أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ تُبۡدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ‌ۚ وَاِنۡ تُخۡفُوۡهَا وَ تُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّكُمۡ‌ؕ وَيُكَفِّرُ عَنۡكُمۡ مِّنۡ سَيِّاٰتِكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ

ترجمہ:

اگر تم علانیہ صدقات دو تو وہ کیا ہی خوب ہے ‘ اور اگر تم ان کو مخفی رکھو اور فقراء کو دو تو وہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے ‘ اور (یہ صدقہ کرنا) تمہارے کچھ گناہوں کو مٹا دے گا اور تمہارے سب کاموں سے اللہ خبر رکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تم علانیہ صدقات دو تو وہ کیا ہی خوب ہے ‘ اور اگر انکو مخفی رکھو اور فقراء کو دو تو وہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور (یہ صدقہ کرنا) تمہارے کچھ گناہوں کو مٹادے گا۔ (البقرہ : ٢٧١)

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

صدقہ فرضیہ کو ظاہر کر کے دینا افضل ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) کا یہی مختار ہے ‘ امام طبری نے اس پر اجماع نقل کیا ہے ‘ اور قاضی ابویعلی کا بھی یہی مختار ہے ‘ نیز حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ نفلی صدقہ کو مخفی طور پر دینا افضل ہے اور حضرت ابن عباس (رض) سے یہ بھی مروی ہے کہ نفلی صدقہ کو خفیہ طور پر دینا علانیہ صدقہ سے ستر درجہ افضل ہے اور صدقہ فرضیہ کو علانیہ دینا ‘ خفیہ دینے سے پچیس درجہ افضل ہے۔ علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) یہ بات اپنی رائے سے نہیں کہہ سکتے اس لیے یہ اس پر محمول ہے کہ انہوں نے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہوگا زجاج نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں زکوۃ کو خفیہ طور پر دینا بھی احسن تھا لیکن اب لوگ بدگمانی کرتے ہیں اس لیے زکوۃ کو ظاہر کرکے دینا افضل ہے علامہ ابن عربی نے کہا ہے کہ خفیہ اور علانیہ صدقات کی ایک دوسرے پر افضلیت کے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ٦٨٩۔ ٦٨٨ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خفیہ عمل علانیہ عمل سے افضل ہے ‘ اور جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی اقتداء کی جائے اس کے لیے علانیہ عمل افضل ہے۔

امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ اور امام نسائی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سات آدمی اللہ کے سائے میں ہوں گے جس دن اللہ کے سائے کے سوا کسی کا سایہ نہیں ہوگا ‘ امام عادل ‘ وہ نوجوان جس کی اللہ کی عبادت میں نشو و نما ہوئی ‘ وہ شخص جس کا دل مسجد میں معلق رہتا ہے وہ دو آدمی جو اللہ کی محبت کی وجہ سے ملتے ہیں اور اللہ کی محبت کی وجہ سے جدا ہوتے ہیں ‘ وہ شخص جس کو کسی خوب صورت اور مقتدر عورت نے گناہ کی دعوت دی اور اس نے کہا : میں اللہ سے ڈرتا ہوں ‘ وہ شخص جس نے خفیہ صدقہ دیا حتی کہ بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہیں چلا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے اور وہ آدمی جس نے تنہاء میں اللہ کو یاد کیا حتی کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔

امام طبرانی نے حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نیکی کے کام بری آفتوں سے بچاتے ہیں ‘ اور خفیہ صدقہ کرنا اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کرنا عمر کو بڑھاتا ہے۔

امام ابوداؤد نے ‘ امام ترمذی ‘ نے تصحیح سند کے ساتھ ‘ امام نسائی نے ‘ امام ابن خزیمہ نے ‘ امام ابن حبان نے اور اما حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین آدمیوں سے اللہ محبت رکھتا ہے اور تین آدمیوں سے اللہ بغض رکھتا ہے جن سے اللہ محبت رکھتا ہے وہ یہ ہیں : ایک شخص لوگوں کے پاس گیا اور اس نے ان سے محض اللہ کی وجہ سے سوال کیا ‘ اس کی ان سے قرابت داری نہیں تھی ایک شخص ان کے پیچھے سے اٹھا اور اسکو خفیہ طور پر صدقہ دیا ‘ اللہ کے سوا اس صدقہ کا کسی کو علم نہیں تھا ‘ یا اس سائل کو علم تھا ‘ کچھ لوگوں نے رات کو سفر کیا اور ایک جگہ ٹھہر کر سو گئے ‘ ان میں سے ایک شخص رات کو اٹھا اور اللہ کو یاد کرنے لگا اور اس کی آیات تلاوت کرنے لگا ایک شخص کسی لشکر میں تھا ان کا دشمن سے مقابلہ ہوا ‘ انہوں نے دشمن کو شکست دے دی ‘ اس شخص نے آگے بڑھ کر مقابلہ کیا حتی کہ وہ شہید ہوگیا یا فتح یاب ہوگیا اور جن تین لوگوں سے اللہ بغض رکھتا ہے وہ یہ ہیں : بوڑھا زانی ‘ متکبر فقیر اور ظالم تونگر۔

امام ابن ماجہ نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! موت آنے سے پہلے اللہ سے توبہ کرلو اور مشغول ہوجانے سے پہلے نیک عمل کرلو ‘ اور اللہ کو بہت یاد کرکے اس سے وصل کرو ‘ اور خفیہ اور علانیہ صدقہ دو تمہیں رزق دیا جائے گا تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہارا نقصان پورا کیا جائے گا۔

امام احمد ‘ امام ابن خزیمہ ‘ امام ابن حبان ‘ امام حاکم تصحیح سند کے ساتھ اور امام بیہقی ” شعب الایمان “ میں حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوگا اس وقت تک ہر شخص اپنے صدقہ کے سائے میں رہے گا۔

امام طبرانی اور امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدقہ کرنے والوں کے لیے ان کا کیا ہوا صدقہ قبر کی گرمی کو دور کرے گا اور قیامت کے دن مومن صرف اپنے صدقہ کے سائے میں ہوگا۔

امام ترمذی نے تحسین سند کے ساتھ اور امام ابن حبان نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدقہ کرنا رب کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت کو دور کرتا ہے۔

امام طبرانی نے حضرت رافع بن خدیج (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدقہ برائی کے ستر دروازوں کو بند کرتا ہے۔

امام طبرانی نے حضرت عمرو بن عوف (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کا صدقہ عمر میں اضافہ کرتا ہے ‘ بری موت کو دور کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تکبر اور فخر کو دور کرتا ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٣٥٥۔ ٣٥٣ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 271