کتاب الصلوۃ باب 34 حدیث نمبر 408 – 409
٣٤ – بَابٌ حَكِ الْمُخَاطِ بالْحَصَى مِنَ الْمَسْجِدِ
کنکری کے ساتھ مسجد سے رینٹ کو کھرچ کر صاف کرنا
یہ باب کنکری کے ساتھ مسجد سے رینٹ کو صاف کرنے کے بیان میں ہے اور باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ اس میں ہاتھ سے بلغم یا رینٹ کو کھرچ کر صاف کرنے کا بیان تھا۔ امام بخاری فرماتے ہیں:
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنْ وَطِئت عَلَى قَذَرٍ رَطْبٍ فَاغْسِلُهُ وَإِنْ كَانَ يَابِسًا فلا۔
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ نے فرمایا: اگر تم تر نجاست پر چلے ہو تو اس کو دھولو اور خشک نجاست پر چلے ہو تو پھر نہیں۔
اس تعلیق کی اصل حسب ذیل حدیث ہے:
یحیی بن وثاب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ سوال کیا گیا کہ ایک شخص نماز کے لیے نکلا اور وہ نجاست پر چلتا ہواگیا ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا: اگر وہ نجاست تر ہے تو جس جگہ وہ نجاست لگی ہے اس کو دھولے اور اگر وہ نجاست خشک تو پھر اس کو کوئی نقصان نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : 608 – ج1 ص ۵۸ دار الکتب العلمیہ بیرات 1416ھ)
408-409– حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ أخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عن حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَابا سَعید حَدْثاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رای نخَامَةٌ فِي جِدَارِالْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَ حَصاةٌ فَحکھا فَقَالَ إِذَا تَنَخَمَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَتَنَخَمَنَّ قِبَلَ وَجھہ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبصُقُ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدمہ اليسرى | الطراف الحدیث :۴۱۰-۴۱۱ – 414
جامع المسانید لابن الجوزی: ۲۰۴۴ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے خبر دی انہوں نے کہا: ہمیں ابن شہاب نے خبر دی از حمید بن عبدالرحمان کہ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہما نے ان کو حدیث بیان َکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار میں بلغم کو دیکھا تو آپ نے ایک کنکری پکڑکر اس کو کھرچ دیا پھر آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص بلغم تھوکے تو وہ اپنے سامنے تھوکے نہ اپنی دائیں، اسے چاہیے کہ وہ اس کو اپنی بائیں جانب تھوکے یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکے۔
اس حدیث کی شرح بھی صحیح البخاری:۴۰۵ میں گزر چکی ہے وہاں ہاتھ سے بلغم صاف کرنے کا ذکر تھا’ اور یہاں کنکری کے ساتھ بلغم صاف کرنے کا ذکر ہے۔