٥٨ – بَابُ نَوْمِ الرِّجَالِ فِي الْمَسْجِدِ

مردوں کا مسجد میں سونا

باب سابق میں امام بخاری نے عورت کے مسجد میں سونے کے متعلق واحد کا صیغہ ذکر کیا تھا کیونکہ حدیث میں صرف ایک عورت کے مسجد میں سونے کا ذکر ہے اور اس باب میں مردوں کے مسجد میں سونے کے متعلق جمع کے صیغہ کا ذکر کیا ہے، کیونکہ احادیث میں مسجد کے اندر متعدد مردوں کے سونے کا ذکر ہے۔ دونوں بابوں میں مناسبت یہ ہے کہ پہلے باب میں مسجد کے اندر عورت کے سونے کا ذکر تھا اور اس باب میں مسجد کے اندر مردوں کے سونے کا ذکر ہے۔ اس کے بعد درج ذیل تعلیق ہے:

وَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَدِمَ رَهْطُ مِنْ عكْلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانُوا فی الصفة.

اور ابوقلابہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عکل کی ایک جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو وہ مسجد کے چبوترے میں ٹھہری۔

اس تعلیق کی اصل، صحیح البخاری : ۲۳۳ میں گزرچکی ہے۔

وَقَالَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ كَانَ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ الْفُقَرَاء.

اور حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما نے کہا: اور وہ اصحاب الصفہ کے فقراء میں تھے۔

 

اس تعلیق کی اصل، صحیح البخاری : 602 میں ہے اور اس میں ایک طویل قصہ کا بیان ہے۔

ان دونوں تعلیقوں سے امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ قبیلہ عکل کے لوگ مسجد نبوی کے چبوترے میں ٹھہرے اور اصحاب صفہ بھی مسجد نبوی کے چبوترے میں ٹھہرے ہیں مردوں کا مسجد میں رہنا ثابت ہوگیا۔

٤٤٠ – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِاللهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ أَخْبَرَنِى عَبْدُاللهِ بنُ عمر أَنَّهُ كَانَ يَنَامُ، وَهُوَ شَابٌ اَعْزَبُ لَا أَهْلَ لَهُ، فی مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

اطراف الحدیث:۱۱۳۱-1156- ۳۷۳۸-3740، 7015، 7016، 7029، 7030،7031

 امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی از عبیداللہ انہوں نے کہا: ہمیں نافع نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ وہ نوجوان اور کنوارے تھے ان کی بیوی نہیں تھی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں سوتے تھے۔

مسجد میں سونے کے متعلق مذاہب فقہاء

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:

المہلب نے کہا ہے کہ اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ فقراء کے لیے مسجد میں ٹھہرنا جائز ہے اور غیر فقراء کے لیے مسجد میں سونا جائز ہے۔ اس مسئلہ میں فقہاء کا اختلاف ہے جنہوں نے مسجد میں سونے کی اجازت دی ہے وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مسجد میں رات کو سوتے تھے اور دن کو بھی سوتے تھے اور سعید بن المسیب، الحسن البصری، عطاء اور ابن سیرین سے بھی اس کی مثل مروی ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس میں اختلاف ہے انہوں نے فرمایا: مسجد کو سونے کی جگہ نہ بناؤ اور ان سے ایک روایت یہ ہے کہ اگر تم نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں سو جاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا: مسجد میں رات کو سونے کی جگہ بناؤ نہ دن کو۔ (سنن ترمذی ص ۱۵۹ دار المعرفة بیرات 1423ھ)

امام مالک نے کہا : جس آدمی کا گھر ہو اس کے لیے مسجد میں نہ سونا مستحب ہے اور جو آدمی ضعیف ہو اور جس کا گھر نہ ہو اس کے لیے انہوں نے اجازت دی ہے امام احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے اور امام مالک نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان مسجد میں رہتے تھے اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ’ مجاہد اور اوزاعی نے مسجد میں سونے کو مکروہ کہا ہے۔

جن فقہاء نے مسافروں کو مسجد میں سونے کی اجازت دی ہے ان کا قول اس باب کی احادیث کی وجہ سے اولیٰ ہے، سعید بن مسیب اور سلیمان بن سیار سے مسجد میں سونے کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: تم کس وجہ سے یہ سوال کر رہے ہو حالانکہ اہل الصفہ مسجد میں سوتے تھے اور مسجد ہی ان لوگوں کا مسکن تھی اور طبری نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مسجد میں سوئے ہوئے دیکھا اور ان کے پاس اور کوئی نہیں تھا اور وہ اس وقت امیر المؤمنین تھے اور حسن بصری نے کہا:

متقدمین کی ایک جماعت مسجد میں سوتی تھی، طبری نے کہا: مسجد میں حلال چیزوں سے نفع اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے مثلا کھانے پینے میں، بیٹھنے میں اور سونے میں۔

الحربي نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ایک سایا دار جگہ تھی جس کو الصفۃ کہتے تھے،  اس میں مساکین رہتے تھے۔

( شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۱۴ – ۱۱۳ دار الكتب العلمیة بیرات 1424ھ )

علامہ بدرالدین عینی نے بھی اس عبارت کو بعینہ نقل کردیا ہے ۔ عمدۃ القاری ج 4 ص ۲۹۳)

مسجد میں سونے کے متعلق مصنف کا موقف

مصنف کے نزدیک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول راجح ہے اور مسجد کو سونے کی جگہ اور مسجد میں سونے کی عادت نہیں بنانی چاہیے، الا یہ کہ کوئی شخص مسافر ہو یا اس کا کوئی گھر نہ ہو، کیونکہ جب آدمی سوتا ہے تو اس کے اعصاب ڈھیلے پڑجاتے ہیں اور سوتے میں اس کی ہوا خارج ہوجاتی ہے اور بدبو پھیلتی ہے اور یہ مسجد کے آداب کے منافی ہے اور بدبو سے فرشتوں کو اذیت ہوتی ہے اور نیند میں آدمی کو پتا نہیں چلتا اور کپڑوں سے اس کا ستر ظاہر ہوجاتا ہے اور یہ بھی مسجد کے آداب کے منافی ہے صحابہ کرام سے جو مسجد میں سونا منقول ہے دوضرورت کی بناء پر تھا اور شاذ و نادر تھا، اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق مسجد میں سونے کا معمول نہیں بنانا چاہیے لوگ حرم شریف میں بھی سو جاتے ہیں یہ زیادہ معیوب ہے۔