کتاب الصلوۃ باب 46 حدیث نمبر 425
٤٦ – بَابُ الْمَسَاجِدِ فِي الْبُيُوتِ
گھروں میں مساجد
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ گھروں میں مساجد کا بنانا جائز ہے اس سلسلہ میں یہ تعلیق ہے:
وصلَّى الْبَرَاءُ بَنْ عَازِبٍ فِي مَسْجِدِهِ فِي دَارِهِ جَمَاعَةٌ۔
اور حضرت البراء بن عازب نے اپنے گھر کی مسجد میں جماعت کرائی۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں یہ حدیث معنی موجود ہے ۔ ( عمدۃ القاری ج 4 ص 246)
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھے تو اپنے گھر میں بھی نماز کا حصہ رکھے’ بے شک اللہ اس کے گھر کی نماز میں خیر رکھنے والا ہے۔ (مصنف عبد الرزاق :۴۸۵۰ دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ )
٤٢٥ – حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْت قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَاب قَالَ أَخْبرنی محمود بن الربیع الانصاری ان عتبان بن مالک، وھو مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِّنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَارَسُولَ اللهِ ، قَد انكَرْتُ بصرى، وَأَنَا أَصَلَّى لِقَوْمِيُّ، فَإِذَا كَانَت الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ لَم أستطع أَنْ أُتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأَصَلَّى بِهِمْ وَوَدِدْتُ يَارَسول اللَّهِ ، أَنَّكَ تَأْتِينِي فَتُصَلِي فِي بَيْتِي، فَاتَّخِذَهُ مُصلی قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم سَافْعَلُ إِنْ شَاءَاللهُ قَالَ عِتبَانٌ فَغَدًا رَسُولُ اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُوبَكْرٍ حِيْنَ ارْتَفَعَ النھار فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاذنت لہ فلم يَجْلِسْ حِيْنَ دَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ قَالَ ابْنَ تُحب ان أصَلِّي مِنْ بَيْتِكَ؟ قَالَ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَّة من الْبَيْتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم فَكَبَّرَ فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سلم ، قال وحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيْرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ، قَالَ فَثابَ فی الْبَيْتِ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ ذَوُو عَدَدٍ فَاجْتَمعوا، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخَيْشِنِ أَوِ ابن الدُّخَشْنِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللہ وَرَسُولَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم لَا تَقُلْ ذَلِكَ، أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا الله،ُ يُرید بذلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ؟ قَالَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَعلَمُ، قال فَإِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ ، قال رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ الله قد حرم عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِذلک وجہ اللَّهِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصيْنَ بْنَ مُحمد الْأَنْصَارِی وَهُوَ اَحَدٌ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتھم، عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذلک۔
جامع المسانید لابن الجوزی 5240 مكتبة الرشد ریاض (1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سعید بن عفیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے لیث نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے عقیل نے حدیث بیان کی از ابن شباب انہوں نے کہا: مجھے محمود بن الربيع الانصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ حضرت عتبان بن مالک انصارى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں اور وہ ان انصار میں سے ہیں جو بدر میں حاضر ہوئے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! میری بصارت بہت کمزور ہوگئی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں اور جب بارش ہوتی ہے تو میرے اور ان کے درمیان جو وادی ہے وہ بہنے لگتی ہے اور میں ان کی مسجد میں جانے کی اور انہیں نماز پڑھانے کی طاقت نہیں رکھتا اور یارسول اللہ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے ہاں تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں، پس میں اس جگہ کو مصلى بنالوں انہوں نے بیان کیا: پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان شاء اللہ عنقریب ایسا کروں گا حضرت عتبان نے بیان کیا: پس دوسرے روز دن چڑھنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگئے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت طلب کی تو میں نے آپ کو اجازت دی، گھر میں داخل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے نہیں اور فرمایا: تم اپنے گھر میں کس جگہ پسند کرتے ہو جہاں میں نماز پڑھوں؟ انہوں نے کہا: میں نے گھر کی ایک جانب آپ کو اشارہ کیا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور آپ نے تکبیر پڑھی پھر ہم بھی کھڑے ہو گئے اور ہم نے صف بنائی آپ نے دو رکعت نماز پڑھائی، پھر سلام پھیردیا ہم نے آپ کو گوشت کا کھانا کھلانے کے لیے روک لیا جس کو ہم نے تیار کیا تھا، پھر گھر میں حویلی کے رہنے والے کافی لوگ آگئے، وہ سب جمع تھے ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا: مالک بن دخیشن یا ابن الدخشن کہاں ہے؟ تو کسی نے کہا: وہ منافق ہے اللہ سے محبت کرتا ہے نہ اس کے رسول سے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کہو کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے لا الہ الا اللہ پڑھا ہے؟ اس شخص نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے پس بے شک ہم اس کا ملنا جلنا اور اس کی خیر خواہی منافقوں کے ساتھ دیکھتے ہیں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس بے شک اللہ نے اس شخص کو دوزخ کے اوپر حرام کردیا ہے جس نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے لا الہ الا اللہ پڑھا۔ ابن شہاب نے کہا: الحصین بن محمد الانصاری جو بنو سالم کے ایک فرد تھے اور ان کے سرداروں میں سے تھے میں نے ان سے محمود بن الربیع کی حدیث کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کے دلوں میں ایمان اور نفاق پر مطلع ہونا اور اخلاص سے لا الہ الا اللہ پڑھنے والے پر دوزخ کا حرام ہونا
اس حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کہو کیا تم نہیں دیکھتے کہ مالک بن دخشن نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے لا الہ الا اللہ پڑھا ہے؟
اس ارشاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باطن میں ایمان کی اور نفاق سے بری ہونے کی شہادت دی ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے دلوں کے حال پر اور ایمان اور نفاق کی کیفیات پر مطلع ہوتے ہیں اور جب مناسب سمجھتے ہیں اس کا اظہار فرمادیتے ہیں ۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس حدیث میں صرف لا الہ الا اللہ کا ذکر ہے حالانکہ نجات کے لیے توحید اور رسالت دونوں پر ایمان لانا ضروری ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ پورے کلمہ طیبہ کا علم اور نام ہے اس لیے اس سے توحید اور رسالت دونوں کی گواہی مراد ہے۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ نے اس شخص کو دوزخ کے اوپر حرام کردیا ہے جس نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے لا الہ الا اللہ پڑھا اس ارشاد میں آپ نے فرائض اور واجبات پر عمل کرنے اور حرام اور مکروہ کاموں سے اجتناب کرنے کا ذکر نہیں فرمایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص محض اللہ کی رضا کے لیے اخلاص سے کلمہ پڑھتا ہے وہ اس کی برکت سے تمام فرائض اور واجبات پر عمل کرتا ہے اور تمام حرام اور مکروہ کاموں سے باز رہتا ہے اور بالفرض اگر وہ کسی گناہ میں ملوث ہوجائے تو مرنے سے پہلے توبہ کرلیتا ہے ورنہ اپنے گناہوں کی سزا پاکر پھر جنت میں چلا جائے گا اور دوزخ کا دائمی عذاب اس پر بہرحال حرام ہوگا۔
نابینا کو امام بنانے کا جواز اور عذر کی وجہ سے جماعت ترک کرنے کا جواز
اس حدیث میں ذکر ہے: حضرت عتبان بن مالک نے آپ سے درخواست کی کہ ان کی نظر بہت کم زور ہوگئی ہے وہ بارش کے ایام میں اپنی مسجد میں نماز پڑھانے کے لیے نہیں جاسکتے ، آپ ان کے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھا دیں تاکہ وہ اس جگہ کو اپنا مصلی بنالیں اور بعض روایات میں یہ مذکور ہے کہ وہ نابینا ہوگئے ہیں۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نابینا شخص کو امام بنانا جائز ہے حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم بھی نابینا تھے اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں گئے تھے تو ان کو امام بنا کرگئے تھے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بارش، اندھیرے، جان کے خطرہ یا اور کسی عذر کی بناء پر جماعت کو ترک کرنا جائز ہے۔
حضرت عتبان بن مالک نے کہا: آپ جس جگہ نماز پڑھائیں گے اس کو میں مصلی بنالوں گا اس سے معلوم ہوا کہ گھر میں کسی جگہ کو نماز کے لیے مخصوص کرنا جائز ہے اور جس جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھائیں یا پڑھیں، صحابہ کے نزدیک اس جگہ کی خاص اہمیت ہوتی ہے حضرت عتبان چاہتے تھے: اس جگہ نماز پڑھیں، جہاں آپ نے نماز پڑھی ہے تاکہ آپ کے نماز پڑھنے کی وجہ سے اس جگہ جو برکات اور تجلیات نازل ہوئی ہیں وہ ان پر بھی سایا افگن رہیں، جیسے حضرت عمر نے یہ چاہا تھا کہ مقام ابراہیم کو مصلی بنالیا جائے۔
اس اعتراض کا جواب کہ حضرت عتبان نے اپنے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھوائی حالانکہ مہمان سے نماز پڑھوانے کی ممانعت ہے
بعض احادیث میں مذکور ہے کہ جب کوئی شخص کسی کے گھر اس کی زیارت یا ملاقات کے لیے جائے تو خود نماز نہ پڑھائے، بلکہ وہ گھر والا ہی نماز پڑھائے جیسا کہ اس حدیث میں ہے:
بدیل بن میسرہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے آزاد شدہ غلام ابو عطیہ نے روایت کیا کہ حضرت مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس ہماری نماز کی جگہ میں آتے تھے اور ہم سے باتیں کرتے تھے، ایک دن اس دوران نماز کا وقت آگیا، پس ہم نے ان سے کہا: آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں انہوں نے کہا: تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھا دے حتی کہ میں اپنے نماز نہ پڑھانے کا سبب بیان کردوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی قوم سے ملاقات کے لیے جائے، وہ ان کو نماز نہ پڑھائے اور چاہیے کہ ان ہی میں سے کوئی شخص ان کو نماز پڑھائے ۔ (سنن ترمذی: 356، سنن ابوداؤد : ۵۹۶ سنن نسائی : ۷۸۳ ‘مسند احمد ج ۳ ص۴۳۶)
اس حدیث کی روایت کے بعد امام ابو عیسی ترمذی متوفی ۲۷۹ھ لکھتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور تابعین میں سے اکثر کا اس پر عمل ہے انہوں نے کہا ہے کہ مہمان کی بہ نسبت گھر والا نماز پڑھانے کا زیادہ حق دار ہے اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ جب گھر والا اجازت دے دے تو پھر مہمان کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اسحاق اس حدیث کی وجہ سے بہت سختی کے ساتھ کہتے تھے : خواہ گھر والے نے اجازت دی ہو، پھر بھی گھر والے کے سوا اور کوئی نماز نہ پڑھائے اور مسجد میں بھی یہی حکم ہے جب کوئی مہمان آئے تو وہ کہے کہ تم ہی میں سے کوئی شخص نماز پڑھائے۔ (سنن ترمذی ص ۱۷۳ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۲۳ھ)
بہ ظاہر حضرت عتبان بن مالک کی حدیث، اس حدیث کے مخالف ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ عام اصول اور قاعدہ تو یہی ہے کہ مہمان کی بجائے میزبان نماز پڑھائے، جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس قاعدہ سے مستثنی ہیں، جہاں آپ ہوں وہاں آپ کے سوا اور کون امام ہوسکتا ہے حتی کہ شب معراج تمام نبیوں کے ہوتے ہوئے آپ کو نماز پڑھانے کے لیے آگے کیا گیا نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو حضرت عتبان نے اپنے گھر بلایا ہی اس لیے تھا کہ آپ ان کے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھا دیں۔ امام مالک نے کہا ہے کہ جب گھر میں میزبان سے افضل کوئی شخص ہو تو اسے نماز پڑھانے کے لیے کہا جائے اور حدیث میں ہے:
حضرت ابو مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو سب سے زیادہ کتاب اللہ کا قاری ہو وہ نماز پڑھائے اگر سب قراءت میں برابر ہوں تو جو ان میں سنت کا سب سے زیادہ عالم ہو وہ نماز پڑھائے اور اگر سنت میں سب برابر ہوں تو جو سب سے پہلے ہجرت کرنے والا ہو وہ نماز پڑھائے اگر ہجرت کرنے میں سب برابر ہوں تو جوان میں سب سے پہلے اسلام لایا ہو وہ نماز پڑھائے اور کوئی شخص کسی کی سلطنت میں نماز نہ پڑھائے اور نہ کوئی شخص کسی کی اجازت کے بغیر اس کی عزت والی جگہ پر بیٹھے
ایک روایت میں اسلام کی جگہ عمر کا ذکر ہے یعنی جس کی زیادہ عمر ہو وہ نماز پڑھائے۔
(صحیح مسلم : ۶۷۳ سنن ابوداؤد: ۵۸۲ سنن ترمذی: ۲۳۵ سنن نسائی: ۷۷۹ سنن ابن ماجہ: 980، مسند احمد ج 4 ص ۱۱۸)
حدیث مذکور کے دیگر مسائل اور فوائد
اگر صالحین میں سے کسی شخص کو نماز پڑھانے کے لیے کہا جائے تو اسے نماز پڑھا دینی چاہیے بہ شرطیکہ اس کو اس سے اپنی بڑائی کا خیال نہ آئے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: میں ان شاء اللہ عنقریب ایسا کروں گا اور آپ دوسرے دن آگئے، لہذا انسان کو اپنا وعدہ جلد پورا کرنا چاہیے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے کے بعد نماز پڑھائی، اس سے معلوم ہوا کہ دن میں نوافل کی جماعت کرانا جائز ہے۔
حضرت عتبان بن مالک نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلانے کے لیے روک لیا’ اس سے معلوم ہوا کہ علماء اور صالحین کی دعوت کرکے ان کی تکریم کرنی چاہیے۔
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عتبان کے گھر گئے تو حویلی کے تمام لوگ آپ کی زیارت کے لیے آگئے اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی کے گھر کوئی عالم استاذ یا مرد صالح آئے تو اس کے علاقے اور محلہ کے سب لوگوں کو اس کی زیارت اور ملاقات کے لیے آنا چاہیے۔
حاضرین میں سے کسی نے کہا: مالک بن دخشن نہیں آیا تو بتایا گیا وہ منافق ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر جماعت میں سے کوئی شخص غیر حاضر ہو تو اس کی تحقیق کرنی چاہیئے اور یہ معلوم کرنا چاہیے کہ وہ کس وجہ سے حاضر نہیں ہوا۔
جب حاضرین میں سے کسی نے کہا: مالک بن دخشن منافق ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دفاع کیا اور فرمایا: اس نے اللہ کی رضا کے لیے لا الہ الا اللہ پڑھا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی مسلمان پر منافق ہونے کی تہمت لگائی جائے تو اس کا دفاع کرنا چاہیے بلکہ جس مسلمان کا پس پشت کوئی بھی عیب بیان کیا جائے اس مسلمان کی اس عیب سے براءت کرنی چاہیے اور غیبت کرنے سے منع کرنا چاہیے۔
حضرت عتبان نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا تھا، پھر بھی آپ ان سے اجازت لے کر ان کے گھر گئے اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے گھر میں اس سے اجازت طلب کر کے جانا چاہیے خواہ اس نے خود بلایا ہو۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی لے کرگئے اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی استاذ عالم یا صالح کو کسی جگہ بلایا جائے تو وہ اپنے مقرب شاگرد کو بھی اپنے ساتھ لے جائے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزیز اور محبوب تھے اور ہر موقع اور ہر مجلس میں ان کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔( شرح ابن بطال ج ۲ ص ۹۶ – ۹۵ عمدۃ القاری ج 4 ص ۲۵۲-۲۵۱)
شیخ عبد العزیز بن باز کا صالحین کو حصول تبرک کے لیے بلانے کو سبب شرک قرار دینا اور مصنف کا اس پر رد
اس حدیث کی شرح میں یہ تمام مسائل اور فوائد حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی لکھے ہیں اور انہوں نے بھی یہ تصریح کی ہے کہ جس جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہو یا جس جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے ہوں، اس جگہ سے تبرک حاصل کرنا چاہیے اور اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین میں سے اگر کسی کو اس جگہ سے تبرک حاصل کرنے کے لیے دعوت دی جائے تو اس کو دعوت قبول کرنی چاہیے۔
(فتح الباری ج ۲ ص ۸۰ دار المعرفة، بیروت 1406ھ فتح الباری ج ا ص 522 دار نشر الکتب اسلامیہ لاہور 1401ھ )
اس جگہ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز نے حاشیہ میں اس پر اعتراض کیا ہے اور لکھا ہے: صحیح یہ ہے کہ حصول برکت کے لیے بلانا صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے اور کسی دوسرے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قیاس نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ دونوں میں بہت بڑا فرق ہے اور اس چیز کا دروازہ کھولنا غلو اور شرک کی طرف لے جاتا ہے جیسا کہ بعض لوگوں سے ایسا واقع ہوا ہے ہم اللہ سے عافیت طلب کرتے ہیں ۔ ( حاشیہ فتح الباری ج 1 ص 522، مطبوعہ لاہور 1401ھ)
اس میں تو کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ کوئی دوسرا مرد صالح نی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر نہیں ہوسکتا اور دونوں میں فرق عظیم ہے، لیکن شیخ بن باز کایہ لکھنا صحیح نہیں ہے کہ حصول برکت کے لیے بلانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے کیونکہ خصوصیت تب ثابت ہوتی ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کو حصول برکت کے لیے بلانے سے منع کیا ہوتا اور جب آپ نے اس سے منع نہیں کیا تو شیخ بن باز کا از خود اس کا سے منع کرکے شریعت سازی کرنے کا کیا جواز ہے! نیز شیخ نے لکھا ہے کہ اس چیز کا دروازہ کھولنا غلو اور شرک کی طرف لے جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کو حصول برکت کے لیے بلانا غلو اور شرک ہوگا۔ شیخ بن باز کو یہ معلوم نہیں کہ جو چیز شرک ہو وہ سب کے ساتھ شرک ہوتی ہے، اگر کسی کو حصول برکت کے لیے گھر بلانا اور اس سے نماز پڑھوانا شرک ہو تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر بلانا اور آپ سے نماز پڑھوانا بھی شرک قرار پائے گا اور کیا شیخ بن باز کو یہ معلوم نہیں کہ جو کام اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہو اس کو غیر کے لیے کیا جائے تب وہ شرک ہوتا ہے جیسے سجدہ عبودیت اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے سو اگر سجدہ عبویت غیر اللہ کے لیے کیا جائے تو یہ شرک ہوگا شیخ بن باز کسی مرد صالح کو گھر بلانے اور اس سے نماز پڑھوانے کو شرک قرار دے رہے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ گھر بلانا اور نماز پڑھوانا اللہ کے ساتھ خاص ہے تبھی تو غیر اللہ کے لیے یہ کام شرک ہوگا افسوس ! ان لوگوں نے اللہ تعالی کی تعظیم اور اس کی قدر و منزلت نہ کی !
یہ درست ہے کہ جس جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہو اس سے جو برکت حاصل ہوگی وہ بے مثل ہوگی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے صالحین کسی جگہ نماز پڑھیں گے تو اس سے بالکل برکت حاصل نہیں ہوگی لاریب ان کے نماز پڑھنے سے بھی اس جگہ برکت حاصل ہوگی اگر چہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل شدہ برکت سے کم ہوگی اس کی نظیر یہ حدیث ہے:
حضرت عمر کا حضرت عباس کے توسل سے دعا کرنا، شیخ ابن باز کے خلاف حجت ہے
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے قحط پڑنے پر حضرت عباس بن عبدالمطلب کے وسیلہ سے بارش کی دعا کی اور کہا: ہم ( پہلے ) اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے تیری طرف توسل کرتے تھے، پس تو ہم پر بارش نازل فرماتا تھا اور اب ہے شک ہم اپنے نبی کے محترم چچا سے تیری طرف توسل کر رہے ہیں سو تو ہم پر بارش نازل فرما، پس ان پر بارش ہوجاتی تھی۔(صحیح البخاری : ۱۰۱۰)
اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اس دعا کے بعد حضرت عمر نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عباس کا اس طرح لحاظ کرتے تھے، جس طرح اولاد اپنے والد کا لحاظ کرتی ہے پس اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عم محترم کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرو اور ان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ بناؤ، اس کے تھوڑی دیر بعد بارش ہوگئی۔ حافظ عسقلانی لکھتے ہیں: حضرت عباس کے اس قصہ سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اہل خیر و صلاح (یعنی صالحین ) اور اہل بیت نبوت سے شفاعت طلب کرنی چاہیے۔ (یعنی ان کے وسیلہ سے دعا کرنی چاہیے۔ سعیدی غفرلہ) ( فتح الباری ج ۲ ص 497 مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور 1401ھ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پہلے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے بارش کی دعا کرتے تھے، اب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عم محترم حضرت عباس کے وسیلہ سے بارش کی دعا کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی وجہ سے آپ کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ دیگر صالحین کے ساتھ بھی کیا جاسکتا ہے حالانکہ آپ میں اور دیگر صالحین میں بہت فرق ہے اور اس حدیث کی شرح میں بھی حافظ عسقلانی نے یہی لکھا ہے کہ صالحین اور اہل بیت نبوت کے توسل سے دعا کرنی چاہئے، بلکہ انہوں نے تو یہ لکھا ہے کہ صالحین اور اہل بیت نبوت سے استشفاع کرنا چاہیے اور استشفاع کا معنی ہے: شفاعت طلب کرنا یعنی ان سے شفاعت طلب کرنی چاہیے اور یہ عبارت تو شیخ ابن باز اور ان کے ہم مشرب لوگوں پر زیادہ باعث قہر اور ان کے لیے زہرہ گداز ہے اس کے باوجود یہاں فتح الباری کے حاشیہ میں شیخ ابن باز نے حافظ عسقلانی پر کوئی اعتراض نہیں کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک یہ عبارت صحیح ہے اور اس سے شرک کا کوئی خطرہ نہیں ہے تو پھر اسی اسلوب پر دیگر صالحین سے حصول جرکت کے لیے ان کو گھر بلانے اور ان سے نماز پڑھوانے میں شرک کا خطرہ کیوں ہے۔
شیخ عبدالعزیز بن باز کا علماء سے استفادہ اور حصول برکت کو شرک کا سبب قرار دینا اور مصنف کا اس پر رد
نیز حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جب امام یا عالم کسی کے گھر میں آئے تو اس محلہ کے لوگوں کو اس سے استفادہ کرنے کے لیے اور اس سے برکت حاصل کرنے کے لیے اس کے پاس مجتمع ہونا چاہیے۔
(فتح الباری ج۱ ص ۵۲۳ دار نشر الكتب الاسلامیہ لاہور 1401ھ، فتح الباری ج 2 ص ۸۰ دار المعرفة بیروت 1426ھ )
اس عبارت پر شیخ عبدالعزیز بن باز نے فتح الباری کے حاشیہ پر یہ اعتراض لکھا ہے:
یہ عبارت غلط ہے اور صحیح یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر کے لیے اس سے منع کیا جائے گا تاکہ شرک تک پہنچانے کا ذریعہ بند ہوجائے جیسا کہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔
شرک کی تعریف
یہ عبارت بھی ان ہی دلائل سے مردود ہے، جو ہم اس سے پہلے لکھ چکے ہیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کرنا اور آپ سے برکت حاصل کرنا شرک نہیں تو علماء اور ائمہ سے استفادہ کرنا اور ان سے برکت حاصل کرنا شرک کیوں کر ہوگا، شرک تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو واجب الوجود مانا جائے یا اس کی کسی صفت کو قدیم اور مستقل بالذات مانا جائے یا اس کو عبادت کا مستحق قرار دیا جائے، اس کے سوا کوئی قول اور فعل شرک نہیں ہے ان لوگوں نے شرک کو اس قدر عام اور ارزاں بنادیا ہے کہ علماء اور ائمہ سے استفادہ کو بھی شرک قرار دے دیا ہے ہم پوچھتے ہیں کہ کیا شیخ ابن باز اور ان کے ہم مشرب اصحاب نے دوران تعلیم اپنے اساتذہ اور اپنے امام شیخ محمد بن عبدالوہاب اور ان کے سلسلہ کے علماء سے استفادہ نہیں کیا ! ضرور انہوں نے اس سے استفادہ کیا ہے تو اپنی اس عبارت کے مطابق وہ خود مشرک ہوگئے اور کیا کبھی وہ اپنے اکابر علماء اور اساتذہ سے پڑھنے کے لیے نہیں گئے اور ضرور گئے ہیں تو وہ اپنے قاعدہ سے ضرور مشرک ہوگئے اور یہ ان پر دوسری کاری ضرب ہے۔
شیخ ابن باز نے اپنے دونوں اعتراضوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر سے برکت کے حصول کو شرک قرار دیا ہے۔ آئیے ! اب دیکھتے ہیں کہ آیا احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر سے برکت کے حصول کا ثبوت ہے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر میں احادیث صحیحہ سے برکت کا ثبوت اور ان سے برکت کا حصول
جب آیت تیم نازل ہوئی تو حضرت اسید بن الحضیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ سے کہا:
ما هي باول برکتکم یا آل ابی بکر
(صحیح البخاری: 234 صحیح مسلم: ۳۶۷)
اے آل ابو بکر ! یہ آپ کی کوئی پہلی برکت تو نہیں ہے۔
قیامت تک کے مسلمانوں کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے برکت حاصل ہوئی اور ان کو تیمم کی سہولت مل گئی۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان من الشجر لما بركته كبركة المسلم.
صحیح البخاری:5444
بعض درخت ایسے ہیں کہ ان کی برکت ضرور مسلمان کی برکت کی مثل ہے۔
اس سے مراد کھجور کا درخت تھا اور اس حدیث میں کھجور کے درخت اور عام مسلمان دونوں میں برکت کا ثبوت ہے۔
حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ” صلوا فيها فانها بركة” اس میں نماز پڑھو کیونکہ اس میں نماز پڑھنا برکت ہے۔
سنن ابوداؤد:184، سنن ترمذی: 81، سنن ابن ماجہ: 494
یعنی بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ کر برکت حاصل کرو۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا:
البركة في نواصي الخيل
صحیح البخاری: 2851، صحیح مسلم: 1874
گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت ہے۔
یعنی گھوڑوں کو پال کر اور ان سے جہاد کرکے ان کی برکت حاصل کرو۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:
اللهم اجعل بالمدينة ضعفى ما جعلت بمكة من البركة (صحیح البخاری : ۱۸۸۵ صحیح مسلم: 1369)
اے اللہ ! تو نے جتنی برکتیں مکہ میں رکھی ہیں، اس سے دو چند برکتیں مدینہ میں رکھ دے۔۔
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی میں صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوکر فرمایا:
انما اخشى عليكم من بعدى ما يفتح عليكم من بركات الارض. (صحیح البخاری: 2842)
مجھے تم پر صرف یہ خوف ہے کہ میرے بعد تم پر زمین کی برکتیں کھول دی جائیں گی۔
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمیں یہ حکم دیا جاتا تھا کہ ہم عید کے دن پردہ دار عورتوں کو اور حیض والی عورتوں کو گھروں سے نکالیں اور لوگوں کے پیچھے رہیں اور ان کی تکبیر کے ساتھ تکبیر پڑھیں اور ان کی دعا کے ساتھ دعا کریں” ويرجون بركة ذالك اليوم ” اور اس دن کی برکت کی امید رکھیں ۔ (صحیح البخاری: ۹۷۱)
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بركة الطعام الوضوء قبله والوضوء بعده.
سنن ابوداؤد: 3761-1846
کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونا کھانے کی برکت ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تسحروا فان في السحور بركة.
(صحیح البخاری: ۱۹۲۳ صحیح مسلم : ۱۰۹۵)
سحری کیا کرو کیونکہ سحری کرنے میں برکت ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے برکت حاصل ہوئی، کھجور کے درخت میں برکت ہے، عام مسلمانوں میں برکت ہے، بکریوں کے باڑے میں برکت ہے، گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت ہے مدینہ منورہ میں مکہ مکرمہ سے دوگنی برکتیں ہیں زمین میں برکتیں ہیں، عید کے دن میں برکت ہے، کھانے کے اول و آخر ہاتھ دھونے میں برکت ہے، سحری کھانے میں برکت ہے اور اگر کسی میں برکت نہیں ہے تو شیخ عبدالعزیز بن باز کے نزدیک صالحین میں برکت نہیں ہے اور ان سے برکت کے حصول کے لیے جانا یا ان کو بلانا شرک کی طرف لے جاتا ہے انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس سے بڑھ کر اولیاء اللہ سے عداوت اور کیا ہوگی! حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
من عادى لي وليا فقد اذنته بالحرب.
جو میرے ولی سے عداوت رکھتا ہے، میں اس سے اعلان جنگ کر دیتا ہوں ۔
(صحیح البخاری : ۶۵۰۲ ، صحیح ابن حبان: ۳۴۷ صفوة الصفوة لابن الجوزی ج ا ص ۱۵ مسند احمد ج 6 ص ۲۵۶)
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: ۵۷ – ج ۱ ص ۲۰۶ پر مذکور ہے۔ اس کی شرح میں ۲۵ مسائل ذکر کیے گئے ہیں ۔