فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِىَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓئِكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 53
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِىَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓئِكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ۞
ترجمہ:
(اگر یہ واقعی رسول ہے تو) اس کو سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے گئے یا اس کے پاس متواتر فرشتے آتے
تفسیر:
الزخرف : ٥٣ میں فرمایا : ”(اگر یہ واقعی رسول ہے تو) اس کو سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے گئے یا اس کے پاس متواتر فرشتے آتے “ اس زمانہ میں یہ دستور تھا کہ جو شخص قوم کا رئیس ہوتا تھا اس کو سونے کے کنگن پہنائے جاتے، فرعون نے حضرت موسیٰ پر یہ اعتراض کیا کہا گر حضرت موسیٰ اپنے دعویٰ کے مطابق نبی ہیں تو چاہیے تھا کہ ان کے ہاتھوں میں بھی سونے کے کنگن ہوتے، فرعون کا یہ اعتراض بالکل لغو تھا کیونکہ ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہونا نبوت کی دلیل نہیں ہے، امیر اور دولت کی دلیل ہے، نبوت کی دلیل نہیں ہے، نبوت کی دلیل یہ ہے کہ کوئی ایسا خلاف عادت کام کرکے دکھایا جائے جس کی نظیر کوئی دوسرا پیش نہ کرسکے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی کو اژدھا بنا کر دکھایا جس سے فرعون اور اس کے تمام درباری خوف زدہ ہوگئے اور ان کو اپنی جانوں کے لالے پڑگئے، پھر آپ نے اس اژدھے پر اپنا ہاتھ ڈال تو وہ پھر لاٹھی بن گیا، پھر آپ نے یدبیضاء دکھایا، پھر جب یہ لوگ اپنے کفر پر مصررے تو ان پر مینڈکوں کی، جو ئوں کی اور ٹڈیوں کی بارش ہوئی اور ان پر طوفان آیا اور ان تمام آسمانی آفتوں سے نجات کے لیے انہوں نے حضرت موسیٰ سے دعا کی درخواست کی۔ کیا یہ امور نبوت کی دلیل ہیں یا ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہننا ؟
پھر فروعون نے حضرت موسیٰ کے خلاف دوسری دلیل یہ دی کہ اگر یہ واقعی نبی ہیں تو ان کے پاس بکثرت فرشتے کیوں نہیں آئے، اگر ان کے پاس فرشتے آتے اور وہ ان کی نبوت کا اعلان کرتے تو سب کو پتہ چل جاتا کہ یہ واقعہ نبی ہیں۔ فرعون کا یہ اعتراض بھی غلط تھا کیونکہ فرشتوں کو ان کی اصل صورت میں عام انسان دیکھ نہیں سکتے اور اگر وہ انسانی پیکر میں آتے تو وہ لوگ یہ یقین نہ کرتے کہ یہ فرشتے ہیں۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 53