کتاب الصلوۃ باب 67 حدیث نمبر 452
٦٧ – بَابُ الْمُرُورِ فِي الْمَسْجِدِ
مسجد میں گزرنا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب تیر کے پریکان کو پکڑا ہو تو پھر اس تیر کو لے کر کوئی شخص مسجد میں جاسکتا ہے، تاہم امام بخاری کا قائم کردہ عنوان اس مفہوم کی ادائیگی سے قاصر ہے۔
٤٥٢ – حَدَّثَنَا مُوسى بَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِاللهِ قَال سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْہ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَرَّ فِي شَيْءٍ مِنْ مَسَاجِدِنَا، او اسواقنا بِنَبَل فَلْيَأْخُدْ عَلَى يَصَالِهَا ، لَا يَعْقِرُ بِكفه مُسلِما۔طرف الحديث : 7075
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبد الواحد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں ابو بردہ بن عبداللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے ابو بردہ سے سنا از والد خود از نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: جو شخص ہماری مساجد میں سے کسی جگہ یا ہمارے بازار میں سے کسی جگہ تیر لے کر گزرے پس اس کو چاہیے کہ وہ اس کے پریکان کو پکڑ کر رکھے، وہ اپنے ہاتھ سے کسی مسلمان کو زخمی نہ کرے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) موسیٰ بن اسماعیل التبوذکی
(۲) عبد الواحد بن زیاد
(۳) ابو بردہ بُرید بن عبد الله
(۴) دوسرے ابو بردہ، ان کا نام عامر ہے اور یہ پہلے ابو بردہ کے دادا ہیں
(۵) حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ان کا نام عبد اللہ بن قیس ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۱۸)
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: جو شخص ہماری مساجد میں سے کسی جگہ گزرے۔
اس حدیث کی شرح کے لیے گزشتہ حدیث : ۴۵۱ کا مطالعہ فرمائیں۔