کتاب الصلوۃ باب 76 حدیث نمبر 462
٧٦ – بَابُ الْاِغْتِسَالِ إِذَا أَسْلَمَ، وَرَبط الْأَسِيرِ أَيْضًا فِي الْمَسْجِدِ
جب کوئی شخص اسلام لائے تو غسل کرے نیز قیدی کو مسجد میں باندھنا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی کافر اسلام لائے تو اس کے غسل کا کیا حکم ہے اور قیدی کو مسجد میں باندھنے کا کیا حکم
وَكَانَ شُرَيْحٌ يَأْمُرُ الْغَرِيْمَ أَنْ يُحْبَسَ إِلَى سَارِيَةِ الْمَسْجِدِ۔
اور شریح مقروض کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھنے کا حکم دیتے تھے۔
٤٦٢ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ إِنَّهُ سَمِعَ ابا هُرْيَرَةً قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِى حَنِيفَةَ، يُقَالُ لَہ ثمَامَةٌ بُنْ أَثالٍ ، فَرَبَطْوَهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِد، فَخَرَجُ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالُوا أَطْلِقُوا ثمَامَةَ، فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلِ قَرِيبٍ مِّن الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ اَشْهَدُِ أنْ لا إلهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ.
اطراف الحدیث : ۴۶۹_۲۴۲۴ – ۲۴۲۳-، 4372
صحیح مسلم : ۱۷۶۴ سنن ابوداؤر : ۲۶۷۹’ سنن نسائی: ۱۸۹، صحیح ابن خزیمہ: ۲۵۲، صحیح ابن حبان : ۱۲۳۹، سنن بیہقی ج ا ص ۱۷۱ دلائل النبوة ج 4 ص ۷۹-۷۸ مسند احمد ج ۲ ص 452 طبع قدیم، مسنداحمد: ۹۸۳۳- ج ۱۵ ص ۵۱۹ – ۵۱۷ مؤسسة الرسالة بيروت جامع المسانيد لابن الجوزي: ۴۴۰۳) مكتبة الرشد ریاض (1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن ابی سعید نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے سواروں کی ایک جماعت کو نجد کی طرف بھیجا وہ بنوحنیفہ کے ایک شخص کو گرفتار کرکے لائے، جس کو ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا، نہوں نے اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف نکلے، تو لوگوں نے کہا : ثمامہ کو کھول دو وہ مسجد کے قریب کھجور کے ایک درخت کی طرف گیا ، پس اس نے غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوا پھر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور (سیدنا محمد ) اللہ کے رسول ہیں۔
حدیث مذکور کے چار ر جال ہیں، اور ان سب کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ اس طرح مطابقت ہے کہ اس میں یہ ذکر ہے کہ ثمامہ اثال کو گرفتار کرکے مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا۔
صوبه نجد کا محل موقوع
اس حدیث میں “نجد” کا ذکر ہے یہ جزیرہ عرب میں ہے۔ المدائنی نے کہا ہے کہ جزیرہ عرب کی پانچ اقسام ہیں: (۱) تہامہ (۲) نجد (۳) حجاز (۲) عروض (۵) یمن –
تہامہ حجاز کی جنوبی سمت میں ہے اور نجد حجاز اور عراق کے درمیان میں ہے اور حجاز ایک پہاڑ ہے جس نے یمن کو مسدود کردیا ہے حتی کہ وہ شام کے ساتھ متصل ہے اور اسی میں مدینہ ہے اور عروض، یمامہ ہے جو بحرین کی طرف ہے اور واقدی نے کہا ہے کہ حجاز، مدینہ سے تبوک کی طرف ہے اور مدینہ سے کوفہ کے راستہ کی طرف ہے اور اس کے پیچھے سرزمین بصرہ تک نجد ہے اور عراق اور طائف کے درمیان نجد ہے اور وجرہ کے پیچھے سے سمندر تک تہامہ ہے، اور تہامہ اور نجد کے درمیان حجاز ہے اس کو حجاز اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان حاجز یعنی رکاوٹ ہے۔( عمدۃ الباری ج 4 ص 349 دارالکتب العلمیه بیروت 1421ھ )
ڈاکٹر غلام جیلانی برق لکھتے ہیں:
نجد : لغوی معنی سطح مرتفع، مراد عرب کا وسطی علاقہ جس کا مرکزی شہر ریاض ہے اس کی حدود بدلتی رہیں ایک زمانہ تھا کہ یمن، تہامہ عراق اور شام بھی نجد میں شامل تھے لیکن اب (۱۹۷۱ء) میں اس کی حدود یہ ہیں :
مشرق میں بحرین، مغرب میں حجاز، شمال میں عراق اور جنوب میں صحراء ۔
نجد : عمان کے قریب ایک وسیع علاقہ ہے۔ ( معجم البلدان ص ۳۳۹ شیخ غلام علی اینڈ سنز’ کراچی )
اسلام قبول کرنے والے کے غسل کرنے میں مذاہب فقہاء
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
جو شخص اسلام لائے، اس کے غسل کرنے کے حکم کے متعلق فقہاء کا اختلاف ہے امام مالک کے بھی اس میں مختلف اقوال ہیں:
(1) امام مالک نے المدونہ میں کہا ہے کہ جب نصرانی اسلام لائے تو اس پر غسل کرنا واجب ہے کیونکہ وہ لوگ طہارت حاصل نہیں کرتے، امام احمد بن حنبل اور ابو ثور نے بھی اس پر غسل واجب کیا ہے۔
(۲) ابن وہب اور ابن ابی اولیس نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ ایک شخص مسلمان ہوا آیا اس پر غسل واجب ہے یا اس کے لیے وضو کرنا کافی ہے؟ امام مالک نے فرمایا: ہمیں یہ حدیث نہیں پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی یہ حکم دیا ہو کہ وہ اسلام لائے تو غسل کرے۔
(۳) ابن المنذر نے کہا: امام شافعی نے فرمایا ہے کہ اس کا غسل کرنا مستحب ہے اگر وہ جنبی نہیں ہے تو اس کا وضوء کرنا کافی ہے اور ابن القاسم نے ” العتیبہ ” میں اس کی مثل کہا ہے، انہوں نے کہا: جو اسلام لایا اس پر غسل کرنا واجب ہے اگر اس نے وضوء کیا اور نماز پڑھی اور غسل نہیں کیا تو وہ ہمیشہ نماز کو دہرائے گا جب کہ وہ پہلے جماع کرچکا ہو یا جنبی ہو اور یہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ اگر وہ جنبی نہ ہو تو اس کے لیے وضوء کرنا کافی ہے جیسے امام شافعی نے کہا ہے ۔
المہلب نے کہا ہے: ثمامہ کی حدیث ابن وہب اور ابن ابی اولیس کے خلاف حجت ہے کیونکہ ثمامہ جب گئے تو انہوں نے غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوئے پھر انہوں نے اسلام کی گواہی دی اسی لیے امام مالک نے یہ کہا ہے کہ ہمیں یہ حدیث نہیں پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اسلام لانے والے کو غسل کرنے کا حکم دیا ہو۔
ابوعبداللہ بن ابی صفرہ نے کہا ہے : رہا امام مالک کا دوسرا قول، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اسلام لانے والے پر غسل کرنا واجب ہے، کیونکہ وہ طہارت حاصل نہیں کرتے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ نجاست سے اپنے بدنوں کو پاک نہیں کرتے، کیونکہ ان کے لیے جنابت سے پاک ہونا محال ہے خواہ وہ اس کی نیت کریں کیونکہ ان کے لیے یہ مشروع نہیں ہے، لہذا امام شافعی، امام احمد اور ابن القاسم کا قول ساقط ہو گیا۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب وہ جنبی نہیں ہوگا تو وہ بے وضوء ہوگا، پھر اس کے لیے نماز پڑھنا کس طرح مباح ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب وہ غیر جنبی اور بے وضو ہوگا تو نماز پڑھنے کے لیے اس پر وضوء کرنا واجب ہوگا اور اس پر غسل نہیں ہوگا کیونکہ وہ جنبی نہیں ہے اس پر غسل کرنا سنت ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو نجاست سے پاک نہیں رکھتے۔( شرح ابن بطال ج 4 ص ۱۳۳ – ۱۳۲ دار الکتب العلمیة بیروت (1424ھ)
فقہاء احناف کے نزدیک اسلام لانے سے پہلے اگر کافر جنبی ہو یا حائض ہو یا نفساء ہو خواہ اس کا حیض اور نفاس منقطع ہوچکا ہو اس پر غسل کرنا واجب ہے ورنہ اس کا غسل کرنا مستحب ہے یعنی وہ جنابت کے بعد غسل کرچکا ہو یا عورت حیض اور نفاس کے بعد غسل کرچکی ہو تو پھر اسلام لانے کے لیے اس کا غسل کرنا مستحب ہے۔(الدر المختار در دالمختار ج ۱ ص ۲۷۶-۲۷۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )
کفار اور اہل کتاب کے مسجد میں داخل ہونے کے متعلق مذاہب فقہاء
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ کافر مسجد میں داخل ہوسکتا ہے، علامہ ابن التین نے بیان کیا ہے کہ مجاہد سے منقول ہے کہ اہل کتاب مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں اور عمر بن عبدالعزیز اور قتادہ اور امام مالک اور مزنی شافعی نے کہا: یہ جائز نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: اہل کتاب مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں اور دوسرے کافر مسجد میں داخل نہیں ہوسکتے ۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۴۹)
امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ امام احمد نے سند جید کے ساتھ روایت کیا ہے کہ:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ہماری اس مسجد میں اس سال کے بعد کوئی مشرک داخل نہیں ہوگا مگر اہل ذمہ اور ان کے خدام ۔ (مسند احمد ج ۳ ص ۳۳۹ – ج ۳ ص 392، طبع قدیم مسند احمد :۱۵۲۲۱ – ۱۴۹۴۹ – ج ۲۳ ص ۱۸-۳۸۷ مؤسسة الرسالة بيروت مصنف عبد الرزاق:۹۹۸۲ – ۱۹۳۵
امام مالک کا استدلال قرآن مجید کی اس آیت سے ہے:
إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدالْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا. (التوبه: ۲۸)
مشرک محض ناپاک ہیں، سو وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔
میں کہتا ہوں کہ فقہاء احناف کے نزدیک اس آیت میں “لا يقربوا” اگرچہ صورۃ نہی کا صیغہ ہے لیکن معنی نفی ہے، یعنی اللہ تعالی نے مشرکین کو مسجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا بلکہ یہ خبر دی ہے کہ وہ اس سال کے بعد مسجد حرام میں داخل نہیں ہوں گے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں مشرکین سے مراد اہل کتاب کے ماسوا ہیں کیونکہ قرآن مجید میں اہل کتاب کے احکام مشرکین کے احکام کے مغائر ہیں۔
علامہ علاء الدین حصکفی متوفی ۱۰۸۸ ھ لکھتے ہیں:
ذمی کا مسجد میں داخل ہونا مطلقاً جائز ہے اور امام مالک نے اس کو مطلقاً مکروہ کہا ہے اور امام شافعی اور امام احمد نے مسجد حرام میں کافر کے داخل ہونے کو منع کیا ہے۔ ہم کہتے ہیں: یہ نہی تکوینی ہے تکلیفی نہیں ہے اور تحقیق یہ ہے کہ فقہاء نے جنبی کے لیے مسجد کے عبور کرنے کو جائز کہا ہے اور اس وقت آیت کا معنی یہ ہوگا کہ مشرکین اس سال کے بعد برہنہ ہوکر حج یا عمرہ نہ کریں اور یہ سال نو ہجری تھا، جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سورت کا اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ برہنہ طواف کرے۔(صحیح البخاری : ۱۶۲۲ صحیح مسلم: ۱۳۴۷)
علامہ ابن عابدین شامی متوفی ۱۲۵۲ ھے اس عبارت کی شرح میں نہی تکوینی کا معنی لکھتے ہیں :
تکوین اللہ تعالیٰ کی صفت قدیمہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات افعال اسی کی طرف راجع ہیں اور ” لا يقربوا ‘ کامعنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان میں مسجد حرام کی طرف جانے کا فعل پیدا نہیں فرمائے گا اور امر تکوینی کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین سے فرمایا:
انْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا . (حم السجده :11)
تم دونوں خوشی سے یا نا خوشی سے حاضر ہوجاؤ ۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان میں یہ فعل پیدا کردیا اور امرتکلیفی کی مثال ہے : ” اقیمُوا الصَّلوة (البقره: 43) تم نماز کو قائم کرو امر تکوینی اور امر تکلیفی میں فرق یہ ہے کہ امر تکوینی میں فرماں برداری کے خلاف نہیں ہوسکتا اور امر تکلیفی میں فرماں برداری کے خلاف ہوسکتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ”فلا یقربوا‘ کا صیغہ اگرچہ صورۃ نہی کا صیغہ ہے لیکن یہ معنی نفی ہے اور اللہ نے یہ خبر دی ہے کہ مشرکین مسجد حرام کے قریب نہیں جائیں گے، کیونکہ یہ منقول نہیں ہوا کہ اس آیت کے نزول کے بعد سے لے کر آج تک بھی مشرکین نے برہنہ ہو کر حج یا عمرہ کیا ہو جیسا کہ وہ زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے۔
(ردالمختار مع الدر المختار ج 9 ص ۴۷۲ دار احیاء التراث العربی بیروت 1419ھ )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور نبوت سے یہ جان لینا کہ ثمامہ اسلام لے آئیں گے، اس لیے آپ نے اس کو کھولنے کا حکم دیا
علامہ ابو الفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ۵۹۷ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ثمامہ نے قید کیے جانے کو اپنی عزت نفس کے خلاف سمجھا تھا، اس لیے وہ خود اسلام نہیں لایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو جان لیا’ اس لیے آپ نے فرمایا: ثمامہ کو کھول دو پس جب اس کو قید سے کھول دیا گیا تو وہ اسلام لے آیا اس کی تفصیل یہ ہے کہ امام عبدالرزاق نے روایت کیا ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ثمامہ حنفی کو قید کرلیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو اس کے پاس گئے اور اس سے استفسار فرمایا: اے ثمامہ! اب تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا : اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک گناہ گار شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک شکر گزار شخص پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال لینے کا ارادہ کرتے ہیں تو آپ جتنا مال چاہیں گے، آپ کو دیا جائے گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ئکے اصحاب فدیہ لینے کو پسند کر رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے : ہم اس کو قتل کرکے کیا کریں گے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اس کے پاس سے گزرے تو وہ اسلام لے آیا، پھر آپ نے اس کو کھول دیا اور اس کو حضرت ابوطلحہ کے باغ میں بھیجا اور اس کو غسل کرنے کا حکم دیا پس اس نے غسل کیا اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بھائی بہت عمدہ اسلام لایا ہے۔
(مصنف عبد الرزاق: 9865، صحیح ابن خزیمہ: ۲۵۳ صحیح ابن حبان : 1238، مسند احمد ج ۲ ص ۲۴۷ کشف المشکل لابن الجوزی ج 1 ص ۲۸۸ دار الكتب العلمیة بیروت، 1424ھ )
علامہ عینی کا علامہ کرمانی اور علامہ ابن جوزی کی شرحوں پر اعتراض
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
علامہ کرمانی متوفی ۷۸۶ ھ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ امام کو یہ حق ہے کہ وہ کافر قیدی کو قتل کردے یا غلام بنالے یا اس سے فدیہ لے کر اس کو چھوڑ دے یا اس پر احسان کرکے اس کو چھوڑ دے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر احسان کرکے اس کو چھوڑ دیا کیونکہ اس میں یہ احتمال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نور نبوت سے یہ جان لیا تھا کہ وہ ( آپ کے احسان کرنے کے نتیجہ میں ) دل سے ایمان لے آئے گا اور عنقریب کلمہ شہادت پڑھنے سے اس کا ایمان ظاہر ہوجائے گا۔ (شرح الکرمانی ج 4 ص ۱۲۳ دار احیاء التراث العربی بیروت)
اسی طرح علامہ ابن جوزی نے بھی لکھا ہے۔ (ہم نے علامہ جوزی کی مفصل عبارت اس سے پہلے نقل کی ہے ) علامہ بدرالدین عینی ان دونوں شارحین کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
میں کہتا ہوں کہ اس شرح کو امام ابن خزیمہ اور امام ابن حبان کی وہ حدیث رد کرتی ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ثمامہ کے پاس سے گزرے تو وہ اسلام لے آیا، پھر آپ نے اس کو کھول دیا، اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ وہ آپ کے کھولنے سے پہلے اسلام لے آیا تھا۔ علامہ کرمانی کو تو اس شرح میں معذور قرار دیا جائے گا کیونکہ انہوں نے اس شرح کو حتما ذکر نہیں کیا، بلکہ یہ کہا ہے کہ اس میں یہ احتمال ہے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے واقف نہیں تھے، لیکن علامہ ابن جوزی اس حدیث سے کیسے غافل ہوگئے حالانکہ وہ حدیث کی کثرت پر مطلع ہیں ! ( عمدۃ القاری ج 4 ص 350 دار الکتب العلمیة بیروت (1421ھ)
مصنف کا علامہ ابن جوزی اور علامہ کرمانی کی طرف سے جواب اور تینوں شروح میں محاکمہ
میں کہتا ہوں کہ علامہ ابن جوزی صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمہ کی اس حدیث سے غافل نہیں ہیں، جس میں یہ تصریح ہے کہ ثمامہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھولنے سے پہلے اسلام لے آیا تھا اور اس کے بعد آپ نے اس کو کھولا تھا کیونکہ علامہ ابن جوزی نے اس حدیث کو خود اپنی مذکور شرح کے بعد امام عبدالرزاق کے حوالے سے مفصل ذکر کیا ہے، جس کو ہم نے دیگر متعدد حوالوں کے ساتھ نقل کیا ہے، لہذا علامہ ابن جوزی کو غافل کہہ کر خود علامہ عینی نے غفلت اور عجلت کا مظاہرہ کیا ہے۔
اب یہ سوال رہ جائے گا کہ جب علامہ ابن جوزی کے علم میں مصنف عبدالرزاق کی یہ حدیث تھی کہ ثمامہ آپ کے کھولنے سے پہلے اسلام لے آیا تھا اور آپ نے اس کو اسلام لانے کے بعد کھولا تھا، تو انہوں نے اپنی شرح میں یہ کیوں لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ کے اسلام لانے سے پہلے اس کو کھول دیا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نور نبوت سے علم تھا کہ وہ اسلام لے آئے گا سو وہ آپ کے کھولنے کے بعد اسلام لے آیا اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں یہ واقعہ اسی طرح مذکور ہے۔
صحیح البخاری میں اس طرح مذکور ہے:
مسلمانوں نے ثمامہ بن اثال کو گرفتار کرکے مسجد کے ستون سے باندھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف نکلے اور فرمایا: ثمامہ کو کھول دو پھر ثمامہ مسجد کے قریب ایک کھجور کے درخت کے پاس گیا، پھر مسجد میں داخل ہوا، پھر کہا: ” اشهد ان لا اله إِلَّا الله واشهد ان محمد رسول الله (صحیح البخاری : 462)
دیکھئے اس حدیث میں صاف تصریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اسلام لانے سے پہلے اس کو کھولنے کا حکم دیا تھا اور اس نے بعد میں غسل کرکے کلمہ شہادت پڑھا اور علامہ ابن جوزی نے اسی حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اسلام لانے سے پہلے اس کو کھولنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ آپ نے (نور نبوت سے) جان لیا تھا کہ وہ اسلام لے آئے گا اور ایسا ہی ہوا، اور علامہ کرمانی بھی صحیح بخاری کی اسی حدیث کی شرح کررہے تھے لہذا ان کی شرح بھی صحیح ہے، البتہ ان کا اس شرح کو احتمال سے ذکر کرنا غلط ہے ان کو چاہیے تھا وہ اس شرح کو جزم اور یقین کے ساتھ لکھتے جس طرح علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے، پھر علامہ ابن جوزی کے وسعت علم کی یہ دلیل ہے کہ انہوں نے امام عبدالرزاق کی روایت کو ذکر کرکے یہ بھی بتادیا، کہ یہ روایت صحیح بخاری کی حدیث کے خلاف ہے کیونکہ اس روایت میں مذکور ہے کہ ثمامہ کے اسلام لانے کے بعد آپ نے اس کو کھولا تھا اور ظاہر ہے کہ صیح بخاری کی حدیث کے مقابلہ میں مصنف عبدالرزاق کی روایت کا کوئی اعتبار نہیں ہے، جب کہ صحیح مسلم : ۱۷۶۴ میں بھی یہ واقعہ صحیح بخاری کی طرح زیادہ تفصیل کے ساتھ ہے اور صیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ مذکور ہے کہ آپ کے کھولنے کے بعد ثمامہ اسلام لایا تھا اور صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ح ابن حبان میں اس کے خلاف یہ مذکور ہے کہ آپ کے کھولنے سے پہلے ثمامہ اسلام لایا تھا تو صیح بخاری اور صحیح مسلم کے مقابلہ میں صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان کی کیا حیثیت ہے، کیا علامہ عینی صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان کی بنیاد پر علامہ ابن جوزی پر اعتراض کرکے جمہور کے خلاف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے نزدیک صیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان، صحیح بخاری اور صحیح مسلم پر راجح ہیں، لیکن ان کے اس نظریہ کو علمی دنیا میں کوئی قبول نہیں کرے گا۔
علامہ ابن جوزی کی تائید میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی مفصل روایت
یہ حدیث، صحیح البخاری: ۴۳۷۲ اور صحیح مسلم : ۱۷۶۴ میں زیادہ تفصیل کے ساتھ درج ہے، اس میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے دن ثمامہ کو کھولنے کا حکم دیا، اس کے بعد وہ کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوگیا، اس کی عبارت درج ذیل ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے سواروں کے ایک دستہ کو نجد کی طرف بھیجا وہ بنوحنیفہ کے ایک شخص کو گرفتار کرکے لے آئے، جس کو ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا، پس انہوں نے اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف نکلے اور فرمایا: اے ثمامہ ! تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: میری رائے نیک ہے اے محمد ! اگر آپ مجھ کو قتل کریں گے تو اس شخص کو قتل کریں گے جس پر قصاص ہے اور اگر آپ احسان کریں گے تو شکر گزار پر احسان کریں گئے اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو آپ سوال کریں آپ جتنا مال طلب کریں گے، آپ کو دیا جائے گاحتیٰ کہ دوسرے دن پھر آپ نے اس سے فرمایا: ثمامہ ! تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: جو میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ اگر آپ احسان کریں گے تو شکر گزار پر احسان کریں گے، آپ نے اس کو چھوڑ دیا، پھر تیسرے دن آپ نے فرمایا: اے ثمامہ ! تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: میرے نزدیک وہی بات ہے جو میں آپ سے کہہ چکا ہوں، آپ نے فرمایا: ثمامہ کو کھول دو، وہ مسجد کے قریب ایک کھجور کے درخت کے پاس گیا’ پس اس نے غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوگیا، پھر کہا: ” اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا رسول الله” یامحمد! پہلے مجھے روئے زمین پر آپ سے زیادہ کوئی شخص ناپسند نہیں تھا اور آج صبح آپ کا چہرہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اور اللہ کی قسم پہلے مجھے آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین ناپسند نہیں تھا اور اب آپ کا دین مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے اور اللہ کی قسم ! پہلے آپ کا شہر مجھے سب سے زیادہ ناپسند تھا اور اب آپ کا شہر مجھے سب سے زیادہ پسند ہے آپ کے سواروں نے مجھے گرفتار کرلیا اور میں اس وقت عمرہ ادا کرنے کے لیے جارہا تھا اب آپ بتائیں کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بشارت دی اور اسے عمرہ کرنے کا حکم دیا، جب وہ مکہ پہنچا تو کسی کہنے والے نے کہا: کیا تم نے دین بدل لیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں ! لیکن میں سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمان ہوگیا ہوں اور سنو! اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر تمہارے پاس گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا۔(صحیح البخاری: ۴۳۷۲ ‘صحیح مسلم : 1764)
علامہ ابن جوزی کی شرح اس حدیث کے مطابق ہے اور علامہ عینی نے علامہ ابن جوزی کی شرح پر جو اعتراض کیا ہے، وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث کی تصریح کے خلاف ہے اور صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان کی روایت کے موافق ہے۔
باب مذکور کی حدیث، شرح صحیح مسلم : ۴۴۷۴- ج ۵ ص 474 پر مذکور نے اس کی شرح کے عنوانات حسب ذیل ہیں:
(1)اسلام قبول کرنے کے بعد غسل کرنے کے حکم میں مذاہب فقہاء
(2) طالب اسلام کو کلمہ پڑھانے میں تاخیر کرنا جائز نہیں، بلکہ خدشہ کفر ہے۔