٦٤ – بَاب الْإِسْتِعَانَةِ بِالنَّجَارِ وَالصُّنَاع فِي أَعْوَادِ الْمِنْبَرِ وَالْمَسْجِد

منبر کی سیڑھیوں اور مسجد میں بڑھئی (ترکھان) اور مستری (کاری گر) سے مدد حاصل کرنا

صناع ” کا لفظ عام ہے اور ” النجار ” کا لفظ خاص ہے اور اس عبارت میں عام کا عطف خاص پر ہے۔۔

٤٤٨ – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ، عَن ابي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى اِمْرَأَةٍ أَنْ مُرِى عَلَامَكِ النجَار يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِن۔جامع المسانيد لابن الجوزی : ۲۴۱۹ مكتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبدالعزیز نے حدیث بیان کی از ابی حازم از حضرت سہل رضی اللہ عنہ، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی طرف پیغام بھیجا کہ تم اپنے بیٹے کو حکم دو جو بڑھئی ہے کہ وہ میرے لیے(منبر کی) سیڑھیاں بنا دے جن پر میں بیٹھوں گا۔

اس حدیث کی مفصل شرح صحیح البخاری: ۳۷۷ میں کردی گئی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: چھت منبر اور لکڑی پر نماز پڑھنا۔