بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَاۤ اِكۡرَاهَ فِى الدِّيۡنِ‌ۙ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَىِّ‌ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَيُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى لَا انْفِصَامَ لَهَا‌‌ ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ

دین میں جبر نہیں ہے بیشک ہدایت گمراہی سے خوب واضح ہوچکی ہے ‘ سو جو شخص طاغوت سے کفر کرکے اللہ پر ایمان لے آیا تو اس نے ایسا مضبوط دستہ پکڑ لیا جو کبھ ٹوٹنے والا نہیں ہے ‘ اور اللہ خوب سننے والا بہت جاننے والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : دین میں جبر نہیں ہے ‘ بیشک ہدایت گمراہی سے خواب واضح ہوچکی ہے۔ (البقرہ : ٢٥٦)

دین میں جبر نہ ہونے کی تحقیق :

اس سے پہلے آیت الکرسی میں اللہ عزوجل کی صفات بیان کی گئی تھیں ‘ اور یہ بتایا گیا تھا کہ تمام آسمانوں میں صرف اسی کی سلطنت ہے اور آسمانوں اور زمینوں کی حفاظت سے اس کو تھکاوٹ نہیں ہوتی اور اس کو ہر چیز کا علم ہے ‘ اور جب انسان نے یہ جان لیا تو پھر اس کے اسلام قبول کرنے اور اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے اور انسان اگر اس کائنات میں غور وفکر کرے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ اس کائنات کو پیدا کرنے والا اور اس کو باقی رکھنے والا وہی رب عظیم ہے ‘ اب اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات کو جاننے کے بعد انسان از خود اس پر ایمان لانا چاہیے اور اس کے لیے کسی جبر واکراہ کی ضرورت نہیں ہے۔

قرآن مجید میں ایک اور جگہ بھی اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ منشاء نہیں ہے کہ لوگ جبرا اسلام میں داخل ہوں۔

(آیت) ” ولوشاء ربک لامن من فی الارض کلھم جمیعا، افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مؤمنین “۔۔ (یونس : ٩٩)

ترجمہ : اور اگر آپ کا رب چاہتا تو زمین میں جتنے لوگ ہیں سب ہی ایمان لے آتے تو کیا آپ لوگوں ایمان لانے پر مجبور کریں گے۔۔

(آیت) ” وقل الحق من ربکم فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر “۔ (الکہف : ٢٩)

ترجمہ : اور آپ کہیے کہ یہ حق (ہے) تمہارے رب کی طرف سے سو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔

امام ابن جریر روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک قبیلہ بنو سالم بن عوف کے حصین نامی ایک شخص کے دو بیٹے نصرانی تھے اور وہ خود مسلمان تھے ‘ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ ان کے بیٹے اسلام قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں کیا وہ ان کو جبرا مسلمان کریں تو یہ آیت نازل ہوئی کہ دین میں جبر نہیں ہے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١٠ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

” دین میں جبر نہیں ہے “ (البقرہ : ٢٥٦) اس آیت کے متعلق علماء تفسیر کا اختلاف ہے ‘ بعض علماء نے کہا : یہ آیت اس دور میں نازل ہوئی جب کفار سے جہاد اور قتال کا حکم نازل نہیں ہوا تھا ‘ جب ان کی زیادتیوں پر معاف کرنے اور در گزر کرنے کا حکم تھا ‘ اور یہ حکم تھا کہ ان کی برائی کو اچھائی سے دور کرو اور عمدہ طریقہ سے ان سے بحث کرو ‘ اور جب جاہل مسلمانوں سے بات کرتے تو وہ سلام کہتے۔ اور جب جہاد اور قتال کی آیات نازل ہوئیں تو ان آیات کا حکم منسوخ ہوگیا ‘ جہاد اور قتال کی بعض آیات یہ ہیں :

(آیت) ” یایھا النبی جاھد الکفار والمنفقین واغلظ علیھم “۔ (التوبہ : ٧٣)

ترجمہ : اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے۔

(آیت) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “۔ (التوبہ : ٥)

ترجمہ : پس تم مشرکین کو جہاں بھی پاؤ انہیں قتل کردو۔

(آیت) ” وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ “۔ (الانفال : ٣٩)

ترجمہ : اور کافروں سے قتال کرتے رہو حتی کہ کفر کا غلبہ نہ رہے اور (پورا) دین صرف اللہ کے لیے ہوجائے۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے حتی کہ وہ ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کی گواہی دیں جب وہ ایسا کرلیں گے تو وہ مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرلیں گے ماسوا حق اسلام کے اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس سلسلہ میں تحقیق یہ ہے کہ اس آیت کا حکم منسوخ نہیں ہے بلکہ یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ مخصوص ہے یعنی جو لوگ کسی دین کو ماننے والے ہیں ان پر دین اسلام کو قبول کرنے کے معاملہ میں جبر نہیں کیا جائے گا اور رہے کفار اور بت پرست جن کا کسی آسمانی دین سے تعلق نہیں ہے تو ان کے اور ہمارے درمیان صرف تلوار ہے ‘ وہ اسلام قبول کرلیں ورنہ ان کو قتل کردیا جائے گا ‘ اس کے برخلاف یہود و نصاری اگر جزیہ ادا کردیں تو ان سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا امام ابن جریر کا بھی یہی نظریہ ہے اور اس کی تائید حسب ذیل احادیث سے ہوتی ہے ‘ امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا گیا کہ جزیرہ عرب میں بت پرستوں سے قتال کریں اس لیے آپ نے ان سے ” لا الہ اللہ “ یا تلوار کے سوا کسی چیز کو قبول نہیں کیا ‘ اور باقی لوگوں سے جزیہ کو قبول کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : دین میں جبر نہیں ہے۔

زید بن اسلم نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں دس سال رہے اور آپ کسی شخص پر دین میں جبر نہیں کرتے تھے اور مشرکین آپ سے قتال کرنے کے سوا اور کسی بات کو نہیں مانے ‘ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے قتال کرنے کی اجازت دی۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١٢۔ ١١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ ابوبکر جصاص رازی حنفی لکھتے ہیں :

قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں مشرکین سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اہل کتاب جب جزیہ ادا کردیں تو وہ اہل اسلام کے حکم میں داخل ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین عرب سے تلوار یا اسلام کے سوا اور کسی چیز کو قبول نہیں کیا اور جو مشرک بھی یہودی یا نصرانی ہوجائے اس کو قبول اسلام پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٤٥٢‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

مشروعیت جہاد پر ‘ نفی جبر کی وجہ سے اعتراض ‘ اور معاصر مفسرین کے جوابات :

غیر مسلم سکالرز اور مستشرقین ‘ اسلام کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے ‘ اس سے مرعوب ہو کر ہمارے بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں یہ بتادیا گیا ہے کہ ” دین میں جبر نہیں ہے اور جہاد کا حکم صرف مدافعانہ جنگ کے لیے ہے یعنی جب کوئی قوم مسلمانوں پر حملہ آور ہو تو وہ اپنے تحفظ اور دفاع کے لیے جہاد کریں۔

پیر محمد کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں :

اسلام جس طرح یہ گوارا نہیں کرتا کہ کسی کو جبرا مسلمان بنایا جائے اسی طرح وہ یہ بھی برداشت نہیں کرتا کہ کوئی اس کے ماننے والوں پر تشدد کرکے انہیں اسلام سے برگشتہ کرے یا جو خوشی سے اسلام کی برادری میں شریک ہونا چاہتے ہیں ان کو ایسا کرنے سے زبردستی روکا جائے ‘ اور اگر کہیں ایسی صورت پیدا ہوجائے تو اس وقت اسلام اپنے ماننے والوں کو حکم دیتا ہے کہ ایسی حالت میں وہ ظالم قوت کا مقابلہ کریں اور یہی اسلام کا نظریہ جہاد ہے ‘ اسلام کے بعض نکتہ چیں جہاد کو اکراہ فی الدین سے تعبیر کرتے ہیں اور اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں وہ سن لیں کہ اسلام ان کی خوشنودی کا پروانہ حاصل کرنے کے لیے اپنے ماننے والوں کو دشمنان دین و ایمان کے جور وستم کا تختہ مشق بننے نہیں دے گا۔ (ضیاء القرآن ج ١ ص ١٧٩‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیلشنز ‘ لاہور)

شیخ امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :

اسی طرح ہمیں اس امر سے انکار نہیں ہے کہ مجرد کسی قوم کے اندر کفر کا وجود اس امر کے لیے کافی وجہ نہیں ہے کہ اسلام کے علمبردار انکے خلاف جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور تلوار کے زور سے ان کو اسلام پر مجبور کردیں ‘ جہاد اصلا فتنہ اور فساد فی الارض کے مٹانے کے لیے مشروع ہوا ہے ‘ اگر یہ چیز کہیں پائی جاتی ہے تو اہل ایمان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ استطاعت رکھتے ہوں تو وہ اس فتنہ اور فساد کو مٹانے کے لیے جہاد کریں ‘ خاص طور پر اس فتنہ کو مٹانے کے لیے جو اہل کفر کے ہاتھوں اس لیے برپا کیا جائے کہ اہل ایمان کو انکے دین سے پھیرا جائے یا اسلامی نظام کو برباد کیا جائے ‘ صرف مشرکین بنی اسماعیل کا معاملہ اس کلیہ سے استثناء کی نوعیت رکھتا ہے۔ (تدبر قرآن ج ١ ص ٥٩٤‘ مطبوعہ فاران فاؤنڈیشن لاہور ‘ پاکستان)

اسی طرح مفتی محمد شفیع دیوبندی نے بھی گول مول طریقہ سے لکھا ہے۔

اسلام میں جہاد اور قتال کی تعلیم لوگوں کو قبول ایمان پر مجبور کرنے کے لیے نہیں ہے ورنہ جزیہ لے کر کفار کو اپنی ذمہ داری میں رکھنے اور ان کی جان ومال وآبرو کی حفاظت کرنے کے لیے اسلامی احکام کیسے جاری ہوتے بلکہ دفع فساد کے لیے ہے کیونکہ فساد اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے جس کے کافر در پے رہتے ہیں : (معارف القرآن ج ١ ص ٦١٦‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف ‘ کراچی)

جوابات مذکورہ پر بحث ونظر :

اسلام میں جہاد صرف مدافعانہ جنگ کے لیے نہیں ہے جیسا کہ علامہ ازہری نے لکھا ہے اور نہ صرف فتنہ اور فساد کو دور کرنے کے لیے ہے جیسا کہ مؤخر الذکر علماء نے لکھا ہے ‘ بلکہ اسلام میں جہاد اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ “۔ (الانفال : ٣٩)

ترجمہ : اور کافروں سے قتال کرتے رہو حتی کہ کفر کا غلبہ نہ رہے اور پورا دین صرف اللہ کے لیے ہوجائے۔

اس آیت میں یہ واضح حکم دیا گیا ہے کہ جب تک کہ پورا دین اللہ کے لیے نہ ہوجائے اس وقت تک کافروں سے جنگ اور جہاد کرتے رہو۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کرتارہوں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ کی شہادت نہ دیں ‘ اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں ‘ اگر انہوں نے ایسا کرلیں تو وہ مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو بچا لیں گے ماسوا اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

مشرکین کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ جب تک وہ اسلام نہ قبول کرلیں ان سے جہاد اور قتال کیا جائے :

(آیت) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم وخذوھم واحصروھم واقعدوالہم کل مرصد فان تابوا واقامو الصلوۃ واتوالزکوۃ فخلوا سبیلہم “۔ (التوبہ : ٥)

ترجمہ : پس تم مشرکین کو جہاں بھی پاؤ انہیں قتل کردوان کو گرفتار کرو ان کا محاصرہ کرو ‘ اور ان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ بیٹھو ‘ پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔

اور اہل کتاب کے متعلق فرمایا : انہیں اسلام کی دعوت دو اگر وہ نہ مانیں تو ان سے قتال کرو اور اگر وہ تمہارے ماتحت ہو کر جزیہ دینا قبول کرلیں تو ان کو چھوڑ دو ۔

(آیت) ” قاتلوا الذین لایؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخرولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولو یدینون دین الحق من الذین اوتو الکتب حتی یعطوالجزیۃ عن یدوھم صغرون “۔۔ (التوبہ : ٢٩ )

ترجمہ : ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اس چیز کو حرام نہیں کہتے جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور دین حق کو قبول نہیں کرتے جو کہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اہل کتاب ہیں حتی کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی قوم سے اس وقت قتال نہیں کیا جب تک انکو اسلام کی دعوت نہیں دی۔

حافظ الہیثمی لکھتے ہیں : اس حدیث کو امام احمد ‘ امام ابویعلی اور امام طبرانی نے کئی سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام احمد کی سند صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٥ ص ٣٠٤‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی شخص کو کسی بڑے یا چھوٹے لشکر کا امیر بناتے تو اس کو بالخصوص اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتے اور اس کے ساتھ مسلمانوں کو نیکی کی وصیت کرتے ‘ پھر فرماتے : اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرو ‘ جو شخص اللہ کے کفر کرے اس کے ساتھ جنگ کرو خیانت نہ کرو عہد شکنی نہ کرو کسی شخص کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل نہ بگاڑو اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو ‘ جب تم دشمن مشرکوں (اہل کتاب) سے مقابلہ کرو تو ان کو تین چیزوں کی دعوت دینا ‘ وہ ان میں سے جس کو بھی مان لیں اس کو قبول کرلینا اور جنگ سے رک جانا ‘ پہلے ان کو اسلام کی دعوت دو ‘ اگر وہ اسلام لے آئیں تو ان کا اسلام قبول کرلو ‘ اور ان سے جنگ نہ کرو ‘ اور ان سے یہ کہو کہ وہ اپنا شہر چھوڑ کر مہاجرین کے شہر میں آجائیں (الی قولہ) اور اگر وہ مہاجرین کے شہر میں آنے سے انکار کردیں تو ان کو یہ خبر دو کہ ان پر دیہاتی مسلمانوں کا حکم ہوگا (الی قولہ) اگر وہ اس دعوت کو قبول نہ کریں تو پھر ان سے جزیہ کا سوال کرو ‘ اگر وہ اس کو تسلیم کرلیں تو تم بھی اس کو قبول کرلو اور ان سے جنگ نہ کرو اور اگر وہ اس کا انکار کریں تو پھر اللہ کی مدد کے ساتھ ان سے جنگ شروع کردو۔ الحدیث۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٨٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

جنگ خیبر کے ایام میں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو جھنڈا عطا فرمایا تو انہوں نے کہا : جب تک وہ مسلمان نہیں ہوں گے ہم ان سے قتال کرتے رہیں گے ‘ آپ نے فرمایا : اسی طرح کرنا حتی کہ جب تم ان کے علاقہ میں داخل ہو تو (پہلے) ان کو اسلام کی دعوت دینا ‘ اور ان کو یہ خبر دینا کہ ان پر کیا احکام واجب ہیں ‘ اللہ کی قسم ! اگر ایک شخص بھی تمہارے سبب سے ہدایت یافتہ ہوجائے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں (دنیا کی خیر) سے بہتر ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤١٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

مصنف کی طرف سے مشروعیت جہاد پر اعتراض کے جوابات :

یہودی اور عسائی مستشرقین معترضین کو سب سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ کفار کے خلاف جنگ اور جہاد کرنے میں اسلام تنہا اور منفرد نہیں ہے ‘ بلکہ موجودہ تورات (کتاب مقدس ‘ بائبل) میں بھی اپنے مخالف کفار کے ساتھ جنگ اور جہاد کرنے کی تلقین اور ترغیب دی گئی ہے اور موجودہ انجیل میں تصریح ہے کہ تورات کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہے ‘ اب آپ تورات کے اس اقتباس کا مطالعہ فرمائیں :

جب تو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اس کے نزدیک پہنچے تو پہلے اسے صلح کا پیغام دینا، اور اگر وہ تجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لیے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باج گزار بن کر تیری خدمت کریں، اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو ‘ تو اس کا محاصرہ کرنا ‘ اور جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضہ میں کر دے تو وہاں کے ہر مرد کو تلوار سے قتل کر ڈالنا ‘ لیکن عورتوں اور بال بچوں اور چوپایوں اور اس شہر کے سب مال اور لوٹ کو اپنے لیے رکھ لینا اور تو اپنے دشمنوں کی اس لوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھ کو دی ہو کھانا ‘ ان سب شہروں کا یہی حال کرنا جو تجھ سے دور ہیں اور ان قوموں کے شہر نہیں ہیں ‘ پر ان قوموں کے شہروں میں جن کو خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے کسی ذی نفس کو جیتا نہ بچا رکھنا ‘ بلکہ تو انکو یعنی حتی اور اموری اور کنعانی اور فرزی اور حوی اور یبوسی قوموں کو جیسا خداوند تیرے خدا نے تجھ کو حکم دیا ہے بالکل نیست کردینا ‘ تاکہ وہ تم کو اپنے سے مکروہ کام کرنے نہ سکھائیں جو انہوں نے اپنے دیوتاؤں کے لیے کیے ہیں اور یوں تم خداوند اپنے خدا کے خلاف گناہ کرنے لگو، (استثناء باب : ٢٠ آیت : ١٨۔ ١٠) (عہد نامہ قدیم : ١٨٦)

واضح رہے کہ عیسائیوں کے نزدیک بھی کفار کے خلاف جہاد کا یہ حکم باقی ہے منسوخ نہیں ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا :

یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یانبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں، کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے، (متی باب : ٥‘ آیت ١٨۔ ١٧) نیا عہد نامہ : ٨)

جو غیر مسلم مستشرقین اسلام کے نظریہ ملاحظہ کریں :

جہاد کی دو صورتیں ہیں : ایک یہ ہے کہ مسلمانوں کے شہر پر حملہ کیا جائے اور مسلمان مدافعانہ جنگ کریں ‘ یہ جہاد فرض عین ہے ‘ اس کی مثال غزوہ بدر ‘ غزوہ احد اور غزوہ خندق میں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ لا اکراہ فی الدین کے خلاف نہیں ہے اور نہ اس پر کوئی ہوش مند اعتراض کرسکتا ہے اور جہاد کی دوسری صورت یہ ہے کہ تبلیغ اسلام کے لیے جہاد کیا جائے اور بہ شرط استطاعت از خود کافروں کے ملک پر حملہ کیا جائے ‘ یہ جہاد فرض کفایہ ہے ‘ فتح مکہ ‘ فتح طائف اور فتح خیبر میں اس کی مثالیں ہیں اور بعد میں مسلمانوں نے مصر ‘ شام عراق ‘ ایران اور بہت سے علاقوں میں تبلیغ اسلام کے لیے جہاد کیا اور دنیا کے تین براعظموں میں مسلمانوں کی حکومت پہنچ گئی اور اس میں یہ تفصیل ہے کہ جب مشرکین سے جہاد کیا جائے تو یہ تلوار ہے یا اسلام ‘ اور اہل کتاب کے ساتھ جنگ ہو تو پھر تین صورتیں ہیں ‘ یا وہ اسلام قبول کریں ‘ یا جزیہ دیں یا پھر جنگ کریں۔

اہل کتاب کے ساتھ جزیہ کی رعایت اس لیے رکھی ہے کہ وہ الوہیت اور رسالت کے کسی نہ کسی طور پر قائل ہیں ‘ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں جزا سزا اور حلال و حرام کے اصولی طور پر معترف ہیں اور جب وہ جزیہ دے کر مسلمانوں کے باج گزار ہوجائیں گے اور ان کا مسلمانوں کے ساتھ میل جول ہوگا تو مسلمانوں کو ان میں تبلیغ اسلام کے مواقع میسر ہوں گے اور انہیں بھی اسلام کی تعلیمات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا اور وہ جلد یا بہ دیر اسلام کو قبول کرلیں گے اور ان اسلام قبول کرنا بہ رضا ورغبت ہوگا ‘ اس میں جبر کا کوئی دخل نہیں ہے ‘ جہاد کی اس شکل پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اب صرف ایک شکل رہ جاتی ہے اور وہ ہے تبلیغ اسلام کے لیے مشرکین کے خلاف جہاد ‘ یا وہ اسلام کو قبول کرلیں ورنہ ان کو قتل کردیا جائے گا اور اس پر بادی النظر میں اعتراض ہوتا ہے کہ یہ جبر واکراہ ہے لیکن درحقیقت یہ بھی جبر نہیں ہے ‘ اگر کوئی شخص کسی ملک کا باشندہ ہو ‘ اس ملک کے بادشادہ کی مہیا کی ہوئی سہولتوں اور فائدوں سے بہرہ اندوز ہوتا اور اس ملک کی زمین میں گھر بنا کر رہتا ہو اور تمام نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہو لیکن وہ اس ملک کے بادشاہ یا حکمران کی حکومت کو نہ مانے ‘ اس کے قوانین پر عمل نہ کرے اور اس کے برعکس اس حکومت کے مخالف اور دشمن مالک اور حکومت کا علی الاعلان دم بھرتا ہو اور اس کی وفاداری کا اعلان کرتا ہو تو کیا اس کو گردن زدنی نہیں قرار دیا جائے گا اور اس کو غدر قرار دے کر قتل نہیں کیا جائے گا ‘ کیا آج دنیا کے تمام مہذب ملکوں کا اس پر عمل نہیں ہے اور اگر اس شخص سے یہ کہا جائے کہ یا تو تم اس ملک کی وفاداری کا اعلان کرو ورنہ تم کو قتل کردیا جائے گا تو یہ کیوں عدل و انصاف کے مطابق نہیں ہے جب کہ آج کی نام نہاد مہذب دنیا میں ایسے شخص کو یہ موقع دیئے بغیر قتل کردیا جاتا ہے ‘ سو اسی طرح جو شخص اللہ کی بنائی ہوئی زمین میں رہتا ہے اور اس کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن وہ اللہ کو مانتا ہے نہ اس کے کسی اصول اور قانوں کو ‘ اور دنیا میں آسمانی مذاہب کی جتنی شکلیں ہیں ان میں سے وہ کسی کو بھی نہیں مانتا تو اس سے یہ کہنا بجا اور عدل و انصاف کے مطابق ہے کہ یا تو اللہ کے دین کو قبول کرلو اور نہ مرنے کے لیے تیار ہوجاؤ ‘ نیز جس طرح ہر حکومت میں ریاست کے غدار کی سزا موت ہے اسی طرح اسلام میں بھی مرتد کی سزا یہ ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے ‘ اس کو تین دن موقع دیا جاتا ہے کہ وہ غور وفکر کرے اور اگر اس کو اسلام کے خلاف کوئی شبہ ہے تو اس کو زائل کیا جائے لیکن اگر وہ اس کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے جب کہ غدار وطن کے لیے یہ رعایت نہیں ہوتی۔

تمام مہذب دنیا میں جرائم پر سزاؤں کا نظام جاری ہے ‘ اور جب کسی قاتل ‘ چور ‘ ڈاکو یا ریاست کے غدار کو سزا دی جائے تو یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ جبر ہے اور حریت فکر اور آزادی رائے کے خلاف ہے ‘ اسی طرح جب مشرک کو ایمان نہ لانے پر جہاد میں قتل کیا جائے یا مرتد کو توبہ نہ کرنے پر قتل کیا جائے تو یہ بھی ان کے جرائم کی سزا ہے ‘ جبر نہیں ہے اور حریت فکر اور آزادی رائے کے خلاف نہیں ہے۔

کیا دین اسلام قبول کرنے میں جبر کا نہ ہونا مشروعیت جہاد کے خلاف ہے ؟ میں اس اشکال کے جواب میں کئی دن غور کرتا رہا ‘ میں نے اس سوال کے جواب کی تلاش کے لیے قدیم اور جدید متعدد تفاسیر کو دیکھا ‘ لیکن میں نے دیکھا کہ کسی نے بھی اس کو حل نہیں کیا اور مدافعانہ جنگ اور جزیہ کے اختیار سے اصل اشکال کو ٹالنے دفع وقتی اور فرار کی کوشش کی ‘ بہرحال میرے ذہن میں جو جواب آیا وہ میں نے لکھ دیا ہے ‘ اگر یہ صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو یہ میری فکر کی کمی ہے اور آئندہ آنے والے علماء کے لیے دعوت فکر ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 256