٦٦ – بَابٌ يَأْخُذُ بِنُصُولِ النَّبلِ إِذَا مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ

جب کوئی شخص مسجد سے گزرے تو تیر کی نوک کو اپنے ہاتھ سے پکڑ لے

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص مسجد کے پاس سے گزرے تو تیر کے پھل یا اس کی نوک کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر رکھے اگر وہ اس نوک کو پکڑ کر نہیں رکھے گا تو ہوسکتا ہے وہ نوک کسی کے چبھ جائے۔

٤٥١ – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّلَنَا سُفْيَان قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو اَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللهِ يَقولُ مر رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ سِهَامٌ ، فَقَالَ لَهُ رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ بِنصَالِهَا؟ اطراف الحدیث: ۷۰۷۳ – 7074

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ بن سعید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے عمرو سے پوچھا: کیا تم نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے سنا ہے وہ کہتے تھے کہ ایک شخص مسجد سے گزرا اور اس کے ساتھ تیر تھے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے تیر کی نوک یا پیکان کو پکڑکر رکھو؟

( صحیح مسلم : 2614،  الرقم المسلسل : ۶۵۳۸ ، سنن نسائی: ۷۱۸ سنن ابن ماجہ : 3777 مسند الحمیدی: ۱۲۵۲ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص 436 ج ۸ ص ۵۸۲ سنن دارمی: ۶۳۳ – ۱۴۰۲ مسند ابویعلی : ۱۹۹۵- ۱۹۷۱ – ۱۸۳۳ صحیح ابن خزیمہ : ۱۳۱۶ صحیح ابن حبان : ۱۶۴۷ سنن  بیہقی ج ۸ ص 23 مسند احمد ج ۳ ص ۳۰۸ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۴۳۱۰ – ج ۲۲ ص ۲۱۳ مؤسسة الرسالة بیروت )

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: آپ نے فرمایا: اپنے تیر کی نوک یا پیکان کو پکڑکر رکھو ۔

اس حدیث کے چار رجال ہیں، جن کا پہلے تعارف ہوچکا ہے۔

حدیث مذکور کی سند میں ابہام کا ازالہ، علامہ عینی سے

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث کی سند پر یہ اعتراض ہے کہ سفیان نے کہا: میں نے عمرو سے پوچھا : کیا تم نے حضرت جابر بن عبداللہ سے یہ حدیث سنی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد عمرو کا جواب مذکور نہیں ہے کہ انہوں نے حضرت جابر سے یہ حدیث سنی تھی یا نہیں؟

اس کی تحقیق یہ ہے کہ اس میں محدثین کا اختلاف ہے کہ قاری کے سوال کے بعد شیخ کے جواب کے ذکر کرنے کی شرط ہے یا نہیں، مذہب راجح جس پر محققین ہیں اور امام بخاری بھی انہی میں سے ہیں، وہ مذہب یہ ہے کہ شیخ کا یہ کہنا کہ “ہاں” یہ شرط نہیں ہے، بلکہ شیخ کا سکوت کافی ہے جب کہ اس سے سوال کرنے والا بیدار مغز ہو، اس لحاظ سے حضرت جابر کی سند پر کوئی اعتراض نہیں ہے علاوہ ازیں الاصیلی کی روایت میں ہے: عمرو نے کہا: ہاں ! لہذا اس سند سے اعتراض ساقط ہوگیا ۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۱۷ – ۳۱۶)

حدیث مذکور کی سند میں ابہام کا ازالہ، علامہ ابن بطال سے

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں اسناد ظاہر نہیں ہے، کیونکہ سفیان نے عمرو سے کہا: آپ نے حضرت جابر سے یہ حدیث سنی ہے کہ ایک شخص مسجد کے پاس سے گزرا اور اس کے پاس تیر تھے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے تیر کی نوک کو پکڑکر رکھو، اور یہی نقل نہیں کیا کہ عمرو نے اس کے جواب میں کہا: ہاں، امام بخاری نے کتاب الصلوۃ کے علاوہ از علی بن عبداللہ از سفیان، یہ حدیث ذکر کی ہے، اس میں ذکر ہے : سفیان نے عمرو سے کہا: کیا آپ نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص مسجد میں تیروں کے ساتھ گزرا تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے تیروں کی نوکوں کو پکڑکر رکھو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ۔ (صحیح البخاری: ۷۰۷۳) لہذا ان کے ہاں کہنے سے سند کا ابہام دور ہوگیا ۔ ( شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۲۸ دارالکتب العلمیہ بیروت (1424ھ )

حدیث مذکور کی سند میں ابہام کا ازالہ، علامہ عسقلانی سے

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں :

حدیث مذکور کی سند میں سفیان کا ذکر ہے، اس سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں اور عمرو کا ذکر ہے اس سے مراد عمرو بن دینار ہیں قتیبہ نے اس سند میں عمرو بن دینار کا جواب ذکر نہیں کیا، لیکن اصیلی کی روایت میں ہے کہ انہوں نے آخر میں کہا: ہاں! امام بخاری نے کتاب الفتن میں قتیبہ کے غیر از علی بن عبدالله از سفیان، اس روایت کی مثل ذکر کی ہے اس کے آخر میں مذکور ہے: انہوں نے کہا: ہاں! (صحیح البخاری : ۷۰۷۳) امام مسلم نے اس حدیث کو از سفیان از عمرو از جابر بغیر سوال اور جواب کے روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم : 2614 ۔2615) نیز امام بخاری اور امام مسلم نے اس حدیث کو بغیر سفیان کے از حماد بن زید از عمرو بن دینار از حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کیا ہے کہ ایک شخص مسجد میں تیروں کے ساتھ گزرا اور اس نے تیروں کی نوکوں کو ظاہر کیا ہوا تھا تو اس کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنے تیروں کی نوکوں کو پکڑکر رکھے تاکہ وہ نوکیں کسی مسلمان کو زخمی نہ کردیں۔ ( صحیح البخاری: ۷۰۷۴ صحیح مسلم : 2614، الرقم المسلسل : 6539 )

حافظ عسقلانی کہتے ہیں کہ جب قاری شیخ سے پوچھے کہ کیا آپ کو فلاں نے یہ حدیث بیان کی ہے؟ تو سند میں شیخ کے جواب کو ذکر نہ کرنا راجح مذہب ہے اور اس کے جواب کو ذکر کرنا مرجوح مذہب ہے اور امام بخاری نے دونوں مذہبوں پر عمل کیا ہے کتاب الصلوۃ میں قاری کے سوال کے جواب میں شیخ کا قول ذکر نہیں کیا اور کتاب الفتن میں شیخ کا قول کا ذکر کیا ہے۔ فتح الباری ج 2 ص 99-100 دارالمعرفہ بیروت 1426ھ

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) قتیبہ بن سعید

(۲) سفیان بن عیینه

(۳) عمرو بن دینار

(۴) حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری  رضی اللہ عنہما ان سب کا تفصیلی تعارف ہوچکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۱۶)

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے تیر کی نوک کو پکڑلو۔

اس حدیث میں نصال ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: تیر اور نیزہ کے آخر میں جو لوہے کی نوک ہوتی ہے اس کو پیکان بھی کہتے ہیں۔

باب مذکور کی حدیث کی مؤید دیگر احادیث

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس یا کسی بازار میں گزرے اور اس کے ہاتھ میں تیر ہو تو وہ اس تیر کی نوک کو پکڑکر رکھے۔ امام ابوداؤد کی روایت میں ہے: مبادا وہ کسی مسلمان کے لگ جائے۔(صحیح مسلم : 2615، الرقم المسلسل : ۶۵۴۱ سنن ابوداؤد: ۲۵۸۷ سنن ابن ماجه : ۳۷۷۸)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے برہنہ تلوار پکڑنے سے منع فرمایا ہے۔(سنن ابوداؤد : ۲۵۸۸ سنن ترمذی: ۲۱۶۳)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پاگلوں اور بچوں کو اور اپنی آوازوں کے بلند کرنے کو اور تلواروں کے سونتنے کو (میان سے نکالنے کو، اسی طرح کلاشنکوف لہرانے کو اور فائرنگ کرنے کو) اور خریدنے اور فروخت کرنے کو اور حدود قائم کرنے کو اور آپس میں جھگڑنے کو اپنی مسجدوں سے دور رکھو اور جمعہ کے دنوں میں اپنی مسجدوں کے دروازوں پر لوبان وغیرہ کی دھونی دو اور وضوء کرنے کی جگہوں کو مسجدوں کے دروازوں پر بناؤ۔ (مصنف عبد الرزاق : ۱۷۲۹ – ج ۱ص 321، دار الكتب العلمية بيروت المعجم الكبير: ۳۶۹- ج ۲۰ ص ۱۷۳ مسند الشامیین : 3581، مجمع الزوائد ج ۲ ص ۲۶ کامل بن عدی: ۱۴۵۴ کنز العمال: ۲۰۸۳۵)

مسلمانوں کا تھوڑا سا بھی ناحق خون بہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دشوار ہے

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث میں مسلمان کی حرمت کی تاکید ہے تاکہ اس کو کوئی شخص خوف زدہ کرے نہ زخمی کرے کیونکہ مسلمان عموما مساجد کے پاس سے گزرتے ہیں، خصوصا پانچ نمازوں کے اوقات میں، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطرہ ہوا کہ کسی تیر کی نوک سے کسی مسلمان کو ایذاء نہ پہنچے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمہ کا اظہار ہے،  نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی ہتھیار سے مسلمان کا کم خون نکلے یا زیادہ نکلے، دونوں قسم کے ہتھیاروں سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۲۸-۲۷ دار الكتب العلمیہ بیروت (1424ھ )

علامہ بدرالدین عینی متوفی 855ھ علامه ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ اور علامہ احمد القسطلانی متوفی 911ھ سب نے یہی شرح نقل کی ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۱۷ فتح الباری ج ۲ ص ۱۰۰ ارشاد الساری ج ۲ ص ۱۲۵)

مسلمانوں کا مسجدوں میں فائرنگ اور بم دھماکے کرنا دنیا میں اسلام کی بدنامی کا باعث ہے

آج کل نام نہاد مسلمان دہشت گرد مسجدوں میں فائرنگ کرتے ہیں، بم دھما کے کرتے ہیں اور خودکش حملے کرتے ہیں، انہیں غور کرنا چاہیے کہ ان کا یہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کسی قدر باعث اذیت ہے،  زیادہ افسوس اس پر ہے کہ کئی مذہبی جماعتیں پہلے مخالف فرقوں کی مساجد میں بم دھماکے کراتی ہیں اور اپنے مخالف علماء کو ہلاک کرنے کے لیے ان پر خودکش حملے کراتی ہیں اور سادہ لوح نوجوانوں کی برین واشنگ کرکے ان کے دلوں میں شوق شہادت پیدا کرتی ہیں کہ فلاں عالم کافر ہے تم خودکش دھماکے میں اس کو اڑا دو سیدھے جنت میں جاؤگے نہ صرف تم جنت میں جاؤ گے بلکہ اپنے تمام گھر والوں کو جنت میں لے جاؤگے، پھر اس کے ردعمل میں ان کے مخالف فرقے کے لوگ انتقام لینے کے لیے اسی طرح کی کارروائی کرتے ہیں، یوں ایک دوسرے کی مساجد کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور مسلمانوں کا خون بہتا رہتا ہے اور ملک میں بدامنی ہوتی ہے اور خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوتی ہے اور غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ اس اسلام کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ امن اور سلامتی کا علم بردار ہے بھارت میں جہاں آئے دن مسلم کش فسادات ہوتے رہتے ہیں، وہاں ہندو مسلمانوں پر طعنہ زن ہوتے ہیں: تم ہمیں مسلم کش حملوں پر کیوں مطعون کرتے ہو تمہارے اسلامی ملک میں خود مسلمان ایک دوسرے کی گردنیں مار رہے ہیں، پاکستان میں مذہبی اختلاف کی وجہ سے مسلمان ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں اور افغانستان اور عراق میں سیاسی اختلاف کی وجہ سے مسلمان ایک دوسرے کا خون بہارہے ہیں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے غلطی سے ایک کلمہ گو کو قتل کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر اس قدر رنج ہوا اور آپ نے حضرت اسامہ کو اس قدر ملامت کی کہ انہوں نے کہا: کاش ! میں اس دن سے پہلے اسلام نہ لایا ہوتا ۔ ( صحیح مسلم : ۹۶ الرقم السلسل : ۲۷۲ – ۴۷۱)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہر پیر اور جمعرات کو امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، نیک اعمال سے آپ خوش ہوتے ہیں اور بُرے اعمال پر آپ استغفار کرتے ہیں۔ (الوفاء ص ۸۲۶) کفار مکہ تو آپ کو آپ کی صرف ظاہری حیات میں رنج پہنچاتے تھے، ہم اپنی اس خون ریزی سے آپ کو قبر میں رنج پہنچارہے ہیں !!!

باب مذکور کی حدیث، شرح صحیح مسلم: ۶۵۳۷ – ج ۲ ص ۲۳۲ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی ۔