کتاب الصلوۃ باب 72 حدیث نمبر 458
۷۲ – بَابُ كَنْسِ الْمَسْجِدِ، وَالْتِقَاطِ الْخِرَقِ وَالْقَذَى وَالْعِيدَانِ مِنْه
مسجد کی صفائی کرنا اور مسجد سے کپڑوں کی دھجیاں، تنکے اور لکڑیاں چننا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسجد کی صفائی کرنی چاہیے اور مسجد سے دھجیاں، تنکے اور لکڑیوں کے ٹکڑوں کو چننا چاہیے۔
٤٥٨ – حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِى رَافِع عَنْ ابی هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَسْوَدَ أَوِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءَ ، كَانَ يَقُم الْمَسْجِدَ، فَمَاتَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَقَالُوا مَاتَ، قَالَ أَفَلَا كُنتُمْ اذ نتُمُونِی بِهِ؟ دُلُونِي عَلَى قَبْرِهِ، أَوْ قَالَ قَبْرِهَا فَأَتَى قَبْرَها فَصَلَّى عَلَيْهِ [ اطراف الحدیث:460، ۱۳۳۷]
(صحیح مسلم : 956، الرقم المسلسل : ۲۱۸۰، سنن ابوداؤد: ۳۲۰۳: سنن ابن ماجه: ۱۵۳۰ مسند ابوداؤد الطیالسی: ۲۴۴۶، صحیح ابن خزیمہ :۱۲۹۹ سنن بیہقی ج 4 ص ۴۷ شرح السنة : 1499 مسند ابویعلی : ۶۴۲۹ ، صحیح ابن حبان : 3086، مسند احمد ج ۲ ص ۳۵۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۸۶۳۴- ج 14 ص ۲۸۱ مؤسسة الرسالة بیروت جامع المسانید لابن الجوزی : ۴۴۱۱ مکتبة الرشد ریاض (1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی از ثابت از ابی رافع از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہ ایک سیاہ فام مرد یا سیاہ فام عورت مسجد کی صفائی کرتے تھے پس وہ شخص فوت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا: مسلمانوں نے بتایا کہ وہ شخص فوت ہوگیا آپ نے فرمایا: تم نے مجھے اس کی اطلاع کیوں نہیں دی؟ مجھے اس مرد کی قبر بتاؤ یا اس عورت کی قبر بتاؤ آپ اس کی قبر پر گئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
حدیث مذکور کے رجال
(1) سلیمان بن حرب الواشحی البصری، واشح قبیلہ ازدکی شاخ ہے
(۲) حماد بن زید
(۳) ثابت البنانی
(۴) ابورافع، نفیع یہ سنار تھے بہت بڑے تابعی تھے ابورافع صحابی ان کے علاوہ ہیں، کیونکہ ثابت البنانی نے ان صحابی کو نہیں پایا
(۵) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ۔(عمدۃ القاری ج ۴ص 339)
مسجد کی صفائی کرنا، صالحین کی خدمت کرنا اور قبرستان میں نماز پڑھنا
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :
اس حدیث میں مسجد کی صفائی کی ترغیب ہے کیونکہ جو شخص مسجد کی صفائی کرتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت سے اس کے دفن ہونے کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ وکیع نے عبداللہ بن حنطب سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ہوکر مسجد قباء میں آئے آپ نے وہاں نماز پڑھی، پھر کہا: اے یزفا! میرے پاس ایک شاخ لے کر آؤ وہ شاخ لے کر آیا تو حضرت عمر نے اپنے کپڑے کس کر اس شاخ سے مسجد کی صفائی کی۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صالحین کی خدمت کرنی چاہیے اور ان سے برکت حاصل کرنی چاہیے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جب خادم ہو اور نظر نہ آئے تو اس کی تفتیش کرنی چاہیے۔
نیز جس شخص نے اپنے آپ کو مسلمانوں کی خدمت اور ان کو نفع پہنچانے کے لیے وقف کردیا ہو اس کے لیے دعا کرنی چاہیے اور اس کی تحسین کرنی چاہیے۔
صالحین کی نماز جنازہ میں حاضر ہونا چاہیے اور ان کی نماز جنازہ پڑھنی چاہیے۔
ابن القصا نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تدفین کے بعد سیاہ فام کی نماز جنازہ پڑھی، اس میں یہ دلیل ہے کہ قبرستان میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے۔
اس حدیث میں” یقم المسجد ” کے الفاظ ہیں، اس کا معنی ہے: مسجد کی صفائی کرتا تھا۔
شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۳۸ دار الكتب العلمیة بیروت 1424ھ)
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے میں مذاہب فقہاء
علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
حضرت علی، حضرت ابو موسی،ٰ حضرت ابن عمر، حضرت ابن مسعود اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم کے نزدیک دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے، امام شافعی اور امام احمد کا بھی یہی مذہب ہے اور ابراہیم نخعی، الحسن البصری اور ثوری نے اس سے منع کیا ہے، امام مالک اور امام ابوحنیفہ کا بھی یہی مذہب ہے اور بعض فقہاء نے یہ کہا ہے کہ یہ صرف اس وقت جائز ہے جب ولی اور والی نے نماز جنازہ نہ پڑھی ہو پھر جو جواز کے قائلین ہیں، ان میں یہ اختلاف ہے کہ کتنی مدت تک نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے ایک قول ہے: ایک ماہ تک، ایک قول ہے جب تک میت کا ہم بوسیدہ نہ ہوجائے اورایک قول ہے ہمیشہ جائز ہے، اس پر مزید بحث انشاءاللہ کتاب الجنائز میں آئے گی۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کی موت کی خبر دینا مستحب ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ملامت کی کہ آپ کو کیوں نہیں بتایا کہ مسجد کی صفائی کرنے والا فوت ہوگیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۴۰ دار الكتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ )
صدر الشریعہ علامہ عبیداللہ بن مسعود حنفی متوفی ۷۴۷ ھ لکھتے ہیں:
جس کی نماز جنازہ پڑھے بغیر اس کو دفن کردیا گیا تو جب تک یہ گمان نہ ہو کہ میت کا جسم پھٹ گیا ہوگا، اس وقت تک قبر پر اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ (النقایہ ج ۲ ص ۵۲)
نور الدین علی بن محمد بن سلطان (ملا علی قاری البروی) متوفی ۱۰۱۴ ھ لکھتے ہیں:
جس کو غسل دینے یا تیمم کرانے کے بعد دفن کردیا گیا ہو اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی تاکہ جہاں تک ممکن ہو واجب ادا کیا جائے، صحیح مذہب یہ ہے کہ جب تک یہ گمان نہ ہو کہ اس کا جسم پھٹ گیا ہو، اس وقت تک نماز جنازہ پڑھی جائے گی کیونکہ میت کے جسم کے پھٹنے کی مدت موسم کے سرد اور گرم ہونے کے اعتبار سے اور زمین کے نرم اور سخت ہونے کے اعتبار سے اور میت کے جسم کے موٹے اور دبلے ہونے کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے لہذا اس میں غلبہ ظن معتبر ہے اور ہمارے ائمہ سے یہ بھی مروی ہے کہ تدفین کے تین دن بعد تک قبر پر نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے۔ (شرح النقایہ ج ۲ ص ۵۲ دار احیاء التراث العربی بیروت 1426ھ)
علامہ ابن عابدین شامی متوفی ۱۲۵۲ھ نے بھی اسی قول کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے، نیز انہوں نے لکھا ہے کہ اگر ولی کے علاوہ کسی اور شخص نے نماز جنازہ پڑھی ہو تو اس مدت میں ولی اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھ سکتا ہے۔(ردالمختار ج ۳ ص ۱۱۷ دار احیاء التراث العربي بيروت 1419ھ)
غائبانہ نماز جنازہ کا عدم جواز
میں کہتا ہوں کہ علامہ شامی کی یہ عبارت باب مذکور کی حدیث کے عین مطابق ہے کیونکہ مسجد کی صفائی کرنے والے کے بلکہ سب مسلمانوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولی ہیں اور آپ کے نماز جنازہ پڑھے بغیر اس کو دفن کردیا گیا تھا تو آپ نے دوسرے دن اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ مسلمانوں کی نماز جنازہ پڑھنے پر بہت حریص تھے حتی کہ اگر آپ کو بتائے بغیر کسی مسلمان کی تدفین کردی جاتی تو آپ ملامت فرماتے اور اس مسلمان کی قبر پر اس کی نماز جنازہ پڑھتے اس کے باوجود آپ نے نجاشی کے سوا کسی غائب کی نماز جنازہ نہیں پڑھی حالانکہ شرقا غربا مسلمان فوت ہوتے رہتے تھے، اگر آپ کے نزدیک بالعموم غائب کی نماز جنازہ پڑھنی جائز ہوتی تو آپ سب مسلمانوں کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھتے ۔ ( اس مسئلہ میں نجاشی کی خصوصیت پر جن روایات سے معارضہ کیا جاتا ہے اس کا جواب تبیان القرآن سورۃ آل عمران : ۲۰۰ کی تفسیر میں ج ۲ ص ۵۳۳۔ ۵۳۲ میں ملاحظہ فرمائیں۔)
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۱۱۰ – ج ۲ ص ۷۶۹ – 768 پر مذکور ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی۔