۷۳ – بَابُ تَحْرِيمِ تِجَارَة الْخَمْرِ  فِي الْمَسْجِد   ِ

مسجد میں خمر کی تجارت کو حرام قرار دینا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ خمر کی تجارت حرام ہے اور خمر کا پینا حرام ہے خواہ مسجد میں اس کو پیا جائے یا کسی اور جگہ پر خمر انگور کے اس کچے شیرہ کو کہتے ہیں جو پڑے پڑے سڑجائے اور اس میں جھاگ پیدا ہوجائے اور وہ نشہ آور ہوجائے امام ابوحنیفہ کے نزدیک خمر حرام قطعی ہے، اس کا ایک قطرہ بھی پینا حرام ہے اور حد لگانے کا موجب ہے خواہ اس کے پینے سے نشہ ہو یا نہ ہو، اس کے علاوہ باقی شرابیں حرام ظنی ہیں مثلا جو شرابیں جو، گندم یا کھجور وغیرہ سے بنائی جائیں ان کی اتنی مقدار پینا حرام ہے اور حد لگانے موجب ہے جس مقدار سے نشہ ہوجائے اور اس سے کم مقدار میں پینا اگر سرور و مستی کے لیے ہو تو پھر بھی حرام ہے اور اگر طاقت اور توانائی حاصل کرنے کے لیے ہو تو پھر جائز ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ہر نشہ آور مشروب حرام ہے خواہ وہ انگور سے بنایا گیا ہو یا کسی اور چیز سے اور خواہ اس کو بہ مقدار نشہ پیا جائے یا اس سے کم ۔

٤٥٩ – حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَن الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَت لَمَّا انْزِلَتِ الْآيَاتُ مِنْ سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا، خَرَج النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَرَاهُن عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ حَرَّمَ تِجَارَةَ الْخَمْر۔ اطراف الحديث :2084  4543- -۴۵۴۲ – ۴۵۴۱ -۳۵۴۰ -۲۲۲۶-

صحیح مسلم : ۱۵۸۰ الرقم المسلسل : 3969 سنن ابوداؤد : 3490، سنن ابن ماجہ : ۳۳۸۲، سنن نسائی : 4665،  السنن الکبری للنسائی : ۱۱۰۵۶ سنن سعيد بن منصور قسم التفسير : 451،  مصنف ابن ابی شیبہ ج 6 ص ۴۴۵، صحیح ابن حبان: 4943، سنن دارمی: ۲۵۶۹ المنتقی :۵۷۶ مسند ابویعلی : 4467 سنن بیہتی ج 6 ص  11 مسند احمد ج ۶ ص 46 طبع قدیم، مسند احمد : ۲۴۱۹۳ – ج 40 ص۲۲۶ مؤسسة الرسالة بیروت، جامع المسانید لابن الجوزی: ۷۳۷۹ مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ 

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدان نے حدیث بیان کی از ابی حمزه از الاعمش از مسلم از مسروق از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورۃ البقرہ کی سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف نکلے اور ان آیات کو لوگوں کے سامنے پڑھا، پھر آپ نے خمر کی تجارت کو حرام کردیا۔

حدیث مذکور کے رجال

(۱) عبدان ،ان کا نام عبداللہ بن عثمان المروزی ہے ، عبدان ان کا لقب ہے امام بخاری نے کہا: یہ ۲۲۱ھ میں فوت ہوگئے تھے یہ بصرہ کے رہنے والے تھے

(۲) ابو حمزہ ،ان کا نام محمد بن میمون السکری ہے

(۳) سلیمان الاعمش

(۴) مسلم بن صیبح ، ان کی کنیت ابوالضحی الکوفی ہے

(۵) مسروق بن الاجدع الکوفی

(۶) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا(عمدۃ القاری ج 4 ص  ۳۴۱)

باب کے عنوان سے اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: آپ مسجد میں آئے اور خمر کی تجارت کو حرام فرمادیا۔

مسجد میں سود کی آیات پڑھنے کے بعد خمر کی تجارت کی تحریم بیان کرنے کی توجیہ

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

اس باب کو منعقد کرنے کی غرض یہ ہے کہ مسجد کو چونکہ نماز اور اللہ کے ذکر کے لیے بنایا گیا ہے اور مسجد کو بے حیائی اور برے کاموں سے محفوظ رکھنا واجب ہے اور سود اور شراب نوشی بہت بڑے بے حیائی کے کام ہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تحریم مسجد میں بیان فرمائی اور اس میں یہ دلیل ہے کہ کبائر کی ممانعت کا مسجد میں ذکر کرنا جائز ہے( شرح ابن ابطال ج ۲ ص ۱۳۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )

علامه ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:

مسجد میں خمر (شراب) کی تحریم بیان کرنے کا یہ منشا نہیں تھا کہ اس کی تحریم مسجد کے ساتھ مخصوص ہے بلکہ یہ ہر جگہ حرام ہے، قاضی عیاض مالکی نے لکھا ہے کہ خمر کی تحریم، سود کی آیات کے نزول سے بہت پہلے ہوگئی تھی اور اس کو سود کی آیات کے ساتھ بیان کرنے کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ خمر کی تحریم دوسری بار نازل ہوئی ہے، علامہ عسقلانی فرماتے ہیں: یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ پہلے نفس خمر کی تحریم نازل ہوئی ہو اور اس موقع پر اس کی تجارت کی تحریم نازل ہوئی ہو۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۱۰۶ دار المعرفۃ بیروت 1406ھ )

شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: ۳۹۳۴- ج 4 ص ۳۱۷-۳۱۶ پر مذکور ہے اس کی شرح کے عنوان حسب ذیل ہیں:

(۱) اصل، اشیاء میں اباحت ہے

(۲) قرآن کی روشنی میں شراب کی حرمت کا بیان

(۳) احناف کے نزدیک خمر کی تعریف اور خمر اور دیگر شرابوں کا حکم

(۴) امام ابوحنیفہ پر نشہ آور شرابوں کو حلال کرنے کا اعتراض اور اس کا جواب

(۵) الکوحل کا شرعی حکم

(۶) الکوحل آمیز دواؤں پر فیوم اور الکوحل اور اسپرٹ کے دیگر مرکبات کا حکم مذاہب اربعہ کی روشنی میں

(۷) خمر کو سرکہ بنانے پر علامہ نووی کے اعتراض کا جواب۔

یہ بحث شرح صحیح مسلم ج ۲ ص ۳۲۴۔ ۳۱۵ پر محیط ہے۔