کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 66 حدیث 234
٢٣٤ – حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُوالتَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ قَالَ كَانَ النَّبِی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلّى قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ. [اطراف الحديث : ۴۲۸-۴۲۹]
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابو التیاح یزید بن حمید نے خبر دی از حضرت انس رضی اللہ عنہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنائی جانے سے پہلے بکریوں کے باڑہ میں نماز پڑھتے تھے۔
(صحیح مسلم : ۵۲۴ الرقم المسلسل : ۱۱۵۴ سنن ترمذی: ۳۵۰ مسند ابوداؤد الطیالسی: ۲۰۸۵ مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص 385، صحیح ابن حبان:1385، شرح السنته : ۵۰۱ مسند احمد ج ۳ ص ۱۳۱ طبع قدیم مسند احمد ج ۱۹ ص 343، مؤسسة الرسالة بیروت)
اس باب کے عنوان کا ایک جز بکریوں کا باڑہ تھا اور اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھتے تھے اور یہ اس حدیث کی عنوان کے ساتھ مطابقت ہے۔
اس حدیث کے چار رجال ہیں اور ان سب کا پہلے تعارف ہو چکا ہے۔
بکریوں کے قرب میں پاک جگہ پر نماز پڑھنے کی اجازت اور اونٹوں کے قرب میں نماز پڑھنے کی ممانعت
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھوں؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اس نے پوچھا: کیا میں اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ نماز پڑھوں؟ آپ نے فرمایا : نہیں ۔ ( معرفة السنن والآثار ج ۲ ص ۲۵۸ سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۴۸)
حضرت عبد الله بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کا وقت پاؤ اور تم بکریوں کے باڑے میں ہو تو وہاں نماز پڑھ لو کیونکہ وہاں سکون اور برکت ہے اور جب تم نماز کا وقت پاؤ اور تم اونٹوں کے حوض کے پاس ہو تو وہاں سے نکل کر نماز پڑھو کیونکہ اونٹ جن ہیں، جن سے پیدا کیے گئے ہیں، کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب وہ بھاگتے ہیں تو کیسے ناک چڑھاتے ہیں (یعنی ان کے مزاج میں شر اور سرکشی ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ آگ سے پیدا کیے گئے ہیں اور حقیقتہ جن اور شیاطین میں سے ہیں ۔ سعیدی غفرله ) – ( معرفة السنن والآثار : ۱۲۹۰ السنن الكبرى ج ۲ ص ۴۴۹ کنز العمال : ۱۹۱۷۶)
اس حدیث میں جن سے مراد شیطان ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث میں ہے:
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو اور اونٹوں کے حوض کے قریب نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین سے پیدا کیے گئے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ : 769 ، سنن نسائی: ۷۳۱ ‘ مسند ابوداؤد الطیالسی : ٬۹۱۳ مند
احمد ج 4 ص ۸۶ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۶۷۹۹ – ج ۲۷ ص ۳۵۳ مؤسسة الرسالة بیروت)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لو اور اونٹوں کے حوض کے قریب نماز نہ پڑھو۔ (سنن ترمذی : 348، مسند احمد ج ۲ ص ۴۵۱)
بکریوں اور اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق مذاہب ائمہ اور اونٹوں کو شیطان فرمانے کی توجیہ
علامہ ابوسلیمان حمد بن محمد خطابي المتوفی 388ھ ان احادیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
امام مالک بن انس، امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راھویہ یہ کہتے ہیں کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنا مباح ہے اور اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اور امام احمد یہ کہتے تھے کہ جس جگہ اونٹوں کا پیشاب ہو وہاں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اونٹوں کے حوض کے پاس یا ان کے بیٹھنے کی جگہ کے پاس نماز پڑھنے سے حدیث میں ممانعت ہے اور ان فقہاء کے نزدیک گایوں کی جگہ میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
امام شافعی یہ کہتے تھے کہ جب اونٹوں کے حوض کے پاس یا اس کی سمت میں ان کا پیشاب یا ان کی مینگنیاں نہ ہوں تو وہاں نماز ہو جائے گی لیکن اپنے اختیار سے میں اس جگہ نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیتا ہوں ان کے نزدیک بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا بھی یہی حکم ہے، کیونکہ ان کے نزدیک کسی بھی جانور کے پیشاب مینگنیوں اور گوبر میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ سب ان کے نزدیک نجس ہیں ۔ ( میں کہتا ہوں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ سعیدی غفرلہ )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے متعلق فرمایا: یہ شیاطین سے ہیں اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ان میں تو حش اور تنفر ہے اور ان میں شر اور فساد ہے اور بعض اوقات یہ نمازی کی نماز کو فاسد کر دیں گے اور عرب ہر سرکش کو شیطان کہتے ہیں، گویا کہ جب نمازی اونٹوں کے قرب میں نماز پڑھے گا تو وہ اپنی نماز میں ان سے ڈرتا رہے گا کیونکہ وہ نماز میں ان کے شر اور فساد سے مامون نہیں ہوگا اور یہ خطرہ رہے گا کہ وہ بھاگتے ہوئے نمازی کو روند ڈالیں گے اور بکریوں کے پاس نماز پڑھنے میں یہ خطرہ نہیں ہے۔
معالم السنن مع مختصر المنذری ج ۱ ص 269 دار المعرفہ بیروت)
حافظ ابن حجر کا کپڑا یا چٹائی بچھا کر نماز پڑھنے کی طرف لوٹ آنا اور بکریوں اور اونٹوں کا فرق بیان کرنا
حافظ شباب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:
بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت سے ان فقہاء نے استدلال کیا ہے، جو بکریوں کے پیشاب اور ان کی مینگنیوں کو پاک کہتے ہیں کیونکہ ان کا باڑہ ان کے پیشاب سے خالی نہیں ہوتا، لیکن اس استدلال میں یہ مناقشہ ہے کہ اس اجازت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کی مینگنیوں اور ان کے پیشاب پر بلا حائل نماز پڑھی جائے، بلکہ اس کے اوپر کوئی کپڑا یا چٹائی بچھا کر نماز پڑھی جائے اور حضرت انس اور حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی ہے ( حدیث سابق کی شرح میں حافظ ابن حجر نے
گوبر پر کپڑا بچھانے کا انکار کیا تھا اور کپڑے پر نماز پڑھنے کو بدعت کہا تھا، یہاں پر وہ بھول گئے کہ حدیث سابق کی شرح میں وہ کیا لکھ چکے ہیں۔ سعیدی غفرلہ ) بکریوں کے قرب میں نماز پڑھنے کی اجازت اور اونٹوں کے قرب میں نماز پڑھنے کی ممانعت کی حافظ ابن حجر نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ بکریاں جنت کے جانوروں میں سے ہیں اور اونٹ شیاطین میں سے ہیں ۔ (فتح الباری ج ا ص ۷۶۷ دار المعرفہ بیروت) لیکن یہ صحیح وجہ نہیں ہے، صحیح وجہ وہی ہے جو علامہ خطابی نے بیان کی ہے کہ بکریوں کے قرب میں نماز پڑھنے سے نمازی کو کوئی گھبراہٹ نہیں ہوگی اور اس کو نماز میں یہ فکر نہیں ہوگی کہ بکری نماز کے دوران کوئی شر اور فساد کرے گی جب کہ اونٹ کے قرب میں نماز پڑھنے سے یہ خطرہ رہے گا۔
اونٹ کا حقیقت میں شیطان نہ ہونا
میں کہتا ہوں کہ اونٹ کی تخلیق سے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر استدلال فرمایا ہے : ” أفلا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَت ( الغاشیہ: 17) تو اونٹ حقیقت میں جن اور شیطان کیسے ہو سکتا ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے بہ کثرت اونٹوں کو رکھا ہے اونٹوں پر سواری کی ہے اور اونٹنیوں کا دودھ پیا ہے، حج اور عمرہ میں اونٹوں پر سفر کیا جاتا تھا، جہاد کے لیے اونٹوں پر سامان لا دا جاتا تھا اونٹوں کی قربانی ہوتی تھی، ان کو نحر کیا جاتا تھا اور اونٹوں کا گوشت کھایا جاتا تھا اس لیے صحیح یہی ہے کہ ان کو شیطان فرمانے سے ان کی سرکشی کی طرف اشارہ ہے۔
باب مذکورکی حدیث شرح صحیح مسلم: 1076- ج ۲ ص 64پر مذکور ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی ۔