۳ – بَابُ عَقْدِ الْإِزارِ عَلَى الْقَفَا فِي الصَّلوة

نماز میں گدی پر تہبند میں گرہ لگانا

یہ باب اس بیان میں ہے کہ جو شخص نماز میں داخل ہو، وہ اپنی گدی پر تہبند میں گرہ لگائے اس باب کی اور اس سے پہلے والے باب کی اور اس کے بعد کے پندرہ ابواب کی باہمی مناسبت یہ ہے کہ ان سب کا تعلق کپڑوں کے ساتھ ہے البتہ درمیان میں پانچ ابواب ایسے ہیں جن کا تعلق کپڑوں کے ساتھ نہیں ہے وہ یہ ہیں: (۱) ران کے متعلق جو ذکر کیا جاتا ہے (۲) منبر، چھت اور لکڑی پر نماز (۳) چٹائی پر نماز (۴) مصلی پر نماز (۵) بستر پر نماز۔ ان کی مناسبت ان ابواب میں بیان کی جائے گی۔

امام بخاری فرماتے ہیں:

وقَالَ أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ صَلَّوْا مَعَ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاقِدِی ازْرِهِمْ عَلی عواتقهم۔

اور ابوحازم نے حضرت سہل سے روایت کی ہے کہ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں نماز پڑھی کہ انہوں نے اپنے کندھوں پر اپنی چادروں میں گرہ لگائی ہوئی تھی۔

اس تعلیق کی اصل اس حدیث میں ہے:

حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں نماز پڑھ رہے تھے کہ انہوں نے اپنی چادریں اپنے کندھوں پر اس طرح باندھی ہوئی تھی جیسے بچوں کی چادریں بندھی ہوتی ہیں اور آپ نے عورتوں سے فرمایا: تم اپنے سروں کو اس وقت تک نہ اٹھانا حتی کہ مرد سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں۔ ( صحیح البخاری : ۳۶۲)

٣٥٢ – حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِم بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ صَلَّى جَابِرٌ فِي إِذَارٍ قَدْ عَقَدَهُ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُ وَثِيَابُهُ مَوْضُوعَةٌ عَلَى الْمِشْجبِ، قَالَ لَهُ قَائِلٌ تُصَلَّى فِي إِزَارِ وَاحِدٍ فَقَالَ إِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِكَ لِيَرَانِي أَحْمَقُ مِثْلُكَ، وَأَيُّنَا كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ عَلَى عَهْد النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟

اطراف الحدیث: ۳۵۳- ۳۶۱-۳۷۰] ( جامع المسانيد لابن الجوزی : 868، مكتبة الرشد ریاض 1426ھ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں احمد بن یونس نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عاصم بن محمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے واقد بن محمد نے حدیث بیان کی از محمد بن المنکدر وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر نے تہبند پہنے ہوئے نماز پڑھی جس کی گرہ انہوں نے اپنی گدی کی طرف سے لگائی ہوئی تھی اور ان کے ( دیگر) کپڑے کھونٹی پر ٹنگے ہوئے تھے کسی کہنے والے نے ان سے کہا: آپ ایک تہبند پہنے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں، انہوں نے کہا: میں صرف اس لیے یہ کررہا ہوں تاکہ تم جیسا احمق مجھے دیکھ لے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم میں سے کس کے پاس دو کپڑے ہوتے تھے؟

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(1) احمد بن یونس، انکا پورا نام احمد بن عبد اللہ بن یونس التمیمی الیربوعی الکوفی ہے، یہ اپنے دادا کی طرف منسوب ہیں یہ ۹۴ سال کی عمر میں کوفہ میں ربیع الاول ۲۲۷ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۲) عاصم بن محمد بن زید بن عبد للہ بن عمر بن الخطاب ہیں

(۳) واقد بن محمد القرشی العدوی العمری المدنی، یہ عاصم بن محمد کے بھائی ہیں

(۴) محمد بن المنکدر، یہ مشہور تابعی ہیں ان کا تعارف ہوچکا ہے

(۵) حضرت جابر بن عبد للہ انصاری رضی اللہ  عنہ یہ مشہور صحابی ہیں ان کا تعارف ہوچکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۸۵)

حدیث مذکور کے مسائل

اس حدیث میں مذکور ہے: حضرت جابر نے فرمایا: میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم جیسا احمق مجھے دیکھ لے، حضرت جابر نے اس کو اس لیے سختی سے ڈانٹا کہ اس نے حضرت جابر کے فعل پر اعتراض کیا تھا اور احمق کا معنی جاہل ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی کے پاس زیادہ کپڑے ہوں، پھر بھی وہ ایک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے تاکہ عام لوگوں کو یہ مسئلہ معلوم ہوجائے کہ ایک کپڑے کے ساتھ بھی نماز ہوجاتی ہے۔

نیز اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عالم اپنے شاگرد کو کسی غلطی پر احمق اور جاہل وغیرہ کہہ کر ڈانٹ سکتا ہے۔