کتاب الصلوۃ باب 74 حدیث نمبر 460
٧٤ – بَابُ الْخَدَمِ لِلْمَسْجِدِ
مسجد کے خادمین
اس عنوان میں ” خَدَم ” کا لفظ ہے یہ “خادم ” کی جمع ہے، اس کا معنی ہے: ( مسجد کے ) خادمین ۔
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاس(ٍ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا ) (آل عمران: ٣٥) تَفِي مُحَرَّراً لِلْمَسْجِد یخدمه.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: عمران کی بیوی نے کہا: میرے پیٹ میں جو بھی بچہ ہے میں نے اس کی تیرے لیے نذر مانی ہے ( آل عمران : ۳۵) ان کا ارادہ تھا: آزاد کیا ہوا وہ مسجد کی خدمت کرے گا۔
امام بخاری نے اس تعلیق سے یہ اشارہ کیا ہے کہ مسجد کی خدمت کرکے اس کی تعظیم کرنا پچھلی امتوں میں بھی مشروع تھا، کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضرت مریم کی والدہ حنہ نے یہ نذر مانی تھی کہ ان کے اس حمل سے جو بچہ پیدا ہوگا’ وہ اس کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے آزاد کردیں گی یعنی وقف کردیں گی، اگر مسجد کی خدمت اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ نہ ہوتی تو وہ یہ نذر نہ مانتیں ۔
٤٦٠ – حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّاد،ٌ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَة أو رَجُلا كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ، وَلَا َأرَاهُ إِلَّا امْرَأَة فَذَكَرَ حَدِيثَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ صَلَّى على قبره.
(جامع المسانيد لابن الجوزی : ۴۴۱۱ مكتبة الرشد ریاض (1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں احمد بن واقد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حماد نے حدیث بیان کی از ثابت از ابی رافع از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہ ایک عورت یا ایک مرد مسجد کی صفائی کرتا تھا اور میرا گمان صرف یہ ہے کہ وہ عورت تھی پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ذکر کی کہ آپ نے اس کی قبر پر اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
اس حدیث کی شرح صحیح البخاری : ۴۵۸ میں گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: مسجد کی صفائی کرنا اور مسجد سے کپڑے کی دھجیاں، تنکے اور لکڑی کے ٹکڑے چننا، اور یہ بھی مسجد کی خدمت ہے۔