٦٩ – بَابُ أَصْحَابِ الْحِرَابِ في الْمَسْجِدِ

مسجد میں جنگی مشق کرنے والے اصحاب

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسجد میں جنگی مشق کرنا جائز ہے، اس باب کے عنوان میں اصحاب الحراب کا ذکر ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین اسلام کے دشمنوں کے خلاف ہتھیاروں سے جنگ کرنے کی مشق کرتے ہیں۔

٤٥٤ – حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا إبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَاب قَال أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَد رأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا عَلى بابِ حُجْرَتِي وَالْحبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِی الْمَسْجِد وَرَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِى بِرِدَائه انْظُرُ إلى لعبهم.

اطراف الحدیث: ۴۵۵ – ۹۵۰ – ۹۸۸-۵۱۹۰-۵۲۳۶ 

صحیح مسلم : 892، الرقم المسلسل :۲۰۳۰ سنن النسائی: 593، السنن الكبرى للنسائی:۱۷۹۸ مسندالحمیدی: ۲۵۴ المعجم الاوسط: 4213، مسند احمد ص ۵۷ طبع قدیم مسند احمد : ۲۴۲۹۶ – ج 40 ص 338 مؤسسة الرسالة بیروت

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبدالعزیز بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد حدیث بیان کی از صالح از ابن شہاب انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن الزبیر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے ایک دن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حجرہ کے دروازہ پر دیکھا اور حبشی مسجد میں جنگی مشقیں کررہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی چادر میں چھپا رہے تھے، میں ان کی مشقوں کو دیکھ رہی تھی۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) عبد العزیز بن عبد اللہ بن یحییٰ ابو القاسم القرشی العامری المدنی

(۲) ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف

(۳) صالح بن کیسان ابو  محمد مدرب، یہ عمر بن عبدالعزیز کے بیٹے ہیں

(۴) محمد بن مسلم بن شہاب الزهری

(۵) عروہ بن الزبير بن العوام

(۲) ابراہیم بن المنذرالحزامی

(۷) عبد اللہ بن وہب

(۸) یونس بن یزید الایلی

(۹)حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا۔عمدة القاری ج ۲ ص ۳۴

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے : اور حبشی مسجد میں جنگی مشقیں کررہے تھے ۔

مسجد میں جنگی مشقوں کی توجیہ

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:

المہلب نے کہا ہے کہ مسجد کو مسلمانوں کی نماز باجماعت کے لیے بنایا گیا ہے اور جن کاموں کی دین میں منفعت ہو ان کا مسجد میں کرنا بھی جائز ہے اور جنگی مشق کرنے سے جسم کی ورزش ہوتی ہے اور اعضاء اور پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور میدانِ جہاد میں کفار سے لڑنے کی مشق ہوتی ہے لہذا اس کو مسجد اور غیر مسجد دونوں جگہ کرنا جائز ہے۔

اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ جو جائز کھیل ہو اس کو دیکھنا جائز ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو یہ کھیل اس لیے دیکھنے دیا ہوتا کہ حضرت عائشہ اس کھیل کی بعض حرکات کی روایت کریں اور مسلمانوں کو ان ہتھیاروں سے جنگ کرنے کے طریقہ معلوم ہوجائے۔

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کریم اور اپنی زوجہ کے ساتھ حسن معاشرت کا ذکر ہے تاکہ مسلمان اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے طریقہ سے پیش آئیں اور ان کی جائز خواہشوں کو پورا کریں، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے حجاب کیا ہوا تھا اور وہ حبشیوں کے کھیل کو دیکھ رہی تھیں ۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۳۱ دار الکتب العلمیہ بیروت 1424ھ)

اس اعتراض کا جواب کہ مسجد میں جنگی مشق کرنا، قرآن اور حدیث کے خلاف ہے

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:

علامہ ابن التین نے ابوالحسن اللخمی سے نقل کیا ہے کہ مسجد میں جنگی مشق کرنا قرآن اور سنت سے منسوخ ہے قرآن مجید میں ہے:

فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ( النور : ٣٦)

    جن گھروں کے بلند کرنے کا اور جن گھروں میں اپنے نام کے ذکر کو بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے وہاں صبح اور شام اللہ کی تسبیح کرتے ہیں

ان گھروں سے مراد مساجد ہیں، جہاں اللہ کا نام ذکر کیا جاتا ہے اور صبح اور شام اس کی تسبیح کی جاتی ہے معترض کا مقصد یہ ہے کہ مساجد میں صرف اللہ کا ذکر اور تسبیح ہونی چاہیے اور جنگی مشقیں ایک قسم کا کھیل ہیں اس سے مسجد کو پاک رکھنا چاہیے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جنگی مشقیں اور فوجی ورزشیں، جہاد کی تیاری اور اس کی تربیت کا حصہ ہیں اور جہاد اللہ تعالی کے نام کو اور اس کے دین کو سر بلند کرنے کا ذریعہ ہے اس لیے یہ آیت جنگی مشقوں کے خلاف نہیں ہے۔

اسی طرح انہوں نے کہا ہے کہ درج ذیل حدیث بھی مسجد میں جنگی مشقوں کے خلاف ہے:

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پاگلوں اور بچوں کو اور اپنی آوازوں کے بلند کرنے کو اور تلواروں کے سونتنے کو اور خرید و فروخت کرنے کو اور حدود قائم کرنے کو اور آپس میں جھگڑنے کو اپنی مسجدوں سے دور رکھو۔ (مصنف عبد الرزاق:۱۷۲۹ – ج ۲۰ ص  368)

اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور یہ صحیح البخاری کی اس صحیح السند روایت کے معارض نہیں ہوسکتی اور اگر اس حدیث کو صحیح بخاری کی اس حدیث کے لیے ناسخ کہا جائے تو نسخ کے لیے تاریخ کا علم ہونا ضروری ہے اور یہاں تاریخ معلوم نہیں ہے۔ بعض فقہاء مالکیہ نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ وہ حبشی مسجد سے باہر جنگی مشق کر رہے تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسجد میں تھیں لیکن یہ امام مالک سے ثابت نہیں ہے اور یہ اس حدیث کی بعض سندوں کے خلاف ہے اور بعض روایات میں یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں مسجد میں کھیلنے سے منع کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان کو چھوڑدو اور جنگی مشق کرنا محض کھیل نہیں ہے بلکہ اس میں جنگ کے موقع پر بہادری سے پیش آنے کی مشق کی جاتی ہے اور دشمن سے لڑنے کا حوصلہ ملتا ہے۔

اس کے بعد حافظ ابن حجر عسقلانی نے علامہ ابن بطال کی عبارت نقل کی ہے، جس کو ہم پیش کرچکے ہیں۔

(فتح الباری ج ۲ ص ۱۰۲ دار المعرفته بیروت 1426ھ )