخر نہیں۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥٢٠‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کے مقابلہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے محبوب ہیں ‘ اور امام بخاری روایت کرتے ہیں ‘ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : میرا یہی گمان ہے کہ آپ کا رب کی خواہش بہت جلد پوری کرتا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٧٠٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

خلیل اور حبیب میں فرق کا بیان :

قاضی عیاض مالکی نے خلیل اور حبیب کا فرق بیان کرتے ہوئے امام ابوبکر بن فورک کے حوالے سے لکھا ہے، خلیل اللہ تک بالواسطہ پہنچے۔

(آیت) ” وکذلک نری ابرھیم ملکوت السموت السموت والارض “۔ (الانعام : ٧٥)

ترجمہ : اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمینوں کی ساری بادشاہی دکھائی۔

اور حبیب ‘ اللہ تک بلاواسطہ پہنچے :

(آیت) ” ثم دنا فتدلی۔ فکان قاب قوسین اوادنی “۔۔ (النجم : ٩۔ ٨)

ترجمہ : پھر (اللہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے) قریب ہوا پھر زیادہ قریب ہوا ، A پھر دو کمانوں کی مقدار کے برابر اللہ کے قریب ہوئے یا اس سے بھی زیادہ قریب ہوئے۔۔

خلیل کی مغفرت کا بیان رتبہ طمع میں ہے :

(آیت) ” والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین “۔۔ (الشعراء : ٨٢)

ترجمہ : اور جس سے میری امید وابستہ ہے وہ قیامت کے دن میری خطا معاف فرما دے گا۔

اور حبیب کی مغفرت کا بیان مرتبہ یقین میں ہے :

(آیت) ” انا فتحنالک فتحا مبینا۔ لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر “۔ (الفتح : ٢۔ ١)

ترجمہ : بیشک ہم نے آپ کو روشن فتح عطا فرمائی، تاکہ اللہ آپ کے لیے اگلے اور پچھلے (بظاہر) خلاف اولی سب کا معاف فرما دے۔

خلیل نے دعا کی کہ اللہ انہیں روز حشر شرمندہ نہ کرے :

(آیت) ” ولا تخزنی یوم یبعثون “۔۔ (الشعراء : ٨٧)

ترجمہ : اور مجھے روز حشر شرمندہ نہ فرمانا “۔۔

اور حبیب کو بن مانگے یہ مقام عطا فرمایا :

(آیت) ” یوم لا یخزی اللہ النبی والذین امنوا معہ “۔ (التحریم : ٨)

ترجمہ : جس دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو شرمندہ کرے گا نہ ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو۔

امتحان کے موقع پر خلیل نے کہا :

(آیت) ” حسبی اللہ “۔

ترجمہ : مجھے اللہ کافی ہے۔

اور حبیب کے لیے اللہ نے از خود فرمایا :

(آیت) ” یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المؤمنین “۔۔ (الانفال : ٦٤ )

ترجمہ : اے نبی آپ کے لیے اللہ اور وہ ایمان لانے والے کافی ہیں ‘ جنہوں نے آپ کی اتباع کی ہے “۔۔

خلیل نے دعا کی :

(آیت) ” واجعل لی لسان صدق فی الاخرین “۔۔ (الشعراء : ٨٤)

ترجمہ : اور بعد کے آنے والوں میں میرا ذکر جمیل جاری کردے “۔۔

اور حبیب کے لیے از خود فرمایا :

(آیت) ” ورفعنا لک ذکرک “۔۔ (الانشراح : ٤)

ترجمہ : اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کردیا “۔۔

سو قیامت تک کلمہ ‘ اذان ‘ نماز اور خطبہ میں مسلمانوں کی زبان سے آپ کا ذکر بلند ہوتا رہے گا۔

خلیل نے دعا کی :

(آیت) ” واجنبنی وبنی ان نعبدالاصنام “۔۔ (ابراہیم : ٣٥)

ترجمہ : اور مجھے اور میرے (خاص) بیٹوں کی بتوں کی عبادت سے اجتناب پر برقرار رکھ “۔ A

اور حبیب کے لیے بلاطلب از خود فرمایا :

(آیت) ” انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا “۔۔ (الاحزاب : ٣٣)

ترجمہ : اے اہل بیت رسول ! اللہ یہی ارادہ فرماتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی ناپاکی دور کرکے تم خوب پاکیزہ کر دے۔

قاضی عیاض فرماتے ہیں : ہم نے جو چند آیات ذکر کی ہیں ان سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احوال اور آپ کے مقامات کی افضلیت کی ایک جھلک معلوم ہوجاتی ہے اور ان آیات سے ہر شخص اپنے ذوق کے مطابق مفہوم اخذ کرتا ہے اور تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون احسن طریقہ پر ہے۔ (شفاء ج ١ ص ١٤٣۔ ١٣٣‘ مطبوعہ عبدالتواب اکیڈمی ‘ ملتان)

کلیم اور حبیب میں فرق کا بیان ؛

کلیم اور انکے بھائی حضرت ہارون نے فرعون کے پاس جاتے وقت اپنا خوف عرض کیا :

(آیت) ” ربنا اننا نخاف ان یفرط علینا او ان یطغی “۔ (طہ : ٤٥)

ترجمہ : اے ہمارے رب ! ہمیں یہ خدشہ ہے کہ وہ (فرعون) ہم پر کوئی زیادتی یا سرکشی کرے گا ، A

اور حبیب کے لے از خود فرمایا :

(آیت) ” واللہ یعصمک من الناس “۔ (المائدہ : ٦٧ )

ترجمہ : اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔

کلیم دعا کرتے ہیں :

(آیت) ” رب اشرح لی صدری “۔۔ (طہ : ٢٥)

ترجمہ : اے میرے رب ! میرا سینہ کھول دے۔۔

حبیب کے لیے از خود فرمایا :

(آیت) ” الم نشرح لک صدرک “۔۔ (الم نشرح : ١)

ترجمہ : کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ نہیں کھولا۔۔

کلیم دعا کرتے ہیں :

(آیت) ” رب ارنی انظر الیک “۔ (الاعراف : ١٤٣)

ترجمہ : اے رب ! مجھے اپنی ذات دکھا میں تجھے دیکھوں۔

حبیب سے فرمایا :

(آیت) ” الم ترالی ربک “۔ (الفرقان : ٤٥)

ترجمہ کیا آپ نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا۔

کلیم سے فرمایا : rnّ (آیت) ” لن ترنی “ (الاعراف : ١٤٣)

ترجمہ : تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکوگے۔

حبیب سے فرمایا : rnّ (آیت) ” مازاغ البصر وما طغی “۔۔ (النجم : ١٧)

ترجمہ : نہ نظر ایک طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی۔۔

کلیم اپنے رب کی رضا چاہتے ہیں : rnّ (آیت) ” وعجلت الیک رب لترضی “۔۔ (طہ : ٨٤)

ترجمہ : اے میرے رب ! میں نے تیرے پاس حاضر ہونے میں جلدی کی تاکہ تو راضی ہوجائے۔۔

اور حبیب کی رضا رب تعالیٰ چاہتا ہے : rnّ (آیت) ” فلنولینک قبلۃ ترضھا “۔ (البقرہ : ١٤٤)

ترجمہ : ہم ضرور آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے آپ راضی ہوں گے۔ rnّ (آیت) ” ولسوف یعطیک ربک فترضی “۔۔ (الضحی : ٥)

ترجمہ : اور بیشک آپ کو آپ کا رب اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے ‘۔۔ rnّ (آیت) ” ومن انآیء الیل فسبح و اطراف النھار لعلک ترضی “۔۔ (طہ : ١٣٠)

ترجمہ : اور رات کے کچھ اوقات اور دن کے کناروں میں تسبیح کیجئے تاکہ آپ راضی رہیں “۔۔

کلیم نے اپنے اور اپنی قوم کے لیے دعا کی : rnّ (آیت) ” واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ “۔ (الاعراف : ١٥٦)

ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ اور آخرت میں۔

حبیب کی امت کے متعلق فرمایا : rnّ (آیت) ” فساکتبھا للذین یتقون ویؤتون الزکوۃ والذین ھم بایتنا یؤمنون “۔۔ الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورۃ والانجیل “۔ (الاعراف : ١٥٧۔ ١٥٦)

ترجمہ : عنقریب میں اس (بھلائی) کو ان لوگوں کے حق میں لکھ دوں گا جو پرہیز گاری کرتے ہیں ‘ زکوۃ دیتے ہیں اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ جو اس رسول ‘ نبی امی (اللقب) کی پیروی کرتے ہیں جس کا نام ان کے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ہے۔

دیکھئے مانگا حضرت کلیم نے اور ملا آپ کے غلاموں کو معلوم ہوا کہ زمانہ کی نبی کا ہو کسی رسول کا ہو سکہ چلتا تھا تو مصطفے کا چلتا تھا اور ڈنکا بجتا تھا تو مصطفے کا بجتا تھا۔

انبیاء سابقین علہیم السلام کے معجزات پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات کی افضیلت :

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام الہی لینے کے لیے طور پر جانا پڑا اور آپ کو کلام الہی کے لیے کہیں جانا نہیں پڑتا تھا ‘ آپ جہاں ہوتے کلام الہی وہیں نازل ہوجاتا تھا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ معجزہ تھا کہ انہوں نے زمین پر لاٹھی ماری تو پانی نکل آیا ‘ لیکن زمین میں عادۃ پانی ہوتا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے توجہ فرمائی تو آپ کی انگلیوں سے پانی کے چشمے ابل پڑے اور جہاں عادۃ پانی نہیں ہوتا وہاں سے پانی نکل آیا۔

حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہا نرم کردیا گیا تھا اور وہ اس سے زرہ بنا لیتے تھے لیکن لوہے کو بھی عادۃ آگ سے گرم کیا جاسکتا ہے ‘ آپ کے لیے تو پتھر نرم ہوگیا جو کبھی نرم نہیں ہوتا ‘ حافظ ابو نعیم نے روایت کیا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار میں گئے اور آپ نے اس میں سرمبارک داخل کیا تو وہ نرم ہوتا چلا گیا ‘ اور ” صحیح بخاری “ میں ہے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : احد ایک پہاڑ ہے یہ ہم سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (ج ٢ ص ٥٨٥) دیکھئے پتھر وہ جنس ہے جس میں محبت پیدا نہیں ہوتی حتی کہ جس شخص کو کسی سے محبت نہ ہو اس کو سنگدل کہتے ‘ لیکن یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعجاز ہے کہ جس چیز کی حقیقت میں محبت نہیں ہے ‘ وہاں بھی اپنی محبت پیدا کردی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پہاڑ نے تسبیح کی اور آپ کے ہاتھ میں سنگریزوں نے تسبیح پڑھی ‘ کہاں لوہے کا نرم ہونا اور کہاں پتھروں کا محبت کرنا ‘ سنگ ریزوں کا تسبیح پڑھا۔

حضرت داؤد (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ولا تتبع الھوی “۔ (ص : ٢٦)

ترجمہ : اور آپ خواہش کی پیروی نہ کریں۔

اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : rnّ (آیت) ” وما ینطق عن الھوی “۔ (النجم : ٣)

ترجمہ : وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے “۔۔

سبحان اللہ ! آپ وہ ہیں جن کی اللہ کی رضا کے مقابلہ میں اپنی کوئی خواہش نہیں۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو پرندوں سے گفتگو کا ملکہ دیا اور جنات اور ہوا کو مسخر کیا گیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بکری کے گوشت کے ٹکڑے نے کلام کیا ‘ اور آپ سے کہا : مجھ میں زہر ملا ہوا ہے ہرن اور اونٹ نے آپ سے شکایت کی اور سنگ ریزوں نے آپ کے ہاتھ پر تسبیح پڑھی ‘ پتھروں نے سلام عرض کیا اور درختوں نے آپ کی اطاعت کی ‘ آپ کے حکم سے درخت ایک جگہ سے دوسری جگہ چل کر آیا اور پھر واپس چلا گیا ‘ یہ امور پرندوں کے ساتھ گفتگو کرنے کی بہ نسبت زیادہ عجیب و غریب اور باکمال ہیں ‘ ہوا کے مسخر کرنے کا قصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان اپنے تخت پر بیٹھ کر ہوا میں اڑتے تھے اور صبح کی سیر میں ایک ماہ کی مسافت طے کرلیتے اور شام کی سیر میں ایک ماہ کی مسافت طے کرلیتے : rnّ (آیت) ” ولسلیمن الریح غدوھا شھرورواحھا شھر “۔ (سبا : ١٢)

ترجمہ : اور سیلمان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا ‘ اس کی صبح کی رفتار ایک مہینہ کی راہ تھی اور شام کی رفتار کی رفتار ایک مہینہ کی راہ تھی۔

ہوا مسخر سہی ‘ لیکن حضرت سلیمان جس جگہ کا قصد کرتے انہیں وہاں جانا پڑتا تھا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہیں جانا نہیں پڑتا۔ آپ جس جگہ کا جہاں قصد کرتے وہ جگہ وہیں آجاتی تھی ‘ معراج سے واپسی کے بعد جب کفار قریش نے آپ سے بیت المقدس کے متعلق سوالات کیے تو بیت المقدس کو آپ کے سامنے دارارقم میں لا کر رکھ دیا گیا (مشکوۃ ص ٥٣٠‘ مطبوعہ اصح المطابع ‘ دہلی)

نیز آپ نے فرمایا :

ان اللہ زوی لی الارض فرایت مشارقھا ومغاربھا “۔

اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا اور میں نے زمین کے تمام مشارق اور مغارب کو دیکھا لیا۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٣٩٠ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اور رہا حضرت سلیمان کے لیے جنات کا مسخر ہونا تو اس کے مقابلہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبلیغ سے جنات مسلمان ہوگئے اور جنت کا مسخر ہونا اور بات ہے اور ان کا مسلمان ہونا اور چیز ہے۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اندھوں اور کوڑھیوں کے تندرست کرنے اور مردہ زندہ کرنے کا معجزہ عطا فرمایا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت قتادہ بن نعمان کی نکلی ہوئی آنکھ دوبارہ لوٹا دی ‘ حضرت سلمہ بن اکوع کی ٹوٹی پنڈلی جوڑ دی ‘ آپ کے بلانے سے درخت چل کرآئے ‘ کھجور کا تنا آپ کے فراق میں چیخیں مار کر رویا ‘ اور یہ سب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات سے کہیں بڑھ کر کمالات اور معجزات ہیں ‘ کیونکہ مردے میں پہلے جان آچکی ہوتی ہے ‘ آپ نے ان چیزوں میں حیات جاری کی جہاں عادۃ حیات نہیں ہوتی ‘ آنکھ والے کو دکھانا اور کان والے کو سنانا اور بات ہے اور بغیر آنکھوں کے دکھانا اور بغیر کانوں کے سنانا اور چیز ہے۔ الغرض نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو معجزات اور کمالات دیئے گئے وہ تمام نبیوں کے معجزات اور کمالات سے فائق اور ان پر غالب تھے ‘ آپ کے معجزات کی تعداد ‘ کیفیات اور حیثیات ہر اعتبار سے سب پر بلند وبالا تھے ‘ دوسرے نبیوں نے نبوت کا دعوی کرتے ہی معجزات پیش کیے اور آپ نے اعلان نبوت کے بعد کسی معجزہ کو پیش کرنے کی بجائے اپنی زندگی کو پیش کردیا اور یوں ظاہر ہوا کہ آپ کو اپنی نبوت ثابت کرنے کے لیے کسی خارجی معجزہ کی احتیاج نہیں تھی ‘ آپ کی زندگی خود سراپا معجزہ تھی ‘ یوں ہی تو نہیں فرمایا تھا : (آیت) ” لعمرک “۔ (الحجر : ٧٢) تمہاری زندگی کی قسم :“۔

حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی :

(آیت) ” رب انصرنی بما کذبون “۔۔ (المؤمنون : ٢٦)

ترجمہ : اے میرے رب ! میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلایا “۔۔

آپ سے بلاطلب فرمایا :

(آیت) ” وینصرک اللہ نصرا عزیزا “۔۔ (الفتح : ٣)

ترجمہ : اور اللہ آپ کی قوی مدد فرمائے گا۔۔

حضرت نوح نے اپنی قوم کے کافروں کی ہلاکت کی دعا کی :

(آیت) ” رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا “۔۔ (نوح : ٢٦)

ترجمہ : اے میرے رب ! زمین پر کافروں میں کوئی بسنے والا نہ چھوڑا “۔۔

اور آپ سے فرمایا :

(آیت) ” وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیھم “۔ (الانفال : ٣٣)

ترجمہ : اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے۔

سب سے پہلے قبر سے اٹھنے والی حدیث کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پہلے اٹھنے والی حدیث سے تعارض کا جواب “۔

حدیث میں ہے : سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا ‘ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے موسیٰ (علیہ السلام) پر فضلیت نہ دو کیونکہ قیامت کے دن لوگ بےہوش ہوں گے ‘ میں بھی ان کے ساتھ بےہوش ہوں گا میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا ‘ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کی ایک جانب پکڑے کھڑے ہوں گے میں نہیں جانتا کہ وہ بےہوش ہوئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے بےہوش ہونے سے مستثنی رکھا تھا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٢٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

علامہ بدرالدین یعنی لکھتے ہیں :

ان حدیثوں میں تعارض نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ”‘ صحیح بخاری “ کی روایت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جو ارشاد ہے اس وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ نہ ہو کہ آپ مطلقا سب سے پہلے قبر سے اٹھائے جائیں گے اور مسلم کی روایت میں جو ارشاد ہے وہ بعد کا واقعہ ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١٢ ص ‘ ٢٥١ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

علامہ وشتانی ابی مالکی نے بھی اس تعارض کا یہی جواب دیا ہے (اکمال اکمال المعلم ج ٦ ص ٩٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

جس حدیث میں آپ نے دوسرے انبیاء پر فضیلت دینے سے منع کیا ہے ‘ اس کے جوابات :

امام بخاری نے حضرت ابو سعیدخدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انبیاء میں (کسی کو) فضیلت نہ دو (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٢٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

” صحیح بخاری) کی ان روایات سے معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیگر انبیاء (علیہم السلام) پر فضیلت دینا ممنوع ہے حالانکہ صحیح مسلم کی روایت میں نبی کریم نے تمام انبیاء (علیہم السلام) پر اپنی فضیلت بیان کی ہے ‘ اس تعارض کے جواب میں علامہ بدر الدین عینی حنفی لکھتے ہیں :

علامہ ابن التین نے کہا ہے کہ ” انبیاء میں کسی کو فضیلت نہ دو “ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ بغیر علم کے کسی نبی کو پر فضیلت نہ دو ‘ ورنہ انبیاء (علیہم السلام) کی ایک دوسرے پر فضیلت کو اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمایا ہے ‘ ‘(آیت) ” تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض “۔ (البقرہ : ٢٥٣) یہ سب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے “۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی فضیلت کا علم ہونے سے پہلے یہ فرمایا تھا،

تیسرا جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح فضیلت دینے سے منع فرمایا ہے جو دوسرے نبی کی تنقیص کو مستلزم ہو۔

چوتھا جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی فضیلت دینے سے منع فرمایا ہے جو دوسرے نبی کی دل آزاری کا موجب ہو،

پانچواں جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نفس نبوت میں فرق کرنے سے منع فرمایا ہے۔

چھٹا جواب یہ ہے کہ آپ کا یہ قول تواضع پر محمول ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢ ص ‘ ٢٥١ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

اس آیت کی تفسیر

راہ خدا میں مال خرچ کرنے کی تاکید :

سابقہ آیات میں مسلمانوں کو بدن کے ساتھ جہاد کرنے پر برانگیختہ کیا تھا اور چونکہ جہاد اور قتال کے لیے مال کو خرچ کرنا بہت ضروری ہے اس لیے ان آیات میں مال خرچ کرنے کو بیان فرمایا ہے اور اس حکم کو قیامت کے دن کی یاد دلا کر مزید مؤکد فرمایا ہے۔ دنیا میں تو انسان اپنے آپ کو مصیبت اور تکلیف سے بچانے کے لیے بعض چیزیں خرید لیتا ہے ‘ کبھی کوئی دوست اس سے تکلیف دور کردیتا ہے کبھی کسی کی سفارش سے اس سے مصیبت ٹل جاتی ہے ‘ لیکن قیامت کے دن کوئی خریدو فروخت ہو سکے گی نہ کسی کی دوستی کام آئے گی نہ کسی کی سفارش۔

اس میں اختلاف ہے کہ یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کون سا خرچ مراد ہے ‘ بعض علماء نے کہا : اس سے قتال اور جہاد میں خرچ کرنا مراد ہے۔ بعض علماء نے کہا : اس سے زکوۃ اور صدقات فرضیہ مراد ہیں اور صدقات نفلیہ مراد نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خرچ نہ کرنے پر وعید فرمائی ہے اور نفل کے ترک کرنے پر وعید نہیں ہوتی لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں وعید نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہ فرمایا ہے کہ قیامت کا دن آنے سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور جب ت تم دنیا میں ہو آخرت کے لیے منافع حاصل کرو ‘ کیونکہ ان منافع کا آخرت میں حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔

آخرت میں دوستی اور سفارش سے مسلمانوں کے انتقاع کا بیان :

ہر چند کہ اس آیت سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن کسی شخص سے دوستی کام نہیں آئے گی نہ کسی کی کسی کے لیے سفارش کام آئے گی لیکن قرآن مجید کی دوسری آیات سے یہ متعین ہوگیا ہے یہ محرومی صرف کفار کے لیے ہے اور مسلمانوں کی مسلمانوں سے دوستی بھی کام آئے گی اور سفارش بھی قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” الا خلآء یومئذ بعضہم لبعض عدو الا المتقین۔ یعباد لا خوف علیکم الیوم ولا انتم تحزنون۔ الذین امنوا بایتنا وکانوا مسلمین۔ (الزخرف : ٦٩۔ ٦٧)

ترجمہ : متقین کے سوا گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غمگین ہو گے۔ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور ہمارے احکام کے تابع رہے۔

اور مسلمانوں کی شفاعت کے متعلق فرمایا :

(آیت) ” ولا یشفعون الا لمن ارتضی “۔ (الانبیاء : ٢٨)

ترجمہ : اور (فرشتے) صرف اس کی شفاعت کرتے ہیں جس (کی شفاعت) پر اللہ راضی ہو۔ شفاعت پر سیر حاصل بحث البقرہ : ٤٨ میں بیان کرچکے ہیں :

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 254