کتاب الصلوۃ باب 89 حدیث نمبر 483
۸۹ – بَابُ الْمَسَاجِدِ الَّتِي عَلَى طُرُقِ الْمَدِينَةِ، وَالْمَوَاضِعِ الَّتِي صَلَّى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم
وہ مساجد جو مدینہ منورہ کے راستہ پر ہیں اور وہ جگہیں جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی
اس باب میں ان مساجد کا بیان کیا گیا ہے جو مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان راستہ میں ہیں اور جن جگہوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے۔
٤٨٣ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ الْمُقَدَّمِيُّ قَال حَدَّثَنَا فُضَيْلُ مِنْ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَی ابْن عُقْبَةَ قَالَ رَأَيْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِاللهِ يَتَحَرُّی اماکن مِن الطَّرِيقِ فَيُصَلِّى فِيْهَا، وَيُحَدِّثُ أَنَّ آبَاهُ كَانَ يُصَلَّی فِيهَا، وَأَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلّی فِي تِلْكَ الْأَمْكِنَةِ . وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ انَّه َكَانَ يُصَلِّي فِي تِلْكَ الْأَمْكِنَةِ. وَسَالَتْ سَالِعاً، فلا أَعْلَمُهُ إِلَّا وَافَقَ نَافِعًا فِي الْأَمْكِنَةِ كُلِهَا ، إِلَّا انَّهُما اختَلَفَا فِي مَسْجِدٍ بِشَرَفِ الرَّوْحَاءِ .اطراف الحدیث : ۱۵۳۵-۲۳۳۶-7345
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن ابی بکر المقدمی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں فضیل بن سلیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے سالم بن عبداللہ کو دیکھا وہ راستہ میں جگہوں کو تلاش کر رہے تھے تاکہ ان میں نماز پڑھیں اور وہ حدیث بیان کررہے تھے کہ ان کے والد ان جگہوں میں نماز پڑھتے تھے، بے شک جن جگہوں پر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ کہتے تھے: مجھے نافع نے حدیث بیان کی از حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہ وہ ان جگہوں میں نماز پڑھتے تھے اور میں نے سالم سے سوال کیا تو انہوں نے ان تمام جگہوں میں نافع کی موافقت کی، مگر ان دونوں کا شرف الروحاء کی مسجد میں اختلاف تھا۔
اس حدیث کی روایت میں امام بخاری منفرد ہیں ۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: سالم بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان جگہوں پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جن جگہوں پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
حدیث مذکور کے رجال
(۱) محمد بن ابی بکر بن علی بن عطاء بن مقدم البصری یہ ۲۳۴ھ میں فوت ہو گئے تھے
(۲) فضیل بن سلیمان النمیری
(۳) موسیٰ بن عقبه
(۴) سالم بن عبد الله بن عمر بن الخطاب
(۵) نافع ،حضرت عبداللہ بن عمر کے آزاد کردہ غلام
(۶) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ۔عمدۃ القاری ج 4 ص 394۔
شرف الروحاء کی تعیین اور اس وادی کی فضیلت میں احادیث
شرف الروحاء ایک بلند جگہ ہے، یہ قبیلہ مزینہ کی بستی ہے جو مدینہ منورہ سے دو راتوں کی مسافت کے فاصلہ پر ہے مدینہ منورہ اور اس بستی کے درمیان 41 میل کا فاصلہ ہے اس فاصلہ کے متعلق اور بھی اقوال ہیں۔
اصحاب الزہری نے حنظلہ بن علی سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! حضرت عیسی علیہ السلام روحاء کی وادی میں ضرور حج یا عمرہ کرتے ہوئے گزریں گے اور متعدد لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت عیسی اس مسجد میں پہنچے جو عرق الظبیہ کے پاس بطن الروحاء میں ہے اور یہ وادی جنت کی وادیوں میں سے ہے اور مجھ سے پہلے اس وادی میں ستر انبیاء علیہم السلا نے نماز پڑھی ہے اور حضرت موسی علیہ السلام ستر اسرائیلیوں کے ساتھ اس جگہ سے حج اور عمرہ کرتے ہوئے گزرے تھے۔(عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۹۵)
حدیث مذکور سے حافظ ابن حجر کا آثار صالحین سے برکت حاصل کرنے پر استدلال اور جس جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہو اس جگہ نماز پڑھنے کا استحباب
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں :
اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان جگہوں سے برکت حاصل کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ان کا شدید لگاؤ بہت مشہور ہے۔
اس حدیث کے خلاف اس روایت سے معارضہ نہیں کیا جاسکتا، جس میں مذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک سفر میں دیکھا کہ لوگ ایک جگہ پہنچنے میں ایک دوسرے پر سبقت کررہے ہیں، حضرت عمر نے اس کا سبب معلوم کیا تو لوگوں نے بتایا: اس جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے حضرت عمر نے کہا: جس شخص نے نماز پڑھنی ہے وہ پڑھے ورنہ لوٹ جائے اہل کتاب صرف اس لیے ہلاک ہوگئے تھے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے آثار کو تلاش کرتے تھے، پھر ان جگہوں پر گرجے اور معبد بنالیتے تھے۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ اس روایت کا محمل یہ ہے کہ حضرت عمر نے نماز پڑھنے کے بغیر اس جگہ کی زیارت کرنے کو مکروہ جانا یا ان کو یہ خطرہ ہوا کہ بعد کے لوگوں میں سے جس کو اس واقعہ کی حقیقت کا علم نہیں ہوگا، وہ اس جگہ کی زیارت کرنے کو واجب سمجھے گا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں باتوں سے مامون تھے اس سے پہلے (یہ حدیث گزرچکی ہے البخاری: ۴۲۵ کہ) حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا کہ آپ ان کے گھر آکر نماز پڑھیں تاکہ وہ اس جگہ کو اپنی نماز پڑھنے کی جگہ بنالیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس درخواست کو منظور فرمالیا سو یہ حدیث بھی آثار صالحین سے برکت حاصل کرنے میں حجت اور قوی دلیل ہے۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۱۱۸ دار المعرفته بیروت 1426ھ فتح الباری ج۱ ص ۵۶۹ لاہور 1401ھ)
شیخ عبد العزیز بن باز کا حافظ ابن حجر عسقلانی پر رد کرنا اور جس جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے اس کے تلاش کرنے کو اور وہاں نماز پڑھنے کو غیر مشروع اور ذریعہ شرک بتانا
شیخ عبدالعزيز بن عبداللہ بن باز نے فتح الباری کے اس مقام پر حاشیہ لکھ کر حافظ ابن حجر عسقلانی کا رد کیا ہے وہ لکھتے ہیں:
یہ لکھنا خطاء ہے اور صحیح وہ ہے جو ہم اس سے پہلے لکھ چکے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر کو آپ پر قیاس نہیں کیا جاسکتا اور حق یہ ہے کہ حضرت عمر نے انبیاء علیہم السلام کے آثار کو تلاش کرنے سے منع کیا ہے اور شرک کے ذریعہ کو بند کیا ہے اور وہ اپنے بیٹے کی بہ نسبت اس چیز کو زیادہ جاننے والے تھے اور جمہور علماء نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل کیا ہے اور حضرت عتبان بن مالک کی حدیث اس کے خلاف نہیں ہے کیونکہ حضرت عتبان نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا قصد کیا تھا، اس کے برخلاف راستے میں جن جگہوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازیں پڑھی تھیں ان کو تلاش کرنا اور ان پر نماز پڑھنا غیر مشروع اور ناجائز ہے اور جیسا کہ اس پر حضرت عمر کا فعل دلالت کرتا ہے اور جو شخص یہ فعل کرے گا اس کا یہ فعل اس کو بسا اوقات غلو اور شرک کی طرف لے جائے گا جیسا کہ اہل کتاب کا فعل تھا۔ (حاشیہ فتح الباری ج اص ۵۶۹ دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور 1401ھ )
مصنف کی طرف سے شیخ عبد العزیز بن باز کی عبارت کا محاسبہ اور اس کی تردید
صحیح البخاری: ۴۲۵ کی شرح میں ہم شیخ بن باز کی عبارت پر مفصل رد کرچکے ہیں، یہاں پر ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ حافظ ابن حجر اور علامہ عینی وغیرہ نے حضرت عمر سے جو یہ نقل پیش کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ میں جن جگہوں پر نماز پڑھی تھی، ان جگہوں کے تلاش کرنے کو حضرت عمر نے پسند نہیں فرمایا اور یہ کہا کہ اہل کتاب صرف اس لیے ہلاک ہوئے تھے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے آثار کو تلاش کرتے تھے پھر ان جگہوں پر گرجے اور معبد بنالیتے تھے سو حافظ ابن حجر اور علامہ عینی نے اس نقل کا کوئی حوالہ نہیں لکھا اور نہ یہ قول کسی صحیح سند سے ثابت ہے۔ اس کے برخلاف حضرت عمر کا جو قول صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ وہ انبیاء ان کے آثار کی تعظیم کرتے تھے اور ان آثار پر عبادت کرتے تھے اور ان کو نماز پڑھنے کی جگہ بتاتے تھے حدیث میں ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے کہا: میں نے اپنے رب کی تین چیزوں میں موافقت کی ہے میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! اگر ہم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالیں، تو یہ آیت نازل ہوگئی:
وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّى (البقره: 125)
اور تم مقام ابراہیم کو اپنے نماز پڑھنے کی جگہ بنالو۔(صحیح البخاری : ۴۰۲)
مقام ابراہیم وہ پتھر ہے، جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیر کا نشان ہے، حضرت عمر نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا: یارسول اللہ ! اگر ہم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالیں؟ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ، انبیاء علیہم السلام کے آثار کی تعظیم کرتے تھے اور تمام امت مسلمہ سے اس مقام کی تعظیم کرانا چاہتے تھے۔ اس صحیح حدیث اور قرآن مجید کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر کی طرف اس غیر مستند قول کی نسبت صحیح نہیں ہے کہ انہوں نے راستوں پر ان جگہوں کو تلاش کرنے اور وہاں نماز پڑھنے سے منع کیا، جہاں ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اثناء سفر میں نمازیں پڑھی تھیں، جو شخص انبیاء علیہم السلام کی اس قدر تعظیم کا معتقد ہو کہ جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیر کا نشان ہو، اس جگہ کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالینے کی درخواست کرتا ہوا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ وہ سید الانبیاء کے نماز پڑھنے کی جگہ پر نماز پڑھنے اور اس جگہ کو تلاش کرنے سے منع کرے، لہذا صحیح بخاری کی اس حدیث اور قرآن مجید کی اس آیت کے معارض جن لوگوں نے بھی اس غیر مستند قول کو گھڑا ہے وہ قطعا باطل اور مردود ہے یہ غیر مستند قول صحیح بخاری اور قرآن مجید کی اس آیت سے معارضہ کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتا۔
شیخ بن باز نے جو یہ کہا ہے کہ راستے میں جن جگہوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازیں پڑھی تھیں ان کو تلاش کرنا اور ان پر نمازیں پڑھنا غیر مشروع اور ناجائز ہے اور یہ عمل شرک کی طرف لے جاتا ہے تو کیا ان کے نزدیک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حرام کام کیا تھا اور اس حدیث کے ذریعہ قیامت تک کی امت کو حرام کام کی ترغیب دی اور شرک کا سبب بنے۔
اسی طرح حضرت عمر نے جو مقام ابراہیم کی تعظیم کے لیے اس کو نماز کی جگہ بنانے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تو کیا وہ بھی حرام کے مرتکب ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس حرام کام سے منع کیوں نہیں کیا، پھر شیخ بن باز کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا حکم عائد ہوگا کیونکہ آپ نے اس کو برقرار رکھا اور آج تک امت مسلمہ مقام ابراہیم کے قریب نمازیں پڑھ رہی ہے اور اس کو اپنی سعادت گردانتی ہے اور قرآن کی آیت البقرہ: ۱۲۵ کے متعلق وہ کیا کہیں گے۔
اور جہاں تک آثار صالحین سے برکت حاصل کرنے اور اس کے قرب میں مسجد بنانے کا تعلق ہے تو ہم اس سے پہلے صحیح البخاری :425 کی شرح میں بہت تفصیل سے لکھ چکے ۔
مزید وضاحت کے لیے ہم مشاہیر علماء دیوبند کے چند حوالہ جات پیش کررہے ہیں کہ مسجد کے قریب صالحین کا مزار بنانا کوئی نیا طریقہ اور بدعت نہیں ہے بلکہ صدیوں سے سلف اور خلف کا معمول چلا آرہا ہے۔
مساجد کے احاطہ میں صالحین کے مزار بنانے پر شیخ محمدتقی عثمانی کی شہادت
شیخ محمد تقی عثمانی اپنے سفر نامہ میں بغداد کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
جدید شہر کے مختلف علاقے یکے بعد دیگرے گزرتے چلے گئے یہاں تک کہ کار شہر کے قدیم حصے میں داخل ہو گئی اور گلی کوچوں سے عہد گزشتہ کی بُو باس آنے لگی۔ تھوڑی دیر میں گاڑی ایک نیم پختہ سڑک کے کنارے رک گئی۔ یہاں ایک عالی شان مسجد کی دیوار نظر آئی برابر میں ایک گلی تھی، اور مسجد کا دروازہ گلی میں کھلتا تھا۔ دروازہ قدیم شاہی عمارتوں کی طرح بڑا پر شکوہ تھا۔ یہ حضرت شیخ عبدالقادر گیلانی قدس سرہ کی مسجد اور ان کا مدرسہ تھا جس کے ایک حصہ میں حضرت شیخ رحمہ اللہ خود بھی آسودہ ہیں۔
یہ مسجد یہاں حضرت شیخ رحمہ اللہ کے زمانے ہی سے قائم ہے اور اس کی دیوار قبلہ کے پیچھے حضرت شیخ رحمہ اللہ کا مزار مبارک ہے۔ وہاں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ ( جہاں دیدہ ص ۱۹ مکتبہ معارف القرآن’ کراچی ۱۴۲۶ھ )
حضرت موسیٰ الکاظم رحمۃ اللہ علیہ کے مزار ہی کے احاطے میں جنوبی جانب ایک مسجد جامع ابی یوسف رحمہ اللہ کے نام سے بنی ہوئی ہے۔ اس مسجد کے ایک حصے میں حضرت امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا مزار ہے۔ حضرت موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ کے بعد یہاں حاضری ہوئی۔ (جہاں دید و ص ۳۶)
حضرت امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے مزار سے نکلے تو سورج ڈھلنے کے قریب تھا اور اب دل میں شدید اشتیاق حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری کا تھا، جو یہاں سے کافی دور واقع ہے لیکن ہمارے ڈرائیور نے جو صرف ڈرائیونگ نہیں بلکہ مہمان نوازی کے فرائض بھی بڑے خلوص و محبت کے ساتھ انجام دے رہا تھا، مغرب کے وقت جامع الامام الاعظم رحمہ اللہ میں پہنچادیا۔
حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک کی وجہ سے یہ پورا علاقہ اعظمیہ” کے نام سے مشہور ہے۔ اب تو یہ شہر کا خاصا بارونق علاقہ ہے لیکن حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے عہد مبارک میں یہ ایک قبرستان تھا اور چونکہ خلیفہ کی کنیز خیزران ” یہاں دفن ہوئی تھی اس لیے مقبرة الخیزران کے نام سے مشہور تھا۔ خطیب نے تاریخ بغداد میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مشہور راوی محمد بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی قبرستان میں مدفون ہیں، لیکن اب دوسری قبریں تو بے نشان ہوچکی ہیں اور ان کی جگہ آبادی نے لے لی ہے البتہ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا مزار ابھی باقی ہے اور اس کے قریب ایک شاندار مسجد جامع الامام ابی حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ” کے نام سے تعمیر کردی گئی ہے۔ (جہاں دیدہ ص ۴۰)
حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار ہمیشہ مرجع خاص و عام رہا بلکہ خطیب بغدادی اپنی سند سے امام شافعی کا یہ قول روایت کرتے ہیں کہ میں امام ابوحنیفہ سے برکت حاصل کرنے کے لیے روزانہ ان کی قبر پرجاتا ہوں اور جب کبھی مجھے کوئی ضرورت لاحق ہوتی ہے میں دور کعتیں پڑھ کر ان کی قبر پر حاضر ہوتا ہوں اور وہاں اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت کا سوال کرتا ہوں اللہ تعالیٰ میری حاجت جلد پوری فرما دیتے ہیں ۔ حضرت امام صاحب کی قبر پر بیٹھ کر ایسا سکون محسوس ہوا جیسا بچہ ماں کی آغوش میں بیٹھ کر سکون محسوس کرتا ہے۔ (جہاں دیدہ ص ۴۳ – ۴۲)
مدائن کے تذکرہ میں شیخ محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں:
مدائن میں داخل ہو کر سب سے پہلے ایک جامع مسجد آتی ہے اس جامع مسجد کے احاطے میں تین صحابہ کرام (رضوان اللہ علیم ) مدفون ہیں : حضرت سلمان فارسی’ حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت عبداللہ بن جابر رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔ ان تینوں مزارات پر حاضر ہو کر سلام کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ (جہاں دیدہ ص ۴۸-۴۷)
صالحین کے قرب میں مسجد بنانے پر سید احمد رضا بجنوری کی شہادت
مسجد بہ جوار صالحین کے عنوان سے سید احمد رضا بجنوری لکھتے ہیں:
یہاں یہ مسئلہ بھی لائق ذکر ہے کہ مقابر کے اندر یا قبور صالحین کے پاس مسجد بنانا کیسا ہے؟ نجدی حضرات نے تو حرمین شریفین کے پختہ مزارات صحابہ و تابعین کا انہدام کیا تھا تو جن مزارات کے ساتھ مساجد تھیں، وہ بھی منہدم کرادی تھیں، حالانکہ اکابر اہل سنت
(یعنی علماء دیوبند سعیدی غفرلہ ) نے اگر چہ مزارات پختہ بنانے کو ناجائز قرار دیا مگر جو بن گئے تھے ان کا انہدام بھی کبھی پسند نہیں کیا تھا، کیونکہ اس سے بھی مقبورین کی توہین ہوتی ہے اور اس اہانت سے بچنا چاہیے تھا، تاہم انہدام مساجد کی تو کوئی بھی شرعی معقولیت نہ تھی، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے علماء و عوام نے ان مساجد کو مقابر کی مساجد قرار دیا۔ حافظ نے لکھا کہ امام احمد واہل ظاہر مقبرہ میں نماز کو ناجائز فرماتے ہیں، کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ مقبرہ اور حمام نماز کی جگہ نہیں ہے امام احمد وغیرہ نے اس کے ظاہر پر عمل کیا اور دوسرے اس کی علت نکال کر اس پر مدار رکھتے ہیں، مثلا امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مقبرے میں اگر قبریں ٹوٹی پھوٹی یا اُدھڑی پڑی ہوں اور مقبورین کے لحم و شحم خون و پیپ وہاں کی مٹی میں مل گیا ہو تو ایسے مقبرہ میں نماز نہ پڑھی جائے اور اگر پاک صاف جگہ ہو تونماز جائز بلا کراہت ہے امام مالک بھی مقبرے میں نماز بلا کراہت جائز فرماتے ہیں امام ابوحنیفہ ثوری و اوزاعی کراہت کے قائل ہیں، بوجہ نجاست وغیرہ۔
علامہ بیضاوی نے لکھا کہ یہود و نصاری، قبور انبیاء علیہم السلام کوسجدہ تعظیمی کرتے اور ان کو قبلہ بناتے تھے کہ نماز بھی ان ہی کی طرف کو پڑھتے تھے اس لیے ان پر لعنت کی گئی، لیکن اگر کسی صالح کے قرب میں محض برکت کے خیال سے مسجد بنائی جائے تو وعید میں داخل نہ ہوگی، غرض ممانعت صرف اس ڈر سے ہے کہ قبر کو دثن و بت نہ بنالیا جائے، لیکن اس سے امن و اطمینان ہو تو کوئی ممانعت نہ ہوگی البتہ بعض لوگوں نے سد ذرائع کے طور پر روکا ہے تو یہ بھی معقول وجہ ہے۔ (فتح الباری بحوالہ فتح الملہم ج ۲ ص ۱۲۱) علامہ ابن حزم نے پانچ صحابہ سے ممانعت صلوة عند القبر نقل کی ہے اور پھر یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کے خلاف کسی صحابی سے ثابت نہیں ہے حالانکہ علامہ خطابی نے معالم السنن میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رخصت صلوة في المقبرہ نقل کی ہے اور حسن بصری نے بھی مقبرہ میں نماز پڑھی ہے۔ (فتح الملہم ج ۲ ص ۱۲۱) حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے پوچھا کہ ابن عمر وسط قبور میں نماز کو مکروہ سمجھتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے خود حضرت عائشہ و حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ بقیع کے قبرستان میں پڑھی ہے حضرت ابوہریرہ امام تھے اور مقتدی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ تھے ۔ ( اوجز ج ۲ ص ۲۱۱ از سنن بیہقی ج ۲ ص 425)
حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ علامہ طیبی رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص کسی صالح کے جوار میں مسجد بنائے، اس طرح کہ اس کی قبر مسجد سے باہر رہے اور مقصد اس کے قرب سے برکت حاصل کرنا ہو اس کی تعظیم یا اس کی طرف رخ کرنا نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس سے نفع کی بھی امید ہے۔ (فیض الباری ج ۲ ص ۴۲)
راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ جس طرح دہلی میں حضرت خواجہ باقی باللہ کے مقبرہ میں مسجد ہے یا حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے قبور سے متصل مسجد ہے یا سر ہند شریف و دیگر مقامات میں اولیاء عظام کے قرب میں مساجد بنی ہوئی ہیں وہ سب جواز بلا کراہت کے تحت ہیں اور ان کے اندر نماز بھی بلاکراہت جائز ہے۔ (اس طرح داتا گنج بخش حضرت علی ہجویری کے مزار کے قرب میں مسجد ہے اور لاہور میں ایسی کئی مساجد ہیں ۔ سعیدی غفرلہ )
چونکہ جامع صغیر کے حوالہ سے سترہ کے ساتھ نماز میں عند الحنفیہ کسی قسم کی بھی کراہت نہیں ہے چونکہ ایک زمانہ میں علامہ ابن تیمیہ وغیرہ کے تشددات کا اثر دور دور تک پھیلا تھا، تو خیال ہوتا ہے کہ اس کے اثرات ہندوستان میں بھی آئے تھے اور بعض مسائل میں ہمارے اکابر کا تشدد بھی شاید اسی کے تحت ہوا ہو چنانچہ یہ بھی نقل ہوا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب رحمہ اللہ نے جو مسجد شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ کے مزار پر بنوائی ہے اس کو شاہ الحق صاحب اچھا نہ جانتے تھے کیونکہ وہ فرماتے تھے کہ قبرستان میں مسجد نہیں بنوانا چاہیے اور استدلال میں یہی بخاری والی حدیث پیش کرتے تھے، جس کی یہ تشریح چل رہی ہے اور اسی لیے شاہ اسحق صاحب اس مسجد میں بھی نماز نہ پڑھتے، الا نادرا ایک مرتبہ قبروں پر مسجد بنانے کے متعلق کسی نے آپ سے پوچھا تو فرمایا کہ نہ چاہیے اس نے کہا کہ پھر آپ کے نانا نے کیوں بنوائی ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ ان سے پوچھو میرا مسلک یہی ہے ۔ ( ارواح ثلاثہ ص ۹۰)
ایسا ہی ایک واقعہ ص ۳۳ پر بھی ہے وغیرہ جس سے حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ کے مسلک میں توسع اور شاہ اسحق صاحب کے مزاج میں تشدد ثابت ہوتا ہے اور حضرت شاہ اسماعیل صاحب رحمہ اللہ کے مزاج میں بھی غیر معمولی تشدد تھا، حضرت شاہ اسحق رحمہ اللہ نے ” اربعین ” و ” مائتہ مسائل میں بھی شیخ عبد الحق محدث دہلوی’ حضرت شاہ ولی اللہ اور حضرت شاہ عبدالعزیز کے خلاف رائے و تشدد مسئله استمداد قبور وغیرہ میں اختیار کیا ہے اور ہمارے حضرت علامہ کشمیری رحمہ اللہ کی رائے میں توسع اور عدم تشدد ان کے رسالہ تحلیل الذبائح فی حریم الضرائح” سے ثابت ہے جو کشمیر سے شائع ہوا تھا اور احقر کے پاس ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جن مسائل میں حنفی مسلک پر گنجائش نکل سکتی ہو، ان میں تشدد مناسب نہیں اور اس بارے میں شاہ عبدالعزیز صاحب رحمہ اللہ کا اعتدال ہمارے لیے اسوہ بنے تو اچھا ہے۔ والله المسؤل ان يوفقنا لما يحب ويرضاه . (انوار الباري ج 14 ص 38 – 37 اداره تالیفات اشرفیه ملتان )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہوں اور آپ کے آثار سے برکت حاصل کرنے پر شیخ گنگوہی اور شیخ کاندھلوی کی شہادت
شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی ۱۳۲۳ ھ حدیث مذکور کی شرح میں لکھتے ہیں:
امام بخاری نے اس حدیث کو لانے سے یہ قصد کیا ہے کہ ان جگہوں کو بیان کریں جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف جاتے ہوئے اور واپس آتے ہوئے ٹھہرتے تھے تا کہ وہاں نماز پڑھ کر اور دعا مانگ کر برکت حاصل کی جائے۔ لامع الدراری ج ا ص 191 ایچ۔ ایم ۔ سعید کمپنی کراچی)
شیخ محمد زکریا کاندھلوی اس کے حاشیہ پر لکھتے ہیں:
قاضی عیاض نے الشفاء میں لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں سے یہ ہے کہ آپ کے تمام مشاہد اور مکہ اور مدینہ کی تمام جگہوں اور جہاں آپ نے عبادت کی ہے اس کی تعظیم کی جائے اور جن چیزوں کو آپ نے چھوا ہے ان کی بھی تعظیم کی جائے۔ صفیہ بنت نجدہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابو محذورہ کے سر کے اگلے حصہ کے بال بہت لمبے تھے جو زمین تک لٹکتے تھے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ ان بالوں کو مونڈ کیوں نہیں دیتے، انہوں نے بتایا کہ ان بالوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے چھوا تھا اور جن بالوں پر آپ کا مبارک ہاتھ لگا تھا، میں ان کو مونڈ نہیں سکتا، اور روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جہاں بیٹھتے تھے، حضرت ابن عمر اس جگہ اپنے ہاتھ لگا کر پھر اپنے ہاتھوں کو چومتے تھے۔ ( الشفاء ج ۲ ص ۴۷ دار الفکر بیروت، ۱۴۱۵ھ )
اس کے بعد شیخ کاندھلوی نے سنن ابوداؤد اور صحیح بخاری کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلغم تھوکتے تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھوں پر لے کر اپنے چہرے اور بدن پر ملتا اور آپ کے وضوء سے بچے ہوئے پانی کو لینے کے لیے صحابہ ایک دوسرے پر جھپٹ پڑتے تھے (صحیح البخاری:۲۷۳۲) اور حضرت ام سلمہ نے آپ کا ایک مبارک بال ایک ڈبیا میں رکھا ہوا تھا اس ڈبیا کو پانی میں ڈال کر وہ پانی بیماروں کو پلاتی تھیں تو ان کو شفاء ہوجاتی تھی۔ (صحیح البخاری:5896) صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں سے آپ کے آثار سے برکت حاصل کرنے کے واقعات اس قدر کثیر ہیں، جو شمار سے باہر ہیں۔( حاشیہ لامع الدراری ج ا ص ۱۹۱ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
شیخ کشمیری کا حضرت ابن عمر کے عمل کو مستحسن قرار دینا
شیخ محمد انور کشمیری متوفی ۱۲۵۲ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اثناء سفر میں جن جگہوں پر نمازیں پڑھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان میں سے بعض جگہوں پر مساجد بنالی تھیں تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار باقی رہیں، آپ کا مدینہ سے مکہ کا سفر سات ایام پر مشتمل تھا اور جن جگہوں پر آپ نے نماز پڑھی ان کی تعداد 35 ہے ابن تیمیہ نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کام اتفاقاً صادر ہوئے ان میں بھی آپ کی اتباع کرنا اس وقت حسن ہے جب وہ کام اتفاقا یعنی بغیر قصد کے کیے جائیں لیکن جب کوئی شخص تلاش کرکے اور غور و فکر سے وہ کام کرے تو اس کو ابن تیمیہ اچھا نہیں جانتے۔ (جیسے حضرت ابن عمر نے ان جگہوں کو تلاش کرکے وہاں نماز پڑھی۔ سعیدی غفرلہ) شیخ کشمیری لکھتے ہیں: لیکن میرے نزدیک ان کاموں میں بھی آپ کی اتباع کرنا باعث اجر ہے جیسے وادی محصب میں نماز پڑھنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ نماز پڑھی تھی، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں نماز پڑھنے کو سنت کہتے تھے۔ (فیض الباری ج ۲ ص 76 ملخصاً مطبعہ حجازی قاہرہ ۱۳۵۷ھ)