ه – بَابُ إِذَا صَلَّى فِي التَّوْبِ الْوَاحِد ِفَلْيَجْعَلْ عَلَى عَاتِقَيْهِ

 جب ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس (کے سروں ) کو اپنے کندھوں پر ڈال لے

 

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص صرف ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھے تو وہ اپنے تہبند کے سروں کو اپنے کندھوں پر مخالف جانب سے ڈال لے دایاں سرا بائیں کندھے پر اور بایاں سرا دائیں کندھے پر پھر ان میں گرہ لگالے جیسا کہ ابواب سابقہ میں گزر چکا ہے۔

٣٥٩ – حَدَّثَنَا أَبُوعَاصِمٍ، عَنْ مَالِك،ٍ عَنْ أَبِي الزِّنَاد،ِ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْأَعْرَج،ِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَايُصَلَّى أحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتقیهِ شَيء۔

طرف الحديث : 360

امام بخاری روایت کرتے ہیں، ہمیں ابوعاصم نے حدیث بیان کی از امام مالک از ابی الزناد از عبدالرحمان الاعرج از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کوئی چیز نہ ہو۔

(صحیح مسلم : ۵۱۵ الرقم المسلسل : 515،  سنن ابوداؤد : 626، سنن ترمذی : 339،  سنن نسائی: ۷۶۳ ، سنن ابن ماجه : ۱۰۴۹ السنن الكبرى للنسائی: 756، مسند الحمیدی: ۹۶۴ سنن دارمی : ۱۳۷۸ صحیح ابن خزیمہ : ۷۶۵ مصنف عبدالرزاق: ۱۳۷۵ مسند ابویعلی : ۶۲۶۲ شرح السنتہ : ٬۵۱۵ سنن بیہقی ج ۲ ص 238، مسند احمد ج ۲ ص ۲۴۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۷۳۰۲ – ج 12 ص ۲۵۷ مؤسسة الرسالة بیروت جامع المسانید لابن جوزی : ۴۷۶۵ مكتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ )

اس حدیث کے رجال کا پہلے تعارف ہوچکا ہے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کوئی چیز نہ ہو۔

تہبند کے سروں کو کندھوں پر ڈال کر باندھنے کے حکم کی وجہ

علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنے والے کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنے تہبند کے سروں کو اپنے کندھوں پر ڈال لے،  اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ اپنے تہبند کے سروں کو اپنے کندھوں پر مخالف جانبوں سے نہیں باندھے گا تو یہ خطرہ ہوگا کہ اس کو نماز میں اپنی شرم گاہ دکھائی دے۔

ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنے سے متعلق تمام احادیث شرح صحیح مسلم : ۱۰۶۲ – ۱۰۵۰ ۔ ج ۱ ص ۱۳۳۳۔۱۳۳۱ پر مذکور ہیں اور ان کی شرح کا یہ عنوان ہے: عمامہ یا ٹوپی کے ساتھ نماز پڑھنے کے استحباب پر دلائل