۵۰ – بَابُ الصَّلوةِ فِي مَوَاضِعِ الْإِبِلِ

اونٹوں کی جگہوں میں نماز پڑھنا

اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے میں فقہاء کا اختلاف ہے بعض فقہاء کے نزدیک جائز ہے اور بعض منع کرتے ہیں ۔ مانعین کی دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو اور اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو۔ (سنن ترمذی: ۳۴۸ مسند احمد ج ۲ ص ۴۵۱)

صحیح البخاری: ۲۳۳ کی شرح میں ہم نے اس کی زیادہ تفصیل لکھی ہے۔

جواز کے متعلق امام بخاری کی درج ذیل روایت ہے:

٤٣٠ – حَدَّثَنَا صَدَقَةٌ مِنْ الْفَضْلِ قَالَ أَخْبَرَنَا سلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللهِ ، عَنْ نافع قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلَّى إِلَى بَعِيرِهِ، وَقَالَ رَایت النبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُه۔ُ طرف الحديث :507 

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں صدقہ بن الفضل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سلیمان بن حیان نے خبر دی انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث بیان کی از نافع وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اونٹ کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

صحیح مسلم: ۵۰۲ الرقم السلسال : ۱۰۹۷ سنن ابوداؤد: 692 سنن ترمذی : 352 المعجم الکبیر : ۱۳۴۰۴ سنن بیہقی ج ۲ – 269 – مصنف ابن ابی شیبه ج 1ص 383 مسند احمد ج ۲ ص ۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۴۴۶۸ – ج 8 ص  41  مؤسسة رسالہ بیروت )

حدیث مذکور کے رجال

(۱) صدقہ بن الفضل ابو الفضل المروزی، یہ ۲۲۳ھ میں فوت ہوگئے تھے

(۲) سلیمان بن حیان،ابوخالد الاحمر الازدی الجعفری الكوفی الامام ۱۸۹ھ میں فوت ہوگئے تھے

(۳) عبيد لله بن عمر بن حفص بن عاصم بن عمر بن الخطاب، یہ فضل اور عبادت میں اہل مدینہ کے اکابر میں سے تھے 147ھ میں فوت ہو گئے تھے (۴) نافع، حضرت ابن عمر کے آزاد کردہ غلام ہیں

( ۴ ) حضرت عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ (عمدة القاری ج 4 ص 269)

اس حدیث کی باب کے ساتھ مطابقت نہیں ہے کیونکہ باب کا عنوان ہے: اونٹوں کی جگہ پر نماز پڑھنا اور حدیث میں ہے: سواری کی طرف نماز پڑھنا۔

سواری کو سترہ بنانے کا جواز

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ سواری کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا جائز ہے علامہ ابن التین نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ گھوڑوں اور گدھوں کی طرف منہ کرکے نماز نہ پڑھی جائے کیونکہ ان کا پیشاب نجس ہے اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ اونٹ کے قریب نماز پڑھنا جائز ہے اور اگر آدمی نماز میں اونٹ اور سوار کی کو سترہ بنائے تو یہ جائز ہے اور امام ترمذی نے بعض اہل علم سے نقل کیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور علامہ ابن عبد البر نے الاستذکار میں لکھا ہے کہ سواری کو سترہ بنانے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ابن حزم نے لکھا ہے : جس نے اونٹ کی طرف نماز پڑھنے سے منع کیا وہ باطل ہے۔