کتاب الصلوۃ باب 18 حدیث نمبر 377
۱۸ – بَابُ الصَّلوةِ فِي السُّطُوْحِ والْمِنْبَرِ وَالْخَشَبِ
چھت، منبر اور لکڑی پر نماز پڑھنا
جب مقتدی نماز میں امام سے بلند جگہ پر ہو تو اس کی نماز کے جواز میں اختلاف ہے، بعض تابعین اور فقہاء مالکیہ اس کی نماز کو ناجائز کہتے ہیں، اس لیے امام بخاری نے اس مسئلہ میں اپنے موقف کے اظہار کے لیے یہ عنوان قائم کیا امام بخاری لکھتے ہیں:
قال أبو عَبْدِاللَّهِ وَلَمْ يَرَالْحَسَنُ بَأسا أَنْ يُصَلَّى عَلَى الْجَمْدِ وَالْقَنَاطِرِ وَإِنْ جَرى تَحْتَهَا بَول أوْ فَوْقَهَا أَوْ أَمَامَهَا ، إِذَا كَانَ بَيْنَهُمَا سُتْرَةٌ .
ابو عبدالله (امام بخاری) نے کہا: حسن بصری اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ برف پر نماز پڑھی جائے یا پل پر خواہ اس کے نیچے سے پیشاب بہہ رہا ہو یا اس کے اوپر یا اس کے سامنے بہ شرطیکہ نمازی اور پیشاب کے درمیان سترہ اور حجاب ہو ۔
امام بخاری نے یہ تعین نہیں کیا کہ نمازی اور نجاست کے درمیان کتنا فاصلہ ہو، بعض مالکیہ نے کہا ہے کہ اس کو نجاست سے زیادہ فاصلہ پر ہونا چاہیے ورنہ نماز نہیں ہوگی۔
وَصَلَّى ابوهُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ بِصَلوةِ الإمام .
اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد کی چھت پر امام کی اقتداء میں نماز پڑھی۔
اس تعلیق کی اصل درج ذیل حدیثیں ہیں:
صالح مولی التوءمتہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کے اوپر امام کی اقتداء میں نماز پڑھی اور امام نیچے تھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۱۵۸ ج ۲ ص ۳۵ دارالکتب العلمیة بیروت 1416ھ )
سعید بن مسلم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ بن عمر کو دیکھا، انہوں نے ایک شخص کے ساتھ مسجد کی چھت پر مغرب کی نماز پڑھی اور وہ امام کی اقتداء کر رہے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ :۶۱۶۰ )
وَصَلَّى إِبْنُ عُمَرَ عَلَى الثلْج.
اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے برف پر نماز پڑھی۔
۳۷۷ – حدثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ سَأَلُوا سَهْلَ ابْنَ سَعْدٍ مِنْ اي شَيْءٍ المنْبَرِّ؟ فَقَالَ مَا بَقِيَ بِالنَّاسِ أَعْلَمُ مِنی، ھو من اثل الْغَابَةِ ، عَمِلَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فَلَانَةَ ، لِرَسُولِ اللهُ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ عُمِلَ وَوُضِعَ فَاسْتَقبل الْقِبْلَةَ كَبَّرَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ ، فَقَرَاَ وَرَكَعَ ، وَرَكَعَ النَّاسُ خَلْفَهُ ، ثُمَّ رَفَعَ رَاسَهُ ثُمَّ رَجَعَ القَهْقَری فَسَجَدَ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ عَادَ إِلى المنبرِ ثُمَّ قَرَا ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتی سَجد بالأَرْضِ فَهَذَابشَأْنُهُ. قَالَ أَبُو عَبْدِاللَّهِ قَالَ عَلِيٌّ بن عبْدِ اللهِ سَأَلَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ عَنْ هذا الْحَدِيثِ قَالَ فَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ كَانَ أَعْلَى مِنَ النَّاسِ، فَلَا بَأسَ أَنْ يَكُون الْإِمَامُ أَعْلَى مِنَ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ فَقُلْتُ اِنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ،كَانَ يُسْأَلُ عَنْ هَذَا كَثِيرًا ، فَلَمْ تَسْمَعُهُ مِنْهُ؟ قَالَ لَا.
اطراف الحدیث : ۴۴۸ – ۹۱۷ – ۲۰۹۴ – ۲۵۶۹]
(صحیح مسلم : ۵۴۴ الرقم السلسل : 1196 سنن ابن ماجه:1416، مسند الحمیدی:926، صحیح ابن خزیمہ ۱۵۲۲ سنن دارمی: ۱۳۵۸ المنتقی : 312، المعجم الكبير: ۵۸۸۱، سنن بیہقی ج ۳ ص ۱۰۸ دلائل النبوة ج ۲ ص ۵۵۴ مسند احمد ج ۵ ص ۳۳۹ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۲۸۷۱ – ج ۳۷ ص ٬۵۱۲ مؤسسة الرسالة بيروت، جامع المسانيد لابن الجوزي: ۲۴۱۹ مكتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ ).
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبداللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں ابو حازم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: لوگوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ منبر کس چیز سے بنا تھا؟ انہوں نے کہا: اب لوگوں میں اس کو مجھ سے زیادہ جانے والا کوئی باقی نہیں ہے یہ مقام غابہ میں جھاؤ کے درخت کی لکڑی سے بنا ہوا ہے فلاں عورت کا جو آزاد کردہ فلاں غلام تھا اس نے اس کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنایا تھا جب یہ بناکر رکھا گیا تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، پس آپ نے قبلہ کی طرف منہ کرکے اللہ اکبر کہا اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے’ آپ نے قراءت کی اور رکوع کیا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے رکوع کیا پھر آپ نے سر اٹھایا پھر آپ الٹے پیر واپس مڑے پھر آپ نے زمین پر سجدہ کیا پھر آپ منبر کی طرف لوٹے، پھر آپ نے قراءت کی ،پھر رکوع کیا پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا پھر آپ الٹے پیر واپس مڑے، حتی کہ آپ نے زمین پر سجدہ کیا، پس یہی آپ کا طریقہ تھا۔ امام ابو عبدالله ( بخاری) نے کہا: علی بن عبداللہ نے کہا: مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اس حدیث کے متعلق سوال کیا انہوں نے کہا: میں نے صرف یہ ارادہ کیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بلند تھے، پس اس حدیث کی بناء پر اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ امام لوگوں سے بلند ہو، علی بن عبداللہ نے امام احمد بن حنبل سے کہا: سفیان بن عیینہ سے اس حدیث کے متعلق بہت سوال کیا جاتا تھا، آپ نےاس حدیث کو ان سے نہیں سنا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) علی بن عبد اللہ ابن المدینی
(۲) سفیان بن عیینہ
(۳) ابو حازم سلمہ بن دینار
(۴) حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ یه آخری صحابی ہیں جو مدینہ میں فوت ہوئے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۵۲)
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مناسبت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے منبر پر کھڑے ہوکر نماز پڑھائی’ آپ اونچی جگہ پر کھڑے تھے اور مقتدی آپ سے نیچے تھے۔
اثل الغابة “ کا معنی اور منبر بنانے والے کا نام
اس حدیث میں “اثل الغابة” کا ذکر ہے “اٹل” ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں ہوتے، اس میں پھلیاں ہوتی ہیں جن میں دانے ہوتے ہیں، یہ اشنان کے درخت کی مثل ہوتا ہے اُردو میں اس کو جھاؤ کا درخت کہتے ہیں اور “الغابة ” مدینہ منورہ سے نو میل دور ایک جگہ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنوں کو چرانے کے لیے رکھا جاتا تھا۔
جس شخص نے اس منبر کو بنایا تھا اس کا نام قبیصہ المخزومی تھا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام میمون یا صلاح تھا اور وہ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ایک قول یہ ہے کہ وہ انصار کی ایک عورت کا آزاد کردہ غلام تھا۔
امام کے مقتدیوں سے بلند جگہ پر نماز پڑھانے میں فقہاء مالکیہ کا نظریہ
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:
اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ امام مقتدیوں سے بلند ہو تو اس کا کیا حکم ہے، امام شافعی نے کہا ہے کہ یہ جائز ہے اور اس حدیث سے استدلال کیا ہے، نیز امام شافعی نے کہا ہے کہ امام اپنے پیچھے مقتدیوں کو تعلیم دینے کا ارادہ کرے اور زمین پر سجدہ کرے اور اس حدیث میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا تھا کہ تم میری اقتداء کرو اور میری نماز کے طریقہ کو جان لو ۔ امام بخاری نے اس کو نماز جمعہ میں ذکر کیا ہے امام ابوحنیفہ نے ایسا کرنے کو مکروہ کہا ہے اور یہ کہا ہے کہ ان کی نماز مکمل ہے۔
جس منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی، اس کی تین سیڑھیاں تھیں، یہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام مالک نے کہا ہے کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ امام مسجد کی چھت پر نماز پڑھائے اور لوگ اس سے نیچے ہوں یا اپنے نمازیوں سے بلند جگہ پر نماز پڑھائے اگر امام نے ایسا کیا تو مقتدی ہمیشہ نماز کا اعادہ کریں گے کیونکہ وہ عبث کام کررہے ہیں سوا اس صورت کے کہ امام کا بلند ہونا معمولی سا ہو تو پھر ان کی نماز جائز ہے۔
ابن عباد نے کہا کہ امام مالک نے اس کو اس لیے مکروہ کہا ہے کہ بنو امیہ تکبر کی وجہ سے بلند جگہ پر کھڑے ہوکر نماز پڑھاتے تھے اس وجہ سے امام مالک نے اس فعل کو عبث اور موجب فساد نماز قرار دیا اور یہ صرف اس صورت میں جائز ہے جب امام لوگوں کو نماز کی تعلیم دینے کا قصد کرے، جیسا کہ اس باب کی حدیث میں ہے علقمہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے بھائی عقبہ بن مسعود کی عیادت کرنے گئے، انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک لکڑی پر نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے اس لکڑی کو پھینک دیا اور کہا: یہ شیطانی کام ہے اپنا چہرہ زمین پر رکھو اور اگر تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تو اشارہ سے نماز پڑھو حسن بصری اور ابن سیرین نے اس کو مکروہ کہا ہے اور ائمہ فتوی ایسی نماز کو جائز کہتے ہیں اور ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مچان پر نماز پڑھی اور منبر پر بھی۔
( شرخ ابن بطال ج ۲ ص 46-48 دار الکتب العلمیہ، بیروت 1426ھ
امام کے مقتدیوں سے بلند جگہ پر نماز پڑھانے میں فقہاء حنبلیہ کا نظریہ
حافظ عبدالرحمان بن شہاب الدین ابن رجب حنبلی متوفی ۷۹۵ ھ لکھتے ہیں :
اس حدیث کے تحت تین مسائل ہیں،
پہلا مسئلہ درج ذیل ہے: جو چیز زمین سے دائما بلند ہو یا عارضی طور پر بلند ہو اکثر علماء کے نزدیک اس پر نماز پڑھنا جائز ہے۔
ابوطالب نے کہا: میں نے امام احمد سے تخت پر نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا، خواہ فرض ہو یا نفل، انہوں نے کہا: اگر اس پر سطح زمین کی طرح نماز پڑھنا ممکن ہو تو پھر اس پر نماز پڑھنا جائز ہے اور اس میں علماء کا اختلاف نہیں ہے مگر شاذ اختلاف قدیم ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جو چیز زمین پر بنائی گئی ہو جیسے مسجد کی گیلری یا مسجد کی چھت کے اوپر تو اس کی ہر صورت جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں ہے۔
اگر مقتدی امام کی نماز کے ساتھ چھت پر نماز پڑھے اور امام مسجد کے نیچے ہو تو یہ جائز ہے جیسا کہ امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور سفیان نے از یونس بن عبید از عبدربہ روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے بصرہ میں جمعہ کی نماز مچان (گیلری) میں امام کے پیچھے پڑھی امام احمد نے اس اثر سے استدلال کیا ہے۔
تیسرا مسئلہ ایسی چیز پر نماز پڑھنے کا ہے، جو اپنے حال پر باقی نہ رہے، حسن بصری نے اس پر نماز کو جائز کہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اگر دریا میں پانی جم جائے تو اس کے اوپر نماز پڑھنا جائز ہے۔
(فتح الباری لابن رجب ج ۲ ص ۲۳۱ – ۲۲۵ ملتقطا دار ابن الجوزیه ریاضی 1417ھ )
امام کے مقتدیوں سے بلند جگہ پر نماز پڑھانے میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:
ابن دقیق العید نے کہا ہے کہ جو شخص بلند جگہ پر نماز پڑھائے اور اس کا قصد نماز کی تعلیم دینا نہ ہو تو یہ صیح نہیں ہے کیونکہ اس حدیث میں یہ صورت شامل نہیں ہے۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۵۱ دار المعرفة بیروت 1426ھ )
امام کے مقتدیوں سے بلند جگہ پر نماز پڑھانے میں فقہاء احناف کا نظریہ
اس حدیث میں امام کے بلند جگہ پر نماز پڑھانے کی دلیل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند جگہ پر نماز پڑھائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ دلیل بیان فرمائی ہے، تاکہ لوگوں کو نماز پڑھنے کے طریقہ کی تعلیم دی جائے، پس اگر امام کسی سبب سے بلند جگہ پر نماز پڑھائے جیسے اس حدیث میں ہے تو یہ مستحب ہے ورنہ مکروہ ہے امام شافعی اور امام احمد کا بھی یہی قول ہے اور امام شافعی اور امام احمد نے ایک قول میں منع بھی کیا ہے اور ابن حزم نے امام ابوحنیفہ سے بھی ایک منع کا قول نقل کیا ہے لیکن وہ صحیح نہیں ہے صحیح یہ ہے کہ ان کے نزدیک یہ کراہت ( تنزیہی ) کے ساتھ جائز ہے اور ہمارے اصحاب سے منقول ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ جائز ہے جب کہ امام ایک آدمی کی قامت کے برابر بلند ہو اور امام مالک کے نزدیک اگر تھوڑا سا بلند ہو تو پھر جائز ہے۔
نماز میں ایک دو قدم چلنے کا جواز اور دیگر مسائل
اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ اگر نمازی نماز میں تھوڑا سا چلے تو یہ جائز ہے، محیط میں مذکور ہے: ایک قدم چلنے سے نماز باطل نہیں ہوتی اور دو قدم یا زیادہ چلنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے اس قول کی بناء پر چاہیے تھا کہ یہ نماز فاسد ہوجاتی لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی مصلحت کی بناء پر دو قدم یا زیادہ چلے تو پھر نماز کو فاسد نہیں ہونا چاہیے اور مکروہ بھی نہیں ہونا چاہیے جیسے جو آدمی اکیلا صف کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اگلی صف سے ایک آدمی کو اپنی طرف کھینچ لے اور دو صفیں بن جائیں اور جس کو کھینچا گیا ہے اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی خواہ وہ ایک یا دو قدم چلے علامہ خطابی نے کہا ہے کہ تھوڑا سا کام کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی کیونکہ منبر کی تین سیڑھیاں تھیں’ آپ دوسری سیڑھی پر کھڑے تھے اور دوسری سیڑھی سے زمین پر آنے میں دو قدم کے برابر چلنا پڑتا ہے۔
اس حدیث میں منبر بنانے کا جواز ہے اور یہ کہ خطیب کو بلند جگہ پر بیٹھنا چاہیے۔
اس حدیث میں نماز میں نمازیوں کو نماز کی تعلیم دینے کا ثبوت ہے اور یہ عبادت میں شرک کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ایسا ہے جیسا کہ نمازیوں کو سنانے کے لیے بلند آواز کے ساتھ تکبیر کہی جاتی ہے۔
اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ جب عالم کسی چیز کے علم کے ساتھ منفرد ہو تو وہ یہ بتائے کہ اس چیز کا صرف مجھے علم ہے اور کسی کو اس کا علم نہیں ہے جیسے حضرت سہل بن سعد نے کہا: صرف مجھے یہ علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر کس چیز سے بنا تھا وہ مقام غابہ کی جھاؤ کی لکڑی سے بنا تھا۔
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۱۱۸ – ج ۲ ص 114 پر مذکور ہے وہاں اس حدیث کی شرح کا عنوان ہے: استن حنانہ ۔
[…] حدیث کی مفصل شرح صحیح البخاری: ۳۷۷ میں کردی گئی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: چھت منبر اور لکڑی […]