کتاب الغسل باب 2 حدیث 250
۲ – بَابُ غُسْلِ الرَّجُلِ مَعَ امْرَأَتِهِ
مرد اپنی عورت کے ساتھ غسل کرنا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے پانی لے کر غسل کرنا جائز ہے۔ اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں باب غسل جنابت کے احکام سے متعلق ہیں:
٢٥٠ – حَدَّثَنَا آدَمُ مِنْ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أبي ذئب، عَنِ الزُّهْرِي ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنتُ أَغْتَسِلُ أنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، مِنْ قَدَحٍ يُقَالُ لَهُ الْفَرَقُ۔
اطراف الحدیث : ۲۶۱ – ۲۶۳ – ۲۷۳ – ۲۹۹ – 5956-۷۳۳۹)
صحیح مسلم : 319، الرقم المسلسل : 711 ‘سنن ابوداؤد : ۲۳۸ سنن نسائی : 231، السنن الکبری للنسائی: ۲۳۵’ مصنف عبد الرزاق : ۱۰۲۷ سنن بیہقی ج ا ص ۱۹۴ مسند احمد ج ۶ ص ۱۹۹ طبع قدیم، مسند احمد: ۲۵۶۳۴ – ج ۴۲ ص ۴۲۵ مؤسسة الرسالۃ بیروت)
امام بخاری بیان کرتے ہیں کہ ہمیں آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن ابی ذئب نے حدیث بیان کی از الزهری از عروه از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے پانی لے کر غسل کرتے تھے، جس کو فرق کہا جاتا تھا ( اس میں تقریباً آٹھ لیٹر پانی آتا تھا۔ عینی )۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے پانی لے کر غسل کرتے تھے۔
مرد اور اس کی بیوی کا ایک برتن سے پانی لے کر غسل کرنے کا جواز اور ایک دوسرے کی شرم گاہ کی طرف دیکھنے کی تحقیق
علامہ عینی اور حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرد اور عورت اکٹھے ایک برتن سے پانی لے کر غسل کرسکتے ہیں اسی طرح ایک برتن سے پانی لے کر وضوء بھی کرسکتے ہیں، بعض احادیث میں عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضوء کرنے کی ممانعت ہے، اس حدیث کی سند پر جرح کی گئی ہے اور برتقدیر ثبوت وہ اس حدیث سے منسوخ ہے۔
الدراوردی نے کہا: اس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ مرد عورت کی شرم گاہ کی طرف اور عورت مرد کی شرم گاہ کی طرف دیکھ سکتی ہے اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے:
امام ابن حبان نے سلیمان بن موسیٰ سے روایت کیا ہے کہ ان سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنی بیوی کی شرم گاہ کی طرف دیکھتا ہے انہوں نے کہا: میں نے عطاء سے اس کا سوال کیا انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا سوال کیا تو انہوں نے اس حدیث ( صحیح ابن حبان :1426) کا ذکر کیا۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۹۱) حافظ ابن حجر نے لکھا ہے : یہ حدیث اسی مسئلہ پر نص ہے۔ (فتح الباری ج ا ص ۷۸۵)
علامہ عینی اور حافظ ابن حجر نے صحیح ابن حبان کے حوالے سے جو ذکر کیا ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ ایک دوسرے کی شرم گاہ کی طرف دیکھتے تھے لیکن احادیث صحیحہ اس کے خلاف ہیں:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرم گاہ کی طرف ہرگز نہیں دیکھا۔
(شمائل ترندی: ۳۶۰، سنن ابن ماجہ : ۱۹۲۲ – ۶۶۲ مسند احمد ج ۶ ص ۱۹۰ – ۶۳ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۱۰۶، سنن بیہقی ج ۷ ص ۹۴ حلیة الاولیاء ج ۸ ص 247، الکامل لابن عدی ج ۲ ص ۴۷۹ تاریخ بغداد ج 4 ص ۲۲۵)
امام ابوالشیخ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی ازواج سے جماع کرتے تھے تو اپنے سر پر کپڑا ڈال لیتے تھے اور میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی شرم گاہ نہیں دیکھی اور نہ آپ نے میری شرم گاہ دیکھی ۔ (ص ۲۳۳)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال حیاء کے یہی احادیث مناسب ہیں!
علامہ شہاب الدین احمد بن حجر الہیتمی المکی المتوفی ۹۴۷ ھ لکھتے ہیں:
یہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال حیاء ہے کہ آپ نے ایسا فعل نہیں کیا، جس کی وجہ سے حضرت عائشہ آپ کی شرم گاہ کی طرف دیکھتیں، بلکہ ایسا فعل کیا جس کا تقاضا اس کو دیکھنے سے ممانعت تھی اور یہ آپ کی عظیم حیاء ہے کیونکہ عورت اپنے خاوند کی شرم گاہ کو ازخود دیکھنے کی جرات نہیں کرتی، جب تک کہ اس کو اپنے خاوند کی رضا کا علم نہ ہو اور اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے : میں نے آپ کی شرم گاہ نہیں دیکھی اور آپ نے میری شرم گاہ نہیں دیکھی۔ (اشرف الوسائل الی فہم الشمائل ص ۵۲۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۹ھ )
ملاعلی قاری متوفی ۱۰۱۴ ھ اور علامہ عبدالرؤف مناوی متوفی ۱۰۰۳ھ نے بھی اپنی شرحوں میں اس روایت کا ذکر کیا ہے۔
جمع الوسائل فی شرح الشمائل ج ۲ ص ۲۱۷ شرح المنادی علی حافیة جمع الوسائل ج ۲ ص ۲۱۷ اصح المطابع، کراچی )
اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۳۵ ۔ ج ا ص ۱۰۱۶ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح کا عنوان ہے،
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات کے ساتھ غسل کرنے کی وضاحت۔
نوٹ: اس حدیث میں غسل کے ایک برتن کا ذکر کیا گیا ہے، جس کو فرق کہتے ہیں۔ علامہ عینی نے اس میں پانی کی مقدار کے مختلف اوزان بیان کیے ہیں ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص۲۹۰) ہم نے شرح صحیح مسلم میں اس کا وزن ساڑھے تیرہ لیٹر لکھا ہے اور یہاں نعمۃ
الباری میں اس کا وزن آٹھ لیٹرلکھا ہے۔
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۲۵۰ میں گزر چکی ہے، وہاں اس حدیث سے یہ ثابت کیا تھا کہ شوہر […]
[…] حدیث کی شرح کے لیے صحیح البخاری : ۲۵۰ کا مطالعہ […]
[…] حدیث کی شرح کے لیے بھی صحیح البخاری:۲۵۰ کا مطالعہ […]
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری: ۲۵۰ میں گزر چکی ہے، وہاں اس کا عنوان تھا: مرد کا اپنی بیوی […]
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۲۵۰ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: مرد کا اپنی بیوی کے […]